’مجھے پتا ہے وزیر اعظم مودی کو سوال پسند نہیں لیکن یہ میری ذمہ داری تھی‘: ناروے کی صحافی ہیلی لینگ کا انڈیا میں چرچا

ہیلی لینگ
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 11 منٹ

ناروے کی صحافی ہیلی لینگ نے پہلے اوسلو میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال پوچھنے کی کوشش کی اور بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کی انڈین وزارت خارجہ کے سیکریٹری کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہیلی لینگ کا کہنا ہے کہ بطور صحافی سوال پوچھنا ان کی ’ذمہ داری‘ ہے، خاص کر جب ’جب ایک طاقتور ملک ان کے چھوٹے ملک آ کر تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے۔‘

وزیر اعظم مودی پانچ ممالک کے غیر ملکی دورے پر ناروے بھی آئے تھے جہاں یہ تنازع توجہ کا مرکز بن گیا۔ درحقیقت ناروے کے وزیر اعظم یوناس سٹورے کے ساتھ مشترکہ بیان کے بعد صحافی ہیلی لینگ مودی سے سوال پوچھنا چاہتی تھیں جبکہ وزیر اعظم کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس واقعے کی ویڈیو گذشتہ دنوں سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس میں صحافی ہیلی لینگ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’وزیر اعظم مودی، آپ دنیا کے سب سے آزاد میڈیا سے سوال کیوں نہیں لیتے؟‘

ہیلی لینگ نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا جس کے بعد ناروے میں انڈین سفارت خانے نے ایک بیان جاری کیا اور انھیں وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں آ کر سوال کرنے کو کہا۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کی انڈین وزارت خارجہ کے حکام کے ساتھ تند و تیز گفتگو بھی وسیع پیمانے پر زیر بحث رہی۔

پیر کی شب انڈین وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور وزیرِ اعظم مودی کی جانب سے صحافیوں کے سوال نہ سننے پر شکوہ کیا۔ ان کا یہ بھی سوال تھا کہ ’ہم انڈیا پر اعتماد کیوں کریں؟‘

اس پر جواب دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری سبی جارج نے انڈیا کو ’عظیم ملک‘ اور ’قدیم تہذیب‘ قرار دیا اور کہا کہ کووڈ وبا کے دوران انڈیا نے ’کئی ممالک کو ویکسین فراہم کی‘ اور انھی کوششوں کے باعث ’پوری دنیا ان پر اعتماد کرتی ہے۔‘

اس دوران صحافی کی طرف سے قطع کلامی پر سبی جارج نے کہا کہ ’پلیز مجھے انٹرپٹ نہ کریں۔۔۔ یہ میری پریس کانفرنس ہے۔۔۔ جواب کب کیسے اور کہاں دینا ہے، یہ میرا حق ہے۔‘

ہیلی نے ان معاملات پر بی بی سی سے تفصیل سے بات کی ہے۔

نریندر مودی، ناروے، اوسلو

،تصویر کا ذریعہX/@Narendramodi

وزیر اعظم مودی سے سوال پوچھنے پر کیا ہوا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہیلی نے بتایا کہ وہ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کر رہی ہیں اور انھوں نے امریکی انتخابات کی کوریج بھی کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’جب بھی کوئی سربراہ مملکت ناروے آتا ہے تو سڑکوں پر بہت زیادہ پولیس ہوتی ہے اور کچھ سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں۔ پورا نظام بہت سخت ہوتا ہے۔‘

انھوں نے وزرائے اعظم کی مشترکہ کانفرنس کے بارے میں کہا کہ ’ناروے میں ایسی پریس کانفرنسوں میں عموماً یہی ہوتا ہے۔ رہنما پریس سے بات کرتا ہے اور پھر کچھ سوال لیتا ہے۔‘ انھوں نے حال ہی میں آئے فرانسیسی صدر میکخواں کی مثال دی۔

’میرا ماننا ہے کہ صحافی کے طور پر سوال کرنا ہمارا کام ہے۔ جب ایک طاقتور ملک ہمارے چھوٹے ملک میں آتا ہے اور ہم سے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے تو ایسے میں سوال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کے وزیر اعظم سوال لینا پسند نہیں کرتے، لیکن سوال کرنا میرا فرض تھا۔‘

انڈیا کے وزیر اعظم مودی بیرون ملک دوروں کے دوران شاذ و نادر ہی سوالات لیتے ہیں۔ اب تک انھوں نے بیرون ملک صرف دو مواقع پر سوالات لیے ہیں، وہ بھی جون 2023 اور فروری 2025 میں امریکہ کے دوروں کے دوران۔

ہم نے ہیلی سے پوچھا کہ کیا پہلے سے اعلان کیا گیا تھا کہ دونوں وزرائے اعظم سوالات لیں گے۔ اس پر ہیلی نے کہا ’نہیں۔ ہمیں پہلے ہی معلوم تھا کہ سوالات نہیں لیے جائیں گے۔‘

’اور یہی چیز میرے کام کو مزید اہم بناتی ہے کیونکہ ہم کسی غیر ملکی رہنما کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ یہاں آ کر جمہوریت کی تعریف خود کرے۔‘

’جمہوریت کیا ہے؟ آپ کے وزیر اعظم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن جمہوریت کیا ہو گی اگر آپ کے ملک کے سب سے طاقتور شخص سے سوال پوچھنے کی گنجائش ہی نہ ہو؟‘

’انڈیا میں پریس کی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورتحال کے پیش نظر اتنے بڑے ملک کے سب سے طاقتور شخص سے سوال کرنا میرا فرض تھا۔‘

پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے سرفہرست ہے جبکہ حالیہ برسوں میں انڈیا 157ویں نمبر پر موجود ہے۔

ہیلی کہتی ہیں کہ ’ہمیں اپنے آزاد اور غیر جانبدار میڈیا پر فخر ہے۔ ہم وہ سوال کرتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور اقتدار میں موجود لوگوں سے جواب طلب کرتے ہیں۔ یہی ہمارا کام ہے۔‘

ناروے، سبی جارج

،تصویر کا ذریعہX/ANI

،تصویر کا کیپشنپریس کانفرنس کے دوران ایک موقع پر انڈین وزارت خارجہ کے سیکریٹری سبی جارج (دائیں) نے کہا کہ ’پلیز مجھے انٹرپٹ نہ کریں، سوال کا جواب دینے دیں۔ یہ میری پریس کانفرنس ہے‘

’یہ حیران کن نہیں بلکہ تشویشناک ہے‘

صحافی ہیلی لینگ نے مزید کہا کہ ’میرے وزیر اعظم کل بہت مصروف تھے مگر اس کے باوجود انھوں نے وزیر اعظم مودی کے جانے کے بعد ناروے کے بڑے میڈیا اداروں کے سوالات کے جواب دیے۔‘

تو کیا ہیلی کو یہ عجیب لگا کہ انڈین میڈیا ناروے کے وزیر اعظم سے سوال کر رہا تھا لیکن انڈیا کے وزیر اعظم سے نہیں؟

اس پر انھوں نے کہا ’مجھے حیرت نہیں ہوئی بلکہ یہ تشویش کا باعث ہے۔ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ اگر آپ اپنے رہنماؤں اور ان کی پالیسیوں سے براہ راست سوال نہیں کر سکتے تو انڈیا میں آپ لوگ کس طرح بحث کو آگے بڑھاتے ہیں۔‘

’یہی بات مجھے فکر مند کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ناروے کے رہنماؤں کو بھی آج یہ سوچنا چاہیے کہ جب ہم انڈیا کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں تو کیا ہم غیر ارادی طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پریس فریڈم انڈیکس میں گراوٹ کو جاری رہنے دے رہے ہیں۔ یہ ہمارے وزرائے اعظم کے لیے ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال ہے۔‘

ناروے، سویڈن، ڈنمارک اور فن لینڈ جیسے نارڈک ممالک دہائیوں سے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں سرفہرست رہے ہیں۔

پریس کی آزادی کو بنیادی اہمیت دینے والے ممالک میں کام کرنے والے صحافی اس پوری بحث اور حکومتی طرز عمل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اس پر ہیلی نے کہا ’جب آپ خود میدان میں موجود نہ ہوں تو چیزوں کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن مجھے عالمی رپورٹس جیسے ایمنسٹی اور ہیومن رائٹس واچ پر اعتماد ہے۔

’کل کے بعد مجھے انڈیا کے مختلف حصوں سے بہت سے پیغامات بھی موصول ہوئے۔ لوگ جن باتوں کا ذکر کر رہے ہیں وہ بہت تشویشناک ہیں۔‘

’میں جانتی ہوں کہ انڈیا میں موجودہ حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان بڑا فرق ہے۔ اسی لیے میں انھی ذرائع پر بھروسہ کرتی ہوں۔‘

’پریس کانفرنس میں انڈیا کی تعریف سننے نہیں گئی تھی‘

وزارت خارجہ کے حکام کے ساتھ تلخ کلامی کے بارے میں ہیلی نے کہا کہ ’مجھے پہلے ہی اس تقریب کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ بعد میں انڈین سفارت خانے نے دعوت دی جو ایک اچھی بات تھی لیکن میں اپنے سوالات کے ساتھ وہاں گئی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں یہ پوچھ رہی تھی کہ کیا آپ فوری جواب دے سکتے ہیں؟ یہ ایک مسئلہ تھا کہ انھوں نے شاید تین یا چار سوال لیے اور پھر جواب دیا۔ بطور صحافی اگر مجھے اپنے سوال کا جواب نہ ملے تو مجھے جواب دینے والے کو روک کر بات کو اصل نکتے پر لانا ہوتا ہے لیکن کل ایسا نہیں ہوا۔‘

ان کے بقول ’میں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سوال کیا لیکن انھوں نے اس حصے کا جواب نہیں دیا۔ میں نے تقریباً ایک منٹ بعد انھیں روکنے اور بات کو دوبارہ اس مسئلے کی طرف لانے کی کوشش کی لیکن میں کامیاب نہیں ہوئی۔ یہ مشکل ہوتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ناروے میں، میں اس کی عادی ہوں کہ اگر مجھے جواب پسند نہ آئے تو میں دوبارہ سوال کر سکتی ہوں۔ کم از کم مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرے سوال کا جواب دیا گیا۔ میرے لیے یہ اہم ہے کہ میں سوال کروں اور پھر سیاستدان وہی جواب دے جو میں پوچھ رہی ہوں۔ اور یہ جوابات عموماً زیادہ دلچسپ ہوتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے نقطہ نظر کو سمجھنے کا بہتر طریقہ ہوتے ہیں۔‘

’لیکن گفتگو کا رُخ 2020 میں انڈیا کی ویکسین سپلائی اور یوگا کی طرف مڑ گیا۔ مجھے یوگا اور انڈین ثقافت کی بہت سی چیزیں پسند ہیں۔ انڈیا بہت اچھا کام کرتا ہے لیکن میں عام طور پر کسی ملک کی تعریف سننے کے لیے پریس کانفرنس میں نہیں جاتی۔‘

’کچھ لوگوں کو یہ لگا ہوگا کہ دوسری پریس کانفرنس میں میرا انداز کچھ سخت تھا لیکن۔۔۔ آپ کو بات کاٹنی پڑتی ہے اور جواب حاصل کرنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے تاہم مجھے وہ جواب نہیں ملا (جو میں چاہتی تھی)۔‘

خیال رہے کہ اوسلو میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی ایک پریس کانفرنس کے دوران ناروے کی صحافی ہیلی لینگ نے سوال کیا تھا کہ ’انڈیا اور ناروے ایک مضبوط شراکت داری قائم کر رہے ہیں لیکن ہم آپ پر اعتماد کیوں کریں؟ کیا آپ اپنے ملک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کا وعدہ کرتے ہیں؟ آپ کے وزیرِ اعظم کب مشکل سوالات کے جواب دینا شروع کریں گے؟‘

جب وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’ہم نے آپ کا سوال سن لیا ہے اور اس کا جواب دیں گے‘ تو صحافی نے کہا کہ وہ اس کا فوری جواب چاہتی ہیں۔

انڈین وزارت خارجہ، پریس کانفرنس، اوسلو

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشناوسلو میں پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے انڈین وزارت خارجہ کے اہلکاروں سے سوال کیا کہ ’ہم آپ پر اعتماد کیوں کریں؟‘

بعد ازاں اسی پریس کانفرنس میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری ویسٹ سبی جارج نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا ایک بہت قدیم تہذیب ہے۔ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی تہذیب۔ ہم نے صفر ایجاد کیا۔ ہم نے یوگا ایجاد کیا۔‘

جب سبی جارج یہ بات کہہ رہے تھے تو صحافی نے انھیں دوبارہ روکا اور کہا کہ وہ پوچھی گئی بات کا جواب دیں۔

اس پر سبی جارج نے کہا کہ ’یہ میری پریس کانفرنس ہے۔ آپ نے سوال پوچھ لیا۔ اب آپ کو میرے جواب کو سننے کا صبر بھی ہونا چاہیے۔‘

صحافی نے پھر کہا کہ یوگا وغیرہ کی بات کرنے کے بجائے سوال کا جواب دیا جائے۔

اس پر سبی جارج نے کہا کہ ’میں اعتماد کی بات کر رہا ہوں۔ جب پوری دنیا کووڈ وبا سے لڑ رہی تھی تو ہم نے 150 سے زیادہ ممالک کو ویکسین اور ادویات فراہم کیں۔ ہم نے اس بحران سے نکلنے میں دنیا کی مدد کی۔ دنیا نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہی اعتماد ہے۔‘

صحافی مسلسل مداخلت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق اپنے سوال کا براہِ راست جواب مانگتی رہیں۔

اس جواب میں سبی جارج نے انڈیا میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ کے مشکل حالات میں انڈیا کی میزبانی نے تمام ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ انڈیا نے سب کو متحد کیا اور پہلی مرتبہ افریقی یونین کو جی 20 کا مستقل رکن بنانے میں کامیاب ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’انڈیا نے افریقی ممالک کے خدشات کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ یہی اعتماد ہے۔‘

سبی جارج نے یہ بھی کہا کہ ’لوگوں کو انڈیا کی وسعت کا اندازہ نہیں۔ وہ کسی لاعلم این جی او کی ایک، دو نیوز رپورٹس پڑھ کر ایسے سوال پوچھتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں عدالتیں موجود ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی پر وہ وہاں رجوع کر سکتے ہیں۔

جب سبی جارج جواب دے رہے تھے تو صحافی پریس کانفرنس سے اُٹھ کر چلی گئیں۔

بعد ازاں ایکس پر پیغام میں صحافی ہیلی لینگ نے کہا کہ ’میں نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ وہ انسانی حقوق کے بارے میں واضح بات کریں۔ مگر میں ناکام رہی۔ (انڈین) نمائندوں نے کووڈ کے دوران انڈیا کی کوششوں اور یوگا سمیت دیگر امور کا ذکر کیا۔‘

راہل گاندھی

،تصویر کا ذریعہAnindito Mukherjee/Bloomberg via Getty Images

،تصویر کا کیپشناپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ جب چھپانے کے لیے کچھ نہ ہو تو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی

راہل گاندھی اور مہوا موئترا کی مودی پر تنقید

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے اس ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی پر ’ڈر کر وہاں سے چلے جانے‘ کا الزام لگایا۔

انھوں نے کہا کہ ’جب چھپانے کے لیے کچھ نہ ہو تو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب دنیا ایک ایسے وزیرِاعظم کو دیکھتی ہے جو چند سوالات سے گھبرا کر وہاں سے چلا جائے تو اس کا انڈیا کی شبیہ پر کیا اثر پڑتا ہے؟‘

ترنمول کانگریس کی رہنما مہوا موئترا نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’محترمہ ہیلی لینگ، انڈیا کی اپوزیشن اور لاکھوں انڈین شہریوں کی جانب سے شکریہ۔ آپ نے وہ کیا جو ہمارا اپنا میڈیا مسلسل کرنے میں ناکام رہا، یعنی اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرنا اور جوابدہی کا مطالبہ کرنا۔ پریس بریفنگ ہو یا پریس کانفرنس، فرق صرف نام کا ہے۔ نہ جواب ہیں اور نہ سچ۔‘

وزیرِ اعظم مودی پانچ ممالک کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز اور سویڈن کے دورے کے بعد ناروے پہنچے ہیں۔