آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر الیکشن کے دوسرے مرحلے میں پولنگ جاری مگر مظفرآباد میں تناؤ: ’ووٹ اسے دیں گے جو ہمارے حق میں بولے گا‘
- مصنف, تابندہ کوکب
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, مظفر آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں آج مظفر آباد ڈویژن کے آٹھ حلقوں اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر صبح آٹھ بجے سے پولنگ کا عمل جاری ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ایل اے 27 (مظفر آباد ون) میں لینڈ سلائیڈنگ اور بارش کے باعث پولنگ موخر کی گئی ہے۔ جبکہ دیگر آٹھ حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہے جن میں ڈویژن کے تین اضلاع مظفرآباد کے دیگر چار، جہلم ویلی کے دو اور نیلم کے دو حلقے شامل ہیں۔
جبکہ اس مرحلے کے دوران مہاجرین کی 12 نشستوں پر چار لاکھ سے زیادہ ووٹرز بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
مظفرآباد میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کی جانب سے احتجاج کے بعد ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی تھی۔
جمعے کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مظفر آباد شہر کے لگ بھگ تمام گنجان آباد علاقوں میں مظاہرین نے رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر رکھے ہیں۔
ادھر الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق مظفرآباد میں الیکشن کے پُرامن انعقاد کے لیے 18 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں پولیس اور رینجرز شامل ہیں۔ جبکہ مظفرآباد کے حلقوں ایل اے 5 کھاوڑہ اور ایل اے 3 لجرہ کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے موقع پر عوام کے نام اپنے اہم پیغام میں کہا ہے کہ تمام حلقوں کے پولنگ سٹیشنز پر انتخابی سامان پہنچا دیا گیا ہے جبکہ پولنگ کا عملہ ’سخت سکیورٹی میں متعلقہ پولنگ سٹیشنز کی جانب روانہ کیا گیا۔‘
ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے تمام ووٹرز پر زور دیا کہ وہ اپنا حقِ رائے دہی ضرور استعمال کریں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے بہتر مستقبل اور اہل قیادت کا انتخاب کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ووٹ کا ’کوئی متبادل نہیں اور ہر شہری کو اپنا قومی فرض ادا کرنا چاہیے۔‘
ووٹروں کی تعداد کم اور سکیورٹی کے سخت انتظامات
مظفرآباد میں موجود نامہ نگار تابندہ کوکب کے مطابق شہر کے صدر مقام پر اہم سرکاری عمارتوں اور نسبتاً محفوظ علاقوں کے پولنگ سٹیشنز پر گہما گہمی تو دکھائی دی لیکن ووٹ ڈالنے والوں کے مقابلے میں پنجاب پولیس کے اہلکار کہیں زیادہ نظر آئے۔
ان کے مطابق دوپہر 12 بجے تک بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ووٹروں کی تعداد نہایت کم تھی۔ انتخابی عملے نے اس کی وجہ اتوار کی چھٹی اور بارش بتائی۔ ایک پولنگ سٹیشن کے پریزائیڈنگ افسر امجد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ رات پولنگ کے اوقات سے متعلق پھیلنے والی افواہوں نے بھی ووٹر ٹرن آؤٹ کو متاثر کیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’جن علاقوں میں ماحول کشیدہ تھا، وہاں عملے کو بھی سکیورٹی کلیئرنس کے باعث علی الصبح پولنگ سٹیشنز پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دور دراز علاقوں کے بعض پولنگ سٹیشنز تک خراب موسم اور احتجاج کے باعث بند راستوں کی وجہ سے عملہ دوپہر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔‘
جن پولنگ سٹیشنز کا بی بی سی نے دورہ کیا، وہاں پولنگ مجموعی طور پر پُرامن مگر انتہائی سست رفتار تھی۔ گذشتہ رات احتجاج اور جھڑپوں سے متاثرہ علاقوں میں بھی ووٹنگ جاری تھی تاہم ایک مقام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ تصادم شروع ہوا اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد بی بی سی کی ٹیم کو وہاں سے فوری طور پر نکلنا پڑا۔
کشیدگی کے باعث اس پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ روک دی گئی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں اور فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہی ہیں۔
بی بی سی نے مظفر آباد میں الیکشن سے قبل کیا دیکھا؟
پولنگ سے ایک روز قبل بی بی سی نے مظفر آباد شہر کا دورہ کیا اور لوگوں سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ان کی کیا توقعات ہیں۔
سنیچر کے روز پولنگ کے عملے کو سخت سکیورٹی میں پولنگ سٹیشنز کی طرف روانہ کیا گیا۔ ہر گاڑی کے ساتھ فوجی اہلکار تعینات تھے۔
مظفر آباد میں مقامی پولیس کے علاوہ الیکشن کے دوران سکیورٹی فرائض ادا کرنے کے لیے پنجاب اور سندھ پولیس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی شہر میں موجود ہے۔
مگر مظفرآباد میں احتجاجی مظاہروں کے بعد شہر کے حالات کشیدہ تھے۔ لگ بھگ تمام گنجان آباد علاقوں گوجرہ، طارق آباد، اپر پلیٹ، سینٹر پلیٹ، لوئر پلیٹ، سماں بانڈی اور چیلہ بانڈی میں مظاہرین نے رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر رکھے ہیں۔
ایک مقام پر مظاہرین گاڑیوں میں سوار افراد سے دوٹوک لہجے میں کہہ رہے تھے کہ ’گاڑی واپس گھما لیں، بس اس سے زیادہ ہم بات نہیں کریں گے!‘
مظاہرین میڈیا سے بھی ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔ کپڑے سے اپنا چہرہ چھپائے ایک نوجوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ ہماری خبر دیتے ہیں اور نہ ہمارا موقف بتاتے ہیں، انھیں ہم اپنے علاقے میں کِس لیے جانے دیں؟‘
مظاہرین نے بی بی سی کی ٹیم کو شہر کے مختلف حصوں تک جانے کی اجازت دی اور ہمارے لیے بند راستے کھولے گئے۔
جب میں نے ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ اس علاقے میں ان کا پولنگ سٹیشن کون سا ہے تو انھوں نے قدرے سخت لہجے میں کہا ’کون سا پولنگ سٹیشن؟ ہم یہاں کوئی پولنگ سٹیشن نہیں بننے دیں گے۔ نہ یہاں پولنگ سٹیشن بنے گا نہ کوئی ووٹ ڈالے گا۔‘
انھوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا ’اگر ایک بھی پولنگ سٹیشن بنا تو ان (حکومت) کے پاس بہانہ ہوگا کہ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔‘
ناراضی کا ماحول اور ووٹرز کے شکوے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک اور چہرہ چھپائے شخص نے کہا ’ہمارے مطالبات ماننے کے بجائے ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ وہ لوگ بھی مر رہے ہیں جن کا احتجاج یا ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق بھی نہیں۔‘
خیال رہے کہ جمعے کے احتجاج کے بعد ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والا شخص راہگیر تھا۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن سردار تنویر کا دعویٰ تھا کہ وہ تنظیم کا رکن تھا جو فائرنگ سے ہلاک ہوا اور پولیس کی شیلنگ کے نتیجے میں تنظیم کے تین کارکن زخمی ہوئے تھے۔
دوسری طرف پولیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مظفرآباد میں ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن پر اس کے بقول 'شرپسند عناصر' نے حملہ کیا تھا۔
سنیچر کے روز ہم نے گلی محلوں میں جا کر نوجوانوں اور خواتین کی رائے جاننے کی کوشش کی تو ہر طرف ناراضی نظر آئی۔
جو لوگ الیکشن کے انعقاد کے حق میں تھے، وہ بھی سیاسی رہنماؤں کی ’بے رخی‘ سے ناراض تھے اور جو لوگ موجودہ حالات میں الیکشن نہیں چاہتے، وہ کشیدگی کی وجہ سے ناراض تھے۔
حجاب النسا ابھی سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’میں اس الیکشن میں پہلی مرتبہ ووٹ دینے والی تھی اور کافی پرجوش تھی۔ امید تھی کہ میرا ووٹ کسی مثبت اقدام کے کام آسکے گا۔
’لیکن اب حالات کی وجہ سے مشکل ہے کہ میں ووٹ دوں۔ ہمارے سیاسی رہنما تو ہمیں ہی تحفظ نہیں دے پا رہے۔‘
جمیلہ اسلم کہنا تھا کہ ’آپ کو شاید یہاں ووٹ دینے والا کوئی نہ ملے، یہ لیڈر تو الیکشن کے بعد بھول ہی جاتے ہیں کہ انھیں کس نے ووٹ دیا تھا۔ ان کے لیے ووٹ کی اہمیت تب تک ہے جب تک یہ اپنے بندوں کی نوکریاں لگوا لیتے ہیں۔‘
شازیہ بی بی بھی ان خواتین میں سے ہیں جو اپنے مقامی سیاستدانوں سے ناراض ہو کر ووٹ نہیں دینا چاہتیں۔ حالانکہ انھوں نے اپنے مقامی رہنما کے لیے باقاعدہ الیکشن مہم چلائی۔ ناراضی بھرے لہجے میں انھوں نے کہا ’یہ سیاستدان اپنے لوگوں کے لیے نہیں نکلے، یہ عوامی نمائندے ہیں ہی نہیں، یہ ہمارے حق کے لیے نہیں بول رہے، بے شک وہ صرف 400 ووٹ لے کر اسمبلی میں چلے جائیں کم سے کم ہمارا ضمیر مطمئن ہے کہ ہم نے اس حکومت کو ووٹ نہیں دیا۔‘
کوثر بی بی کی شکایت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر بار سیاسی جماعتیں بدل بدل کر سامنے آ جاتے ہیں۔‘
’جو ہمارے حق میں بولے گا، ووٹ اسے دیں گے‘
سیاسی رہنماؤں سے ناراضی میں مرد و خواتین کے خیالات تقریباً ایک جیسے نظر آئے۔
شکیل راٹھور نامی شہری نے کہا ’لوگوں میں الیکشن سے مایوسی کی وجہ یہی سیاستدان ہیں۔ جب مشکل میں ہم انھیں فون کرتے ہیں تو سب اپنے فون بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔‘
شکیل کا کہنا تھا کہ ’ہم ووٹ نہیں دیں گے تو ہمیں کم از کم یہ اطمینان ہوگا کہ ہم اس ’کالے راج‘ کا حصہ نہیں۔‘
سنیچر کی شب مظفر آباد کے موجودہ حالات میں ایسے لوگوں کو تلاش کرنا بہت ہی مشکل تھا جو سرِ عام یہ کہہ سکیں کہ وہ ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں یا ووٹ ڈالیں گے۔
راجہ حماد ان نوجوانوں میں شامل ہیں جنھوں نے اپنے پسند کے امیدوار کے لیے مہم چلائی اور وہ ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ میری سیاسی جماعت یہاں بھی ترقیاتی کام کروائے گی۔‘
جبکہ ثوبیہ کاظمی کا کہنا تھا کہ ’میں ووٹ دینے ضرور جاؤں گی۔ ووٹ تو حق ہوتا ہے۔ جب تک پُرامن طریقے سے بات نہیں ہوگی، کسی مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔‘
ان کی رائے میں لوگ ’ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے علاقے کے لوگ ہیں اور یہاں کے ترقیاتی منصوبوں میں یہی ہمارے کام آئیں گے۔‘
لیکن مظفر آباد کے ایک گنجان آباد علاقے کے رہائشی موسیٰ، جو پہلی بار ووٹ دینا چاہتے تھے، کہتے ہیں کہ ’اس وقت مجھے ایسا کوئی سیاستدان نظر نہیں آتا جسے ووٹ دیں۔ جو حالات ہیں کوئی سیاستدان اس بارے میں بات نہیں کر رہا۔‘
صبا نامی خاتون کا کہنا ہے کہ ’روایتی سیاسی جماعتیں ووٹ لینے کے لیے بہت متحرک ہوتی ہیں لیکن جب حقوق کی باری آتی ہے تو غائب ہو جاتی ہیں۔ انھیں ووٹ نہیں دیں گے۔ البتہ جو ہمارا خیال کرے گا اور ہمارے حق میں بولتا ہے تو ہم اسے ووٹ دیں گے۔‘
اسی طرح حیدر کیانی نامی نوجوان کو امید ہے کہ ان کے امیدوار کے جیتنے سے شہر میں ’حالات بہتر ہوں گے۔'
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی اور آئینی کشمکش اور احتجاج نے ایسے لوگوں کو بھی جھنجھوڑا ہے جنھیں اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس ہوا ہے۔
انھی میں ایک میمونہ ارشد بھی ہیں جو کہتی ہیں کہ اگرچہ انھوں نے 42 سال کی عمر میں آج تک کبھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے وہ ووٹ ضرور دیں گی۔
وہ کہتی ہیں ’میں حکمرانوں کو اپنا ذہنی دباؤ بتانا چاہتی ہوں۔ میں اسی وجہ سے ووٹ دینا چاہتی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وہ ہم ووٹرز کی لاج رکھیں گے۔‘
الیکشن کے پہلے مرحلے کے نتائج
سنیچر کے روز الیکشن کمیشن کے سیکریٹری راجہ محمد شکیل نے بتایا تھا کہ الیکشن کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے نو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق میرپور ڈویژن میں ووٹر ٹرن آؤٹ 46 فیصد رہا۔
انتخابات کا تیسرا مرحلہ پونجھ ڈویژن میں 10 اگست کو ہو گا۔