ٹرمپ نے ایران معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کیوں جوڑا اور کیا سعودی عرب اور پاکستان انکار کر سکیں گے؟

ٹرمپ، عاصم منیر، شہبام شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 9 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ انھوں نے سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن سے یہ ’لازم مطالبہ‘ کیا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے۔ مگر انھوں نے اس عمل کو ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں قیام امن کے ساتھ جوڑا ہے۔

آسان لفظوں میں ابراہیمی معاہدے یا ’ابراہیم اکارڈز‘ سے مراد مسلم اکثریتی ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنا ہیں۔

سنہ 2020 کے دوران ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کر کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

مگر اب ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعد ’نیو ابراہیم اکارڈز‘ کی بازگشت ہے جس میں سعودی عرب، پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے کا کہا گیا ہے۔

اگرچہ پاکستان نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا مگر ماضی میں دفتر خارجہ کے ترجمان ملک کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔

دیگر ممالک کی طرف سے خاموشی برقرار رکھی گئی ہے تاہم وہ بھی ماضی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ ان سبھی ممالک کا مطالبہ ہے کہ پہلے ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو گا۔

ٹرمپ کے ابراہیمی معاہدوں سے متعلق بیان کے بعد ایران پر بمباری

اپنے پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے سنیچر کو ان ممالک کے رہنماؤں سے بات کی اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے رہنماؤں سے بھی گفتگو کی جو پہلے ہی ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں لکھا کہ وہ ’لازمی طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام ممالک فوری طور پر ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کریں اور اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو بطور صدرِ امریکہ تو یہ اعزاز ہو گا کہ وہ بھی اس بے مثال عالمی اتحاد کا حصہ بنیں۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس سلسلے میں ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ رابطوں کی بھی تصدیق کر چکے ہیں۔ مگر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے تاحال ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ جن ممالک سے انھوں نے بات کی، ان میں سے ایک یا دو کے پاس ابراہیمی معاہدوں میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے 'لیکن اکثر ممالک کو چاہیے کہ وہ تیار ہوں تاکہ ایران کے ساتھ اس معاہدے کو مزید تاریخی بنایا جا سکے۔'

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت اور ’کئی امور پر فیصلہ ہونے‘ کی تصدیق کی ہے مگر کہا ہے کہ ’معاہدہ ناگزیر نہیں۔‘ گذشتہ روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جوہری معاملات پر بات چیت کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر قیام امن کے لیے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دی گئی تو دیگر موضوعات پر 60 روز کی مدت میں بات چیت ہو گی۔

مگر پھر اتوار کی شب امریکی فوج کے مطابق اس نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے جن میں ایرانی میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کو ہدف بنایا ہے جو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

رپبلکن سینیٹر اور ٹرمپ کے اتحادی لنزے گراہم کے مطابق جہاں تک بات ابراہیمی معاہدوں کی ہے تو عرب اور مسلم اتحادیوں کے پاس ’ناکامی‘ کی کوئی گنجائش نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب اور پاکستان جیسے دیگر ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے سے خطہ وہ استحکام حاصل کر سکتا ہے جس کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے ایسے علاقائی انضمام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ ایک بارود کے ڈھیر کے بجائے معاشی مواقع اور بہتری کی ایک مضبوط طاقت بن سکتا ہے۔‘

’مجھے توقع ہے کہ ہمارے عرب اتحادی اس اقدام کو اپنائیں گے اور اسرائیل میں ہمارے شراکت دار بھی اس مقصد پر توجہ مرکوز کریں گے کیونکہ ناکامی کوئی آپشن نہیں۔‘

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا پاکستان ٹرمپ کو انکار کر سکتا ہے؟

صحافی کامران یوسف نے اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا پاکستان ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کر سکتا ہے؟‘

’اگرچہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس وقت صدر ٹرمپ کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرے گا۔‘

انھوں نے مثال دی کہ اسلام آباد ’ماضی میں متعدد معاملات پر واشنگٹن سے اختلاف کرتا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اس سے آگاہ ہیں، جیسا کہ انھوں نے ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ ایک یا دو ممالک ابراہیمی معاہدوں میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور یہ قابل قبول ہو گا۔ ممکن ہے وہ پاکستان کی جانب اشارہ کر رہے ہوں۔‘

اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کا کوئی بھی فیصلہ سعودی عرب پر منحصر ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ماضی میں بعض پاکستانی سویلین اور فوجی حکام کے اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی روابط رہے ہیں۔ تاہم اسلام آباد نے ہمیشہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کو ایک فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کیا ہے۔ یہ ایک غیر متزلزل مؤقف رہا ہے۔ اس لیے فی الحال ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونا پاکستان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

تو کیا یہ موقف تبدیل ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ممکن ہے اگر سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائے تو پاکستان پر اپنے موقف پر نظرثانی کے لیے دباؤ بڑھے۔‘

’لیکن موجودہ عوامی رائے کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی پاکستانی حکومت اگر ان معاہدوں میں شامل ہوتی ہے تو اسے سیاسی طور پر شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

صحافی حامد میر کا خیال ہے کہ ٹرمپ پاکستان اور سعودی عرب سے ناخوش ہیں۔ وہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ غصے میں ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا۔ یہ طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔‘

سابق پاکستانی سفیر عبدالباسط نے ایکس پر لکھا کہ ’ٹرمپ چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کریں۔۔۔ (مگر) پاکستان کبھی بھی ایسی غیر معقول شرط سے اتفاق نہیں کرے گا۔‘ جبکہ تجزیہ کار عاصمہ شیرازی سمجھتی ہیں کہ اسلام آباد ’ایسے کسی فریم ورک میں شامل ہونے کا پابند نہیں ہے۔‘

ان کا خیال ہے کہ یہ ٹرمپ کی طرف سے دباؤ ڈالنے کی نئی حکمت عملی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکی صدر بظاہر اسرائیل کو ’خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ اور مقصد ’خلیجی ممالک اور پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدوں کو قبول کریں ورنہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو گا، یعنی خطے میں امن ممکن نہیں رہے گا۔‘

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے تناظر میں کہا تھا کہ پاکستان کا مؤقف بدستور واضح ہے کہ ’ہم ابراہیمی معاہدوں کے فریق نہیں بنیں گے۔‘

انھوں نے آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں اس چیز سے کوئی مسئلہ نہیں کہ کون سے ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں اور کون شامل نہیں ہوتے۔ ہم اسے قانونی اعتبار سے فلسطینی ریاست کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔‘

ٹرمپ، سلمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا نیا ابراہیمی معاہدہ ممکن ہے؟

مذہب اسلام کی جائے پیدائش سعودی عرب کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا محض ایک سفارتی سنگ میل نہیں بلکہ حساس قومی سلامتی کا مسئلہ ہے جو خطے کے قدیم اور پیچیدہ تنازعات میں سے ایک کے حل سے جڑا ہوا ہے۔

سعودی عرب کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ اس وقت تک ابراہیمی معاہدوں پر دستخط نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے روڈ میپ پر اتفاق نہ ہو جائے۔

سی این این کے مطابق ایک سعودی ذریعے نے بتایا ہے کہ ریاض کا موقف تبدیل نہیں ہوا جبکہ دوسرے ذریعے نے کہا کہ ٹرمپ نے کال پر ممالک کی حوصلہ افزائی کی تھی، نہ کہ اسے ایران معاہدے کی کسی شرط کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔

سعودی عرب کے موقف کے بارے میں سی این این سے بات کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر حسن الحسن نے کہا کہ ’کئی ممالک اسرائیل کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔۔۔ اسرائیل نے غزہ، لبنان اور شام میں علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے مصر، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے اتحاد بھی قائم کیا ہے۔ تو میرا نہیں خیال کہ خطے کے ممالک ٹرمپ کی اس خواہش سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

مصر، اردن اور ترکی کے اسرائیل کے ساتھ پہلے ہی سفارتی تعلقات موجود ہیں تاہم غزہ جنگ کے بعد ان تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ نے روئٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کو ’ابراہیمی معاہدوں کے تسلسل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسرائیل اور خطے دونوں کے لیے فائدہ مند اور واشنگٹن کے لیے مشکل ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ '’وہ ایک تصور کو دوسرے تصور سے بدل رہے ہیں۔ ایک جانب ایران کو جھکنے پر مجبور کرنے کا خیال اور دوسری جانب یہ تصور کہ ایک کمزور معاہدہ نئے مشرق وسطیٰ کے نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔‘

ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے پہلے دورِ صدارت میں طے پانے والے ان معاہدوں کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دور میں ان معاہدوں پر دستخط کیے، جس سے ایک طویل عرصے سے قائم روایت ٹوٹ گئی اور وہ ایک چوتھائی صدی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ بعد ازاں مراکش اور سوڈان نے بھی اسی راہ پر قدم بڑھایا۔

دی یروشلم پوسٹ کے لیے اپنے کالم میں سیتھ جے فرانٹزمین لکھتے ہیں کہ 'نیو ابراہیم اکارڈز' کا تصور غیر حقیقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ برسوں میں اس کے برعکس کہ امن اور علاقائی انضمام کی جانب زیادہ پیش رفت ہوتی، ایسے مضامین سامنے آئے ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیل کو سعودی عرب اور ترکی جیسے سنی ممالک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

’یہ اسرائیل کے لیے ممکنہ نئے مخالفین کی ایک فہرست پیش کرتا ہے۔ اس کے بجائے کہ یہ تاثر دیا جائے کہ ابراہیمی معاہدوں کے دائرے میں توسیع ہو سکتی ہے اور اس سے مزید امن اور استحکام آئے گا، اس نوعیت کے مضامین ریاض کی تشویش کو بڑھاتے ہیں۔‘