مائیکرو ڈوزنگ: کیا وزن کم کرنے والی ادویات کی بہت کم مقدار لینا محفوظ ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty/BBC
- مصنف, کیٹی سلور
- عہدہ, ہیلتھ چیک
- مصنف, ازابیل شا
- عہدہ, گلوبل ہیلتھ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
بابی پارکر ہال تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ذاتی ٹرینر کے طور پر کام کرنے اور باڈی بلڈنگ مقابلوں میں حصہ لینے کے بعد بھی جسمانی طور پر فٹ اور متناسب نظر آتی ہیں۔
امریکہ کی ریاست اوریگن سے تعلق رکھنے والی 68 سالہ پارکر ہال کو دیکھ کر یہ محسوس نہیں ہوتا کہ انھیں وزن کم کرنے والے انجیکشن استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی۔
تاہم، جب وہ ساٹھ کی دہائی کے وسط میں پہنچیں تو انھیں صرف 5 پاؤنڈ (2.2 کلوگرام) وزن کم کرنے میں بھی مشکل پیش آنے لگی۔
وہ کہتی ہیں، ’میرے جسم میں کچھ بدل گیا تھا۔ شاید عمر بڑھنے اور مینوپاز کی وجہ سے۔‘
پارکر ہال نے وزن کم کرنے والے انجیکشنز کی ’مائیکرو ڈوزنگ‘ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سوشل میڈیا پر مقبول ایک رجحان ہے جس میں اوزیمپک، ویگووی اور مونجارو جیسی ادویات کی بہت کم مقدار استعمال کی جاتی ہے، جو اکثر تجویز کردہ خوراک سے بھی کم ہوتی ہے۔
تاہم طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مائیکرو ڈوزنگ کی حفاظت کے بارے میں بہت کم تحقیق موجود ہے، اور وزن کم کرنے والی ادویات کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جانا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہBobbie Parker-Hall
بابی پارکر ہال کا عام وزن تقریباً 62.14 کلوگرام رہتا تھا، لیکن 67 سال کی عمر میں بھرپور کوششوں کے باوجود وہ اپنا وزن 64.4 کلوگرام سے نیچے نہیں لا پا رہی تھیں۔
پوڈکاسٹس میں مائیکرو ڈوزنگ کے بارے میں گفتگو سننے کے بعد انھوں نے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر آن لائن اوزیمپک خرید لی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے معیاری خوراک کے صرف ایک حصے کے برابر انجیکشن لگانا شروع کیا اور آزمائش و تجربے کی بنیاد پر اپنی خوراک میں تبدیلی کرتی رہیں۔
وہ کہتی ہیں، ’میں بہت گھبرائی ہوئی تھی، اس لیے میں نے خود سے کہا کہ میں بہت کم مقدار سے آغاز کروں گی۔‘
پارکر ہال کا کہنا ہے کہ ایک بار نسبتاً زیادہ خوراک لینے کے بعد ان کی بھوک اس قدر دب گئی کہ وہ کھانا نہیں کھا سکیں، جس کے بعد انھیں خوراک دوبارہ کم کرنا پڑی۔
ان کے مطابق، ان انجیکشنز کی مدد سے وہ اتنا وزن کم کرنے میں کامیاب ہوئیں جتنا وہ خوراک اور ورزش کے ذریعے کم نہیں کر پا رہی تھیں۔
اب وہ ایک امریکی برانڈ کے اشتراک سے وزن کم کرنے والی ادویات کی تشہیر بھی کرتی ہیں۔
ادویات کیسے کام کرتی ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 10 کروڑ افراد ایسی ادویات استعمال کر رہے ہیں جنہیں گلوکاگون لائک پیپٹائڈ-1 ریسیپٹر ایگونسٹس (GLP-1s) کہا جاتا ہے۔
وزن کم کرنے والی یہ ادویات جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والے ہارمون GLP-1 کی نقل کرتی ہیں، جو خون میں شوگر کی سطح اور بھوک کو کنٹرول کرتا ہے۔
یہ ادویات ابتدا میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھیں، تاہم اب انھیں وزن کم کرنے کے لیے بھی تجویز کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ بھوک کو کم کر دیتی ہیں۔
برطانیہ، امریکہ، انڈیا اور برازیل سمیت کئی ممالک میں وزن کم کرنے والے انجیکشن عام طور پر صرف ان بالغ افراد کے لیے منظور شدہ ہیں جن کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) 30 یا اس سے زیادہ ہو، یا 27 یا اس سے زیادہ ہو اور ساتھ ہی وزن سے متعلق کوئی طبی مسئلہ، جیسے بلند فشارِ خون، بھی موجود ہو۔
تاہم، سرکاری صحت کے نظام کے ذریعے ان ادویات تک رسائی کے قواعد بعض اوقات اس سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر انگلینڈ میں این ایچ ایس کی ہدایات کے مطابق مونجارو کے استعمال کے لیے عام طور پر بی ایم آئی کم از کم 35 اور اس کے ساتھ وزن سے متعلق کسی بیماری کا ہونا ضروری ہے، البتہ بعض نسلی گروہوں کے لیے یہ حد کم رکھی گئی ہے۔
GLP-1 ادویات عموماً کم ابتدائی خوراک سے شروع کی جاتی ہیں اور برداشت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بتدریج بڑھائی جاتی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق ان کے ممکنہ مضر اثرات میں متلی، قے، اسہال اور قبض شامل ہیں۔
امریکہ میں ایک گیلپ سروے کے مطابق 11 فیصد بالغ افراد وزن کم کرنے کے مقصد سے یہ ادویات استعمال کر رہے ہیں، جبکہ 2024 میں یہ شرح 3 فیصد تھی۔
لوگ مائیکرو ڈوزنگ کیوں کرتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہBobbie Parker-Hall
یہ جاننا مشکل ہے کہ مائیکرو ڈوزنگ کرنے والے افراد کی اصل تعداد کتنی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ یہ کام طبی نگرانی کے بغیر کرتے ہیں اور ادویات نجی کلینکس یا آن لائن فارمیسیوں سے حاصل کرتے ہیں۔
2026 میں امریکہ میں صحت سے متعلق ایپ ’ایویڈیشن‘ کے ایک سروے میں، جس میں انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے 8 ہزار سے زیادہ افراد شامل تھے، 15 فیصد نے بتایا کہ وہ مائیکرو ڈوزنگ آزما چکے ہیں یا فی الحال ایسا کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں بعض افراد کا کہنا ہے کہ وہ متلی، قے اور قبض جیسے ناخوشگوار مضر اثرات سے بچنے کے لیے مائیکرو ڈوزنگ کرتے ہیں۔
دوسرے افراد کا کہنا ہے کہ وہ اخراجات کم کرنے کے لیے ادویات کو زیادہ عرصے تک چلانا چاہتے ہیں، یا مائیکرو ڈوزنگ ان کے ذہن میں خوراک سے متعلق بار بار آنے والے خیالات، جنہیں ’فوڈ نوائز‘ کہا جاتا ہے، کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ تجویز کردہ طریقہ کار سے ہٹ کر وزن کم کرنے والے انجیکشنز استعمال کرنے کے حوالے سے ابھی بہت سی باتیں نامعلوم ہیں۔
یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا میں اینڈو کرائنولوجی کی کلینیکل فارماسسٹ این کومے کہتی ہیں ’ہم ان ادویات کو ایسے طریقے سے استعمال کر رہے ہیں جس کا نہ تو باقاعدہ مطالعہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت اور مؤثریت کا جائزہ لیا گیا ہے۔‘
خطرات کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty
کومے کے مطابق بعض صارفین دوا کی مقدار کا اندازہ لگانے کے لیے آن لائن ڈوزنگ گائیڈز استعمال کرتے ہیں یا انجیکشن پین پر موجود کلکس گنتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ’اگر کوئی شخص مقدار کا غلط حساب لگا لے تو اس سے غلطی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔‘ اس میں دوا کی ضرورت سے زیادہ مقدار لینا بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں شدید متلی، قے اور جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔
ایک اور تشویش آلودگی (کنٹیمنیشن) کا خطرہ ہے۔ کومے کے مطابق جب لوگ ایک بار استعمال کے لیے بنائی گئی شیشیوں سے بار بار کم مقدار نکالتے ہیں، یا انجیکشن پین کو اس کی تجویز کردہ مدت سے زیادہ عرصے تک استعمال کرتے ہیں تاکہ دوا زیادہ دیر چلے، تو اس سے دوائی میں بیکٹیریا داخل ہونے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اوزیمپک اور ویگووی بنانے والی کمپنی نووو نورڈِسک اور مونجارو بنانے والی کمپنی ایلی للی نے کہا ہے کہ وہ اپنی ادویات کے منظور شدہ طریقۂ استعمال یا خوراک میں تبدیلی کی حمایت نہیں کرتیں۔
ان ادویات کے بارے میں مزید سوالات بھی موجود ہیں۔
برطانیہ، امریکہ اور یورپ کے صحت کے نگران ادارے GLP-1 ادویات اور حاد لبلبے کی سوزش (ایکیوٹ پینکریاٹائٹس) کے درمیان ممکنہ تعلق کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں لبلبہ اچانک سوج جاتا ہے اور پیٹ اور کمر میں شدید درد پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم محققین ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ بہت کم مقدار میں یہ ادویات لینے سے ان خطرات پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔
کیا مائیکرو ڈوزنگ واقعی مؤثر ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
کومے کے مطابق کم مقدار میں دوا استعمال کرنے سے بعض ’ممکنہ فوائد‘ حاصل ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طبی پریکٹس میں بعض اوقات یہ طریقہ اختیار کر چکی ہیں، خاص طور پر ایسے مریضوں کے لیے جو ادویات کے مضر اثرات برداشت کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’کم خوراک سے آغاز کرکے اور پھر آہستہ آہستہ مطلوبہ خوراک تک پہنچنے سے دوا کو برداشت کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اس سے اخراجات کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔‘
تاہم ڈاکٹر خبردار کرتے ہیں کہ کسی طبی ماہر کی نگرانی میں خوراک میں تبدیلی کرنا اور بغیر نگرانی خود مائیکرو ڈوزنگ کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔
اس بات میں بھی بڑھتی ہوئی دلچسپی پائی جا رہی ہے کہ آیا GLP-1 ادویات وزن کم کرنے کے علاوہ دل، دماغ اور گردوں کی صحت کے لیے بھی فوائد رکھتی ہیں یا نہیں۔
تاہم کومے کے مطابق ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ معیاری علاجی طریقہ کار پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج ان افراد پر بھی لاگو ہوتے ہیں یا نہیں جو ان ادویات کی بہت کم مقدار استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بہت اہم ہے کہ مستقبل میں باقاعدہ تحقیقی مطالعات کیے جائیں تاکہ ہم بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ مائیکرو ڈوزنگ سے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔‘




















