قطر کے راس لفان گیس پروسیسنگ مرکز میں حادثے کے بعد 54 افراد زخمی: ’دھماکے کی آواز دوحہ تک پہنچی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سیلی نبیل
- عہدہ, بی بی سی عربی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
قطر میں ایل این جی کے ایک بڑے پروسیسنگ مرکز راس لفان انڈسٹریئل سٹی میں حکام کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد زخمی ہوئے جبکہ 18 افراد لاپتہ ہیں۔
قطر انتظامیہ کے مطابق راس لفان انڈسٹریئل سٹی میں ’تکنیکی حادثے‘ کے باعث پہلے دھماکہ ہوا اور پھر بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اُٹھی۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہنگامی امدادی ٹیموں کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا گیا اور آگ پر کُچھ ہی دیر کے بعد قابو پا لیا گیا ہے۔‘
قطر کی وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد زخمی ہوئے جبکہ 18 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ وزارت کے مطابق دھماکہ ایک ’تکنیکی حادثے‘ کے باعث ہوا اور اس کے نتیجے میں گیس کا ’ایسا اخراج نہیں ہوا جو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔‘
وزارتِ داخلہ نے مزید بتایا کہ قطری انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو گروپ سول ڈیفنس ٹیموں کے تعاون سے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔
قطر انرجی نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھماکے سے پلانٹ کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔ یہ پلانٹ قطر کی مقامی مارکیٹ کو گیس فراہم کرتا ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے کی زور دار آواز دارالحکومت دوحہ میں بھی سنی گئی، جو راس لفان تنصیب کے جنوب میں واقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے بعد قطر نے اپنے برآمدی ٹرمینل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سرکاری کمپنی قطر انرجی کے مطابق اتوار کی رات اسی کام کے دوران تنصیب میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔
دھماکے کے بعد نقصان کی نوعیت اور حجم ابھی تک معلوم نہیں۔ ابتدا میں حکام نے کہا تھا کہ صرف چند افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم چند گھنٹے بعد قطر کی وزارتِ داخلہ نے زخمیوں کے کہیں زیادہ اعداد و شمار جاری کیے۔
اس پلانٹ کی یومیہ گنجائش تقریباً 1.4 ارب سٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس تھی۔ قطر اسے بجلی پیدا کرنے اور صحرائی علاقوں میں واقع اپنے پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو چلانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
پلانٹ کی تقریباً مکمل ملکیت قطر کے پاس ہے جبکہ اس میں ایک چھوٹا حصہ ایگزون موبل کا بھی ہے۔
مارچ میں ایرانی میزائل راس لفان میں آ گرا تھا جس سے آگ بھڑک اٹھی اور حکام کے مطابق اس سے ’وسیع‘ نقصان ہوا تھا۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ ایرانی حملوں کے باعث قطر پہلے ہی وہاں پیداوار روک چکا تھا۔
خلیج فارس میں واقع اپنے وسیع سمندری قدرتی گیس کے ذخیرے میں قطر اور ایران کے درمیان شراکت بھی قائم ہے۔ قدرتی گیس کی اسی پیداوار نے قطر کو دولت مند بنایا۔
اے پی کے مطابق قطر نے اسی دولت کو 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی، الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کے قیام اور ایک بین الاقوامی ثالث کے طور پر اپنے کردار کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا ہے۔
اس میں ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات بھی شامل ہیں۔
مذاکرات کے بارے میں خلیجی ممالک میں بے چینی
امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ ہفتے طے پانے والے معاہدے کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، خاص طور پر اگر اسرائیل اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قابو میں نہ لایا جا سکا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشمکش میں پھنسے خلیج فارس کے عرب ممالک اس پیش رفت کو تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ اگر دوبارہ کشیدگی بھڑک اٹھتی ہے تو غالب امکان ہے کہ یہی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
اردن میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ہزاع مجالی کہتے ہیں: ’یہ اسرائیل تھا جس نے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹا۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ آیا یہ معاہدہ برقرار رہے گا یا نہیں، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اسرائیل اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔‘
فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد، ایران نے خلیج فارس کے ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہیں۔ تیل سے مالا مال ان ممالک کے بارے میں کئی برس سے تاثر قائم تھا کہ یہاں امن اور استحکام ہے، تاہم ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اس تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، مفاہمتی معاہدے پر دستخط کے بعد 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسرائیل نے لبنان پر متعدد فضائی حملے کیے جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے بھی اعلان کیا کہ اس کے چار اہلکار مارے گئے۔
معاہدے کے مطابق، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔ حزب اللہ طویل عرصے سے خطے میں ایران کی اہم پراکسی سمجھی جاتی رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق لبنان میں ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، لیکن ایسے معاہدے اکثر نازک ہوتے ہیں اور عموماً زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتے۔
اوٹاوا یونیورسٹی کے سکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کے پروفیسر تھامس جونیو کہتے ہیں: ’میرے خیال میں کوئی بھی حقیقت پسندانہ منظرنامہ ایسا نہیں تھا جس میں لبنان اور ایران دونوں میں کشیدگی مکمل طور پر ختم ہو جاتی۔ لبنان میں تشدد میں عارضی اضافہ ناگزیر ہے اور خلیج فارس میں بھی ایسی صورت حال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ، ایران معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی امن کے عمل کا آغاز ہونا ہے۔ خلیج فارس کے کنارے واقع کئی شہروں میں لوگوں سے گفتگو کے دوران احساس ہوتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے بارے میں پُر امید بھی ہیں اور شکوک کا شکار بھی۔
کویت شہر کے ایک بازار میں ایک بزرگ شخص کہتے ہیں: ’کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا۔ ہم سب بس پُر سکون زندگی چاہتے ہیں۔‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’مجھے یاد ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیسے دلاسا دیتے تھے، جو ایرانی میزائلوں کی خوفناک آواز سے بہت ڈر جاتے تھے۔ انھوں نے اس سے پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا۔‘
لبنان میں کشیدگی میں حالیہ اضافے سے پہلے بھی بازار میں موجود ایک اور شخص نے اس معاہدے کو ’انتہائی کمزور‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے، اگرچہ وہ اب بھی امید رکھتے ہیں کہ ان کی زندگی جنگ سے پہلے کے حالات میں واپس آ جائے گی۔
ایسا لگتا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ برقرار رہے۔ وہ بے صبری سے اس انتظار میں ہیں کہ آخر کار تیل کی اپنی وسیع پیداوار بغیر کسی رکاوٹ کے عالمی منڈیوں تک برآمد کر سکیں۔ اس ضمن میں آبنائے ہرمز کلیدی کردار ادا کرتی ہے؛ یہ ایک سٹریٹیجک آبی گزر گاہ ہے جس کے ذریعے ان ممالک کا تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے اور جنگ کے آغاز سے ایران نے عملی طور پر اسے بند کر دیا تھا۔
امریکی اور ایرانی صدور کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت بتدریج بحال ہوئی اور سعودی عرب کے تیل بردار جہاز اس اہم آبی راستے سے گزرنے لگے، جبکہ امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
تاہم لبنان پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے بعد، خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے میں درج پہلے نکتے پر عمل در آمد میں ’واضح بد عہدی‘ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے۔
آبنائے دوبارہ کھلنے کی خبر سامنے آنے کے بعد تیل کی فی بیرل قیمت 80 ڈالر سے بھی کم ہو گئی تھی، تاہم امن عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ خطے کے ممالک کے لیے مزید معاشی نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔
بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ہزاع مجالی کہتے ہیں: ’ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے جو دباؤ ڈال سکتا ہے وہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے سے کہیں زیادہ مؤثر ہے، اور اسی وجہ سے تہران نے جوہری معاملے میں کچھ رعایتیں دینے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ آبنائے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے۔ اگر آبنائے ہرمز بند نہ کی جاتی تو غالباً جنگ جاری رہتی۔‘
14 نکاتی معاہدہ ایران کو متعدد معاشی مراعات دینے کا وعدہ کرتا ہے؛ جن میں پابندیوں میں نرمی، بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی اور 300 ارب ڈالرز کے ایک فنڈ تک رسائی شامل ہے۔
تاہم تھامس جونیو اس معاہدے کو ’انتہائی مبہم اور غیر واضح‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ایران کو یہ معاشی فوائد کب ملیں گے؟ معاہدے میں اس کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں۔ یہ بھی غیر واضح ہے کہ کتنے اثاثے بحال کیے جائیں گے۔ اور جہاں تک 300 ارب ڈالرز کے فنڈ کی بات ہے تو یہ بات بھی واضح نہیں کہ رقم کہاں سے آئے گی۔‘
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس مجوزہ فنڈ کے اخراجات خلیج فارس کے ممالک کا اتحاد پورے کرے گا، تاہم انھوں نے اپنی بات کی مزید وضاحت نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیج فارس کے کسی بھی ملک نے اب تک ایران کو مالی ادائیگی کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
خطے میں بعض لوگوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنگ جو انھوں کی شروع نہیں کی، اس کی قیمت وہ ادا کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کار علی الهیل کہتے ہیں: ’بطور خلیجی شہری، میں نہیں چاہتا کہ ہمارے ممالک ایران کو ایک ریال بھی دیں۔ ایران کو ہمیں معاوضہ دینا چاہیے کیونکہ ہم ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی قیمت بنیامین نیتن یاہو کو ادا کرنی چاہیے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو یہ خرچ اٹھانا چاہیے، کیونکہ وہی تھے جنھوں نے ایران پر حملہ کیا۔‘
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکی حکام خطے کے عرب ممالک کو اس منصوبے میں مالی شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے یا نہیں۔ تھامس جونیو کہتے ہیں: ’خلیج فارس کے ممالک 300 ارب ڈالرز جیسی بڑی رقم ادا کرنے کے خلاف سخت مزاحمت کریں گے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ ایران اور اس کے عرب ہمسایوں کے درمیان حقیقی مفاہمت کے لیے ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے، اسی لیے ’یہ ناممکن نہیں کہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ایران میں سرمایہ کاری کی جائے، تاہم خلیجی ممالک کو سنجیدہ ضمانتیں درکار ہوں گی۔‘
مجموعی طور پر مستقبل کی تصویر اب بھی غیر واضح ہے۔ لیکن عام لوگوں کے لیے بنیادی مسئلہ زیادہ سادہ ہے: وہ ایک ایسی پُر سکون زندگی چاہتے ہیں جہاں انھیں پناہ گاہوں کی طرف بھاگنا نہ پڑے اور ان کی آنکھ خطرے کے سائرن سے نہ کھلے۔

























