فوج کے تربیتی کالج میں خواتین پر جنسی حملوں اور ریپ کے مبینہ واقعات: ’مجھے ایسا لگا جیسے میں محض گوشت کا ٹکڑا ہوں‘

    • مصنف, سیما کوتیچا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں جنسی حملوں کی تفصیلات شامل ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں

چار نوجوان خواتین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانیہ میں 13 سے 19 سال تک کی عمر کے نوجوانوں کے لیے قائم ایک فوجی تربیتی کالج میں اُن کے ساتھ جنسی ہراسانی اور جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔

اِن چار میں سے ایک خاتون کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اسی نوعیت کے ایک حملے میں متعدد جونیئر فوجیوں نے اُن کا ریپ کیا۔

ان چاروں خواتین نے گذشتہ پانچ برسوں کے دوران انگلینڈ کے شہر ہیروگیٹ میں واقع آرمی فاؤنڈیشن کالج (اے ایف سی) میں تربیت حاصل کی تھی اور اُن کا کہنا ہے کہ یہ واقعات اُس وقت پیش آئے جب انُ کی عمریں 17 برس کے لگ بھگ تھیں۔

یہ خواتین پہلی بار اس بارے میں بات کر رہی ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ فوجی تربیتی کالج میں خواتین کے خلاف تعصب اور جنسی تشدد کا ایک خطرناک ماحول موجود ہے۔

فوج کے ایک ترجمان نے اس معاملے پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ اطلاعات ’انتہائی افسوسناک اور سنگین‘ ہیں۔

بی بی سی یہ بھی بتا سکتا ہے کہ اطلاعات تک رسائی کے قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران نارتھ یارکشائر پولیس کو اس کالج سے متعلق جنسی جرائم کی 16 شکایات موصول ہوئیں۔

رپورٹ کیے گئے ان جرائم میں اعضا کی نمائش، جنسی حرکات اور اعضا کے نظارے سے جنسی تسکین حاصل کرنے اور جنسی حملوں کے الزامات شامل تھے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ان شکایات کے نتیجے میں کسی کے خلاف مقدمہ چلایا گیا یا نہیں۔

برطانیہ کی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2018 سے جون 2025 کے درمیان کالج میں نامناسب جنسی رویے سے متعلق مجموعی طور پر 176 شکایات درج کی گئیں۔

ان میں سے 32 الزامات کالج کے مستقل عملے کے ارکان کے خلاف جبکہ 144 جونیئر سپاہیوں کے خلاف تھے۔

فوج کے ترجمان نے کہا: ’ناقابلِ قبول اور مجرمانہ رویے کی ہماری مسلح افواج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لوگ ایک بہترین پیشہ ورانہ زندگی کی امید کے ساتھ فوج میں شامل ہوتے ہیں اور اس نوعیت کی کوئی بھی رپورٹ ناقابلِ قبول ہے اور فوج جن اقدار کی نمائندگی کرتی ہے، ان کے مکمل طور پر منافی ہے۔‘

آرمی فاؤنڈیشن کالج (اے ایف سی) برطانیہ میں 19 برس سے کم عمر افراد کے لیے سب سے بڑا فوجی تربیتی ادارہ ہے اور اس کا مقصد فوج میں 16 سال کی عمر میں بھرتی ہونے والے تمام نوجوانوں کو تربیت فراہم کرتا ہے۔ اس وقت ہیروگیٹ میں واقع اس کالج میں 889 جونیئر فوجیوں میں 70 خواتین بھی شامل ہیں۔

شناخت محفوظ رکھنے کے لیے اِن سب خواتین کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

’مجھے ایسا لگا جیسے میں محض گوشت کا ٹکڑا ہوں‘

ٹلی بچپن ہی سے فوجی بننا چاہتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے چیلنجز کا سامنا کرنا پسند تھا اور غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین ہمیشہ مجھے متاثر کرتی تھیں۔ میں ایکشن فلمیں بھی بہت شوق سے دیکھتی تھی۔‘

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا خواب اس وقت ٹوٹ کر بکھر گیا جب آرمی فاؤنڈیشن کالج میں متعدد ساتھی فوجیوں نے اُن کا ریپ کیا۔

ٹلی یاد کرتی ہیں کہ ’انھوں نے کہا کیا آپ کمرے میں آنا چاہیں گی؟ میں اُس وقت 17 سال کی ایک سادہ لوح لڑکی تھی، میں نے کہہ دیا کہ ٹھیک ہے۔‘

’انھوں نے میرے کپڑے اُتارنے شروع کر دیے اور پھر وہ کام کرنے لگے جس کی میں نے رضا مندی نہیں دی تھی۔ وہ بہت زیادہ تھے۔ انھوں نے مجھے جگہ جگہ چھوا، نامناسب تبصرے کیے، مجھے لڑکی کے بجائے ایک چیز کے طور پر مخاطب کیا۔‘

’اور پھر میرا ریپ کیا گیا، متعدد جونیئر فوجیوں نے، جو میری ہی عمر کے تھے۔ یہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ مجھے ایسے لگا جیسے میں صرف ایک گوشت کا ٹکڑا ہوں۔‘

اس حملے کے دو ہفتے بعد ٹلی نے فوج چھوڑ دی تھی۔

وہ کہتی ہیں: ’میں وہاں مزید نہیں رہ سکتی تھی۔ میں نے اپنی والدہ سے بات کی اور انھوں نے کہا کہ مجھے وہاں سے نکل آنا چاہیے۔‘

ٹلی کے مطابق ’میری شناخت ایسی لڑکی کے طور پر بنتی جس نے بہت سے لوگوں سے سیکس کیا اور پوری پیشہ ورانہ زندگی میں یہ بات میری شناخت کا حصہ بنی رہتی۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیں تھی۔‘

بی بی سی سمجھتا ہے کہ ٹلی نے مبینہ واقعے کی اطلاع پولیس کو دی تھی، تاہم کسی شخص پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ اس کی ایک وجہ وہ تھی جسے بعد میں کراؤن پراسیکیوشن سروس نے پولیس کی ’مکمل طور پر ناقص‘ تفتیش قرار دیا۔

ٹلی اور نارتھ یارکشائر پولیس کے درمیان مالی تصفیہ طے پایا، تاہم پولیس فورس نے کسی ذمہ داری کا اعتراف نہیں کیا۔

جن دیگر دو خواتین سے بی بی سی نے بات کی، وہ بھی پولیس کے پاس گئی تھیں، لیکن اُن کی شناخت کے تحفظ کے لیے تحقیقات کی تفصیلات شائع نہیں کی جا رہیں۔

ایک دوسری خاتون مونیکا کا کہنا ہے کہ ایک ساتھی فوجی اہلکار نے انھیں ایک کمرے میں روک لیا اور ان پر حملہ کیا۔

مونیکا کہتی ہیں کہ ’وہ دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے، جس کی وجہ سے میں باہر نہیں جا سکتی تھی۔ پھر انھوں نے زبردستی مجھے بھینچ لیا، میرا چہرہ چومنے لگے اور میرے پورے جسم کو چھونے لگے۔ انھوں نے مجھ پر جنسی حملہ کیا۔‘

’میں کسی طرح خود کو چھڑانے میں کامیاب ہو گئی۔ مجھے نہیں معلوم میں نے یہ کیسے کیا، کیونکہ وہ جسمانی طور پر مجھ سے کہیں زیادہ طاقتور تھے۔‘

مونیکا کو بعد میں ایک غیر متعلقہ طبی وجہ کی بنا پر کالج سے فارغ کر دیا گیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جن حالات سے وہ گزریں، ان کے بعد یہ ان کے لیے کسی حد تک باعثِ اطمینان تھا۔

تیسری خاتون کی کہانی ان کی والدہ شیرل نے بی بی سی کو سُنائی ہے۔

شیریل کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی ایمی ایک جنسی حملے کا نشانہ بنیں اور تربیت کے دوران انھیں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

شیرل کے مطابق ایمی کے کمرے کا لاک خراب تھا، جس کے وجہ سے ’وہ مرد فوجیوں کو اندر آنے سے روکنے کے لیے دروازے کے پاس ہی سوتی تھیں۔‘

شیرل نے کہا کہ کالج میں بھرتی کرتے وقت اُن کی بیٹی کو ’ایک خواب بیچا گیا تھا‘ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔

بی بی سی سے بات کرنے والی چوتھی خاتون کا کہنا ہے کہ اے ایف سی کے عملے کے خواتین کے خلاف متعصبانہ رویے اور طرز عمل کا بعض نوجوانوں پر کیا اثر پڑا۔

ایلی کے مطابق اے ایف سی میں انھیں جنسی حملوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ یاد کرتی ہیں کہ کالج میں اپنے پہلے ہفتے کے دوران نئے بھرتی ہونے والوں کے ایک گروہ کے سامنے ایک انسٹرکٹر نے کہا تھا: ’یہ صرف خواتین کے ساتھ سیکس کرنے کے بارے میں ہے اور اس بارے میں ہے کہ آپ کتنی خواتین کے ساتھ کر سکتے ہیں۔‘

ایلی کا کہنا ہے کہ بعض انسٹرکٹر لڑکیوں کی ظاہری شکل کو 10 میں سے نمبر بھی دیا کرتے تھے۔ اُن کے بقول، ’وہ دروازہ کھٹکھٹائے بغیر ہمارے ہاسٹل کے کمروں میں داخل ہو جاتے تھے اور بعض اوقات ہم صرف زیرِ جامہ میں کھڑی ہوتیں تو وہ بس ہمیں گھورتے رہتے۔‘

ایلی کا کہنا ہے کہ وہ انفینٹری میں شامل ہونے کے لیے بےحد پُرجوش تھیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتی تھی اور فوجی بننے کا مطلب یہ تھا کہ جنگ کے وقت میں ایسا کر سکتی تھی۔ فوج میں جانا میرے لیے ایک موزوں راستہ محسوس ہوتا تھا۔‘

تاہم ایلی کا کہنا ہے کہ اے ایف سی میں پیش آنے والے واقعات نے انھیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا کہ فوج میں پیشہ ورانہ زندگی ان کے لیے نہیں ہے۔

فوج نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم آرمی فاؤنڈیشن کالج میں ناقابلِ قبول یا مجرمانہ رویے کا سامنا کرنے یا ایسے رویے کا مشاہدہ کرنے والے ہر شخص کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آگے آئے اور اس کی اطلاع دے۔‘

فوج نے تسلیم کیا کہ ایسا کرنا مشکل ہو سکتا ہے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی معاونت کے لیے کئی اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں، جن میں ڈیفنس سیریس کرائم کمانڈ بھی شامل ہے، جو فوج کی کمان سے باہر رہتے ہوئے انصاف کے عمل کے دوران خصوصی معاونت فراہم کرتی ہے۔

’کیا آپ نے اُس لڑکی کے بارے میں سُنا ہے؟‘

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران اے ایف سی کے کئی بالغ انسٹرکٹر فوجی عدالتوں سے جسمانی اور جنسی تشدد کے جرائم میں سزا پا چکے ہیں، جن میں کارپورل ڈینیئل کانوے اور کارپورل سائمن بارٹرم بھی شامل ہیں۔

کانوے نے اس وقت ایک ساتھی اہلکار کا ریپ کیا تھا جب وہ سو رہی تھیں اور سنہ 2023 میں انھیں اس جرم میں سات سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اُسی سال بارٹرم کو بھی جنسی حملے کا مجرم قرار دیا گیا اور انھیں 20 ماہ کے لیے فوجی حراست کی سزا دی گئی۔

ہماری تحقیقات میں شامل کوئی بھی الزام ان انسٹرکٹرز سے متعلق نہیں، تاہم ان چار خواتین کا کہنا ہے کہ ان سزاؤں سے کالج کے ماحول کے بارے میں سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔

ٹلی کا ماننا ہے کہ بعض مرد انسٹرکٹر خواتین کے بارے میں امتیازی اور توہین آمیز رویوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

ٹلی بتاتی ہیں کہ جب ان کا ریپ کیا گیا تو انھوں نے ایک انسٹرکٹر کو کہتے سنا: ’کیا آپ نے اس لڑکی کے بارے میں سنا ہے جس نے ان تمام لڑکوں سے سیکس کیا؟‘

ٹلی کے مطابق ’کسی انسٹرکٹر کی جانب سے اس طرح کی بات کرنا بالکل غلط ہے۔ اس سے خواتین کے بارے میں غلط پیغام جاتا ہے اور لڑکوں میں یہ سوچ پروان چڑھتی ہے کہ خواتین صرف اسی مقصد کے لیے ہوتی ہیں۔‘

شیرل کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی ایمی نے بھی بتایا کہ کالج کے عملے نے انھیں خواتین کے خلاف متعصبانہ جملوں کا نشانہ بنایا۔

’وہ راہداری میں قطار میں کھڑی ہوتیں تو بعض انسٹرکٹر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں ایسی خاتون قرار دیتے جس کے بہت سے مردوں سے تعلقات ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول لوگوں کا ایمی کی طرف متوجہ ہونا خود ایمی کی غلطی تھی۔‘

’انھیں بتایا گیا کہ ہر سال ایک ایسی لڑکی ہوتی ہے جس میں [بھرتی ہونے والے مرد فوجی] خاص دلچسپی لیتے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ اس سال وہ لڑکی آپ ہیں۔‘

’اس بات نے میرا دل توڑ دیا، کیونکہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ابھی صرف ایک بچی تھیں۔‘

برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمان ایما لیویل، جو پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کی رکن بھی ہیں، کہتی ہیں کہ اس بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھائے جانے چاہییں کہ آیا اس کالج کو کام جاری رکھنا چاہیے یا نہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’اگر یہ معاملہ کسی اور ادارے میں پیش آیا ہوتا تو اب تک اسے بند کر دیا گیا ہوتا، یا پھر کوئی (فرد یا ادارہ) وہاں جا کر تفصیلی طور پر جائزہ لے رہا ہوتا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔‘

’فوری طور پر اس کالج کے بارے میں ایک آزادانہ تحقیق ہونی چاہیے، جس کی قیادت تحفظ کے شعبے میں نمایاں تجربہ رکھنے والا کوئی شخص کرے، اور اسے وہاں موجود بچوں سے بات کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو۔‘

برطانوی حکومت 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو بچہ قرار دیتی ہے۔

فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوری 2026 میں بچوں کے کمشنر کے دفتر اور تحفظ سے متعلق حکام نے اے ایف سی کا دورہ کیا تھا اور ’نگہداشت کے کلچر اور خدشات سامنے لانے کے لیے جونیئر اہلکاروں کے اعتماد‘ کو تسلیم کیا تھا۔

فوج نے مزید کہا کہ کالج کے ’نظم و ضبط کے سخت نظام‘ کو تعلیمی اداروں کے نگران ادارے آف سٹیڈ نے ’غیر معمولی‘ کا درجہ دیا ہے۔ آف سٹیڈ ہر تین سال بعد اس کالج کا معائنہ کرتا ہے۔

’بچوں کے خلاف جنسی ہراسانی اور تشدد‘

اے ایف سی سے متعلق یہ الزامات مسلح افواج میں خواتین کی حفاظت کے حوالے سے دیرینہ اور وسیع تر خدشات کا حصہ ہیں۔

سنہ 2021 میں ارکانِ پارلیمان کی جانب سے کیے گئے ایک جائزے میں 18 سال سے کم عمر افراد کے ریپ، جنسی استحصال اور خواتین پر حملوں سے پہلے انھیں نشہ آور ادویات دینے کے واقعات رپورٹ کیے گئے تھے۔

سابق رکنِ پارلیمان سارہ ایتھرٹن کی سربراہی میں تیار ہونے والی اس رپورٹ، جو عام طور پر ’ایتھرٹن رپورٹ‘ کہلاتی ہے، میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ فوج کے شکایات کے نظام میں سنگین خامیوں کے باعث خواتین کو انصاف نہیں دیا جا رہا۔

سابق فوجی اہلکاروں کو قانونی معاونت فراہم کرنے والے ادارے سینٹر فار ملٹری جسٹس کی وکیل ایما نورٹن کہتی ہیں کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود ’اب بھی انتہائی سنجیدہ خدشات موجود ہیں، جیسا کہ اے ایف سی میں ان لڑکیوں کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے۔‘

ان کے بقول: ’یہ مضبوط خواتین ہیں۔ وہ یہ توقع رکھتی ہیں کہ ان کے ساتھ سخت برتاؤ کیا جائے گا۔ لہذا یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ لوگ ایسی چیزوں کے بارے میں شکایات کر رہے ہیں جس سے آپ کو اور مجھے مشکل ہو۔‘

ایما نورٹن کا کہنا ہے: ’ہم مسلسل جنسی ہراسانی اور نہایت سنگین نوعیت کے جنسی تشدد کی بات کر رہے ہیں، جن میں بعض تو بچوں کے خلاف کیے جاتے ہیں، لہذا فوج کے لیے اس سے زیادہ سنگین معاملہ شاید ہی کوئی ہو۔‘

گذشتہ سال ایک سابق فوجی سارجنٹ میجر کو 19 سالہ خاتون فوجی پر جنسی حملے کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں اس خاتون فوجی نے اپنی جان لے لی تھی۔

43 سالہ وارنٹ آفیسر مائیکل ویبر پر الزام ثابت ہوا تھا کہ جولائی 2021 میں انھوں نے رائل آرٹلری کی گنر جیزلے بیک کو دبوچا اور انھیں چومنے کی کوشش کی۔ جیزلے بیک پانچ ماہ بعد ولٹ شائر کے علاقے لارکھل میں واقع اپنی بیرک میں مردہ پائی گئی تھیں۔

ان کی موت سے متعلق تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جنسی حملے اور اس کے بعد فوج کی جانب سے مناسب کارروائی نہ کرنے نے ان کی خودکشی میں 'محض معمولی سے زیادہ' کردار ادا کیا۔

وزارتِ دفاع کی گذشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلح افواج میں شامل 67 فیصد خواتین نے 12 ماہ کے دوران کم از کم ایک بار جنسی نوعیت کے رویے کا سامنا کرنے کی اطلاع دی، جبکہ مردوں میں یہ شرح 34 فیصد تھی۔

اور اسی سال کے اوائل میں وزارتِ دفاع کی ایک داخلی رپورٹ، جس میں فوجی تربیتی اداروں اور ناقابلِ قبول رویوں کا جائزہ لیا گیا تھا، میں کہا گیا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی قیادت کو ایسا ماحول نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے اب بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں سب کو یکساں طور پر شامل اور قبول کیا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا: ’بعض زیر تربیت خواتین کا کہنا تھا کہ انھیں یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ وہ یہاں مطلوب نہیں ہیں، کیونکہ خواتین کو بہت زیادہ مسئلہ پیدا کرنے والی سمجھا جاتا تھا۔‘

رپورٹ میں یہ تشویش بھی ظاہر کی گئی کہ کچھ زیر تربیت نوجوان خواتین اتنا اعتماد نہیں رکھتیں کہ نا مناسب جنسی رویوں یا خواتین کے خلاف تعصب کی شکایت کر سکیں یا اس کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔

فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ اے ایف سی بھرتی ہونے والے تمام افراد کے لیے ایک پیشہ ورانہ، معاونت پر مبنی اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے، اور ’اس کے برعکس کوئی بھی تاثر ہماری ان اقدار سے متصادم ہے جن کی بنیاد احترام اور شمولیت پر ہے۔‘

ٹلی اب مسلح افواج سے الگ ہو چکی ہیں اور زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم اے ایف سی میں گزارا گیا مختصر عرصہ اب بھی ان پر گہرا اثر رکھتا ہے۔