سرحد یونیورسٹی میں فوجی افسر کی ہوائی فائرنگ: ’روزنامچے میں اندارج کے بعد واقعے کی تحقیقات کا آغاز، ویڈیوز کا جائزہ لیا جا رہا ہے‘

Sarhad University, Islamabad

،تصویر کا ذریعہSocial Media

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو
    • مقام, اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے نجی تعلیمی ادارے سرحد یونیورسٹی میں لیفٹینٹ کرنل رینک کے ایک فوجی افسر اور طلبہ کے درمیان ہاتھا پائی اور سڑک بلاک کیے جانے کے واقعے کا روزنامچے میں اندارج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

خیال رہے روزنامچہ ایک قانونی دستاویز ہے جس میں کسی رپورٹ کے اندارج کے بعد اسے باقاعدہ ایف آئی آر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس معاملے کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ اس لیے بھی بنایا گیا ہے کیونکہ فوجی افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کے لیے قانونی دستاویز کا ہونا ضروری ہے۔ اُن کے مطابق روزنامچے میں انداراج کے بعد اس رپورٹ کو سیل کر دیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق سرحد یونیورسٹی میں پیش آئے واقعے سے متعلق جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہیں، اُن کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد ذمہ داروں کا تعین کر کے اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز (24 اگست) سرحد یونیورسٹی میں طلبہ اور فوجی افسر کے درمیان ہاتھا پائی کا معاملہ پیش آیا تھا جس کے بعد فوجی افسر نے ہوائی فائرنگ کی تھی۔ اس معاملے کی بہت سے ویڈیوز سوشل میڈیا پر گذشتہ 24 گھنٹے سے وائرل ہیں۔ بی بی سی آزادانہ طور پر اِن ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

یہ واقعہ پیش آنے کے بعد اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس حمزہ ہمایوں نے بی بی سی اُردو کو بتایا تھا کہ سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے والے آرمی افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر فوج کے اعلیٰ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں اُن کے خلاف سمری کورٹ مارشل کا ٹرائل شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

دوسری جانب عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت نے سرحد یونیورسٹی کے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور فوج کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ ’کسی بھی قسم کی قانون شکنی کے خلاف فوری اور بلاتفریق سخت ترین کارروائی کرتی ہے۔‘

اسلام آباد پولیس کے مطابق حفاظتی تحویل میں لیے جانے والے شخص لیفٹینٹ کرنل رینک کے فوجی افسر ہیں۔

حمزہ ہمایوں نے بتایا تھا کہ سرحد یونیورسٹی میں فائرنگ اور فوجی افسر کی جانب سے طلبہ پر تشدد کا واقعہ اُس وقت پیش آیا تھا جب اسلام آباد پولیس کے حکام مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے سے موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ بھی حیران تھے کہ پولیس کی موجودگی میں کیسے کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔

یاد رہے کہ اس واقعے کی وائرل فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے باوردی اہلکار موقع پر موجود تھے۔

مقامی پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق طلبہ سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے شعبۂ ہیومن ریسورس (ایچ آر) کی ڈائریکٹر کے رویے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جب فوجی افسر وہاں پہنچے۔

sarhad university

،تصویر کا ذریعہsarhad university

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پولیس کا کہنا ہے کہ اس تنازع کی ابتدا چند روز قبل اُس وقت ہوئی تھی جب سرحد یونیورسٹی کے ایک ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور اس واقعے میں ملوث فوجی افسر کی اہلیہ کے درمیان تنازع ہوا تھا۔ فوجی افسر کی اہلیہ بھی سرحد یونیورسٹی میں کام کرتی ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق فوجی افسر کی اہلیہ نے مقامی تھانے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے خلاف ہراساں کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے سے متعلق درخواست جمع کروائی تھی۔ درخواست کے مطابق 21 اگست کو جب وہ اپنے دفتر میں موجود تھیں تو پروفیسر اُن کے کمرے میں آئے اور مبینہ طور پر انھیں گالیاں دیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے ایک ملازم نعمان کے مطابق اس واقعے کے بعد مذکورہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو چند روز کے لیے معطل بھی کیا گیا تھا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی جانب سے دی گئی درخواست پر قانونی کارروائی شروع ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فریقین کے درمیان مصالحت کروا دی تھی۔

اسلام آباد کے سواں سرکل کے ایس پی خرم اشرف کے مطابق ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے اپنے رویے پر تحریری طور پر معذرت کی تھی، جس کے بعد درخواست گزار خاتون نے تھانے میں ایک تحریری درخواست جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے خلاف اُن کی شکایت پر مزید قانونی کارروائی نہ کی جائے اور معاملہ ختم سمجھا جائے۔

دوسری جانب یونیورسٹی کے ایک ملازم کے مطابق انتظامیہ نے اس معاملے پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور فوجی افسر کی اہلیہ کے درمیان تنازع ختم ہونے کے باوجود معاملہ دوبارہ کیسے شدت اختیار کر گیا۔

ان کے مطابق کمیٹی یہ بھی تحقیقات کرے گی کہ یونیورسٹی کے طلبہ اس معاملے میں کس طرح شامل ہوئے اور آیا انھیں مبینہ طور پر احتجاج میں شرکت کے لیے اُکسایا گیا تھا یا نہیں۔

جب مقامی پولیس سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ آیا واقعے کے سلسلے میں کسی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے، تو حکام نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

سرحد یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہیومین ریسورسز کی ڈائریکٹر (فوجی افسر کی اہلیہ) نے ایک ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت درج کروائی ہوئی تھی جس کی بنیاد پر اس ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو یونیورسٹی کی انتظامیہ نے معطل کیا ہوا تھا۔

انتظامیہ کے افسر کے مطابق پیر کے روز ایچ آر کی ڈائریکٹر جب اپنے آفس جا رہی تھیں تو ’کچھ طلبہ نے ان پر آوازیں کسنا شروع کر دیں جس پر معاملہ خرابی کی طرف گیا۔‘

social media

،تصویر کا ذریعہsocial media

انھوں نے کہا کہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ڈائریکٹر ایچ آر نے ’اپنے شوہر کو بلایا۔‘

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی افسر اپنی اہلیہ کو وہاں سے نکال کر لے کر جا رہے تھے کہ جب ’کچھ طلبہ کی طرف سے دوبارہ آوازیں کسنے پر وہ پلٹے اور طالب علموں کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔‘

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ میں شامل محمد نعمان نے بی بی سی کو بتایا تھا پیر کے روز جب طلبہ ایک معاملے پر احتجاج کر رہے تھے تو ’اِس دوران لیفٹیننٹ کرنل رینک کے ایک افسر وہاں آئے تو اُن کے ہاتھ میں چھڑی تھی جس سے انھوں نے کچھ طلبہ کو مارا۔‘

محمد نعمان کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ میں شامل افراد جب وہاں پہنچے تو اُس وقت طلبہ اور فوجی افسر کے درمیان ہاتھا پائی ہو رہی تھی جس کے بعد فوجی افسر نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی اور بعدازاں وہاں سے چلے گئے۔‘

محمد نعمان کے مطابق اس موقع پر فوجی افسر کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھیں۔

فوجی افسر کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے بعد طلبہ یونیورسٹی سے نکل کر جی ٹی روڈ پر آ گئے تھے اور انھوں نے ٹریفک بلاک کر دی تھی۔

اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس کیپٹن ریٹائرڈ حمزہ ہمایوں نے مظاہرین سے مذاکرات کیے تھے اور انھیں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی تھی۔

سرحد یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس واقعے کے خلاف متعلقہ تھانے میں درخواست دے دی تھی۔