اسلام آباد میں نئی اسمبلی بنانے کی تجویز کیوں دی گئی اور کیا یہ قابل عمل ہے؟

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صوبائی اسمبلی کی طرز پر نئی اسمبلی کی تشکیل کے حوالے سے بعض نئی تجاویز وزیر اعظم شہباز شریف کو بھجوائی گئی ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اسلام آباد میں ایک علیحدہ قانون ساز اسمبلی کی اس لیے ضرورت تھی کیونکہ اسلام آباد کے حوالے سے تمام قانون سازی قومی اسمبلی ہی کرتی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں علیحدہ قانون ساز اسمبلی بنانے سے متعلق سفارشات وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم ایک کمیٹی نے تیار کی ہیں جس میں پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور سیاسی امور پر وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ شامل ہیں۔

وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز ابھی تک سفارشات کے مرحلے میں ہیں اور ’فی الحال کابینہ نے اس کی منظوری نہیں دی ہے۔ اسے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔‘

دریں اثنا ملک کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نئی اسمبلی سے متعلق ان سفارشات پر ممکنہ قانون سازی سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور قانون سازی پارلیمنٹ کا استحقاق ہے۔

حکومت اسلام آباد میں نئی اسمبلی کیوں بنانا چاہتی ہے؟

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار روحان احمد کو بتایا کہ اسلام آباد میں ایک علیحدہ قانون ساز اسمبلی کی ضرورت تھی کیونکہ اسلام آباد کے حوالے سے تمام قانون سازی قومی اسمبلی ہی کرتی ہے۔

انھوں نے یہ جواز پیش کیا کہ جب ’قومی سطح کی قانون سازی ترجیح ہو تو مقامی معاملات اکثر پیچھے چلے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جب قومی سطح کی قانون سازی ہوگی، اس کے بعد ہی مقامی امور کا نمبر آتا ہے۔‘

احسن اقبال کے مطابق اسلام آباد کے بجٹ اور اخراجات پر نظر رکھنے کے لیے ایک فورم کی ضرورت تھی۔ جبکہ ان کے بقول مجوزہ اسمبلی ہی اسلام آباد کے بجٹ کی منظوری دے گی۔

اسلام آباد کو ’انتظامی طور پر انٹیگریڈ کیا جائے گا تاکہ دارالحکومت کے انتظامات بہتر طریقے سے چلائے جا سکیں۔‘

ان کے مطابق ان کی کمیٹی نے تجاویز وزیر اعظم کو بھیج دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی اسمبلی میں 27 نشستیں ہوں گی جن میں سے 21 براہ راست ووٹ سے منتخب ہو کر آئیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان تجاویز کو مرتب کرنے سے پہلے دیگر ممالک کے سسٹمز کا مطالعہ کیا گیا تھا، تو ان کا کہنا تھا: 'ہم نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں اور قریب کے ممالک میں رائج سسٹمز کا مطالعہ کر کے ہی تجاویز مرتب کی ہیں۔'

سفارشات کے مطابق اسلام آباد میں سروسز کے تمام محکمے اس حکومت کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ قانون امن وامان اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ وفاقی حکومت کے پاس ہی ہوگی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں امن و امان کا انتظام وفاقی حکومت کے پاس ہی رہے گا۔ انھوں نے اس کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی بھی ایسا ہی ہے۔‘

لوکل باڈیز کے نظام کی بجائے نئی اسمبلی کی ضرورت پر وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں ’لوکل باڈیز اتنی بااختیار نہیں تھیں۔ مگر یہ (تجاویز) اس سے بالکل مختلف ہیں۔

انھوں نے اے آر وائے نیوز کو بتایا کہ ’(نئی) اسمبلی کو وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو صوبائی اسمبلیوں کو حاصل ہوتے ہیں۔‘

طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ ان سفارشات کا مقصد گورننس، قانون سازی اور محصولات سے جڑے مسائل حل کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام آباد سے جمع کیا جانے والا اربوں روپے کا ٹیکس فی الحال وفاقی دارالحکومت میں نہیں لگتا۔ ان کے بقول ان تجاویز کا مقصد اسلام آباد کے حوالے سے قانون سازی کرنا ہے اور یہ کہ اس شہر سے جمع کیا جانے والا ٹیکس ادھر ہی لگے۔

وزیر برائے پارلیمانی امور کا کہنا ہے کہ ’اس اسمبلی کا سربراہ میئر، چیف ایگزیکٹیو یا وزیر اعلیٰ ہوگا، اس کا نام ابھی تک اس لیے تجویز نہیں کیا گیا کیونکہ ہم کسی تنازعے میں نہیں جانا چاہتے۔‘

’اسمبلی کے سربراہ کے پاس وہ تمام اختیارات ہوں گے جو وزیر اعلیٰ کے پاس ہوتے ہیں چاہے اس کا نام گورنر، میئر یا چیف ایگزیکٹیو ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ان تجاویز پر فی الحال وزارت قانون کام کر رہی ہے۔ ’پہلی کوشش یہی ہے کہ اسے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیا جائے لیکن آئینی ترمیم کی ضرورت پڑی تو وہ بھی کریں گے۔‘

تاہم دوسری طرف وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی حد تک لوکل باڈیز ایکٹ بن چکا ہے اور اس وقت پنجاب اور اسلام آباد میں یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ لوکل باڈی الیکشنز کروائے جائیں۔

انھوں نے لندن اور نیو یارک میں بااختیار بلدیاتی حکومت کے نظام جبکہ نئی دہلی میں وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں چلنے والے نظام کی مثالیں دیں اور کہا کہ 'یہ ساری چیزیں زیرِ غور ہیں۔‘

کیا یہ سفارشات قابل عمل ہیں؟

الیکشن اور پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو صوبے کا درجہ دینے کا معاملہ گذشتہ دو، تین برسوں سے چل رہا ہے اور کہا جا رہا تھا کہ ’نئی دہلی میں جس طرح الگ اسمبلی ہے، اسی طرز کی اسمبلی پاکستان میں بھی ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد کو محض زبانی جمع خرچ کے طور پر ایک صوبے کا درجہ تو دیا گیا ہے لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کو نیشنل فنانس کمیشن سے اس طرح حصہ نہیں ملتا جس طرح دوسرے صوبوں کو دیا جاتا ہے۔

’اسلام آباد میں تو لوکل گورنمنٹ بھی نہیں ہے اور اسلام آباد میں کسی بھی معاملے میں قانون سازی کے لیے یہاں کے مکینوں کو پارلیمنٹ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔‘

احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہوا ہے جبکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ صوبائی اسمبلی سے پاس ہوتا ہے۔

’بدقسمتی سے جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں ان میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے پاس رکھتی ہیں۔‘

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ایک سابق عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے لیے علیحدہ اسمبلی کی تشکیل بالکل آسان معاملہ نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اسلام آباد میں اسمبلی کی تشکیل کا مجوزہ مسودہ ’ایکٹ آف پارلیمنٹ‘ کے تحت منظور نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کے لیے آئین میں دو تہائی کی اکثریت سے ترمیم کرنا ہوگی۔

’آئین کے آرٹیکل ون میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے جو چار صوبوں پر مشتمل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد کی اسمبلی کی تشکیل کے بعد وفاقی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کی نشستوں کو بڑھایا جاتا ہے تو اس حوالے سے بھی آئین کے آرٹیکل 151 میں دو تہائی کی اکثریت سے ترمیم کرنا ہوگی۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ آئین میں یہ بھی درج ہے کہ کن صوبوں کی کتنی نشستیں ہوں گی اور اگر اسلام آباد کی اسمبلی کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے تو اس کے لیے بھی آئین کے آرٹیکل 106 میں دو تہائی کی اکثریت کے ساتھ ترمیم درکار ہو گی۔

کنور دلشاد کے مطابق اسلام آباد کا کُل رقبہ 906 مربع کلو میٹر ہے اور اگر اسلام آباد کی حدود میں توسیع کی جاتی ہے اور دیگر علاقے بھی اسلام آباد کی حدود میں شامل کیے جاتے ہیں تو اس کے لیے بھی آئین کے آرٹیکل 239 کے سب سیکشن چار میں ترمیم کرنا پڑے گی۔

دوسری طرف اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے بھی ایک بل وزیر اعظم کو بھیجا گیا ہے۔ یہ بل وزارت داخلہ کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہوگیا ہے، جس کے بعد اسے کابینہ سے منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا، جس کی معیاد پانچ ستمبر کو ختم ہو چکی ہے۔

الیکشن کمیشن متعدد بار وفاقی حکومت کو تازہ ترین مردم شماری کے حساب سے نئی حلقہ بندیاں کرنے کی تجویز دے چکا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

الیکشن کمیشن نے اس کے ردعمل میں کہا تھا کہ اگر نئی حلقہ بندیاں نہ ہوئیں تو پھر وہ پرانی حلقہ بندیوں کو ہی سامنے رکھتے ہوئے الیکشن کے شیڈول کا اعلان کر دے گا۔