ایران کے ساتھ معاہدے کرنے کے قریب ہیں، دستخط کرنے شاید اسلام آباد چلا جاؤں: صدر ٹرمپ

گفتگو کے دوران ایک صحافی نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے پر مہر ثبت کرنے پاکستان جائیں گے، تو ان کا کہنا تھا: ’اگر معاہدے پر دستخط اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو شاید میں چلا جاؤں۔‘ ’پاکستان میں فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم بہترین لوگ ہیں، شاید میں وہاں چلا جاؤں۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے امریکی مطالبے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اگر اسلام آباد میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو 'میں شاید خود چلا جاؤں۔'
  • وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ فی الوقت کسی بھی پاکستانی نمائندے کا امریکہ کا دورہ طے نہیں ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو ہوئی ہے اور یہ دونوں ممالک 10 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں۔
  • امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں
  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے اور انھیں ’امن کوششوں میں پیشرفت سے آگاہ کیا‘ ہے۔ جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے
  • وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے دوبارہ مذاکرات ہوئے تو ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہوں گے‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    تازہ خبروں اور اہم تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا آغاز

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے جس 10 روزہ معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا اس کا آغاز اب ہو چکا ہے۔

    لبنان کے صدر نے جوزف عون نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس اسے امن کا ’تاریخی‘ موقع قرار دیا ہے۔

    ایران کی حامی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرے گی لیکن جنگ بندی سے قبل وہ اسرائیلی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتی رہی ہے۔

  3. لبنان میں جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ابتدائی معاہدے کا حصہ تھی: ایران

    ایرانی وزارتِ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہIran Foreign Ministry

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ابتدائی ایران‑امریکہ معاہدے کا حصہ تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایران نے ’ابتدا ہی سے‘ اس بات پر زور دیا تھا کہ ’پورے خطے، بشمول لبنان، میں بیک وقت جنگ بندی‘ کی ضرورت ہے۔

    بقائی نے لبنان کے عوام اور حکومت کے ساتھ ’یکجہتی‘ کا اظہار کیا اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے ’مکمل انخلا‘ کی ضرورت پر زور دیا، ایک ایسا اقدام جس کی اسرائیلی وزیرِاعظم پہلے ہی نفی کر چکے ہیں۔

    انھوں نے تمام قیدیوں کی رہائی، بے گھر ہونے والے رہائشیوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا بھی مطالبہ کیا اور اسرائیل‑لبنان جنگ بندی معاہدہ طے کرانے میں پاکستان کی کوششوں پر اس کا شکریہ ادا کیا۔

  4. ایران کے ساتھ معاہدے پر اسلام آباد میں دستخط ہوتے ہیں تو شاید پاکستان چلا جاؤں: ٹرمپ

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے امریکی مطالبے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اگر اسلام آباد میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ’میں شاید خود چلا جاؤں۔‘

    جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکہ کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں۔

    خیال رہے پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے اور گذشتہ ہفتے دونوں کے درمیان بات چیت کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا تھا۔

    گفتگو کے دوران ایک صحافی نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے پر مہر ثبت کرنے پاکستان جائیں گے، تو ان کا کہنا تھا: ’اگر معاہدے پر دستخط اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو شاید میں چلا جاؤں۔‘

    ’پاکستان میں فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم بہترین لوگ ہیں، شاید میں وہاں چلا جاؤں۔‘

    ایران یا امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے 20 برس تک جوہری ہتھیار نہ حاصل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

    ’اچھا لگ رہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں اور یہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، جس میں جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔‘

    ’ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ ایمانداری کے ساتھ 20 برس کی کسی حد کو میں نہیں مانتا۔‘

    خیال رہے ایران نے اب تک امریکی صدر کے دعوؤں پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  5. امریکہ نے ’مفادات کو نقصان پہنچانے میں حریفوں کی مدد‘ کرنے والے افراد کو ویزے کے اجرا پر پابندی عائد کر دی

    امریکہ نے اپنے براعظم میں واقع ممالک کے ان افراد کو ویزوں کے اجرا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو اس کے مطابق ’امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے میں (امریکہ کے) حریفوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    جمعرات امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی پالیسی کے تحت اس نے متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے 26 افراد کے خلاف ایکشن لیا ہے۔

    ایکس پر اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر امریکی محکمہ خارجہ نے مزید لکھا کہ: ’ٹرمپ انتظامیہ امریکی عوام کے لیے کام کر رہی ہے اور خطے کی حفاظت اور خوشحالی کو فروغ دے رہی ہے۔‘

  6. اس وقت کسی بھی پاکستانی نمائندے کا دورۂ امریکہ طے نہیں: وائٹ ہاؤس عہدیدار, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد

    وائٹ ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ فی الوقت کسی بھی پاکستانی نمائندے کا امریکہ کا دورہ طے نہیں ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کی جانب سے بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ شاید پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعے کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔

    اس حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ: ’اس وقت پاکستان کے کسی بھی نمائندے کا دورہ طے نہیں ہے۔‘

    ’تاہم جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے پاکستان (ایران کے ساتھ) مذاکرات میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے اور بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔‘

    خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہوا تھا اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

    گذشتہ روز پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچے تھا، جہاں انھوں نے سیاسی اور عسکری شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ دورہ ثالثی کی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

  7. اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی: حزب اللہ نے اپنے مطالبات پیش کر دیے

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں ’لبنانی سرزمین پر ہر جگہ حملوں کا مکمل خاتمہ‘ اور ’اسرائیلی افواج کے لیے نقل و حرکت کی کوئی آزادی نہ ہونا‘ جیسے نکات شامل ہونا چاہییں۔

    اس کے علاوہ حزب اللہ نے ’دو مارچ سے پہلے کی صورتِ حال کی بحالی‘ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اسی تاریخ کو حزب اللہ نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کے بدلے میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے ملک بھر میں فضائی حملے کیے۔

    حزب اللہ کا مزید کہنا ہے کہ: لبنانی سرزمین پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ لبنان اور اس کے عوام کو مزاحمت کا حق دیتا ہے۔‘

  8. امریکی مفادات اور نیتن یاہو پر دباؤ, لوسی ولیمسن، یروشلم

    US Israel

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ بظاہر ایک اور مثال ہے کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں لڑائی روکنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات کے آگے جھک رہے ہیں، حتیٰ کہ شرائط یا جنگ بندی کا وقت اسرائیل کی خواہش کے مطابق نہیں ہے۔

    ایران امریکہ کے ساتھ لڑائی رُکنے کے بعد ایک ہفتے سے زیادہ کے وقت سے لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے۔

    اور ابتدا میں یہ کہنے کے بعد کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی فوجی مہم الگ معاملہ ہے، ٹرمپ نے اس ہفتے کہا کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ’کچھ سانس لینے کا وقفہ‘ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ایک معتبر اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ بندی کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل محض پانچ منٹ کے نوٹس پر کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

    حالیہ دنوں میں نیتن یاہو اور اسرائیلی فوجی قیادت دونوں اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ لبنان میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی پانچ ڈویژنز موجود ہیں۔ اس کے مرکزی فوجی ترجمان نے کل کہا تھا کہ وہ پیش قدمی جاری رکھیں گے اور ان کی فوج سرحد پار حزب اللہ کے اہم گڑھ بنت جبیل میں کارروائیاں کر رہی ہے۔

    آج رات منظر عام پر آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کا لبنان کے زیرِ قبضہ علاقے سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    لیکن اسرائیل کے رہنما نیتن یاہو ایک بار پھر اپنے امریکی اتحادی کی جانب سے واشنگٹن کے مفادات کے مطابق قدم اٹھانے کے دباؤ میں ہیں اور ایک بار پھر انھیں اس حقیقت کا براہِ راست سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ یہ مفادات اُن کے اپنے مفادات سے مختلف ہیں۔

    خیال رہے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سامنے آیا ہے اور اسرائیل نے سرکاری طور پر اس پر تاحال تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  9. کیا حزب اللہ لبنان اور اسرائیل جنگ بندی کی پاسداری کرے گی؟, ہیوگو بچیگا، نمائندہ برائے مشرقِ وسطیٰ

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج رات شروع ہونے والی متوقع دس روزہ جنگ بندی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان چھ ہفتوں سے زیادہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد لبنان کے لیے بہت ضروری ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔

    ملک میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور 10 لاکھ لوگ بےگھر ہو چکے ہیں۔

    ابتدائی اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حزب اللہ اس معاہدے کی پاسداری کرے گی۔

    سینیئر رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ کا کہنا ہے کہ انھیں قلیل مدتی جنگ بندی پر بریف کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل کی جانب سے ہر قسم کے حملے رُکنے کی صورت میں وہ اس جنگ بندی کی پاسداری کریں گے۔

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری اس عمل میں بلاواسطہ ہیں سہی لیکن حزب اللہ کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

    جنگ میں یہ وقفہ لبنان کے صدر جوزف عون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی فون کال کے بعد سامنے آیا ہے، عون بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ لبنان اسرائیل کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے لیے مذاکرات میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک لڑائی بند نہیں ہو جاتی۔

    اس کے باوجود بھی زمینی فوجی حقائق صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے اندر موجود ہیں، جہاں حکام کے مطابق وہ سرحد کے ساتھ ایک حفاظتی بفر زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    آج اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقے کو لبنان کے باقی حصوں سے ملانے والا آخری پل بھی تباہ کر دیا، جس سے یہ خطہ مزید تنہا ہو گیا اور بہت سے لبنان شہریوں میں یہ خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں کہ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں پر اسرائیل کا طویل المدتی قبضہ ہو سکتا ہے۔

    یہ جنگ بندی تشدد کو عارضی طور پر تو روک سکتی ہے، لیکن بڑے سیاسی مسئلے کو حل نہیں کرتی: حزب اللہ کے ہتھیاروں کا کیا ہوگا؟

    لبنانی حکام طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا کرنے کا اقدام طاقت کے ذریعے نہیں منوایا جا سکتا اور اس کے لیے ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔

    حزب اللہ نے اب تک ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کیا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو ممکنہ طور پر اس بات کا تعین کرے گا کہ جنگ بندی کا وقفہ ختم ہونے کے بعد آگے کیا ہوتا ہے۔

  10. اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی: حزب اللہ آگے کیا کرے گی؟, نِک بیاک، یروشلم

    حزب اللہ لبنانی ریاست سے الگ ہے اور 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد وہ آگے کیا کرے گی یہ نہایت اہم بات ہے۔

    ہم نے آج دیکھا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں گولہ باری جاری رکھی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ سے منسلک مقامات کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    اسی دوران حزب اللہ کی جانب سے بھی سرحد پار شمالی اسرائیل میں راکٹ داغے اور وہاں سائرن بجتے رہے۔ تاہم اب تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات موجود نہیں ہیں۔

    تاہم لبنان میں حکام کا کہنا ہے کہ آج بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    تو جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ اگلے چند گھنٹوں میں صورتحال کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔

  11. ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں: شہر میں بس اڈے بند کرنے کے احکامات اور پولیس کی اضافی نفری طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور سے قبل سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔

    راولپنڈی اور اسلام آباد کی ٹرانسپورٹ یونین کے ایک عہدیدار کے مطابق جمعرات کو راولپنڈی میں ایک اجلاس میں انھیں طلب کیا گیا اور بتایا گیا کہ فیض آباد اور منڈی موڑ پر موجود بسوں کے اڈے آج رات 11 بجے سے تاحکم ثانی بند ہوں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ 26 اپریل تک پبلک ٹرانسپورٹ کے ان اڈوں کے بند رہنے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق 18 اپریل سے اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کردیا جائے گا۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے لیے دوسرے صوبوں سے بھی پولیس کی نفری منگوائی جا رہی ہے اور پنجاب سے تین ہزار اہلکار پہنچ بھی چکے ہیں۔

  12. اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا: امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو ہوئی ہے اور یہ دونوں ممالک 10 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں۔

    ٹروتھ سوشل میں پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’امن کے حصول کے لیے ان دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایسٹرن ٹائم کے مطابق شام پانچ بجے باضابطہ طور پر 10 دنوں کے لیے جنگ بندی شروع کریں گے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اب تک نو جنگیں ختم کرواچکے ہیں اور ’یہ 10ویں ہوگی۔‘

    اپنی ایک اور پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ نیتن یاہو اور جوزف عون کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ’معنی خیز بات چیت‘ کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان 1983 کے بعد پہلے مذاکرات ہوں گے۔

    ’دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جلد ہی ہو جائے گا۔‘

  13. لبنان - اسرائیل جنگ بندی، ایران - امریکہ جنگ بندی جتنی اہم ہے: محمد باقر قالیباف

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق قالیباف نے کہا کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد بھی ایران نے ’دشمنوں کو مستقل جنگ بندی پر مجبور کرنے‘ کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

  14. لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد دھوئیں کے بادل اور تباہی کے مناظر

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد سامنے آنے والی تازہ تصاویر میں مختلف علاقوں سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔

    نباتیہ شہر، جس کی آبادی تقریباً 40 ہزار ہے اور جو دریائے لیتانی کے شمال میں واقع ہے، وہاں ایک حملے کے بعد دھواں اٹھتا نظر آیا۔

    ساحلی علاقے قاسمیہ میں بھی لوگ نقصان کا جائزہ لیتے دکھائی دیے، جہاں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں جنوبی لبنان کو ملک کے باقی حصے سے ملانے والا آخری پل تباہ ہو گیا۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  15. بریکنگ, فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کمانڈر سے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات کے دوران انھوں نے آئی جی آر سی کے کمانڈر کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے فریم ورک کے تحت کیے گئے اقدامات اور تہران میں ہونے والی اپنی حالیہ بات چیت سے متعلق گفتگو کی۔

    فریقین کے درمیان خطے کی صورتحال اور امن و استحکام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری کوششوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

  16. تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ: صوبائی حکومت کا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے تحقیقات کا اعلان

    bbc

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت بی بی سی کی رپورٹ کی فیکٹ فائندنگ کمیٹی سے تحقیقات کرے گی۔

    بی بی سی پر شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ٹی ایچ کیو تونسہ میں مستقل ایڈز کی سکریننگ ہو رہی ہے۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ صحافتی اخلاقیات کے تحت ہمارا موقف شامل کرنا لازمی تھا۔ ان کے مطابق پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے موقف دیا مگر وہ بی بی سی نے شامل نہیں کیا۔

    خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ایڈز کی موجودگی سے انکار نہیں کرتی لیکن پاکستان دنیا میں امن کے لیے جا رہا ہے اور اس وقت ایڈز کی سٹوری کر دی گئی۔

    خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بی بی سی کی رپورٹ میں وائلز دکھائی گئیں جن پر کوئی سرکاری سٹیمپ نہیں۔ خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ ہمارے کسی ہسپتال میں رضاکار نہیں مگر وہ دکھائے گئے۔

    خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ایڈز کا معاملہ 2025 میں سامنے آیا جب ایڈز کنٹرول پروگرام پنجاب نے تونسہ میں کیسز کی نشاندہی کی۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ سیکریٹری صحت نے تونسہ جا کر کیسز کو دیکھا اور وزیراعلی پنجاب کو آگاہ کیا۔

    خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ پچاس ہزار سے زائد افراد کی سکریننگ کی گئی اور سات یونین کونسلز میں اس وقت 334 ایڈز کے مریضوں کی تشخیص کی گئی۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بارہ سال سے کم عمر بچوں میں مرض رپورٹ ہوا۔

    خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بی بی سی اردو نے اس وقت کیوں رپورٹ نہ کیا جب معاملہ سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال گزر گیا، معاملہ ختم ہو گیا تو رپورٹ لانے کی کیا ضرورت تھی۔

    بی بی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بی بی سی آئی ڈاکیومنٹری میں دکھائی گئی ٹی ایچ کیو ہسپتال تونسہ کی خفیہ فلم بندی نومبر اور دسمبر 2025 میں کی گئی تھی۔‘

    ’ڈاکیومنٹری میں جہاں مناسب تھا، بی بی سی آئی کی تحقیقات پر حکومت کا مؤقف بھی شامل کیا گیا ہے۔‘

  17. بریکنگ, ایران کو جنگ بندی میں ’بہت زیادہ‘ دلچسپی ہے: پیٹ ہیگسیتھ

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ اگرچہ ایران کی فوجی کمان اور کنٹرول کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، تاہم ان کی جنگ بندی میں دلچسپی اس وقت ’بہت زیادہ‘ ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ ایک ایسے دشمن کے ساتھ جنگ بندی کیسے نافذ کر سکتا ہے جس کی فوجی صلاحیت کمزور ہو چکی ہو۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے فیصلہ سازی کی صلاحیت کمزور ضرور ہوئی ہے، لیکن جنگ بندی کے لیے اس کی دلچسپی بہت زیادہ ہے۔

    ہیگسیتھ نے یہ بھی کہا کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ اس تنازع میں شامل نہیں ہوئے، جو ان کے مطابق ایک اچھا فیصلہ ہے۔

    اور یہاں پر آج کی بریفنگ کا اختتام ہوتا ہے۔

  18. یہ واضح نہیں کہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہاز واپس موڑے گئے یا نہیں

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پینٹاگون میں موجود نامہ نگار اینتھونی زُرچر کے مطابق جنرل ڈین کین نے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کی تفصیلات صحافیوں کے سامنے پیش کیں۔

    انھوں نے بتایا کہ جتنے بھی جہاز دکھائے گئے، وہ آبنائے ہرمز سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کیا امریکی بحریہ نے ایسے کسی جہاز کو واپس موڑا ہے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے تھے۔

  19. بریکنگ, جنرل کین: ناکہ بندی کے بعد 13 جہاز واپس مڑ گئے

    امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ ایران پر بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد 13 جہازوں نے واپس مڑنے کا فیصلہ کیا۔

    انھوں نے خلیج کا ایک نقشہ دکھایا جس میں نیلے اور سرخ رنگ کے جہاز ناکہ بندی کے دائرے میں دکھائے گئے تھے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ناکہ بندی شروع ہونے کے 24 گھنٹے بعد کی ہے۔

    جنرل کین نے بتایا کہ 13 جہازوں نے دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے بجائے واپس لوٹنا بہتر سمجھا۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ جو بھی جہاز ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرے گا اس سے مناسب طریقے سے نمٹا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک امریکی سینٹرل کمانڈ کو کسی بھی جہاز پر سوار ہو کر کارروائی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

  20. بریکنگ, امریکی فوج ’ایک لمحے کے نوٹس پر‘ دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کر سکتی ہے: جنرل ڈین کین

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ امریکی افواج کسی بھی لمحے دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی ہے، تاہم فوج ’ایک لمحے کے نوٹس پر‘ دوبارہ لڑائی شروع کر سکتی ہے۔

    جنرل کین کے مطابق امریکی مشترکہ افواج نے پیر 13 اپریل کو دوپہر 10 بجے (ای ٹی) ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی شروع کی۔

    انھوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے بجائے ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے خلاف ہے۔

    ان کے مطابق یہ پابندی ایرانی بندرگاہوں کی طرف یا وہاں سے سفر کرنے والے تمام جہازوں پر لاگو ہوتی ہے، چاہے ان کی قومیت کچھ بھی ہو۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس نفاذی کارروائی کا دائرہ ایران کی علاقائی سمندری حدود اور بین الاقوامی پانیوں دونوں میں شامل ہو گا۔