’بلو دے گھر‘ سے ’مجاجن‘ تک: ابرار الحق کی کرن جوہر سے شکایت اور متنازع گیتوں کا قصہ

- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, صحافی، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان میں پنجابی بھنگڑے کو پاپ میوزک کے رنگ میں ڈھال کر نوجوان نسل کو راغب کرنے میں ابرار الحق کا کردار اپنی جگہ لیکن یہ سفر تنازعات سے بھرپور تھا۔ 1995 میں بلو کے گھر سے شروع ہونے والی یہ کہانی ابرار الحق کو کئی مرتبہ عدالت تک بھی لے جا چکی ہے۔
ابرار الحق کی ہنگامہ خیز فنکارانہ زندگی پر بی بی سی اردو نے ان کا ساتھ ایک نشست رکھی اور بہت سے دلچسپ پہلؤوں خاص کر پنجابی موسیقی اور اس کے مستقبل پر بھی بات کی۔
یاد رہے کہ 1995 میں ابرار الحق کا گانا ’بلو دے گھر‘ کے بعد ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔ ابرار الحق اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ وقت آج کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اس شدید ردِعمل پر حیران تھے، ’کیونکہ یہ محض ایک گانا ہی تو تھا۔‘ ان کے بقول ’کسی خاص نام کے ساتھ گانے تخلیق کرنے کی روایت پہلے بھی موجود تھی مثلاً مہدی حسن صاحب کا مشہور گانا ’پیار میرا ہو فرزانہ بھول نہ جانا‘ لیکن اس پر کبھی کسی قسم کا اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔‘
اس کے برعکس ’بلّو دے گھر‘ اور بعد میں ’نچ مجاجن‘ جیسے گانوں کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف باقاعدہ احتجاجی جلوس بھی نکالے گئے۔
’بلّو دے گھر‘ کو یاد کرتے ہوئے ابرار الحق نے بتایا کہ کس طرح نصرت فتح علی خان سے انھیں پنجابی میوزک کو ایک نیا روپ دینے کا خیال آیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پیٹر گیبریل کے ساتھ نصرت فتح علی خان صاحب نے دم مست قلندر بنایا تھا، وہ میوزک مجھے مزے کا لگا۔ پھر خیال آیا کہ پنجابی میوزک میں بھی انرجی آنی چاہیے اور اسے مغربی میوزک کے ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔ ایک تجربہ تھا، جب بنا تو میری سوچ سے زیادہ اثر آیا۔‘
جب ابرار الحق سے ان کے مشہور گانے ’نچ پنجابن‘ کے بارے میں پوچھا، جس پر ردِعمل بلّو سے زیادہ شدید تھا اور ابرار کو گانے کے بول ہی بدلنے پڑ گئے، تو ابرار الحق نے کہا کہ ’جب بھی کوئی گانا مقبولیت کی ایک مخصوص حد کو عبور کر لیتا ہے، تو جہاں ایک طرف لوگ اس پر جھوم اٹھتے ہیں، وہیں دوسری طرف حسد اور ناراضی کی بنیاد پر اس پر تنازعات بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔‘

گانے پر شدید اعتراضات کے بعد اس کے بول بدل کر ’نچ پنجابن‘ سے ’نچ مجاجن‘ کرنا کیا ان کے لیے تکلیف دہ عمل تھا، تو انھوں نے کہا کہ ’اس سے کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کے نزدیک مجاجن کا لفظ بھی اتنا ہی مقبول ثابت ہوا، تاہم انھوں نے مسکراتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ اصل لفظ پنجابن میں جو مٹھاس تھی، وہ تبدیلی کے بعد ظاہر ہے اس حد تک برقرار نہ رہ سکی۔
ابرار الحق کی پاکستان کے سپریم کورٹ کی پیشی کے بارے میں جب پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ مشہور کالم نگار جاوید چوہدری نے ان کے گانے ’پروین‘ کے ایک بول ’پروین بڑی نمکین‘ پر ایک کالم لکھا کہ یہ غیر اخلاقی ہے اور اس کی وجہ سے معاشرے میں موجود تمام پروین نام کی خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا دشوار ہو گیا ہے۔
ابرار الحق کو عدالتِ عظمیٰ میں طلب کر لیا گیا اور جب وہ اپنے وکیل کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچے، تو ان کا خیال تھا کہ معاملہ شاید اتنا سنجیدہ نہیں۔ لیکن جسٹس بھگوان داس نے سختی سے ہدایت کی کہ کیس کی پوری تیاری کے ساتھ پیروی کی جائے۔
ابرار الحق کے مطابق ان کے وکیل، ڈاکٹر خالد رانجھا، قدرے پریشان ہوئے اور کیس کو مضبوط بنانے کے لیے ابرار الحق اور ان کی قانونی ٹیم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی متعدد ’پروین‘ نامی خواتین کے حلف نامے حاصل کیے گئے جس میں انھوں نے گانے پر کسی بھی قسم کا اعتراض نہ ہونے کی تصدیق کی۔
ان میں سینیٹر کلثوم پروین کا حلف نامہ بھی شامل تھا جن کی عمر اس وقت 70 سال کے قریب تھی۔ ابرار الحق بتاتے ہیں کہ ’جج صاحب نے جب پہلا حلف نامہ اٹھایا تو کہا کہ یہ تو ساری بڈھی بڈھی پروینیں ہیں، جوان پروینیں کہاں ہیں؟‘
ابرار کو اس گانے میں بھی تبدیلی لانی پڑی اور پروین پرمین بن گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اس چیز کو پہلے ہی محسوس کر لیا تھا کہ پروین بڑی نمکین پر شاید ردعمل آئے کیونکہ میرے خلاف ہو جاتے تھے لوگ، تو میں نے پروین کو گایا ہی پرمین تھا۔ ایک جگہ کہیں رہ گیا، تو وہ پروین ہی چلا گیا۔ تو انھوں نے وہی اٹھایا اور اس کو انھوں نے ہر جگہ چلایا، کہا کہ یہ بہت غلط ہو گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہChamkeeli
جب ان سے دریافت کیا کہ کیا گانے ’چمکیلی‘ پر مردانہ صنف کے ساتھ امتیاز کا الزام اور سامنے آنے والا ردِعمل غیر متوقع تھا؟
ابرار الحق نے اس ردِعمل کو انتہائی غیر متوقع قرار دیتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا کہ ان پر مردوں کو کمتر دکھانے کا الزام عائد کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس گانے کو خواتین کی خودمختاری کا ایک بہترین عکاس سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول یہ ضروری نہیں کہ ’ہمیشہ لڑکا ہی بارات لے کر آئے اور لڑکی کو رخصت کروا کر اپنے گھر لے جائے۔ اگر دونوں کی رضا مندی شامل ہو تو لڑکیاں بھی بارات لا سکتی ہیں اور اپنے دلہا کو بیاہ کر لے جا سکتی ہیں، اور ایسا ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘
ابرار الحق انڈین فلم ساز کرن جوہر سے بھی شدید نالاں نظر آئے کیونکہ ان کے بقول کرن جوہر نے ان کی اجازت کے بغیر مشہور گانا ’نچ پنجابن‘ اپنی فلم میں شامل کر لیا تھا۔
ابرار الحق کا کہنا تھا کہ ’اس گانے کو بنیادی محور بنا کر نہ صرف فلم کی بھرپور مارکیٹنگ کی گئی بلکہ اس کے ذریعے اربوں روپے کمائے گئے، لہٰذا اخلاقی طور پر کرن جوہر کو کم از کم ان سے اجازت لینی چاہیے تھی۔‘
ابرار الحق نے واضح کیا کہ انھوں نے اس گانے کے کاپی رائٹس فروخت نہیں کیے تھے۔ ’میں نے قانونی کارروائی کی تھی اور ابھی وہ چل رہی ہے اور اس کا نتیجہ نکلے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی انڈین فلم انڈسٹری ان کے کئی گانے استعمال کر چکی ہے۔
1995ء میں جس سال ابرار الحق نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، اسی سال انڈین پنجاب سے دلیر مہندی نے بھی شروعات کی اور اس کے بعد وہاں یو یو ہنی سنگھ اور بادشاہ جیسے کئی بڑے فنکار سامنے آئے۔
تو پاکستان میں ان کا ایسا کوئی جانشین کیوں نظر نہ آرہا؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ اس کی بنيادی وجہ دونوں خطوں کی ثقافتی ترجیحات کا فرق ہے۔
’انڈین پنجاب میں پنجابی کلچر کی پذیرائی کی جاتی ہے اور وہاں پنجابی زبان بڑے شوق سے بولی، لکھی اور گائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں کہیں نہ کہیں یہ سوچ غالب آ چکی ہے کہ پنجابی بولنا کوئی باوقار یا ’کول‘ بات نہیں ہے، جس کے باعث یہاں اردو کو فوقیت دی جاتی ہے اور لوگ اپنے گھروں میں بھی بچوں سے پنجابی بولنے سے اجتناب کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMOVIEBOX
جب ابرار الحق کے گانے ’جن زی رانو‘ کے بارے میں سوال کیا کہ نئی نسل (Gen Z) کا بنیادی ذریعۂ اظہار انگریزی ہے، تو وہ اپنے گانوں کے ذریعے ٹھیٹ پنجابی کی طرف کیسے لا سکتے ہیں؟
اس پر ابرار الحق نے کہا کہ وہ اسے اپنا فرض اور حق سمجھتے ہیں کہ نئی نسل کو ان کی اپنی ثقافت اور جڑوں سے روشناس کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج کے نوجوان اگر دلجیت دوسانجھ کے پنجابی گانے شوق سے سن رہے ہیں تو یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی حد تک پنجابی زبان سے جڑ رہے ہیں۔‘
ابرار الحق نے واضح کیا کہ چونکہ اس نسل کا بنیادی تعلق اور ان کا اوریجن پنجاب ہی ہے، اس لیے وہ بھی اس ثقافتی بقا میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’جو بچے انگریزی کے اثر تلے اپنی مادری زبان بھولتے جا رہے ہیں، انھیں اپنی زبان سیکھنی چاہیے۔‘
ابرار الحق کے نزدیک انڈین پنجاب میں اس وقت فوک موسیقی پر حقیقی کام کے بجائے محض تجارتی مقاصد (کمرشلزم) پر توجہ دی جا رہی ہے، ’کیونکہ وہاں کے گلوکاروں اور فنکاروں کی بنیادی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کا گانا کسی بالی وڈ فلم کا حصہ بن جائے تاکہ اسے ایک بڑا پلیٹ فارم مل سکے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس جب وہ خود پنجابی لکھنا شروع کرتے ہیں، تو پنجاب کی روایتی ثقافت اور دیہی ماحول خود بخود ان کی تحریر میں ڈھل جاتا ہے۔ اس حوالے سے اپنا ایک شعر یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
’اپنے دیس دی ٹکٹ کٹا تینوں سچا پیار دواماں گا
شیکسپیئر بھول جائیں گی تینوں وارث شاہ سمجھاواں گا‘
ابرار الحق کے مطابق ’جب آج کے نوجوان ان کے اس گانے کے ذریعے متاثر ہو کر وارث شاہ کا کلام کھولیں گے اور ان کی شاعری پڑھیں گے، تو انھیں اس میں سے نہایت شاندار اور گہرے روحانی پیغامات ملیں گے۔‘
ابرار الحق کے مطابق میوزک کی دنیا میں مسلسل تجربات کرنا نہایت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درمیان میں ایک 12 سالہ سیاسی دور آیا، جس کی وجہ سے ان کا میوزک اور بالخصوص ان کی اپنی لکھی ہوئی شاعری، انقلابی اور جوشیلے انداز میں ڈھل کر ایک الگ سمت اختیار کر گئی۔ اس کے نتیجے میں ان کا روایتی بھنگڑا میوزک متاثر ہوا۔
تاہم، بسنت پر میوزک کے حالیہ احیاء کے بعد ان کی کوشش ہے کہ اسی پرانی انرجی کو بحال کیا جائے۔ وہ اس انرجی کو بھنگڑے کے ساتھ قائم رکھتے ہوئے نت نئے تجربات جاری رکھنا چاہتے ہیں، جیسا کہ ’تیرے رنگ رنگ، سانوں تیرے نال پیار ہو گیا‘ جیسے گانوں کے ذریعے ایک بالکل نئی قسم کی موسیقی تخلیق کی گئی۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس طرح کے تجربات کامیابی سے چل نکلیں، تو بعد میں اس طرز کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
آج کے دور میں مصنوعی ذہانت کو ثقافت، تہذیب اور زبان کے تحفظ کے تناظر میں اور آوازوں کے کاپی ہونے کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا جارہا ہے، تو کیا پنجابی بھنگڑے کا اصل احساس، توانائی اور طاقت AI کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے؟
اس کے جواب میں ابرار الحق نے دلچسپ بات بتائی کہ شروع میں وہ بھی اس ٹیکنالوجی سے کافی حیران ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے پہلی بار AI کو اپنے ہی اسلوب میں ایک پنجابی گانا تخلیق کرنے کا کہا، تو جو گانا سامنے آیا وہ واقعی ان کا اپنا انداز محسوس ہوا، تاہم اس میں فطری انداز، گہرائی اور جدت نہیں تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’موضوعات کے انتخاب میں جو منفرد سوچ اور گہرائی ایک انسان لا سکتا ہے، وہ AI کے بس میں نہیں، کیونکہ ہر نیا موضوع اپنی جگہ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔‘
آخر میں اپنی سیاسی زندگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ معلوم نہیں ہوتا انسان کی سوچ بدلتی ہے، جیسے سیاست چھوڑنے کا نہیں سوچا تھا، لیکن ایسے ایسے موقع آ گئے، اس لیے کل کو اگر میں سمجھتا ہوں کہ میری آنے سے ملک میں بہتری آ سکتی ہے، ہم کچھ کر کے دکھا سکتے ہیں تو۔۔۔‘
’یعنی سیاست کو طلاق نہیں دی، ابھی علیحدگی اختیار کی ہے۔‘



















