آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, آبنائے ہرمز میں ٹول لینے کے نظام ہوا تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا: روبیو

امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول (فیس) لینے کا نظام نافذ کرتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔

خلاصہ

  • ایران کا کہنا ہے کہ فی الحال مذاکرات کا مرکز صرف لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر ہے اور میڈیا میں کیے جانے والے دعوے، بشمول افزودہ موادمحض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم لے کر اسے تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
  • امریکی وزیرِ خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے حوالے سے 'کچھ مثبت اشارے' موجود ہیں۔
  • پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ہے۔
  • چین کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف سنیچر یعنی 23 مئی سے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔
  • آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان خیبر پختونخوا میں مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، جن میں مزید 23 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز میں ٹول لینے کے نظام ہوا تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا: روبیو

    امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول (فیس) لینے کا نظام نافذ کرتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔

    روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی اس طرح کے نظام کے حق میں نہیں ہے اور یہ ناقابلِ قبول ہوگا۔

    خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق امریکہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر ایران اس راستے پر چلتا رہا تو یہ نہ صرف معاہدے کو مشکل بنا دے گا بلکہ عالمی سطح پر خطرہ بھی بن جائے گا اور یہ مکمل طور پر غیرقانونی عمل ہوگا۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

    روبیو نے مزید کہا کہ کچھ مثبت اشارے ضرور نظر آ رہے ہیں، لیکن وہ زیادہ پُرامید ہونے سے گریز کر رہے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔

  2. امریکہ پولینڈ میں مزید 5000 فوجی بھیجے گا: ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پولینڈ میں مزید 5000 فوجی بھیجے گا، حالانکہ ایک ہفتہ پہلے پینٹاگون نے وہاں 4000 فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جن کی انھوں نے گذشتہ برس انتخابات میں حمایت کی تھی۔

    امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ اضافی فوجی پہلے والے منصوبے کا حصہ ہیں یا کوئی نیا آپریشن ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس یہ اشارہ دے چکا ہے کہ وہ اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت یورپ میں فوجیوں کی مجموعی تعداد کم کرنا چاہتا ہے۔ اسی مہینے امریکہ نے جرمنی سے 5000 فوجی واپس بلانے کا بھی اعلان کیا تھا، جو ایران کے معاملے پر جرمن چانسلر کے ساتھ اختلاف کے بعد کیا گیا۔

    یہ واضح نہیں کہ پولینڈ بھیجے جانے والے اضافی فوجی جرمنی سے واپس آنے والوں میں سے ہیں یا کوئی الگ دستہ ہے۔

    ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر بھی تنقید کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہے۔

    یہ اعلان اس کے ایک ہفتے بعد آیا جب امریکی محکمہ دفاع نے اچانک پولینڈ میں 4000 فوجیوں کی تعیناتی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ صرف عارضی تاخیر تھی اور امریکہ پولینڈ میں اپنی مضبوط فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔

    پولینڈ کے صدر ناوروکی ٹرمپ کے قریبی حامی مانے جاتے ہیں اور ٹرمپ نے ان کی انتخابی مہم میں بھی حمایت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو روک سکتے ہیں اور یوکرین کی جنگ ختم کرا سکتے ہیں۔

    اگرچہ ٹرمپ پہلے نیٹو اور یورپی ممالک پر تنقید کرتے رہے ہیں، لیکن ناوروکی کا کہنا ہے کہ یورپ کی سلامتی کے لیے امریکہ اب بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    کچھ امریکی سیاستدانوں نے جرمنی سے فوج نکالنے کے فیصلے پر تنقید بھی کی ہے، کیونکہ ان کے مطابق اس سے روس کو غلط پیغام جا سکتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں امریکہ کے 36 ہزار سے زیادہ فوجی تعینات ہیں، جبکہ اٹلی اور برطانیہ میں یہ تعداد نسبتاً کم ہے۔

  3. انڈیا امریکہ کا ’اہم اتحادی اور پارٹنر‘ ہے، یہ دورہ اہم ہے: مارکو روبیو

    انڈیا کے دورے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انڈیا امریکہ کا ’اہم اتحادی اور پارٹنر‘ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا کے ساتھ ’بہت سے معاملات پر کام کرنا ہے۔‘

    مارکو روبیو چار روزہ دورے پر 23 مئی کو انڈیا پہنچ رہے ہیں ان کا دورہ 26 مئی تک جاری رہے گا۔ وہ اس دوران دہلی، جے پور، کولکتہ اور آگرہ کا دورہ کریں گے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا ، ’ہم انھیں (انڈیا کب) اتنی توانائی بیچنا چاہتے ہیں جتنی وہ خریدنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اس وقت پیداوار اور برآمدات کی تاریخی سطح پر ہے۔ ہم اسے مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا، ’اس حوالے سے انڈیا کے ساتھ بات چیت پہلے سے ہی چل رہی تھی اور ہم چاہتے ہیں کہ انڈیا کے توانائی کے پورٹ فولیو میں ہمارا حصہ زیادہ ہو۔‘

    آبنائے ہرمز کے ذریعے مفت نیویگیشن کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران جاری ہے۔ انڈیا بھی واضح طور پر متاثر ہوا ہے، حالانکہ انڈین حکومت مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ملک کے پاس کافی ایندھن موجود ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ان کا آئندہ دورہ انڈیا اہم ہے۔

    روبیو نے کہا، ’انڈیا کے ساتھ بہت سے معاملات پر کام کرنا ہے۔ وہ ایک اہم اتحادی اور پارٹنر ہیں۔ ہم ان کے ساتھ بہت اچھا کام کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ دورہ اہم ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم یہ دورہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہاں ہم کواڈ ممالک کے ساتھ میٹنگ بھی کریں گے۔

  4. کیوبا امریکہ کے لیے خطرہ ہے: مارکو روبیو

    امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ کیوبا امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کے امکانات زیادہ نہیں ہیں۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے ایک دن پہلے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو پر 1996 میں دو طیارے گرانے اور امریکی شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگایا۔

    روبیو نے کہا کہ امریکہ اب بھی مسئلے کا حل سفارتی طریقے سے چاہتا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک کو کسی بھی خطرے سے بچانے کا حق حاصل ہے۔

    دوسری طرف، کیوبا اس وقت ایندھن کی کمی کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔ اس کے باعث وہاں بجلی کی طویل بندش اور خوراک کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

    روبیو نے یہ بھی کہا کہ کیوبا نے امریکہ کی جانب سے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد قبول کر لی ہے۔ اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ مسلسل کیوبا پر دباؤ ڈال رہی ہے اور اس کی کمیونسٹ حکومت کو ختم کرنے کی بات بھی کر رہی ہے۔

    امریکہ کی جانب سے سابق صدر پر مقدمہ چلانے کو کچھ لوگ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی کارروائی سے بھی ملا رہے ہیں۔

    ادھر کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے روبیو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ کیوبا نے کبھی امریکہ کے لیے خطرہ پیدا نہیں کیا۔

    روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری اب بھی ترجیح ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کے امکانات کم ہیں۔

    انھوں نے کیوبا پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ خطے میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جسے کیوبا نے سختی سے رد کر دیا۔

    کیوبا کے وزیر خارجہ نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ فوجی جارحیت کو ہوا دے رہا ہے اور مسلسل ان کے ملک کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے۔

  5. مذاکرات صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہیں اور یورینیئم کے ذخائر پر کوئی بات نہیں ہوئی: ایرانی وزارت خارجہ

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس مرحلے پر مذاکرات کا مرکز صرف لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر ہے‘۔

    انھوں نے واضح کیا کہ جوہری مسائل کے بارے میں میڈیا میں کیے جانے والے دعوے، بشمول افزودہ مواد یا افزودگی کی بحث، محض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں اور ان میں خام خیالی ہے۔‘

    اسماعیل بقائی ان قیاس آرائیوں کا حوالہ دے رہے ہیں جو جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد پیدا ہوئی ہیں۔

    بقائی نے واضح کیا، ’مذاکرات کی تفصیلات کے بارے میں درست معلومات مجاز حکام اور مذاکراتی ٹیم کے ترجمان فراہم کریں گے۔‘

    امریکی صدر نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ’ہمیں یہ مل جائے گا، ہمیں اس کی ضرورت نہیں، ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ ہم اسے حاصل کرنے کے بعد شاید اسے تباہ بھی کر دیں گے، لیکن ہم انھیں حاصل نہیں کرنے دیں گے۔‘

  6. ایران سے افزودہ یورینیئم لے کر تباہ کر دیں گے، جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیئم لے کر اسے تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے پاس موجود یورینیئم کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم وہ (یورینیم) لے لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں وہ نہیں چاہیے، ہم اسے حاصل کرنے کے بعد تباہ کر دیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ افزودہ یورینیئم ایران کے پاس نہیں رہنے دیں گے۔

    امریکی صدر نے اس بات چیت کے دوران اپنے مؤقف دُہرایا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی صورت میں ’آپ مشرقِ وسطیٰ میں ایک جوہری جنگ دیکھیں جو کہ یہاں (امریکہ) آ سکتی ہے، یورپ بھی آ سکتی ہے اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

  7. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • امریکی وزیرِ خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے حوالے سے ’کچھ مثبت اشارے‘ موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستانی حکام کے تہران کے دورے سے پیش رفت میں مدد ملے گی۔
    • پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
    • چین کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف سنیچر یعنی 23 مئی سے بیجنگ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ اہم مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ پاکستان اور چین دونوں مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں میں ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔
    • آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان خیبر پختونخوا میں مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، جن میں مزید 23 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جو سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔
    • متحدہ عرب امارات کے وزیرِ اعظم کے سینیئر مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ ایران کے حالیہ برسوں کے بعض طرزِ عمل کے باعث خلیج فارس کے ممالک کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔
    • خلیج فارس واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک نگرانی زون (سرویلنس ایریا) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اتھارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کے انتظامی اور نگرانی کے علاقے کا تعین کر دیا ہے۔
  8. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید

    جمعرات 21 مئی تک کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں