خودکشی یا جہیز پر قتل: ایک ماڈل کی شادی کے پانچ ماہ بعد سسرال میں ’پراسرار موت‘ کا معمہ اور مفرور شوہر کی تلاش

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • مصنف, وشنوکانت تیواری
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انتباہ: اس مضمون میں کچھ ایسی تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

انڈیا میں جہاں ہر سال ہزاروں کم عمر خواتین کم جہیز کے باعث قتل کر دی جاتی ہیں، جہیز سے متعلق موت شاذ و نادر ہی خبروں میں جگہ پاتی ہے۔

لیکن 12 مئی کو وسطی شہر بھوپال میں ٹوئشا شرما کی موت نے غیر معمولی میڈیا توجہ حاصل کر لی ہے اور یہ معاملہ خبروں میں ہے۔

33 سالہ ماڈل اور اداکارہ کی شادی صرف پانچ ماہ قبل وکیل سمرتھ سنگھ سے ہوئی تھی لیکن چند روز قبل وہ اپنے سسرالی گھر میں مردہ پائی گئیں۔

ٹوئشا کے والدین اور بہن بھائیوں نے الزام لگایا ہے کہ انہیں سمرتھ سنگھ اور ان کی والدہ ریٹائرڈ جج گیریبالا سنگھ کی جانب سے جہیز کے مطالبات پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں قتل کیا گیا۔

گیریبالا سنگھ نے ان الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹوئشا کو ذہنی صحت کے مسائل تھے اور اُنھوں نے خودکشی کی۔

پولیس افسر راجنیش کشیپ کول نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ سنگھ خاندان کے خلاف جہیز سے متعلق موت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور یہ تحقیقات جاری ہیں کہ ٹوئشا کی موت قتل ہے یا خودکشی۔

پولیس کے مطابق وہ سمرتھ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو مفرور ہیں، ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے اور بیرونِ ملک فرار کو روکنے کے لیے نظر بندی نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔

بھوپال کی ایک عدالت نے گیریبالا سنگھ کو قبل از گرفتاری ضمانت دے دی ہے لیکن سمرتھ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔ انھیں 23 مئی تک خود کو حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

گیریبالا سنگھ کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے بیٹے کے مقام کا علم نہیں، تاہم اُنھوں نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ سے ضمانت کے لیے رجوع کریں گے اور اگر درخواست مسترد ہوئی تو خود پیش ہو جائیں گے۔

ایک ویڈیو بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے وکیل نے انھیں دور رہنے کا مشورہ دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر آپ باہر آئے تو ہجوم آپ کو مار ڈالے گا۔ ان کے خلاف مہم چل رہی ہے، لوگ ان کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ میرا بیٹا اپنے انتہائی عزیز انسان سے محروم ہو گیا ہے، اس نے اپنی شریکِ حیات کو کھو دیا ہے اور ہم سوگ بھی نہیں منا سکتے، سب ہمارے خلاف ہیں۔‘

دوسری جانب، ٹوئشا کے خاندان نے ان کی چتا جلانے سے انکار کرتے ہوئے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے دیکھی گئی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی موت پھانسی سے ہوئی، تاہم اس میں موت سے قبل چوٹوں کا بھی ذکر ہے۔

ایک عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی لیکن حکام کو ہدایت دی کہ میت کو گلنے سڑنے سے بچایا جائے۔

سمرتھ کے اب تک مفرور ہونے، ٹوئشا کے خاندان کی جانب سے سنگھ خاندان پر سنگین الزامات اور سابق جج کی جانب سے ٹوئشا کی مبینہ ذہنی صحت پر بیانات دینے کے باعث اس کیس کی میڈیا میں مسلسل کوریج جاری ہے۔

اس کیس میں غیر معمولی دلچسپی کی وجہ ٹوئشا کی شخصیت اور اس خاندان کی شہرت ہے جس میں وہ بیاہی گئی تھیں، عوامی تاثر کے مطابق انڈیا کی بااثر عدلیہ کے ارکان کو مثالی کردار پیش کرنا چاہیے۔

ایک ماڈل اور اداکارہ کے طور پر ٹوئشا نے 2012 میں مغربی شہر پونے میں ایک بیوٹی مقابلہ جیت کر مس پونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

وہ متعدد اشتہاری مہمات کا حصہ رہیں اور ایک تیلگو زبان کی فلم میں اداکاری بھی کی۔ حالیہ برسوں میں اُنھوں نے نجی کمپنیوں کے ساتھ بطور مارکیٹنگ پروفیشنل بھی کام کیا۔

دوست اور اہلخانہ انھیں خوش مزاج، فیاض اور پرعزم قرار دیتے ہیں۔

خاندان کے مطابق ان کی ملاقات 2024 میں بھوپال میں مقیم وکیل سمرتھ سے ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ہوئی اور دونوں نے دسمبر 2025 میں شادی کر لی۔

شادی کے دن کی تصاویر میں خوش دلہن اور دلہا کو مسکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم شرما خاندان کا کہنا ہے کہ شادی کے فوراً بعد تناؤ شروع ہو گیا۔

ان کا الزام ہے کہ شادی کے وقت جہیز دینے کے باوجود انھیں مسلسل طعنے دیے جاتے رہے کہ شادی ان کے ’معیار‘ کے مطابق نہیں تھی، اس الزام کو گیریبالا سنگھ نے مسترد کیا ہے۔ (انڈیا میں جہیز دینا اور لینا غیر قانونی ہے لیکن یہ روایت اب بھی وسیع پیمانے پر موجود ہے)۔

ٹوئشا کے خاندان کی جانب سے جاری کردہ مبینہ حالیہ وٹس ایپ پیغامات کے بعد اس جوڑے کے تعلقات بھی زیرِ بحث آ گئے ہیں، جن میں اُنھوں نے سنگھ خاندان کی جانب سے تشدد کا الزام لگایا تھا۔

ایک پیغام میں اُنھوں نے لکھا تھا کہ ’میری زندگی جہنم بن چکی ہے۔‘ شرما خاندان کے مطابق اپریل میں اس وقت کشیدگی بڑھی جب ٹوئشا حاملہ ہوئیں۔

ان کا الزام ہے کہ ’ان کے شوہر اور ساس نے ان کے کردار پر سوال اٹھایا اور ان پر کسی اور کے بچے کی ماں بننے کا الزام لگایا اور مئی کے پہلے ہفتے میں انھیں اسقاطِ حمل پر مجبور کیا گیا۔‘

گیریبالا سنگھ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ٹوئشا خود بچوں کی خواہش نہیں رکھتی تھیں اور انھی کے اصرار پر اسقاطِ حمل ہوا۔

ٹوئشا کے والد نونِدھی شرما نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ 12 مئی کی رات، جب ان کی بیٹی کی وفات ہوئی، آخری بار ان سے بات ہوئی جب اُنھوں نے مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات شب نو بج کر 41 منٹ پر وٹس ایپ کال کی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ٹوئشا اپنی والدہ سے بات کر رہی تھیں کہ اچانک لائن منقطع ہو گئی۔‘

اُنھوں نے مزید بتایا کہ اگلے 20 منٹ تک کالز کا کوئی جواب نہیں ملا جس کے بعد گیریبالا سنگھ نے فون اٹھایا اور کہا کہ ’وہ اب نہیں رہیں۔‘

شرما خاندان جس نے سب سے پہلے پولیس کو اپنی بیٹی کی موت کی اطلاع دی نے سوال اٹھایا ہے کہ سسرالی خاندان نے پولیس کو فوری اطلاع کیوں نہیں دی۔

نونِدھی شرما نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ جج کو یقینی طور پر ایسے معاملات کے ضابطوں کا علم ہونا چاہیے۔

گیریبالا سنگھ نے کہا کہ تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ اُنھوں نے ٹوئشا کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانا زیادہ ضروری سمجھا۔

پولیس شکایت میں نامزد سابق جج کو اس بات پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ اُنھوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور میڈیا کو طویل انٹرویوز دیے جن میں اُنھوں نے ٹوئشا کی ذہنی صحت پر بات کی اور انھیں ’لبرل‘ قرار دیا اور جب ایک انٹرویو میں اس اصطلاح کی وضاحت مانگی گئی تو اُنھوں نے ’بے راہ روی‘ کا حوالہ دیا۔

ان کے بیانات پر شدید ردعمل سامنے آیا اور بہت سے لوگوں نے ان کی ضمانت منسوخ کرنے اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

ٹوئشا کے والد کا کہنا ہے کہ ’یہ ان کی بیٹی کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہے۔‘

خاندان نے پولیس کی تحقیقات پر بھی سوال اٹھائے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ تفتیش میں خامیاں ہیں۔

بدھ کو بھوپال کے پولیس کمشنر سنجے کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں، تاہم انہوں نے قتل کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اب تک کی تفتیش کی بنیاد پر یہ خودکشی کا کیس ہے۔‘

ٹوئشا کے والد نے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس تحقیقات دونوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا اور الزام لگایا ہے کہ ’بااثر افراد تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

تاہم پولیس کمشنر کے بیان کو اس کیس میں آخری فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا۔

مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ موہن یادو نے کہا ہے کہ وہ وفاقی پولیس سے تحقیقات کروانے کی درخواست کریں گے اور شرما خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت مکمل تعاون کرے گی۔

نونِدھی شرما کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک ان کی بیٹی کو انصاف نہیں مل جاتا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی کے ساتھ زندگی میں ناانصافی ہوئی، اور اب ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے مرنے کے بعد بھی انصاف نہ ملے۔ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اسے انصاف نہیں مل جاتا۔‘