یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور اہم تجزیوں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات معطل ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت مسلسل جاری ہے۔ انھوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ معاہدہ کرے اور کہا کہ یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور اہم تجزیوں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن (سی وی این 72) بحیرہ عرب میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران کے خلاف امریکی بحری پابندی کے نفاذ میں حصہ لے رہا ہے۔
بیان کے مطابق امریکی فورسز نے 122 تجارتی بحری جہازوں کو ان کے راستوں سے ہٹا کر قواعد کی تعمیل یقینی بنائی ہے، جبکہ کیریئر سٹرائیک گروپ خطے میں گشت اور نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات معطل ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’غلط اور بے بنیاد‘ قرار دیا۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے اور گذشتہ چند دنوں کے دوران بھی مذاکرات کا سلسلہ نہیں رکا۔ ان کے مطابق چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی دونوں ممالک کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم انھوں نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران پر زور دیا ہے۔
انھوں نے کہا، ’اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کیا جائے۔ آپ یہ معاملہ 47 سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسے مزید جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 24 مئی کو کوئٹہ میں ہونے والے ٹرین حملے کے بعد بلوچستان کے مختلف اضلاع میں متعدد کارروائیوں کے دوران 17 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
منگل کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ 24 مئی کو ٹرین پر ہونے والے حملے کے بعد فوج نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر متعدد کارروائیوں میں 17 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
خیال ریے 24 مئی کو کوئٹہ میں چمن پھاٹک سے گزرنے والی ٹرین کے قریب خودکش حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے پاس سے اسلحہ، بارود اور تیار کی گئی بارودی سرنگیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
منگل کو امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ لیکن ’اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ اس کے تحت کوئی قابلِ قبول معاہدہ ہو جائے گا۔‘
اس موقع پر سیکریٹری خارجہ نے امریکی آپریشنز کا دفاع کیا اور انھیں ’انتہائی کامیاب‘ قرار دیا۔
’آپریشن ایپک فیوری، جس آپ میں سے کچھ لوگوں نے ناپسند کیا اور کچھ نے پسند کیا، اپنے عسکری مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس نے ڈرامائی طریقے سے ایران کی دفاعی انڈسٹری کی بنیاد کو کمزور کر دیا ہے۔‘
مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ ’آج ایران کے پاس بحریہ نامی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہ سمندر کی تہہ میں موجود ہے۔‘
سینیٹ میں انھوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کی صورت میں ایران پر سے پابندیاں نہیں ہٹائے گا۔
سیکریٹری روبیو نے امریکہ اراکین سینیٹ کو بتایا کہ ’اس پر گفتگو نہیں ہوئی ہے، ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پابندیوں میں نرمی اس ’شرط کی بنیاد‘ پر کی جا سکتی ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم اور جوہری پروگرام کے دیگر پہلوؤں سے دستبردار ہو جائے۔
تہران میونسپیلیٹی میں ثقافتی اور سماجی امور کے نائب سربراہ محمد امین توکل زادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات ’ذوالحج کے مہینے کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ادا کی جائیں گی۔
خیال رہے علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران اور امریکہ کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق محمد امین توکل زادہ کا کہنا ہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات تہران میں کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ مشہد اور قُم میں بھی ان کا جنازہ پڑھا جائے گا۔
علی خامنہ ای کے جنازے کے حوالے سے ان کا کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی موجودگی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔‘
محمد امین توکل زادہ کے مطابق ’وصیت اور رشتہ داروں کی تجویز پر‘ علی خامنہ کی تدفین مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہو گی۔
تہران میونسپیلیٹی کے عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر پاکستان، افغانستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی لوگوں کی آمد متوقع ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور امریکہ میں شروع ہو گیا ہے۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق وفود کی آمد کے بعد لبنان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات امریکہ محکمہ خارجہ میں شروع ہوئے ہیں۔
بحرین نے اپنے شہریوں کے ایران اور عراق کے سفر پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے بحرین نیوز ایجنسی کے مطابق شہریوں کے ایران اور عراق کے سفر پر پابندی کا فیصلہ ’ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی‘ اور ’قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ‘ کے سبب لیا گیا ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ’ضروری قانونی کارروائی‘ کی جائے گی۔
انڈیا نے پاکستان اور یورپی یونین کے مشترکہ اعلامیے میں جموں و کشمیر کے ذکر کو ’مسترد‘ کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کا ’اندرونی معاملہ‘ قرار دیا ہے۔
منگل کو انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ہم مشترکہ اعلامیے میں جموں و کشمیر جیسے انڈیا کے اندرونی معاملات کے بلاجواز حوالہ جات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں۔‘
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’جموں و کشمیر اور لداخ انڈیا کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں۔‘
خیال رہے گذشتہ روز پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کلاس سے ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا تھا۔
اس اعلامیے میں جموں و کشمیر کا بھی ذکر تھا: اجلاس میں ’پاکستان نے جموں و کشمیر کے معاملے پر بریف کیا، جبکہ یورپی یونین نے یوکرین کے خلاف روسی کی جنگ پر بریفنگ دی۔ فریقین نے بات چیت، سفارتکاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق ان تنازعات کے پرامن حل کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔‘
پاکستان اور یورپی یونین کے مشترکہ اعلامیے کے اس حصے پر تنقید کرتے ہوئے انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’جو افراد یا فریق ایسے معاملات میں کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے انھیں چاہیے کہ اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔‘
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے خلاف بغاوت اور لوگوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ عبدالولی غیبزئی نامی شہری کی مدعیت میں افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں محمود خان اچکزئی کے جلسے میں ایک خطاب کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔
یہ جلسہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے عید کے تیسرے روز چمن شہر میں منعقد کیا گیا تھا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال نے اس مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی چارہ جوئی اور پرامن جدوجہد کے زریعے اس ہتھکنڈے کو ناکام بنایا جائے گا۔
مقدمے کی ایف آئی آر کے متن میں کیا ہے؟
ایف آئی آر کے متن کے مطابق اپنے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئے روز بلوچستان میں گاڑیوں کو نذرآتش کیا جارہا ہے اور صوبائی حکومت عوام کو مکمل طور پر تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ’محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے اوپر فارم 47 کے جعلی حکمران مسلط ہیں۔‘
ایف آئی آر کے متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’محمود خان اچکزئی نے مختلف قبائل سے افراد لے کر ایک متبادل آرمی بنانے کی تجویز پیش کی۔’
مدعی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ’محمود خان اچکزئی نے پاکستانی اداروں اور عوام کے درمیان شدید نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی۔
مدعی نے درخواست کی کہ چمن میں مین شاہراہ کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کرنے، عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اُکسانے کی کوشش کرنے پر محمود خان اچکزئی وغیرہ کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔
اس درخواست پر چمن سٹی پولیس سٹیشن میں محمود خان اچکزئی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 143 اے، 505، 131، 341، 147 اور149 کے علاوہ لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی شق 3/4 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔
’پولیس ایسا مقدمہ درج کرنے کی مجاز نہیں‘
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال نے اس مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس ایک غیر سرکاری شخص کی جانب سے ملک کے صف اوّل کے جمہوری اور سیاسی رہنما کے خلاف ایسا مقدمہ درج کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے یہ مقدمہ درج کروایا ہے وہ محمود خان اچکزئی کی مقبولیت سے خائف ہیں اور وہ ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کا راستہ روکنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس مقدمے کو مسترد کرتی ہے اور ایسے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک معاہدہ ’اگلے ہفتے‘ تک طے پا جائے گا۔
واشنگٹن میں اے بی سی کے سینیئر صحافی جوناتھن کارل سے ٹیلی فونک گفتگو میں انھوں نے کہا: ’صورتحال اچھی لگ رہی ہے، بہت اچھی۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا: ’آج ایک چھوٹا سا مسئلہ پیش آیا، لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا ہی ہو گا، میں نے اسے بہت جلد حل کر دیا۔‘
ان کے مطابق یہ مسئلہ لبنان میں اسرائیلی حملوں پر ایرانی ناراضی کے باعث پیدا ہوا تھا۔
امریکی صدر نے کہا: ’میں نے حزب اللہ سے بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں۔ میں نے بی بی (بنیامین نیتن یاہو، اسرائیلی وزیر اعظم) سے بھی بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ بند کر دی۔‘
انھوں نے کہا: ’یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے۔ آپ ایک بہت بڑے ملک کی بات کر رہے ہیں جو ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ بہت گہری دشمنیاں موجود ہیں، اس لیے یہ ان کے لیے بھی آسان نہیں اور ہمارے لیے بھی نہیں۔ لیکن ہم اس طرف بڑھ رہے ہیں جو ہمیں درکار ہے۔‘
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے حتمی ہونے اور دستخط کے وقت کے بارے میں انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ یہ اگلے ہفتے تک ہو جائے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے ابھی تک اس معاہدے کو منظور نہیں کیا کیونکہ ان کے بقول ’ابھی چند مزید نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔‘
اسرائیل اور حزب اللہ کی جانب سے امریکہ کے جزوی جنگ بندی منصوبے کو قبول کرنے کے باوجود جنوبی لبنان میں جھڑپیں جاری رہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ انھوں نے دونوں فریقوں سے بات کی ہے اور دونوں نے ’فائرنگ روکنے پر اتفاق کیا۔‘
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے خبردار کیا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے خطرہ ہیں۔
لبنان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے اس منصوبے کو قبول کیا ہے جس کے تحت وہ اسرائیل پر حملے روک دے گی اور اسرائیل لبنانی دار الحکومت بیروت پر حملہ نہیں کرے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی، تاہم انھوں نے کہا کہ اگر ’حزب اللہ ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے بند نہیں کرتی‘ تو بیروت پر حملے کیے جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
اگرچہ بظاہر جنگ بندی بڑی حد تک قائم دکھائی دیتی ہے، تاہم رات کے دوران مزید تشدد کے واقعات سامنے آئے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان کے قصبوں حداثہ اور بیّادہ میں اسرائیلی ٹینکوں کو میزائلوں اور گولہ باری سے نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق منگل کی صبح لبنان سے داغے گئے دو میزائل مار گرائے گئے اور اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی ہے اور کہا کہ دبین کے قصبے میں ایک شدید دھماکے سے علاقہ لرز کر رہ گیا۔
فرانس کے وزیر خارجہ نے منگل کو کہا ہے کہ لبنان کے اندر اسرائیلی افواج کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا:’کوئی بھی چیز لبنان کے اندر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور طویل المدتی قبضے کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔‘
اتوار کو اسرائیلی افواج نے قلعہ شقیف (بیوفورٹ) پر قبضہ کر لیا تھا۔
ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔
شمالی سندھ کے ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں ایک 19 سالہ حاملہ خاتون کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کر کے لاش دریائے سندھ میں پھینک دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ چند روز قبل آندل سندرانی کے علاقے میں پیش آیا، تاہم اس کی اطلاع بعد میں سامنے آئی جس پر سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
آندل سندرانی تھانے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس علی نواز تنیو نے 31 مئی کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائی۔ اس کے مطابق پولیس کو گشت کے دوران ایک مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ حمیدان نامی خاتون، جن کی شادی خادم سے ہوئی تھی، کو ’کاروکاری‘ کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ خاتون کو راشد عرف راشو شر کے ساتھ تعلق کا الزام لگا کر ان کے شوہر سمیت دیگر رشتہ دار زبردستی ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں، دریائے سندھ کے کنارے دوپہر کے وقت فائرنگ کر کے انھیں قتل کیا گیا اور لاش دریا میں پھینک دی گئی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ حاملہ تھیں اور اس سے پہلے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
مدعی کے بیان کے مطابق پولیس نے لاش کی تلاش کی، تاہم دریا میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے لاش تا حال نہیں مل سکی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم وہ تاحال مفرور ہیں۔
روس نے یوکرین کے کئی شہروں پر بڑے حملے کیے ہیں جن میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے چھ دنیپرو میں اور چار دار الحکومت کیئو میں مارے گئے۔
حکام کے مطابق رات بھر کیے گئے فضائی حملوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ کیئو میں امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
منگل کی صبح یوکرین کے بیشتر علاقوں میں فضائی حملوں کے سائرن بجتے رہے۔
گذشتہ ہفتے ماسکو نے یوکرین پر ’منظم حملے‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
ماسکو نے یوکرین پر الزام لگایا تھا کہ اس نے مشرقی یوکرین کے روس کے زیرِ قبضہ علاقے میں طالب علموں کے ایک ہاسٹل پر مہلک حملہ کیا ہے۔ جبکہ کیئو کا کہنا تھا کہ اس نے روسی فوجی یونٹ کو نشانہ بنایا تھا۔
روسی حملوں کے بعد کیئو کے وسط سے دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ شہر کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے کہا: ’دشمن بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کر رہا ہے۔‘
روس میں کراسنودار کرائی کے ہنگامی مرکز نے اطلاع دی کہ ڈرون حملے کے بعد ایلسکی آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
صبح کے وقت کیئو میں روسی حملوں کے دوران دھماکوں کے ساتھ ساتھ ڈرون کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔
شہر کے میئر ویٹالی کلاچکو کے مطابق اس حملے کے باعث ایک گیس سٹیشن، زیرِ تعمیر عمارت، کئی رہائشی عمارتوں اور دو مکانات میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کی اطلاعات بھی ہیں۔
ادھر شمال مشرقی شہر خارکیئو کے میئر ایہو ترخوف کے مطابق رات گئے ڈرون اور میزائل حملوں میں ایک بچے سمیت 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جنوبی شہر میں بھی ایک صنعتی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملے اس وقت ہوئے جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا تھا کہ ممکنہ طور پر روس بڑا حملہ کر سکتا ہے۔
زیلنسکی نے رات کے ویڈیو خطاب میں کہا: ’روسی حملوں سے متعلق انٹیلی جنس انتباہ موجود ہے۔ ایک بڑا حملہ ممکن ہے، اور وہ اس کی تیاری کر چکے ہیں۔‘
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کی شام فرانس کی درخواست پر لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافے اور جنوبی لبنان کے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی پرچم لہرانے کے معاملے پر ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
اس اجلاس میں کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ لبنان اور اسرائیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان میں سے چند نکات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
روساقوام متحدہ میں روس کے نمائندے واسیلی نبینزیا نے کہا: ’17 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، بد قسمتی سے اس کے پردے میں اسرائیل نے لبنان کے خلاف جارحیت کی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ جب دنیا دو جون کو مذاکرات کے اگلے دور کی منتظر تھی، لبنان میں غزہ کی صورت حال سے ملتی جلتی صورتحال دیکھی گئی، جس میں آبادی کی جبری بے دخلی شامل ہے۔
نبینزیا نے خبردار کیا: ’لہٰذا یہ حیران کن نہیں کہ مسلح مزاحمت کا نظریہ واحد متبادل کے طور پر زیادہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔‘
فرانس
اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے جیروم بونافون نے کہا کہ ان کے وفد نے اس اجلاس کے انعقاد کی درخواست کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ فرانس اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم ’اس کے باوجود لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وسعت اور تسلسل کا کوئی جواز نہیں۔‘
بونافون کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، آبادی بے دخل ہوئی اور لبنان کے مزید علاقوں پر قبضہ ہوا۔
انہوں نے کہا: ’یہ اسرائیل کی جانب سے ایک بڑی سٹریٹیجک غلطی ہے۔‘
امریکہ
امریکہ کے نمائندے مائیکل جی والٹز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’لبنان کی قانونی حکومت ایک ایسی تنظیم سے ملک کو آزاد کرانے کی کوشش میں جرات کا مظاہرہ کر رہی ہے جو تہران کو جواب دہ ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’اگر حزب اللہ فوری طور پر اپنے حملے بند کر دے، جیسا کہ اس نے بظاہر وعدہ کیا ہے، تو کشیدگی میں کمی اور امن تیزی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘
والٹز کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے روکنا ہوں گے، لبنان کی فوج اور حکومت کو ملک کا مکمل کنٹرول سنبھالنا ہو گا اور ایران کو لبنان کو ’اپنے آپریشنز کے اگلے مورچے‘ کے طور پر استعمال کرنا بند کرنا ہو گا۔
لبنان
لبنان کے نمائندے احمد عرفہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بحران کو محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود اسرائیل نے ’علاقائی کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ اپنے فوجی اقدامات میں خطرناک اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب بھی ’تباہی کی منظم مہم‘ جاری رکھے ہوئے ہے اور جان بوجھ کر طبی عملے، ہسپتالوں، صحافیوں، سکولوں، سکیورٹی اداروں، اقوام متحدہ کی فورس، مذہبی مقامات اور آثار قدیمہ سمیت بے شمار اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔
عرفہ نے ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’بہت سے معاملات میں یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔‘
انھوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل کرنا ہو گا تاکہ لبنان کی حکومت پورے ملک پر اپنا کنٹرول قائم کر سکے۔
عرفہ نے کہا: ’لبنان کی حکومت اس بات کی پابند ہو گی کہ اس کے بعد کسی بھی خلاف ورزی کی ذمہ داری قبول کرے۔‘
اسرائیل
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے ڈینی ڈینون نے کہا کہ ان کا ملک ’کسی ایک صبح جاگ کر لبنان میں داخل ہونے کا فیصلہ نہیں کر بیٹھا‘ بلکہ دو مارچ کو حزب اللہ کے حملوں کے بعد ’اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران حزب اللہ کو اسرائیل کے شمالی علاقوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور یہ کہ حالیہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملے ’اپریل کی جنگ بندی کے بعد شدید ترین تھے۔‘
ڈینون نے کہا کہ شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے لیے کبھی حقیقی جنگ بندی نہیں رہی کیونکہ حزب اللہ نے ’کبھی اپنے میزائل اور ڈرون حملے بند کیے ہی نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ہزاروں طلبہ اب بھی سکول نہیں جا پا رہے کیوں کہ حزب اللہ نے سکولوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
انہوں نے فرانسیسی نمائندے سے مخاطب ہو کر کہا: ’ذرا تصور کریں کہ آپ کے ملک پر سپین حملہ کر دے۔ کیا آپ انتظار کریں گے کہ ڈرون پیرس کے اوپر پرواز کریں یا خطرے کو ختم کرنے کے لیے اقدام کریں گے؟‘
اس سے قبل ہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان رپورٹ کیا تھا جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم سے گفتگو میں انھوں نے بیروت پر بڑا حملہ نہ کرنے کا کہا ہے اور بنیامین نیتن یاہو نے اپنے فوجی واپس موڑ لیے ہیں۔
نیتن یاہو نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی صدر سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں پوسٹ کیا ہے۔
انھوں نے لکھا: ’رات میری صدر ٹرمپ سے بات ہوئی اور میں نے انھیں بتایا کہ اگر حزب اللہ ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے بند نہیں کرتی تو اسرائیل بیروت میں دہشت گردی کے اہداف کو نشانہ بنائے گا۔‘
بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’ہمارا یہ موقف برقرار ہے۔‘
ایکس پوسٹ میں نیتن یاہو نے یہ بھی لکھا کہ اس دوران اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں منصوبے کے مطابق کارروائیاں جاری رکھے گی۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے بیروت پر حملے کے لیے بھیجے گئے فوجی واپس موڑنے پر نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا تھا۔
واضح رہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اسرائیل پر حملوں کا الزام لگاتے ہوئے بیروت کے مضافاتی علاقے الضاحیہ پر حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ان کی حزب اللہ قیادت کے نمائندوں کے ساتھ بھی بات ہوئی ہے اور وہ ’اسرائیل اور اس کے فوجیوں پر فائرنگ روکنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اسی طرح اسرائیل نے بھی ان پر فائرنگ روکنے پر اتفاق کیا۔‘
دونوں اطراف سے حملے روکنے کی یقین دہانی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر نے یہ بھی لکھا ’دیکھتے ہیں یہ کب تک برقرار رہتا ہے، امید ہے کہ ہمیشہ کے لیے۔‘
فلوریڈا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اوپن اے آئی کے خلاف اس کے مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ، چیٹ جی پی ٹی، کے ڈیزائن اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مقدمہ دائر کیا ہے۔
اٹارنی جنرل جیمز اُتھمئیر کی جانب سے دائر کیے گئے اس وسیع مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سام آلٹمن بچوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور انھیں اس کا عادی بنا رہے ہیں، اور لوگوں پر فائرنگ کرنے والوں کی مدد و معاونت کر رہے ہیں، اور کمپنی منافعے کی دوڑ میں صارفین کو خودکشی پر اکسا رہی ہے۔
اس مقدمے کے جواب میں اوپن اے آئی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ’صنعت میں نمایاں حفاظتی اقدامات اور پالیسیاں‘ نافذ کر رکھی ہیں۔
یہ قانونی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلوریڈا یہ جانچنے کے لیے مجرمانہ تحقیقات بھی کر رہا ہے کہ آیا گزشتہ سال فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے، میں چیٹ جی پی ٹی کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔
فلوریڈا کی جانب سے دائر کیے گئے سول مقدمے میں سام آلٹمن کو ذاتی طور پر بھی ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں ان پر مبینہ ’غیر ذمہ دارانہ اور دانستہ رویے‘ کا الزام ہے، جس میں ان کی کمپنی کے اقدامات سے انسانی جانوں کو لاحق خطرات کو ’مکمل طور پر نظر انداز‘ کرنا شامل ہے۔
مقدمے میں اوپن اے آئی کے خلاف متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں دھوکہ دہی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقے، غفلت، مصنوعات کی ذمہ داری کے قوانین کی خلاف ورزی، غلط بیانی، اور عوامی نقصان کا باعث بننا شامل ہیں۔
اس شکایت میں فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی فائرنگ کے علاوہ یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے دو پی ایچ ڈی طلبا کے قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر انسانی لاشوں کو ٹھکانے لگانے سے متعلق سوالات چیٹ جی پی ٹی سے پوچھے تھے۔
جیمز اُتھمئیر نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’ آلٹمن اور چیٹ جی پی ٹی نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ کو ہمارے بچوں کی سلامتی اور تحفظ پر ترجیح دی ہے۔ انھوں نے عوامی تحفظ پر منافع کو ترجیح دی ہے، اور ہم فلوریڈا میں یہ برداشت نہیں کریں گے۔ ہم انہیں جوابدہ ٹھہرائیں گے۔‘
اوپن اے آئی نے بی بی سی کو ایک بیان میں بتایا ’کسی بچے کو کھونا ایک خاندان کے لیے سب سے بڑا سانحہ ہوتا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی الفاظ اس نقصان کے درد کا مداوا نہیں کر سکتے۔‘
’مصنوعی ذہانت ایک نئی اور طاقتور ٹیکنالوجی ہے، اور ہمارا ماننا ہے کہ کم عمر افراد کو خصوصی تحفظ درکار ہے، اسی لیے ہم نے صنعت کے بہترین حفاظتی اقدامات اور پالیسیاں لاگو کی ہیں۔‘
کمپنی نے کہا کہ وہ کم عمر صارفین کی حفاظت کو اپنی مصنوعات میں براہِ راست شامل کرتی ہے، جس میں عمر کی شناخت کا نظام اور ایسے دیگر طریقے شامل ہیں جن کی مدد سے والدین اپنے بچوں کے اے آئی کے استعمال کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ان اقدامات کا ذکر کسی کھوئے ہوئے بچے کو واپس نہیں لا سکتا، لیکن ہم اس مسئلے کو درست کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘
یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی کو اس کی حفاظتی پالیسیوں کے حوالے سے متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں کچھ مقدمات یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی نے خودکشی کے لیے رہنمائی فراہم کی یا نقصان دہ خیالات کو فروغ دیا۔
اسی سال کے آغاز میں کینیڈا میں ٹمبلر رج کی فائرنگ کے کچھ متاثرہ خاندانوں نے بھی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ کمپنی نے ملزم کے چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ کو مسئلہ خیز استعمال کی بنیاد پر بند کر دیا تھا، مگر حکام کو اطلاع نہیں دی۔
کمپنی نے پولیس کو اطلاع نہ دینے پر معذرت کی، تاہم اس کا کہنا تھا کہ ملزم کی سرگرمیاں اس حد تک نہیں پہنچیں کہ انہیں فوری یا سنجیدہ جسمانی نقصان کے خطرے کے طور پر دیکھا جاتا۔
دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس وقت اسی نوعیت کے قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے نئے معاہدے کا اعلان کیا اور اس بات کی تصدیق کہ اب بیروت کی جانب فوج نہیں بھیجی جائے گی۔
انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’میں نے اسرائیل کے وزیر اعظم کے ساتھ بہت نتیجہ خیز بات چیت کی اور بیروت میں کوئی فوجی نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کے علاوہ جو بھی فوجی راستے میں تھے وہ واپس آگئے ہیں۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’میں نے حزب اللہ کے ساتھ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے بہت اچھی بات چیت کی، اور وہ تمام گولی باری بند کرنے پر راضی ہوگئے۔ اسرائیل ان پر حملہ نہیں کرے گا، اور وہ اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔‘
مسٹر ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کے ساتھ بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘
ایک گھنٹہ قبل تسنیم خبر رساں ادارے نے کہا تھا کہ یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ’اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ لبنان جنگ بندی کے لیے پیشگی شرائط میں سے ایک تھا اور اس جنگ بندی کی اب لبنان سمیت تمام محاذوں پر خلاف ورزی کی گئی ہے، ایرانی مذاکراتی ٹیم ثالث کے ذریعے مذاکرات اور متن کا تبادلہ معطل کر رہی ہے۔‘
ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اس سے پہلے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی بلاامتیاز تمام محاذوں پر ایک مکمل جنگ بندی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔
انھوں نے متنبہ کیا کہ ’کسی ایک محاذ پر اس کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے۔‘