متحدہ عرب امارات کے لیے ’انتہائی اہم‘ سمجھی جانے والی فجیرہ بندرگاہ کی سٹریٹجک برتری، کمزوری میں کیسے بدلی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالیہ مہینوں میں فجیرہ کا نام ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بار بار سامنے آیا ہے۔ فجیرہ شہر میں واقع فجیرہ بندرگاہ میں تیل کی تنصیبات پر گذشتہ مہینوں کے دوران کئی بار حملے ہوئے جس کے نتیجے میں وہاں سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
فجیرہ کی اہمیت بنیادی طور پر اس کے جغرافیائی محل وقوع سے وابستہ ہے۔ ابو ظہبی اور دبئی کی مرکزی بندرگاہوں کے برعکس، فجیرہ آبنائے ہرمز کے دوسری جانب بحیرۂ عمان کی سمت واقع ہے۔
ابو ظہبی کے تیل کے ذخائر کو اس بندرگاہ سے ملانے والی پائپ لائن متحدہ عرب امارات کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ اپنے خام تیل کا ایک حصہ آبنائے ہرمز سے گزارے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچا سکے۔
لندن میں مشاورتی کمپنی کرسٹول انرجی کی چیف ایگزیکٹیو اور ماہر اقتصادیات کیرول نخلی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ فجیرہ متحدہ عرب امارات کے لیے ’بہت اہم‘ ہے کیونکہ ’اس نے امارات کو ہرمز سے باہر ایک اہم برآمدی راستہ فراہم کیا ہے اور اس قابل بنایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کوئی بھی رکاوٹ آئے تو بھی تیل کی برآمد جاری رہ سکے۔‘
اس بندرگاہ کی اہمیت صرف تیل اور توانائی تک محدود نہیں۔ فجیرہ متحدہ عرب امارات میں زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلوں کے اہم لینڈنگ پوائنٹس میں سے ایک ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان متعدد مواصلاتی راستے اس کے ساحل تک پہنچتے ہیں۔ اس سال کی جنگ نے خطے کی زیرِ سمندر کیبلوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔
ہرمز سے باہر واقع ہونے کی وجہ سے فجیرہ متحدہ عرب امارات کی تیل کی برآمدات کے لیے جتنا فائدہ مند ہے، اتنا ہی مواصلاتی انفراسٹرکچر کے ایک حصے کے لیے بھی ہے۔
تاہم حالیہ جنگ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں شدید خلل نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ فجیرہ کس حد تک امارات کا اس آبنائے پر انحصار کم کر سکتا ہے اور کیا یہ خود ایک نئی کمزور کڑی بن چکا ہے؟
فجیرہ کا محل وقوع غیر معمولی کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فجیرہ کی اہمیت نقشے پر بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی زیادہ تر بندرگاہیں اور بڑے تیل مراکز خلیج فارس کے اندر واقع ہیں اور وہاں سے عالمی منڈیوں کی جانب جانے والے تیل بردار بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنا پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کے برعکس، فجیرہ متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر بحیرۂ عمان کے سامنے واقع ہے۔ بندرگاہ فجیرہ سے آبنائے ہرمز کا فاصلہ تقریباً 70 بحری میل، یعنی قریب 130 کلومیٹر ہے۔ جو تیل بردار بحری جہاز اس بندرگاہ سے روانہ ہوتا ہے وہ براہ راست بحیرۂ عمان اور پھر بحرِ ہند میں جا سکتا ہے، آبنائے ہرمز کی موجودہ پابندیوں کا سامنا کیے بغیر۔
اس جغرافیائی برتری کی اہمیت 2012 میں ابو ظہبی خام تیل پائپ لائن، جسے حبشان۔فجیرہ پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے، کے آغاز کے بعد کہیں زیادہ بڑھ گئی۔ یہ پائپ لائن ابوظہبی کے خشکی پر واقع ذخائر سے تیل تقریباً 400 کلومیٹر دور مشرقی ساحل کے ٹرمینلز تک پہنچاتی ہے۔
اس پائپ لائن کی ابتدائی گنجائش 15 لاکھ بیرل یومیہ تھی اور امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن اس کی موجودہ گنجائش تقریباً 18 لاکھ بیرل یومیہ بتاتی ہے۔
تاہم یہ اعداد و شمار معمول کی ترسیل کے نہیں بلکہ پائپ لائن کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے ہیں۔ 2025 میں تقریباً 11 لاکھ بیرل اماراتی خام تیل یومیہ حبشان سے فجیرہ منتقل کیا جا رہا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے پہلے تقریباً سات لاکھ بیرل یومیہ اضافی گنجائش استعمال نہیں ہو رہی تھی۔
برآمدات کی حقیقی مقدار صرف پائپ لائن کی گنجائش پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ پمپنگ، ذخیرہ کرنے کی گنجائش، لوڈنگ ٹرمینلز کی تعداد اور بندرگاہ کی صلاحیت جیسے عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
کیرول نخلی کہتی ہیں: ’فجیرہ نے آبنائے ہرمز میں کسی رکاوٹ کے مقابلے میں امارات کی کمزوری کو کم کیا ہے اور متبادل راستوں میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔ تاہم یہ امارات کا ہرمز پر انحصار مکمل طور پر ختم نہیں کرتا، خصوصاً اگر ہم ملک کی مجموعی توانائی تجارت کو مد نظر رکھیں۔‘
فجیرہ کی صلاحیت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے حجم کے مقابلے میں خاصی محدود ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں اوسطاً تقریباً دو کروڑ بیرل خام تیل اور تیل کی مصنوعات روزانہ آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں، جو دنیا کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی بنتی ہیں۔
خلیج فارس کے عرب ممالک میں صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی بڑی پائپ لائنیں ہیں جو تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر کھلے سمندر تک پہنچا سکتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا اندازہ ہے کہ سعودی عرب اور امارات کے پاس متبادل راستوں میں مجموعی طور پر تقریباً 35 سے 55 لاکھ بیرل یومیہ اضافی گنجائش موجود ہے۔ یعنی ایسی صلاحیت جو معمول کے حالات میں استعمال نہیں ہوتی لیکن آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کی صورت میں اضافی تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
فجیرہ دنیا کے اہم تیل مراکز میں کیسے شامل ہوا؟

،تصویر کا ذریعہBarry Iverson/Getty Images
آج فجیرہ کی اہمیت کا انحصار صرف حبشان۔فجیرہ پائپ لائن پر نہیں بلکہ تیل اور سمندری انفراسٹرکچر کے ایک وسیع مجموعے پر ہے۔ 1983 میں کام شروع کرنے والی یہ بندرگاہ چند دہائیوں کے دوران تیل ٹرمینلز، ذخیرہ گاہوں، پراسیسنگ تنصیبات اور سمندری خدمات کے ایک بڑے مرکز میں تبدیل ہو گئی۔
بندرگاہ کے ساتھ واقع فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں توانائی کے ذخیرے اور تجارت سے وابستہ متعدد کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں اور بین الاقوامی کمپنیاں بھی وہاں سرگرم ہیں۔
فجیرہ کے اہم انفراسٹرکچر میں ایک تنصیب پہاڑ کے اندر قائم کی گئی ہے۔ یہ ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کی زیرِ زمین ذخیرہ گاہ مندوس ہے، جس کی خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق چار کروڑ 20 لاکھ بیرل ہے۔ یہ سہولت تین زیرِ زمین ذخائر پر مشتمل ہے اور بحیرۂ عمان کے برآمدی راستے کے قریب مختلف اقسام کے خام تیل کو محفوظ رکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
فجیرہ کا شمار دنیا کے بڑے بحری ایندھن کے مراکز میں بھی ہوتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 2025 میں اس بندرگاہ پر تقریباً 74 لاکھ مکعب میٹر بحری ایندھن فروخت کیا گیا۔ یوں فجیرہ سنگاپور، روٹرڈیم اور چین کے ژوشان کے بعد دنیا میں چوتھے نمبر پر آ گیا۔
بحیرۂ عمان کے ساحل پر اور آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہونے کے باعث وہ جہاز بھی یہاں ایندھن بھروا سکتے ہیں اور سمندری خدمات حاصل کر سکتے ہیں جو خلیج فارس میں داخل نہیں ہوتے۔
حالیہ جنگ کے بعد یہ مرکز صرف ایک تجارتی انفراسٹرکچر نہیں رہا، بلکہ اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی کے بعد فجیرہ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا۔ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں اوسط برآمدات تقریباً 11 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ تھیں جو مارچ میں 38 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 16 لاکھ 20 ہزار بیرل یومیہ ہو گئیں۔
موجودہ بحران کے دوران خطے کے دوسرے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے بھی فجیرہ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اگست میں سعودی عرب نے بعض ایشیائی خریداروں کو تجویز دی کہ وہ اپنے تیل کے کارگو فجیرہ کے قریب سمندری علاقوں میں جہاز سے جہاز منتقلی کے ذریعے وصول کریں۔
کیرول نخلی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اس کے باوجود خلیج فارس کے دوسرے پیداواری ممالک کے لیے فجیرہ کو ایک اہم برآمدی راستہ بنانے کے لیے نئی پائپ لائنوں اور ترسیلی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری درکار ہو گی، جیسا کہ ابو ظہبی پہلے ہی اپنے تیل کے ذخائر کو فجیرہ سے ملانے کے لیے کر چکا ہے۔
ان کے مطابق ایسے منصوبے صرف تب کارآمد ہوں گے جب وہ تکنیکی امکان کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی قابلِ جواز ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ خلل ’کچھ ایسے منصوبوں کے تجارتی جواز کو مضبوط کر سکتا ہے جو پہلے کم پُرکشش سمجھے جاتے تھے۔‘
فجیرہ پر ایک نظر
مقام: بحیرۂ عمان کا ساحل، آبنائے ہرمز سے باہر
آبنائے ہرمز سے فاصلہ: تقریباً 130 کلومیٹر
حبشان۔فجیرہ پائپ لائن کی گنجائش: تقریباً 18 بیرل یومیہ
زیرِ زمین تیل کا ذخیرہ: چار کروڑ 20 لاکھ بیرل
بنیادی کردار: آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر اماراتی تیل کی برآمد
عالمی اہمیت: ذخیرہ اندوزی اور بحری ایندھن کی فراہمی کے بڑے مراکز میں سے ایک
فجیرہ کی برتری، جو اُس کی کمزوری بھی بنی

،تصویر کا ذریعہEPA
آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی برآمد ممکن بنانے کے باعث فجیرہ متحدہ عرب امارات کے اہم ترین متبادل راستوں میں سے ایک بن چکا ہے، تاہم اب حالیہ ایران جنگ نے یہ واضح کیا ہے کہ امارات کے تیل کی برآمدات کو فجیرہ میں مرکوز کرنے سے نئی کمزوریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد (تین مارچ کو) فجیرہ کے آئل انڈسٹریل ایریا میں آگ بھڑک اٹھی۔ فجیرہ کی مقامی حکام کے مطابق یہ آگ ایک ایسے ڈرون کے گرنے کے نتیجے میں لگی جسے یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا تھا۔
مارچ کے وسط میں ایران جنگ میں مزید شدت آئی تو 14 مارچ کو ایران کے خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کے خلاف امریکی حملے کے چند گھنٹے بعد، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات میں امریکی مفادات، جن میں بندرگاہیں، گودیاں اور فوجی تنصیبات شامل ہیں، کو ’جائز اہداف‘ قرار دیا اور اُن پر حملے کیے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایسے اہداف میں جبل علی اور بندر خلیفہ کے ساتھ ساتھ فجیرہ کا نام بھی لیا۔
اس کے بعد ہوئے ایک ڈرون حملے اور آگ لگنے کے واقعے میں فجیرہ میں تیل کی لوڈنگ کا ایک حصہ عارضی طور پر روک دیا گیا۔ اس مرتبہ بھی حکام نے آگ لگنے کی وجہ ایک تباہ کیے گئے ڈرون کا ملبہ قرار دی۔
16 مارچ کو ایک اور ڈرون حملے کے نتیجے میں فجیرہ میں متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث خام تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
اسی طرح چار مئی کو، کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی نازک جنگ بندی کے بعد، فجیرہ ایک بار پھر حملے کی زد میں آیا۔ اماراتی حکام نے بتایا کہ ایک ایرانی ڈرون گرنے کے باعث ایک آئل فیلڈ میں آگ لگ گئی۔
توانائی امور کی ماہر کیرول نخلیہ کا کہنا ہے کہ فجیرہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے متحدہ عرب امارات کے لیے اُس کے تحفظ کو مزید ناگزیر بنا دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جتنا زیادہ کوئی متبادل راستہ سٹریٹجک اعتبار سے اہم ہوتا جاتا ہے، اُتنا ہی زیادہ اُس کے تحفظ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز اور میزائل انتہائی مہنگے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘
تاہم اُن کے مطابق اس کمزوری کا مطلب یہ نہیں کہ فجیرہ بندرگاہ اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔
کیرول نے کہا کہ ’یہ صورتحال فجیرہ کی اہمیت کو کم نہیں کرتی مگر اس حقیقت کو تقویت بخشتی ہے کہ تنوع اختیار کرنے سے کسی ایک مقام یا راستے پر انحصار کے خطرات کم ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کا مؤثر تحفظ اور ہنگامی حالات میں آپریشنز کو تیزی سے بحال کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSTRINGER/EPA/Shutterstock
فجیرہ بندرگاہ، آبنائے ہرمز کا متبادل بننے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے؟
متحدہ عرب امارات اپنی مشرقی ساحلی پٹی تک تیل کی ترسیل کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
مئی 2026 میں ابوظبی کے میڈیا آفس نے اعلان کیا تھا کہ ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) نے فجیرہ تک ایک نئی پائپ لائن کی تعمیر کرنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ سنہ 2027 میں فعال ہونے کا ہدف ہے اور اس کے ذریعے بندرگاہِ فجیرہ سے تیل برآمد کرنے کی صلاحیت دوگنی ہو جائے گی۔
اس پائپ لائن کی تکمیل کے بعد متحدہ عرب امارات کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر برآمد کیے جانے والے تیل کے حجم میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
تاہم اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فجیرہ سے برآمدی صلاحیت میں اضافہ خطے کے آبنائے ہرمز پر انحصار کو صرف جزوی طور پر ہی کم کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ کے مطابق سنہ 2025 تک یومیہ تقریباً دو کروڑ (20 ملین) بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزریں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد ایشیائی منڈیوں کو بھیجی جاتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں، اسی ادارے کے اندازوں کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود متبادل پائپ لائنوں کی اضافی گنجائش زیادہ سے زیادہ 55 لاکھ (5.5 ملین) بیرل یومیہ ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ فجیرہ تک رسائی کے راستوں میں توسیع کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنے والی مجموعی توانائی مصنوعات کی ترسیل کا صرف ایک محدود حصہ ہی ان متبادل راستوں پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
مائع قدرتی گیس ’ایل این جی‘ کے معاملے میں آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے فجیرہ کی صلاحیت کہیں زیادہ محدود ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق سنہ 2025 تک متحدہ عرب امارات کی تقریباً 96 فیصد ایل این جی برآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی ممکن ہوئیں۔
قطر بھی اپنی مائع قدرتی گیس کی بیشتر برآمدات کے لیے اسی آبنائے پر انحصار کرتا ہے۔ خام تیل کے برعکس، متحدہ عرب امارات کے پاس فی الوقت ایل این جی کی ترسیل کے لیے حبشان، فجیرہ پائپ لائن جیسی کوئی متبادل اور بڑے پیمانے کی راہداری موجود نہیں۔
سنہ 2026 کے بحران (ایران جنگ) نے یہ ثابت کیا کہ فجیرہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خلل کے دوران متحدہ عرب امارات کی تیل برآمدات کے ایک حصے کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم جیسے جیسے اس کا کردار زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے، ویسے ویسے اس سے منسلک پائپ لائنوں، ذخیرہ گاہوں اور برآمدی ٹرمینلز کے تحفظ کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔



















