کوچ سے مکالمہ اور پھر پی ایس ایل میں رنز کے انبار: بابر اعظم کی فارم میں واپسی کی کہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’کوچ نے صرف مجھ سے یہی کہا تھا کہ آپ میدان میں جائیں اور انجوائے کریں، مجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور صرف یہ کہا کہ آپ اتنے عرصے سے اتنا کچھ کرتے آئے ہیں، اپ اپنی نیچرل گیم کھیلیں۔‘
یہ کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کا جو پاکستان سپر لیگ 11 کے دوران اپنی شاندار کارکردگی کا راز اور پشاور زلمی کے کوچ اوٹس گبسن سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال بتا رہے تھے۔
’زلمی پوڈ کاسٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ کوچ مائیک ہیسن اور پشاور زلمی کے کوچ اوٹس گبسن کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کا کام کرنے کا انداز مختلف ہے۔
بابر اعظم کی قیادت میں پشاور زلمی کی ٹیم پی ایس ایل 11 کے فائنل میں پہنچ چکی ہے، جہاں اس کا مقابلہ اتوار کو لاہور میں حیدر آباد کنگز مین سے ہو گا۔
پی ایس ایل 11 گذشتہ تین، چار برس سے خراب فارم اور تنقید کی زد میں رہنے والے بابر اعظم کے لیے ایک خوبصورت سفر رہا۔ وہ اس سیزن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں۔
کرکٹ ماہرین اور بابر اعظم کے فین بھی اُن کی اس کارکردگی پر خوش ہیں۔ ایک وقت میں دنیا کے بہترین ٹی 20 بلے باز سمجھے جانے والے بابر حالیہ تین، چار برسوں میں مشکلات سے دوچار کیوں تھے؟ اور آخر اچانک اُن کی کارکردگی میں بہتری کیسے آئی، یہ جاننے سے پہلے ہم پی ایس ایل 11 میں بابر اعظم کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
10 میچز میں 588 رنز
بابر اعظم پی ایس ایل 11 میں 10 میچز میں اب تک 84 کی اوسط سے 588 رنز بنا چکے ہیں، جن میں دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔
10 میچز میں اُنھوں نے مجموعی طور پر 15 چھکے اور 60 چوکے لگائے اور ان کا سٹرائیک ریٹ 146 رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بابر اعظم نے پشاور زلمی کو پی ایس ایل 11 کے کئی میچز جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تاہم ٹی 20 ورلڈ کپ اور اس سے پہلے محدود اوورز کی کرکٹ میں اُنھیں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھانے پر شدید تنقید کا سامنا تھا۔
’بابر کو معمولی سی ایڈجسٹمنٹ کروائی‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بابر اعظم کی فارم سے متعلق جنوبی افریقن کمنٹیٹر جے پی ڈومنی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر پشاور زلمی کے بیٹنگ کوچ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں جب آپ گیند کو زور سے مارنا شروع کرتے ہیں تو عام طور پر ایک بلے باز جو گیند کا اچھا ٹائمر ہے تو وہ اپنا ردھم کھونے لگتا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ جب ایسا بلے باز زوردار شاٹ مارنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا اگلا کندھا کچھ دیر بعد کھلتا ہے، جس کی وجہ سے آپ آف سائیڈ، لیگ سائیڈ یا سیدھا مارتے وقت زیادہ طاقت حاصل نہیں کر پاتے۔
مصباح الحق کا کہنا تھا بابر اعظم کے ساتھ یہی مسئلہ ہو رہا تھا۔
اُن کے بقول اگر آپ اپنی نیچرل گیم کھیلیں اور صرف گیند کی رفتار کو استعمال کریں اور اسے اچھے سے ٹائم کریں تو اس کا اچھا نتیجہ نکلتا ہے۔
مصباح الحق کے بقول اُنھوں نے بابر کو بس یہی ایڈجسٹمنٹ کروائی کہ جب وہ سپنرز کے خلاف کھیلتے ہیں تو ان کا فرنٹ فٹ کچھ زیادہ آگے چلا جاتا تھا جس کی وجہ سے وہ لیفٹ آرم سپنر کو کراس کھیلنے کی کوشش میں وکٹ گنوا دیتے تھے۔
مصباح الحق کے بقول اب بابر اعظم اپنی یہ غلطیاں ٹھیک کر رہے ہیں اور آف سائیڈ کے ساتھ ساتھ مڈ وکٹ اور سامنے اچھی شاٹس کھیل رہے ہیں۔ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جس سے میں واقعی خوش ہوں، جس طرح سے وہ سپنرز کو ہینڈل کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’بابر کبھی بھی پاور ہٹر نہیں تھے‘
کرکٹ مبصر اور تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے بابر اعظم کی فارم میں واپسی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ بابر اعظم کا دوبارہ فارم میں آنا یاد دہانی ہے کہ کرکٹ ہمیشہ اس سکرپٹ کی پیروی نہیں کرتی جو ہم اس کے لیے لکھتے ہیں۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا تھا بابر اعظم کبھی بھی پاور ہٹنگ اور مسلز کی طاقت سے لمبے شاٹس لگانے کے ماہر نہیں تھے لیکن انھیں زبردستی اس جانب دھکیلا گیا۔
اُن کے بقول بابر اعظم کو زبردستی غلط نمبر پر کھلانے کی کوشش کی گئی، اُنھیں ٹی 20 کرکٹ کے لیے ان فٹ قرار دیا گیا، کپتانی واپس لے لی گئی اور یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ وہ بھولی ہوئی داستان بن چکے ہیں۔
’لیکن اب جو بابر اعظم نے حاصل کیا، وہی ہے جو اُن کا خاصہ تھا۔ خوبصورتی، شائستگی، درستگی، خالص کرکٹ اور ایک پرکشش انداز جو ہماری سانسیں روک دیتا تھا۔‘
’چاہے وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں واپس آئیں یا نہ آئیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ سوال ایک بھولی ہوئی باز گشت کی طرح کھوکھلا محسوس ہوتا ہے، ایک بھولی ہوئی بازگشت کی طرح۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا تھا کہ لوگ بابر اعظم کا ہمیشہ دیگر بڑے کرکٹرز سے موازنہ کرتے ہیں جو غلط ہے، بابر کوالٹی کرکٹ کھیلنے والے بلے باز ہیں، جن کا انداز دل موہ لیتا ہے۔
’جب ہم نمبرز کی بات کرتے ہیں، میچ وننگ پرفارمنسز کی بات کرتے ہیں یا ان کا موازنہ ظہیر عباس یا کوہلی سے کرتے ہیں، تو یہ موازنہ غلط ہے۔ بابر اعظم کی بلے بازی حرکت کرتی ہوئی شاعری کی طرح لگتی ہے۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ پشاور زلمی کی مینجمنٹ نے بھی بابر اعظم کی صلاحیتوں کو پہچان کر اُن سے استفادہ کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ کوشال مینڈس جیسے جارح مزاج بلے بازوں کو پاور پلے میں پاور ہٹنگ کا ٹاسک دیا گیا جبکہ بابر کو اپنی نیچرل گیم کھیلنے کی ہدایت کی گئی۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ بابر اعظم نے جو دو سنچریاں کیں، ان میں سے ایک 192 کے سٹرائیک ریٹ سے جبکہ دوسری سنچری 173 کے سٹرائیک ریٹ سے کی، حالانکہ انٹرنیشنل ٹی 20 کرکٹ میں 200 سے زائد کے سٹرائیک ریٹ سے سنچریاں بن رہی ہیں۔
اُن کے بقول بابر اعظم کی فارم میں واپسی پر سوشل میڈیا پر اُنھیں دوبارہ کپتان بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بابر اعظم کو صرف ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’بابر سے کہا کہ بس اپنی نیچرل گیم کھیلو‘
پشاور زلمی کے کوچ اوٹس گبسن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں نے بابر اعظم سے پہلی ملاقات میں ایک سوال پوچھا تھا کہ دُنیا کے بہترین ٹی 20 بلے باز کون ہیں؟ میں اور وہ دونوں اس پر متفق تھے کہ وہ کرس گیل ہیں، جن کی 21 ٹی 20 سنچریاں ہیں۔
پھر میں نے بابر سے پوچھا کہ اس کے بعد سنچریوں کے لحاظ سے کس کا نمبر ہے تو وہ بابر اعظم خود تھے جن کی ٹی 20 سنچریوں کی تعداد 11 ہے۔
اُن کے بقول میں نے بابر سے کہا کہ آپ اپنی نیچرل گیم کھیلیں اور ٹیم کو جتوائیں۔ ’ہم نے اُن کی صلاحیتوں پر توجہ دی اور اُن کی خامیوں کو نظر انداز کیا اور یہی مائنڈ سیٹ اُن کی فارم میں واپسی کا سبب بنا۔‘


























