مشفق الرحیم کی سنچری کی بدولت بنگلہ دیش کا پاکستان کو فتح کے لیے 437 رنز کا بڑا ہدف

مشفق الرحیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمشفق الرحیم نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 14ویں سنچری مکمل کی
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے اور آخری میچ میں بنگلہ دیش کی ٹیم ایک مضبوط پوزیشن میں آ گئی ہے اور اس نے پاکستان کو یہ میچ جیتنے اور سیریز برابر کرنے کے لیے 437 رنز کا ہدف دیا ہے۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز ہوا تو دوسرے اوور کے بعد ہی کم روشنی کے باعث ایمائرز نے کھیل روک دیا۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں اب تک کوئی رن نہیں بنایا ہے اور اس کے دو اوپنرز بھی کریس پر موجود ہیں۔

یاد رہے کہ ڈھاکہ میں سیریز کا پہلا میچ جیتنے کے بعد بنگلہ دیش کو سیریز میں ایک صفر کی ناقابلِ شکست برتری حاصل ہے۔

پیر کو سلہٹ میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 390 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تو پہلی اننگز کی 46 رنز کی برتری کی بدولت وہ مہمان ٹیم کو ایک ایسا ہدف دینے میں کامیاب رہی جس کا حصول آسان نہیں دکھائی دیتا۔

دوسری اننگز میں بنگلہ دیش کی جانب سے مشفق الرحیم 137 رنز کی اننگز کھیل کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ ان کے علاوہ پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے لٹن داس کے علاوہ اوپنر محمود الحسن جوائے نے نصف سنچریاں بنائیں۔

یہ مشفق الرحیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں 14ویں سنچری ہے۔

پاکستان کے لیے شاہین آفریدی کی جگہ ٹیم میں جگہ بنانے والے خرم شہزاد سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے اس اننگز میں بھی چار وکٹیں لیں اور میچ میں کل آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ان کے علاوہ سپنر ساجد خان نے تین، حسن علی نے دو جبکہ محمد عباس نے ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

Babar Azam

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی پہلی اننگز میں بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز وکٹ پر زیادہ دیر رکنے اور بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہا تھا

سہلٹ ٹیسٹ میں پاکستان کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا اور پاکستانی بولر سکور 116 رنز تک پہنچنے تک چھ بنگلہ دیشی بلے بازوں کو پویلین بھیجنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم اس موقع پر لٹن داس نے 126 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا تھا اور میزبان ٹیم 278 رنزکا مجموعہ بنانے میں کامیاب رہی تھی۔

اس کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز میں بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز وکٹ پر زیادہ دیر رکنے اور بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہا تھا۔ بابر اعظم نے 68 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ بنگلہ دیش پہلی اننگز میں بڑی سبقت لینے میں کامیاب رہے گا لیکن لوئر آرڈر میں ساجد خان نے 28 گیندوں پر چار چھکوں کی مدد سے 38 رنز کی اننگز کھیل کر سکور 232 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بنگلہ دیش کی طرف سے ناہید رانا اور تیج الاسلام نے تین، تین جبکہ مہدی حسین میراج اور تسکین احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔

Sajid Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سوشل میڈیا پر بلے باز تنقید کی زد میں

سوشل میڈیا پر صارفین پاکستانی بلے بازوں سے ناخوش نظر آتے ہیں اور ٹیم پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر اننگز کے آخر میں ساجد خان نے چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 28 گیندوں پر 38 رنز نہ بنائے ہوتے تو بنگلہ دیش کو پاکستان پر مزید رنز کی برتری حاصل ہو سکتی تھی۔

احمد نامی صارف نے ساجد خان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ سپنر کی بیٹنگ نے پاکستان کو کسی حد تک ریسکیو کیا۔

’تاہم باقی تمام بلے بازوں نے اوسط درجے کی کرکٹ کھیلی، غلط شاٹس کا انتخاب کیا۔ سوچیے اگر بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہو جاتے تو پاکستان 150 رنز تک بھی نہیں پہنچتا۔‘

سابق ٹیسٹ کرکٹ فیصل اقبال نے پاکستان کھلاڑیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’سینیئرز اتنی زیادہ کرکٹ کھیل چکے ہیں اور پھر بھی دباؤ کی صوتحال میں ناکارہ ہو جاتے ہیں اور اپنی وکٹس گنوا دیتے ہیں۔‘

Azeem

،تصویر کا ذریعہX

ایک صارف نے لکھا کہ بابر اعظم نے دیگر سینیئر کھلاڑیوں کے مقابلے میں اچھی اننگز کھیلی۔ مرزا وقار نے مزید لکھا کہ ’اس ٹیسٹ میچ کے بعد شان مسعود کو ریٹائرمنٹ پر غور کرنا چاہیے، سلمان علی آغا کی تکنیک ٹھیک نہیں ہے اور وہ 20، 30 رنز کو 50، 60 رنز میں تبدیل نہیں کر پا رہے۔‘

سوشل میڈیا صارفین نے آؤٹ آف فارم سعود شکیل اور محمد رضوان پر بھی تنقید کی ہے۔

Ahmed

،تصویر کا ذریعہX

طالب نامی صارف نے لکھا کہ ’دونوں بلے باز دونوں ٹیسٹ میچز میں اپنی خراب تکنیک کی وجہ سے آؤٹ ہوئے ہیں اور ان کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔‘

دوسری جانب کرکٹ تجزیہ کار عظیم صدیقی نے شان مسعود پر تنقید کرتے ہوئے لکھا: ’آپ ایسی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان ہے جس کی کرکٹ تاریخ شاندار رہی ہے، آپ یکے بعد دیگر بنگلہ دیش کے خلاف شکست کھا رہے ہیں تو آپ کے کپتان رہنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ آپ گھر چلے جائیں۔‘

بنگلہ دیش کو اس ٹیسٹ سیریز میں ایک، صفر کی برتری حاصل ہے۔