بنوں پولیس چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے شدت پسند گروہ ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

بنوں

،تصویر کا ذریعہBannu Police

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سعودی عرب سمیت متعدد ممالک نے پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے میں 15 اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی حکام نے تصدیق کی تھی کہ ضلع بنوں میں چوکی فتح خیل پر سنیچر کی شب ہوئے اس حملے میں 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ریجنل پولیس افسر بنوں سجاد خان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ سنیچر کی شب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ اس چوکی پر حملہ کیا تھا۔

مقامی افراد کے مطابق پہلا دھماکہ انتہائی زور دار تھا اور اس کے بعد مسلسل دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ یہ سلسلہ دو سے ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ ان دھماکوں سے چوکی کی عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی اور یہاں تعینات بیشتر اہلکار ملبے تلے دب گئے تھے۔

تین اہلکاروں کی لاشیں تو سنیچر کی شب ہی ملبے کے نیچے سے نکال لی گئی تھیں جبکہ باقی 12 اہلکاروں کی لاشیں اتوار کی صبح نکالی گئیں۔ پولیس حکام کے مطابق اس واقعے میں چوکی پر موجود صرف تین اہلکار ہی زندہ بچ پائے جنھیں ملبے کے نیچے سے نکالا گیا۔

بنوں میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ ایم ٹی آئی کے ترجمان محمد نعمان خان نے بتایا کہ تینوں زحمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن بنوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنوں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس فرنٹ لائن پر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے فرض کی راہ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بار بار حملوں کا نشانہ بننے والی پولیس چوکی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فتح خیل پولیس چیک پوسٹ ایک ایسی پولیس چوکی ہے جو مسلح شدت پسندوں کے گڑھ میں قائم ہے اور یہاں آئے روز مسلح افراد کے حملوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، کچھ حملے پسپا کر دیے جاتے ہیں اور کبھی کچھ اہلکار زخمی یا کسی کی جان بھی چلی جاتی ہے۔

سنیچر کی شب کا حملہ اتنا شدید تھا کہ پوری عمارت ہی منہدم ہو گئی۔

خیبر پختونخوا میں اگرچہ کچھ عرصے سے مسلح شدت پسندوں کے حملوں کا طریقہ کار یہی رہا ہے جس میں ہدف پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا جاتا ہے اور پھر مسلح افراد اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں یا وہاں زیادہ سے زیادہ نقصان کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔

اس طرح کے حملے کیڈٹ کالج وانا جنوبی وزیرستان، ایف سی ہیڈ کوارٹر بنوں اور پشاور میں بھی ہو چکے ہیں۔

بنوں میں پولیس تھانوں، ایف سی ہیڈ کوارٹر، پولیس چوکیوں اور چھاؤنی پر حملوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن فتح خیل چوکی پر سب سے زیادہ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران فتح خیل اور اس کے قریب 40 کے لگ بھگ حملے ہو چکے ہیں۔

اس پولیس چوکی کے لیے اہلکاروں کی تعداد دیگر تمام چوکیوں سے زیادہ بتائی گئی جو 29 ہے لیکن ان میں کوئی صبح کے اوقات میں ڈیوٹی کرتے ہیں تو کوئی چھٹی پر یا دیگر ڈیوٹی کے لیے چلے جاتے ہیں۔

اس چوکی کی حدود میں سرکاری ملازمین کے اغوا اور انھیں ٹارچر کرنے جیسے واقعات بھی رُونما ہوتے رہے ہیں۔

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ہر رات ایسا لگتا تھا کہ آج کچھ ہو گا‘

اس پولیس چیک پوسٹ کے قریب کچھ عرصے کے لیے تعینات ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہاں ایک خوف کی صورتحال ہوتی ہے، ہر رات ایسا لگتا تھا کہ آج کچھ ہو گا، تمام اہلکار شام کے بعد سے چوکنا ہو جاتے ہیں اور کئی حملے پسپا بھی کیے گئے ہیں لیکن اُن کے بقول وسائل کی کمی کی وجہ سے ہر وقت دہشت گردوں کے مقابلے کے لیے تیار رہنا مشکل ہوتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ بنوں کے کچھ علاقوں میں ایسے تھانے اور چوکیاں ہیں جہاں پولیس اہلکار ڈیوٹی نہیں کرنا چاہتے، ان میں فتح خیل پولیس چوکی سرِ فہرست ہے۔

بنوں کے مضافات میں نورڑ روڈ پر دو چوکیاں اور ایک تھانہ چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان میں پہلے کنگری پل چوکی ہے، اس سے دو یا تین کلومیٹر کے فاصلے پر فتح خیل چوکی ہے اور اسی طرح اس سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھانہ مریان ہے۔

ان تینوں مقامات پر متعدد حملے ہو چکے ہیں لیکن سب سے زیادہ حملے فتح خیل چوکی پر ہی ہوئے ہیں۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ سڑک آگے جانی خیل اور پھر شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے منسلک ہو جاتی ہے، اس علاقے میں آس پاس بڑی تعداد میں مسلح شدت پسند رہتے ہیں۔

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ چوکی غیر ضروری ہے کیونکہ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ نے نوالہ بنا کر شدت پسندوں کے سامنے رکھ دیا ہو وہ جس وقت چاہیں آ کر حملہ کر سکتے ہیں۔

اُن کے بقول یہاں پولیس اہلکاروں کے پاس کوئی بنیادی سہولیات نہیں ہوتیں جن کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔

اس چیک پوسٹ سے کچھ فاصلے پر تھانہ میریان واقع ہے جبکہ اس سے پہلے کنگر پل چوکی ہے۔

یہ علاقہ بنوں کے مضافات میں واقع ہے اور اس علاقے میں حالات ایک عرصے سے کشیدہ ہیں۔ گذشتہ سال لارون حملوں کے حوالے سے ایک رپورٹ کے لیے ہم اس علاقے میں گئے تھے اور یہ بتایا گیا تھا کہ چند ماہ میں تھانہ میریان پر کواڈ کاپٹر سے 19 حملے کیے جا چکے تھے۔

حملوں کا یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا اور اس سال اب تک کی پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں تشدد کے سبسے زیادہ واقعات بنوں میں پیش آئے ہیں۔

بنوں میں میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں، جہاں آئے روزٹارگٹ کلنگ، سرکاری ملازمین کے اغوا اور پولیس پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ نامی گروپ کیا ہے اور اب تک کن حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے؟

کالعدم تنظیم 'اتحاد المجاہدین پاکستان' نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یہ تین شدت پسند تنظیموں کا اتحاد ہے اور ان کی وابستگی طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ ہے۔

یہ گروپ پہلی بار 11 اپریل 2025 کو سامنے آیا اور یہ پاکستانی گروہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس گروپ کی عملی سرگرمیاں زیادہ تر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مرکوز ہیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اس گروپ کا ٹیلیگرام چینل 12 اپریل 2025 کو بنایا گیا تھا جس پر گروپ کی جانب سے اُردو، پشتو اور انگریزی میں بیانات جاری کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ بنوں حملے کے بعد بھی اس گروپ نے اُردو اور پشتو زبانوں میں بھیجے گئے بیانات میں ہی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اگرچہ گروپ نے کسی بڑے شدت پسند کا تعارف بطور گروپ کے سربراہ نہیں کروایا ہے مگر ٹیلی گرام چینلز پر محمود الحسن نامی شخص کو شدت پسند گروہ اتحاد المجاہدین پاکستان کے ترجمان کے طور پر متعارف کروایا گیا۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق انقلابِ اسلامی، لشکرِ اسلام اور حافظ گل بہادر گروپ نے 11 اپریل 2025 کو اتحاد المجاہدین کے نام سے یہ عسکری گروپ تشکیل دیا تھا۔

گروپ کی جانب سے اب تک کیے کئے حملوں کی ٹائم لائن:

اس گروپ کی 11 اپریل 2025 کو تشکیل کے اگلے ہی روز سے اس گروپ کی جانب سے شدت پسند حملوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی رہی ہے۔

  • اس گروپ کی جانب سے 12 اپریل 2025 کو ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں خیبر ایجنسی میں سکیورٹی چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی۔ اگلے ہی روز اپنے ایک اور بیان میں اس گروپ نے اپنے پہلے ڈرون حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا
  • 19 مئی 2025 کو اس گروہ نے شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے خاندان کے بدلے کے عوض سکیورٹی فورسز کو دھمکی جاری کی
  • 26 مئی 2025 کو گروپ نے ٹیلیگرام پر ایک اور پراپیگنڈا ویڈیو جاری کی جس میں خیبر پختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ کامیابیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس پراپیگنڈا ویڈیو میں گروپ کی کارروائیوں اور نظریاتی موقف کو فروغ دینے کے لیے مناظر شامل ہیں۔ یہ بنیادی طور پر پشتو میں ہے، جس کے ساتھ اردو سب ٹائٹلز موجود ہیں
  • اس کے بعد 30 مئی 2025 کو مبینہ طور پر شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں کیے گئے ایک حملے کی فوٹیج جاری کی گئی
  • 21 جون 2025 کو ضلع بنوں میں ایک فوجی کیمپ پر مبینہ حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی
  • 28 جون 2025 کو ٹیلیگرام پر شیئر کیے گئے بیان میں گروپ نے اپنے پہلے خودکش حملے کا دعویٰ کیا
  • اس موقع پر دعویٰ کیا گیا اس مبینہ حملے میں شمالی وزیرستان میں ’بھاری جانی نقصان‘ ہوا، تاہم کوئی مخصوص تعداد نہیں بتائی گئی
  • دو جولائی 2025 کو خیبر پختونخوا کے علاقے پشاور میں ایک فوجی چوکی پر مبینہ حملے کی ذمہ داری بھی اسی گروپ نے قبول کی
  • 29 اگست 2025 کو ٹیلیگرام پر اس گروپ نے ضلع خیبرکی وادی تیراہ میں ایک مبینہ خودکش حملے کا دعویٰ کیا اور اس کو انجام دینے والے مبینہ جنگجو کا نام اور تصویر بھی شیئر کی گئی
  • اس کے بعد دو ستمبر 2025 کو گروپ نے ٹیلیگرام پر خیبر پختونخوا میں فرنٹیئر کور کے ایک مرکز پر حملے کا دعویٰ کیا