آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان 34 سال بعد جمعرات کو رابطہ ہوگا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں کچھ کمی کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ ادھر امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران پر معاشی دباؤ میں نمایاں اضافہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی سینیٹ نے دو ایسی قراردادیں مسترد کی ہیں جن کا مقصد اسرائیل کو تقریباً 45 کروڑ ڈالر مالیت کے بموں اور بلڈوزروں کی فروخت روکنا تھا
  • امریکی سٹاک مارکیٹس نے بدھ کے روز نئی ریکارڈ سطحیں حاصل کیں۔ سرمایہ کاروں کی توجہ مذاکرات کے تسلسل اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ممکنہ خاتمے پر رہی۔
  • امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں
  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے اور انھیں ’امن کوششوں میں پیشرفت سے آگاہ کیا‘ ہے۔ جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے
  • وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے دوبارہ مذاکرات ہوئے تو ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہوں گے‘

لائیو کوریج

  1. شہباز شریف کی آج مدینہ سے دوحہ روانگی

    پاکستان کے وزیر اعظم آفس کا کہنا ہے کہ آج شہباز شریف دورہ قطر کے لیے دوحہ پہنچیں گے۔ ’دوحہ میں وزیرِ اعظم کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی سے دو طرفہ ملاقات ہوگی.‘

    گذشتہ شب وزیرِ اعظم شہباز شریف جدہ سے مدینہ منورہ پہنچے تھے جہاں انھوں نے ’مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری دی اور ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و آشتی کے لیے دعائیں کیں۔‘

    ’وزیرِ اعظم کی آمد پر وزیرِ اعظم اور وفد کے لیے روضہ رسول کے دروازے کھولے گئے۔‘

    وزیرِ اعظم سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے مدینہ سے دوحہ جائیں گے۔

  2. میں جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں: ایرانی رہبر اعلیٰ کے مشیر

    ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ’ہم آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہمارے حقوق مکمل طور پر تسلیم نہیں کیے جاتے۔‘

    ایران کے مجمعِ تشخیصِ مصلحت نظام کے رکن محسن رضائی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر اِن چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ایران کے اندر خبر رساں اداروں کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’امریکی مسلسل جنگ سے خوف زدہ ہیں جبکہ ہم ایک طویل جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اس کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔‘

    انٹرویو میں انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسٹ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’اگر ایرانی بحریہ تباہ ہو چکی ہے تو پھر امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی جرات کیوں نہیں کرتا؟‘

    محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ ملکی قیادت کے فیصلوں کی پیروی کرتے ہیں تاہم ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع پر آمادہ نہیں ہونا چاہیے۔

  3. بریکنگ, اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان 34 سال بعد جمعرات کو رابطہ ہوگا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں کچھ کمی کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ’دونوں (ملکوں کے) رہنماؤں کے درمیان کافی عرصے سے بات نہیں ہوئی، تقریباً 34 برس گزر چکے ہیں۔ یہ رابطہ کل ہو گا۔‘

  4. امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ غلطی تھی: برطانوی وزیر خزانہ

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کا خاتمہ اور فوجی تصادم کی شروعات امریکہ کی ایک غلطی ہے۔

    سی این بی سی کے پروگرام انویسٹ اِن امریکہ سے بات کرتے ہوئے ریچل ریوز نے کہا کہ ’اس وقت بہترین معاشی پالیسی، نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا کے لیے کشیدگی میں کمی ہے۔‘

    برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی جانب سے ایران پر اضافی دباؤ ڈالنے کے لیے کی جانے والی فوجی ناکہ بندی میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس تنازعے پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان بڑھتے اختلافات نے دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی تعلق‘ کو متاثر کیا ہے تو ریچل ریوز نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔

    تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’دوستوں کے درمیان اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے۔‘

  5. ایران کے خلاف بمباری جیسے مالیاتی اقدامات کے لیے تیار ہیں: امریکی سیکریٹری خزانہ

    امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران پر معاشی دباؤ میں نمایاں اضافہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے اقدامات کے لیے تیار ہے جو مالی لحاظ سے بمباری کی مہم کے برابر ہوں گے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کمپنیوں اور ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ ایرانی تیل خرید رہے ہیں یا ایرانی رقوم ان کے بینکوں میں موجود ہیں تو امریکہ ثانوی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے جنھیں انہوں نے ’انتہائی سخت اقدام‘ قرار دیا۔

    ان کے بقول ایرانی حکام کو آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ اقدامات مالی اعتبار سے اسی نوعیت کے ہوں گے جیسا کہ فوجی کارروائیوں میں دیکھا گیا۔

    ایک روز قبل امریکی محکمہ خزانہ نے چین، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات اور عمان میں مالیاتی اداروں کو خطوط ارسال کیے تھے جن میں ایران کے ساتھ کاروبار رکھنے پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

  6. عالمی برادری آبنائے ہرمز کی بحالی چاہتی ہے، چینی وزیر خارجہ کا عراقچی کو پیغام

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بین الاقوامی برادری کا متفقہ مطالبہ ہے۔

    چینی سرکاری بیان کے مطابق بدھ کی شب فون پر گفتگو کے دوران وانگ یی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ساحلی ملک کی حیثیت سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور جائز حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آبنائے کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی اور آمدورفت کا تحفظ بھی یقینی ہونا چاہیے۔

    وانگ یی نے کہا کہ عالمی برادری چاہتی ہے کہ آبنائے میں معمول کی آمدورفت بحال کی جائے۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال جنگ اور امن کے درمیان ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکی ہے۔ ان کے بقول امن کا موقع پیدا ہوا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وانگ یی کو بتایا کہ ایران پرامن مذاکرات کے ذریعے ایک معقول اور حقیقت پسندانہ حل تلاش کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کو تیار ہے۔

  7. لبنان کے ساتھ مذاکرات کے دوران اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ لبنان کے ساتھ امن مذاکرات کے باوجود اسرائیلی فوج حزب اللہ کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ جنوبی لبنان میں واقع بنت جبیل پر قابو پانے کے قریب ہے جسے انھوں نے اس تنظیم کا مضبوط گڑھ قرار دیا۔

    ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ انھوں نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون کو مزید مضبوط بنایا جائے جبکہ اسی دوران بیروت کے ساتھ امن معاہدے پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ مذاکرات گذشتہ 40 برس میں نہیں ہوئے۔ یہ اب اس لیے ممکن ہو رہے ہیں کیونکہ ہم مضبوط ہیں اور ممالک خود ہمارے پاس آ رہے ہیں، صرف لبنان ہی نہیں۔‘

    نیتن یاہو کے مطابق لبنان کے ساتھ بات چیت میں اسرائیل کے دو بنیادی مقاصد ہیں: پہلا حزب اللہ کا خاتمہ اور دوسرا دیرپا امن، جو ان کے بقول ’طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔‘

    اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی افواج اس وقت بنت جبیل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جسے انھوں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا دارالحکومت قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم عملی طور پر حزب اللہ کے اس بڑے مضبوط گڑھ کے خاتمے کے قریب ہیں۔‘

    ایران کے حوالے سے نیتن یاہو نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کو باخبر رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے اہداف ہم آہنگ ہیں۔ ان کے مطابق ان اہداف میں ایران سے افزودہ جوہری مواد کی منتقلی، ایران میں افزودگی کی صلاحیتوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ یہ معاملہ کس انجام تک پہنچے گا یا آگے کس طرح بڑھے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو ’ہم ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں۔‘

  8. امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے کی کوشش ناکام

    بدھ کے روز امریکی سینیٹ نے دو ایسی قراردادیں مسترد کی ہیں جن کا مقصد اسرائیل کو تقریباً 45 کروڑ ڈالر مالیت کے بموں اور بلڈوزروں کی فروخت روکنا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کے ریپبلکن سینیٹرز نے اسرائیل کی حمایت میں ان کا ساتھ دیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 47 رکنی ڈیموکریٹک سینیٹ کاکس کے اراکین کی بڑی تعداد کی جانب سے ان قراردادوں کی حمایت سے اس جماعت کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی سامنے آئی۔ یہ بے چینی غزہ، لبنان اور ایران میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہریوں پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے ہے۔

    امریکی کانگریس میں اسرائیل کے لیے دہائیوں پر محیط دو جماعتی حمایت کی روایت کے باعث اس نوعیت کی قراردادوں کی منظوری کا امکان کم ہوتا ہے۔ لیکن ان کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس بحث سے اسرائیلی حکومت اور امریکی انتظامیہ پر شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔

    اسلحے کی فروخت کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیل امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کو اسرائیل کو فوجی ساز و سامان فراہم کرنا چاہیے۔

    ورمونٹ سے آزاد سینیٹر برنی سینڈرز، جو ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں، نے ان قراردادوں پر ووٹنگ کرانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فروخت غیر ملکی معاونت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے، جن میں فارن اسسٹنس ایکٹ اور آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ شامل ہیں۔

    پہلی قرارداد کے تحت 29 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے ڈی نائن آر اور ڈی نائن ٹی کیٹرپلر بلڈوزرز، پرزہ جات اور دیگر معاونت کی فروخت روکنے کی تجویز تھی۔ اس قرارداد کو آگے بڑھانے کے خلاف 59 اور حمایت میں 40 ووٹ پڑے۔

    سات ڈیموکریٹ سینیٹرز نے تمام ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ مل کر اس قرارداد کو آگے بڑھانے کی مخالفت کی۔ وائومنگ سے تعلق رکھنے والی ریپبلکن سینیٹر سنتھیا لمس نے ووٹ نہیں دیا۔

    دوسری قرارداد کے تحت ایک لاکھ اکاون کروڑ 80 لاکھ ڈالر مالیت کے 12 ہزار ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بی ایل یو 110 اے بی عام نوعیت کے بموں اور ان سے متعلق تکنیکی و لاجسٹک معاونت کی فروخت روکنے کی تجویز تھی۔

    اس قرارداد کو روکنے کے لیے 63 کے مقابلے میں 36 ووٹ پڑے۔ 11 ڈیموکریٹس نے تمام ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ مل کر اس کے خلاف ووٹ دیا۔ نارتھ کیرولائنا سے ریپبلکن سینیٹر تھوم ٹلس نے ووٹ نہیں دیا۔

    برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل یہ بم غزہ اور لبنان میں حملوں کے لیے استعمال کرتا ہے جبکہ بلڈوزرز غزہ، لبنان اور مغربی کنارے میں گھروں کو گرانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ دسیوں ارب ڈالر کی فوجی امداد اور اسلحہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے تاکہ وہ ان مظالم کا خاتمہ کرے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ اس کے مطابق اس کے حملوں کا مقصد عسکریت پسندوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔

    بدھ کی ووٹنگ سے اسرائیل کو اسلحہ فروخت محدود کرنے کی کوششوں کی حمایت میں اضافے کا عندیہ ملا ہے۔ جولائی میں بھی غزہ میں شہری ہلاکتوں کے تناظر میں اسلحے کی فروخت روکنے کی دو قراردادیں سینیٹ میں مسترد کر دی گئی تھیں۔

    برنی سینڈرز کی جانب سے پیش کی گئی ان قراردادوں کو 100 رکنی ایوان میں 73 کے مقابلے میں 24 اور 70 کے مقابلے میں 27 ووٹوں سے مسترد کیا گیا تھا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز میں اسلحے کی فروخت کے معمول کے کانگریسی جائزے کو نظر انداز کر دیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر اسلحہ منتقل کرنا ضروری تھا۔

  9. ایران جنگ کے خاتمے کی امید، امریکی سٹاک مارکیٹ ریکارڈ بلندی پر

    امریکی سٹاک مارکیٹس نے بدھ کے روز نئی ریکارڈ سطحیں حاصل کیں۔ سرمایہ کاروں کی توجہ مذاکرات کے تسلسل اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ممکنہ خاتمے پر رہی۔

    28 فروری کو ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد وال سٹریٹ کے بڑے انڈیکسز میں نمایاں کمی آئی تھی۔ اس کی وجہ طویل تنازع اور معاشی کساد بازاری کے خدشات تھے۔

    تاہم حالیہ مذاکرات کو امریکہ کی جانب سے تعمیری قرار دیے جانے کے بعد صورتحال میں بہتری دیکھی گئی۔ اس کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک دونوں نے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطحیں حاصل کر لیں۔

    ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ پہلی بار سات ہزار کی سطح سے اوپر بند ہوا۔ حملوں کے آغاز پر یہ انڈیکس چھ ہزار 878 پر تھا۔

    نیس ڈیک انڈیکس میں بھی 1.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 24 ہزار 16 کی سطح پر پہنچ گیا۔ یہ ایک نیا ریکارڈ ہے اور تنازع سے پہلے کی سطح سے خاصا زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج اب تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آ سکا۔ بدھ کے روز اس میں نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

  10. امریکی محکمۂ خزانہ کی ’تیل کی سمگلنگ میں ملوث‘ ایرانی شہری پر پابندیوں کا اعلان

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے بعد ’اکانومک فیوری‘ کی مہم کے تحت ایرانی تیل کی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    ایک بیان میں امریکی محکمۂ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے سابق سکیورٹی اہلکار علی شمخانی کے بیٹے محمد حسین شمخانی کے زیر انتظام تیل کی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ایک وسیع بحری نیٹ ورک کے ذریعے ایرانی تیل کی ترسیل اور فروخت میں ملوث رہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک نے اربوں ڈالر کی آمدن حاصل کی ہے۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ سے منسلک ایک پیچیدہ مالیاتی منصوبے سے وابستہ اہداف پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔ یہ منصوبہ مبینہ طور پر سونے کے تبادلہ مراکز کے گرد ترتیب دیا گیا تھا اور اس سے بالآخر ایران کے فوجی نظام کو فائدہ پہنچتا ہے۔

    امریکی عہدیداروں کے مطابق اس منصوبے میں سونے کے ذخائر کو نقد رقم میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تجارتی اور ترسیلی نیٹ ورکس کے ذریعے پابندیوں سے بچتے ہوئے حزب اللہ کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔

  11. شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو ’امن کوششوں میں حالیہ پیشرفت سے آگاہ کیا‘

    پاکستان کے وزیر اعظم ہاؤس نے شہباز شریف کی جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بارے میں ایک پیغام جاری کیا ہے۔

    اس کے مطابق ’تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مملکت سعودی عرب کے لیے مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ انھوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘

    اس کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو ’پاکستان کی امن کوششوں سے متعلق حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے امریکہ ایران جنگ بندی ہوئی اور حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کا دور ہوا۔ ولی عہد نے امن کے اس عمل میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری کردار کو سراہا۔‘

    ’دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مملکت سعودی عرب کی مسلسل حمایت پر ولی عہد سعودی عرب کے لیے اپنی مخلصانہ تعریف کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور مملکت کے درمیان منفرد تعلقات ہیں کیونکہ دونوں ممالک پاکستان-سعودی عرب سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک دفاعی شراکت دار ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔‘

  12. امریکہ کو جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت تسلیم کرنا ہوگی: باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’امریکہ کو لبنان سمیت جنگ بندی کے معاہدے کی ’پابندی کرنا ہوگی۔‘

    انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’لبنان میں جامع جنگ بندی کی تکمیل حزب اللہ کی ثابت قدم جدوجہد پر منحصر ہے جو ایران کی حمایت یافتہ تنظیم ہے۔‘

    قالیباف نے کہا کہ ’ایران اور ’محورِ مزاحمت‘ (جو کہ ایران کی حمایت یافتہ علاقائی تنظیموں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے) جن میں حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں، ایک ہی روح کی مانند ہیں، چاہے جنگ ہو یا جنگ بندی۔

    انھوں نے آخر میں کہا کہ امریکہ کو اسرائیل فرسٹ کی غلطی سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔

  13. ناکہ بندی سے بچ نکلنے والے ایرانی پرچم بردار بحری جہاز روک لیا گیا: امریکہ کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ اس نے ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک لیا ہے جس نے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں پر عائد ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کی تھی۔

    سینٹکام کے مطابق یہ جہاز منگل کے روز ایرانی بندرگاہ والے شہر بندر عباس سے روانہ ہو کر آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد روکا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر یو ایس ایس سپرونس نے ’کامیابی کے ساتھ جہاز کا رخ موڑ دیا‘ اور اب یہ ایران کی جانب واپس جا رہا ہے۔

    سینٹکام نے مزید بتایا کہ اب تک 10 جہازوں کو واپس ایران بھیجا جا چکا ہے اور پیر کے روز نافذ کی گئی اس ناکہ بندی کے بعد کوئی بھی جہاز اسے عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

  14. ایران اور لبنان جنگ: اسرائیل ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار‘ ہے، نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران اور لبنان میں جاری جنگ کے تناظر میں ’ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار‘ ہے۔

    نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک ’اہم ترین اڈے‘ کو تباہ کرنے کے قریب ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس علاقے میں ’بفر زون کی سکیورٹی کو برقرار رکھے‘ اور اسے ’مشرق کی جانب مزید وسعت دے۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس جنگ میں اسرائیل کے مقاصد بدستور امریکہ کے اہداف سے ملتے جُلتے ہیں۔

  15. حکومت کا داخلی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات معطل کرنے کا فیصلہ: ایرانی میڈیا, غنچہ حبیبی‌ زادہ، بی بی سی فارسی

    ایرانی میڈیا کے مطابق ملک نے ’داخلی ضروریات‘ کو پورا کرنے کے لیے تمام پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کو تا حکمِ ثانی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے ایران میں متعدد پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں جنوبی علاقوں عسلویہ اور ماہشہر شامل ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے جماران کے مطابق ماہشہر میں فجر انرجی پرشین گلف اور عسلویہ میں موبین انرجی اور دماوند انرجی جیسے پلانٹس کو ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے، جبکہ دونوں علاقوں میں 50 سے زائد پیٹروکیمیکل کمپلیکسز میں پیداوار معطل ہو چکی ہے۔

    اس صنعت کی مصنوعات میں پلاسٹک سے لے کر کھاد تک شامل ہیں، جس کے باعث اس کے اثرات ایران کے مختلف صنعتی شعبوں اور روزگار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  16. اگر مذاکرات دوبارہ ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسلام آباد میں ہی ہوں گے: وائٹ ہاؤس سیکریٹری کیرولین لیویٹ

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ سے اب سے کُچھ دیر قبل پریس بریفنگ کے دوران ایران سے متعلق جنگ بندی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ رپورٹس درست نہیں ہیں کہ امریکہ نے اس میں باضابطہ توسیع کی درخواست کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ان مذاکرات میں بدستور بھرپور طور پر مصروف ہیں،‘ اور انھوں نے بات چیت کو ’تعمیری اور جاری‘ قرار دیا۔

    پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’اگر مذاکرات ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسی مقام پر ہوں گے یعنی اسلام آباد میں منعقد ہوں گے جہاں پہلے ہوئے تھے۔‘

    میڈیا بریفنگ کے دوران لیویٹ کے ہمراہ وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ بھی موجود تھے۔

    فریقین کی آمنے سامنے ملاقاتوں سے متعلق رپورٹس پر انھوں نے کہا کہ ’ان امور پر بات ہو رہی ہے، لیکن جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان نہ ہو کچھ بھی حتمی نہیں ہوگا۔‘

    لیویٹ نے مزید کہا کہ ’ہمیں معاہدے کے امکانات کے حوالے سے اچھا محسوس ہو رہا ہے،‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کے مطالبات پورے کرنا ’ایران کے بہترین مفاد میں ہے،‘ جنھیں ان کے بقول وہ ’بالکل واضح‘ کر چکے ہیں۔‘

    اسی موقع پر انھوں نے ایک مرتبہ پھر سے ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

  17. جنگ کے آغاز سے اب تک 2167 افراد ہلاک ہوئے: لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ

    لبنان میں جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 2167 تک پہنچ گئی ہے یہ بات لبنان کی وزارتِ صحت کی تازہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے جسے سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی نے جاری کیا ہے۔

    یہ تعداد منگل کے اعداد و شمار کے مقابلے میں 43 افراد کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس جنگ کے دوران اب تک زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 7061 ہو گئی ہے۔

  18. پاکستانی وفد سے ملاقات کے بعد ایران امریکہ سے مستقبل کی بات چیت پر فیصلہ کرے گا: سرکاری میڈیا, غنچہ حبیبی‌ زادہ، بی بی سی فارسی

    ایران کی سرکاری خبر ایجنسیوں کے مطابق، ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ آئندہ دور کے مذاکرات کے بارے میں فیصلہ آج پاکستانی وفد سے ملاقات کے بعد کرے گا۔

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کو ایران کے لیے آئندہ مذاکرات کے حوالے سے ایک ’مثبت اشارہ‘ سمجھا جا رہا ہے۔

    تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کے لیے ’معقول فریم ورک‘ اپنانا ہوگا، زیادہ مطالبات کے ذریعے مذاکراتی عمل کو نہیں روکنا چاہیے اور جنگ بندی سے پہلے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔

    تسنیم نے مزید کہا کہ امریکی میڈیا رپورٹس میں واشنگٹن کی مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کا ذکر ہے، لیکن ایرانی وفد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو ’منصفانہ اور معقول مذاکرات‘ کے لیے ضروری اصولوں کی پابندی کرنی ہوگی۔

    یار رہے امریکہ ایران کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات پر بات کر رہا ہے، لیکن ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔

  19. پہلے 48 گھنٹوں میں کوئی جہاز امریکی فورسز کی ناکہ بندی توڑ کر آگے نہیں بڑھ سکا: سینٹ کام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں پر عائد امریکی ناکہ بندی کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز امریکی فورسز کی ناکہ بندی توڑ کر آگے نہیں بڑھ سکا۔

    سینٹ کام کا مزید کہنا ہے کہ اس عرصے میں نو جہازوں نے امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس پلٹ کر ایران کی بندرگاہ یا ساحلی علاقے کی طرف رخ کر لیا۔

  20. دو محاذوں پر دو الگ مذاکرات: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سنیچر کے روز پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پہنچے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے۔ اسی دوران اسرائیل اور لبنانی گروہ حزب اللہ سرحد کے دونوں طرف ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    امن قائم کرنے کی امید کے ساتھ دونوں محاذوں پر مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے بارے میں اہم معلومات درج ذیل ہیں:

    امریکہ-ایران مذاکرات

    • واشنگٹن اور تہران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات، جن کی میزبانی پاکستان نے کی، اتوار کو بغیر کسی بڑی پیش رفت کے ختم ہو گئے، یعنی جنگ ختم کرنے میں کوئی اہم پیش رفت نہ ہو سکی۔
    • منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ مذاکرات اگلے دو دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ایران نے کہا کہ اسے کسی نئی ملاقات کی معلومات نہیں ہیں۔
    • بی بی سی کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات پر بات کر رہا ہے، لیکن ابھی کوئی شیڈول طے نہیں ہوا۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ رابطے پاکستان کے ذریعے جاری ہیں۔
    • وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ جنگ بندی بڑھانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
    • اسی دوران پاکستان کا ایک وفد تہران پہنچ گیا ہے۔

    لبنان-اسرائیل مذاکرات

    • منگل کے روز واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کی ملاقات ہوئی۔
    • دونوں فریقوں نے ملاقات کے بعد براہ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ لبنان کے سفیر نے ان مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا، جبکہ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ امریکہ، لبنان اور اسرائیل ایک ہی سمت میں کام کر رہے ہیں۔
    • مذاکرات کے دوران بھی اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے۔ اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ جنگ بندی اس کی لبنان میں کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوتی۔