محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر حملہ کرنے والے نے ’2016 میں اپنے استاد کو بھی قتل کیا تھا‘

    • مصنف, احتشام شامی
    • عہدہ, صحافی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کی پولیس کے مطابق مذہبی سکالر اور مبلغ انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی شناخت بلال احمد خان کے نام سے کی گئی ہے جن کے خلاف میانوالی میں ایک دہائی قبل اپنے ہی سکول ٹیچر کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

جہلم پولیس کے مطابق بلال احمد اتوار کے روز محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ کے بعد پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گئے تھے۔

جہلم پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جی ٹی ایس چوک میں واقع قرآن اکیڈمی کے باہر فائرنگ کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی۔

بیان کے مطابق پولیس نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ شروع کر دی، تاہم پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہو گیا جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔

اس واقعے کے بعد جہلم کے تھانہ سٹی میں پولیس کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی، اقدام قتل، پولیس مقابلے سمیت چھ سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

جہلم پولیس کے ترجمان کے مطابق نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیموں کے ذریعے ہلاک ہونے والے ملزم کی شناخت کی گئی۔ ان کے مطابق حملہ آور کا نام بلال احمد خان ہے جن کے خلاف 10 سال پہلے میانوالی میں قتل کا مقدمہ درج ہوچکا تھا اور وہ تین سال جیل میں رہنے کے بعد رہا ہوئے تھے۔

دریں اثنا ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ’واقعہ کی مکمل رپورٹ طلب کرتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔‘

’جہلم میں قرآن و سنت اکیڈمی کے باہر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔‘

محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

تھانہ سٹی میں پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق جہلم میں کاظم روڈ پر واقع اکیڈمی میں ہر اتوار محمد علی مرزا کا لیکچر ہوتا ہے جس میں دور دراز سے لوگ آ کر شرکت کرتے ہیں اور اس ضمن میں سکیورٹی کے لیے پولیس تعینات کی جاتی ہے۔

اس میں لکھا ہے کہ ’اتوار کی صبح 10 بج کر 45 منٹ پر ایک شخص، جس نے سفید رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور ہاتھ میں سیاہ رنگ کا بیگ اٹھایا ہوا تھا، جی ٹی ایس چوک کی طرف سے پیدل آیا۔ وہ اکیڈمی کے سامنے سڑک کے پار قریشی ہاؤس کے دروازے کے قریب بنی ہوئی چھوٹی دیوار کے ساتھ اوٹ میں اچانک لیٹ گیا اور اپنا پستول نکال کر اکیڈمی کے دروازے پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر قتل کی نیت سے سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران کانسٹیبل احسن کیانی کے دائیں پاؤں پر فائر لگا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو کر گر پڑا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ملزم کی فائرنگ سے ریسرچ اکیڈمی اور ملحقہ بیکری کے شیشے ٹوٹ گئے اور دیواروں پر بھی گولیوں کے نشانات آئے۔ ’عوام الناس نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں۔ اندھا دھند فائرنگ سے شارعِ عام پر اور اکیڈمی میں موجود شرکا میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ موقع پر موجود اہلکاروں نے ’مناسب اوٹ لے کر اکا دکا فائر کیے۔ کچھ دیر بعد جب فائرنگ رک گئی تو دیکھا گیا کہ ایک شخص مردہ حالت میں پڑا ہے جس کے دائیں ہاتھ میں نو ایم ایم کا پستول تھا۔‘

جہلم پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جی ٹی ایس چوک میں واقع قرآن اکیڈمی کے باہر فائرنگ کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی۔

بیان کے مطابق پولیس نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ شروع کر دی، تاہم پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہو گیا جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔

حملہ آور بلال احمد خان کون تھے؟

جہلم اور میانوالی دونوں شہروں کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی شناخت بلال احمد خان کے نام سے کی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق بلال کے خلاف ستمبر 2016 کے دوران میانوالی کے تھانہ صدر میں اپنے سکول ٹیچر کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا تھا اور اس وقت بلال میٹرک کے طالبعلم تھے۔

اس مقدمے کے مدعی، یعنی مقتول ٹیچر ثمر عباس کے بھائی عبدالرزاق، نے پولیس کو بتایا تھا کہ ثمر عباس گورنمنٹ ہائی سکول چاہ حسین والا میں بطور ٹیچر ملازمت کرتے تھے۔

2016 کی اس ایف آئی آر کے متن کے مطابق بلال احمد نے سکول سے واپسی پر ٹیچر ثمر عباس کو للکار کر کہا کہ ’سکول کے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر مجھے منع کرنے کا مزا چکھاتا ہوں۔ اور ساتھ ہی ملزم بلال نے 12 بور اسلحہ سے سیدھا فائر ثمر عباس پر کیا جو کہ موٹرسائیکل سے گر پڑا تو بلال احمد بندوق لہراتا ہوا بھاگ گیا۔‘

اس ایف آئی آر کے مدعی عبدالرزاق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ زمیندار ہیں اور ان کا بھائی ’شریف النفس انسان تھا۔۔۔ جب اسے قتل کیا گیا تو اس کی ڈیڑھ سال کی بیٹی اور تین ماہ کا بیٹا تھا۔ دونوں بچے اب بڑے ہوچکے ہیں اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے بابا کو کیوں قتل کیا گیا۔ میں ان کا سوال سن کر رو پڑتا ہوں اور جواب نہیں دے پاتا۔ انھیں کیا بتاؤں کہ ان کے بابا کو عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے ناحق قتل کیا گیا تھا۔‘

میانوالی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار کھرل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بلال کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بلال ’کم عمری میں ہی اپنے استاد کے قتل کیس میں تین سال جیل رہا ہے۔ ایک سال بعد مقتول ٹیچر کے خاندان نے اس کے ایک بھائی کو قتل کر دیا جس کے کچھ عرصہ بعد فریقین میں صلح صفائی ہوگئی۔ عدالت میں دونوں پارٹیوں نے مقدمات واپس لے لیے اور زیرحراست افراد کی جیل سے رہائی ہوگئی۔‘

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بتایا کہ ملزم بلال کا ایک بھائی ساجد خان ’محکمہ پولیس میں حوالدار تھا جس نے بلال کو اس کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے میانوالی سے نکال دیا تھا۔ وہ لاہور کے ایک پیٹرول پمپ پر سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔‘

عبدالرزاق نے بھی بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بھائی کے قتل کے 14 ماہ بعد ’ہم نے ملزم بلال کے بڑے بھائی صفدر خان کو قتل کر دیا تھا جس کا مقدمہ ہمارے خلاف درج کیا گیا تھا۔ ملزم بلال اس وقت جیل میں تھا۔‘

عبدالرزاق کے بقول اپنے خلاف قتل کے مقدمے میں وہ دو سال زیرِ حراست رہے مگر اس کے بعد ’دونوں فریقین نے صلح صفائی کی اور اپنے اپنے مقدمات واپس لے لیے۔‘ اس کے بعد دسمبر 2019 میں انھیں اور بلال ’دونوں کو رہائی مل گئی تھی۔‘

عبدالرزاق کا دعویٰ ہے کہ بلال کے ان کے بھائی کے خلاف مسلک کی بنیاد پر اختلافات تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ بلال 'ایک مدرسے میں پڑھتا تھا اور مخصوص عمامہ پہن کر سکول آتا تھا۔۔۔ ٹیچر ثمر عباس نے سکول یونیفارم کے علاوہ کوئی بھی لباس پہن کر سکول آنے پر پابندی لگا دی تھی جس کا بلال کو غصہ تھا۔

’وہ یہ سمجھتا تھا کہ شاید ٹیچر نے مسلک کے اختلاف کی وجہ سے اس کے عمامہ پہننے پر پابندی لگائی گئی۔‘

محمد علی مرزا پر ماضی میں قاتلانہ حملے

فروری میں مذہبی سکالر اور مبلغ انجینیئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں پولیس نے ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک 26 سالہ شخص کو گرفتار کیا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انجینیئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کے عمامہ (پگڑی) کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور انھیں اکیڈمی کی ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا ہے۔

پولیس نے یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل) کے تحت درج کی ہے۔

جہلم پولیس کے مطابق انجینیئر محمد علی مرزا پر مارچ 2021 میں بھی چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اُن کے بازو پر زخم آیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح سنہ 2017 میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں بھی وہ محفوظ رہے تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال انجینیئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025 میں انھیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔