’بادشاہوں جیسی انٹری‘: اسلام آباد پریڈ کے دوران شاہی بگھی کے استعمال پر تنازع، محسن نقوی کی وضاحت

،تصویر کا ذریعہInstagram/khuramatic
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم آزادی کی پریڈ کے موقع پر شاہی بگھی پر بیٹھے مہمان خصوصی کی بجائے دو سرکاری اہلکاروں کے منظر نے کئی لوگوں کو مایوس کیا ہے۔
رواں سال 14 اگست کو یوم آزادی کی پریڈ کا انعقاد اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک پر کیا گیا تھا اور یہ تقریب پانچ بجے شروع ہونا تھی۔
تقریب کی شروعات چھ بجے کے بعد ہوئی اور اس دوران اس پروگرام کے میزبان کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ سہیل اشرف کو اسلام آباد پولیس کے سربراہ سید علی ناصر رضوی کے ساتھ شاہی بگھی میں سوار دیکھا گیا۔
اس منظر نے پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث چھیڑ دی تھی کہ آیا مہمان خصوصی کی بجائے دو سرکاری اہلکاروں کی جانب سے شاہی بگھی استعمال کرنا مناسب تھا۔
اس پر وضاحت دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ شاہی بگھی کو ’ناگزیر حالات کے باعث بدقسمتی سے اِن افسران نے استعمال کیا‘ مگر یہ اُن کی غلطی نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈی چوک پریڈ پر تنازع کیوں ہوا؟
سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام رواں سال اسلام آباد سٹی پریڈ کا مقام اولڈ پریڈ گراؤنڈ ڈی چوک تھا اور اس تقریب کی شروعات کا وقت پانچ بجے بتایا گیا تھا۔ مگر یہ پریڈ تاخیر سے شروع ہوئی۔
پریڈ شروع ہونے سے قبل اسلام آباد کے چیف کمشنر (چیئرمین سی ڈی اے) اور آئی جی کا استقبال کیا گیا جو تقریب کے مقام میں شاہی بگھی پر داخل ہوئے۔
اس موقع پر اینکر کی جانب سے مائیک پر اعلان کیا گیا کہ ’خواتین و حضرات! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت پریڈ گراؤنڈ میں اسلام آباد پولیس کے سپہ سالار آئی جی اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے داخل ہو رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آپ تمام کے میزبان اور اس پروگرام کو انتظام کرنے والے ایک دفعہ بھرپور خراج تحسین، چیئرمین سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد۔ بھرپور تالیوں میں استقبال کیجیے۔‘
جب بگھی رُکی تو آئی جی اسلام آباد نے کراؤڈ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا سلام پیش کیا۔ دونوں سرکاری اہلکاروں کا استقبال انھی کے ماتحتوں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن، ڈی آئی جی ہارون جوئیہ اور دیگر افسران نے کیا۔
اس کے بعد اینکر نے اعلان کیا تھا کہ ’تمام لوگوں سے تلقین ہے کہ آپ انتظار کریں، ابھی تھوڑی دیر میں چیف گیسٹ آئیں گے، منتظمین ان کو ریسیو کریں گے اور پریڈ کا باقاعدہ آفیشل آغاز ہونے والا ہے۔‘ اس کے بعد پریڈ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی انٹری ہوئی۔
خیال رہے کہ اس تقریب کے مہمان خصوصی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق تھے جو اس تقریب میں تاخیر سے پہنچے تھے اور یہ شاہی بگھی بظاہر انھی کے لیے مختص تھی۔
مگر ایاز صادق کی انٹری شاہی بگھی کی بجائے اپنی گاڑی میں ہوئی۔ جبکہ پریڈ کا باقاعدہ آغاز مغرب کے وقت اسلام آباد پولیس کے دستے کی آمد سے ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہX/@MohsinnaqviC42
مہمان خصوصی کی آمد میں تاخیر اور محسن نقوی کی وضاحت
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایکس پر ایک صارف نے لکھا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے نے ’اپنی چھوٹی 23 مارچ کی پریڈ رکھوائی اور خود ہی منی چیف آف آرمی سٹاف اور صدر بن گئے۔ یہ سی ایس ایس بابوز کی ذہنیت کی عکاسی ہے، اگر آپ انھیں تھوڑی سی بھی طاقت دے دیں۔‘
اس ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے وضاحت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا۔ لیکن میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ نہ تو آئی جی کی غلطی تھی اور نہ ہی چیف کمشنر اسلام آباد کی۔‘
’صدر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات کے باعث مہمانِ خصوصی اور مجھے تاخیر ہو گئی تھی۔ کراؤڈ شام پانچ بجے سے انتظار کر رہا تھا اور تقریباً شام چھ بجے جب یہ واضح ہو گیا کہ ہم تاخیر سے پہنچیں گے تو ہم نے افسران کو ہدایت دی کہ پروگرام شروع کر دیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عوام مزید انتظار کریں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ شاہی بگھی مہمانِ خصوصی کے لیے مختص تھی اور انھی کی جانب سے تقریب میں اسے استعمال کیا جانا تھا۔ تاہم ان کے بقول ’ناگزیر حالات کے باعث بدقسمتی سے اسے افسران نے استعمال کیا۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ ’میں ریکارڈ پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ دونوں افسران نے ابتدا میں ہماری غیر موجودگی میں پروگرام شروع کرنے پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ لیکن عوام کی سہولت کے پیشِ نظر ہم نے انھیں خاص طور پر پروگرام آگے بڑھانے کی ہدایت دی تھی۔‘
انھوں نے اپنے پیغام کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ ’میں 14 اگست کی تقریب کو ایک حقیقی جشن بنانے پر اسلام آباد کے رہائشیوں کا شکر گزار ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
’نوآبادیاتی سوچ‘
محسن نقوی کی وضاحت سے قبل بہت سے لوگوں نے اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی کی جانب شاہی بگھی استعمال کرنے پر تنقید کی ہے۔
ایکس پر طارق ایس عمیر نامی صارف نے لکھا کہ ’اسلام آباد پولیس اور سی ڈی اے نے جشن آزادی پر ایک پریڈ کا اہتمام کیا جس کے مہمان خصوصی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق تھے۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر آئے لیکن 20 گریڈ کے دو افسران آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اس طرح بگھی میں بیٹھ کر آئے جیسے وہ کسی آئینی عہدے پر منتخب ہونے والی شخصیات ہوں۔ یہ طرز عمل کسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔‘
جبکہ کاروباری شخصیت وہاج سراج نے اسے ’نوآبادیاتی سوچ‘ سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’آئی جی پولیس اور چیئرمین سی ڈی اے اسلام آباد دونوں عوام کے ملازم ہیں اور ان کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ وہ پاکستان کے یومِ آزادی کی پریڈ میں بادشاہوں اور حکمرانوں کی طرح داخل ہوتے ہیں۔ 'یومِ آزادی' پر یہ کیسا تضاد ہے۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’قوم کو اس نوآبادیاتی سوچ سے حقیقی آزادی کی ضرورت ہے۔‘
کئی لوگوں نے اس منظر پر طنز کرتے ہوئے دونوں عہدیداران کو ’وائسرائے‘ کہہ کر مخاطب کیا۔
صحافی اور پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم نے کہا کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی کی انٹری ’برطانوی راج‘ جیسا منظر تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے قوم کو یاد کروایا کہ برٹش راج ہوتا تو گورے نے ایسے ہی آنا تھا، جیسے یہ براؤن صاحب آ رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میری درخواست تھی کہ پیچھے دو ہاتھی بھی لگا لیتے تو اسلام آباد میں مغلیہ دور کی یاد بھی تازہ ہو جاتی۔‘
سماجی کارکن عمار راشد نے ایکس پر لکھا کہ سی ڈی اے کے چیئرمین اور آئی جی اسلام آباد کی آمد پر ’تالیوں کی درخواستوں کے باوجود حاضرین کی جانب سے مکمل خاموشی اس بات کی بہترین عکاسی ہے کہ عوام اپنے شہروں کو تباہ کرنے والے ان غیر منتخب بابوؤں کے لیے کس قدر حقارت رکھتے ہیں۔ عوام مخالف ڈی سی راج ختم ہونا چاہیے۔‘
تاحال سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، چیئرمین سی ڈی اے یا آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔



















