آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گلگت بلتستان کے دریاؤں سے سونا نکالنے کی دوڑ میں مصروف دیوہیکل مشینوں کو خطرہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
پاکستان کے زیرِانتظام خطے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے باقر حسین کی زندگی کا دارومدار باغات اور کھیتی باڑی پر ہے، مگر گذشتہ کچھ عرصے سے دریائے سندھ کے کنارے پر واقع اُن کی زرعی زمین تیزی سے دریا برد ہو رہی ہے۔
باقر ضلع ہنزہ کے تحصیل ناصر آباد کے علاقے ’شینا‘ کے رہائشی ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ جب سے دریائے سندھ کے کناروں پر دریائی مٹی سے سونا نکالنے کے کاروبار سے منسلک افراد کی جانب سے بھاری (ہیوی) مشینیں لگائی گئی ہیں تب سے زمین کے کٹاؤ میں واضح تیزی آئی ہے۔
باقر کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی زیر کاشت زمین کی حد متعین کرنے کی غرض سے جو پتھر لگا رکھے تھے (یعنی باؤنڈری) وہ جگہ اب دریا بُرد ہو چکی ہے۔ باقر بتاتے ہیں کہ ’اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دریائے سندھ کا پانی روزانہ ہی اُن کی زمین کا کچھ نہ کچھ حصہ بہا کر ساتھ لے جا رہا ہے۔‘
باقر کے مطابق یہ صورتحال اُن کے لیے زیادہ پریشان کُن اس لیے بھی ہے کیونکہ اُن کی روزمرہ زندگی کا دارومدار اسی زمین پر ہونے والی کاشت سے ہے۔ ’میں نے متعلقہ اداروں کو درخواستیں بھی دی ہیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔‘
اگر تحصیل ناصر آباد کے علاقے شینا کی بات کی جائے تو یہاں کے رہائشیوں کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔
اُن کے مطابق جب سے سونے کی تلاش کی غرض سے دریائے سندھ کے کناروں پر ہیوی مشینری کی تعداد بڑھی ہے تب سے اُن کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔
اور اب صورتحال یہ ہے کہ شینا کی پوری آبادی مقامی ویلیج کونسل کی سربراہی میں دریائے سندھ کے کنارے ہونے والی سونے کی مائننگ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
ویلیج کونسل کے صدر ممتاز علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے باعث اب تک مقامی افراد کی کم از کم 40 کنال قابل کاشت زمین دریا برد ہو چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کا دعویٰ ہے کہ سونا نکالنے کے لیے دریائے سندھ کے قدرتی کناروں کو جگہ جگہ کھود کر گہرے گڑھوں اور جھیلوں جیسی شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ممتاز علی کے مطابق یہ احتجاج صرف شینا تک محدود نہیں بلکہ ضلع نگر میں بھی دریائے سندھ کے کنارے آباد رہائشی سونے کی مائننگ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران دریائے سندھ کے کناروں سے روایتی طریقوں (ہیوی مشینری کا استعمال کیے بغیر) سے سونا نکالنے کے بجائے بھاری مشینری سے یہ کام کیا جا رہا ہے اور جیسے جیسے ان مشینوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ویسے ویسے مقامی افراد کے مسائل بھی۔
گلگت بلتستان کے محکمہ معدنیات کے مطابق تاحال کم از کم سونے کی مائننگ کے 77 لیز ایگریمنٹ (معاہدے) جاری کیے جا چکے ہیں۔ محکمے کے مطابق اُن میں پانچ لیز ایگریمنٹ غیر ملکی کمپنیوں کو دیے گئے ہیں جبکہ دیگر کمپنیاں مقامی ہیں۔
گلگت بلتستان کے محکمہ معدنیات کے ڈائریکٹر جنرل محمد زبیر کے مطابق قانونی معاہدوں کے علاوہ سونے کی غیر قانونی مائنگ بھی ہو رہی ہے، جس کے بارے میں حکومت اور تمام محکمے مل کر پالیسی بنا رہے ہیں۔
’جینے کا حق دیا جائے‘
گلگت بلتستان میں انسانی حقوق اور ماحولیات کے کارکن بابا جان کہتے ہیں کہ ’ہم کچھ نہیں مانگتے۔ صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جینے کا حق دیا جائے۔ گلگت بلتستان ماحولیاتی لحاظ سے حساس خطہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت بڑھنے سے پہلے ہی مسائل ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اب اگر بڑی مشنیوں کے ذریعے سے سونے مائنگ کی جائے گی تو پھر مقامی لوگوں کے لیے تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا ہے۔‘
اُن کا دعوی تھا کہ گلگت بلتستان میں کچھ عرصہ پہلے تک دریا میں سے سونے کی مائنگ کی باقاعدہ اجازت نہیں تھی، مگر جب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اس عمل پر پابندیاں لگائی گئیں اور غیر قانونی مائنگ کے خلاف آپریشن ہوئے تو ’اس کے بعد سے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے مشینوں کا انبار گلگت بلتستان میں دریا کے کناروں پر امڈ آیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پہلے سونے وال قبائل (وہ قبائل جو دہائیوں سے روایتی طریقے سے دریائی مٹی سے سونا نکالتے ہیں) ہاتھ سے یہ کام کرتے تھے۔ وہ لوگ صرف بیلچہ اور گنتی (کھدائی کے لیے ہاتھوں کی مدد سے استعمال ہونے والا آلہ) استعمال کرتے تھے جس سے ماحول کو نقصان نہ ہونے کے برابر تھا مگر اب تو تباہی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے سوال کیا کہ ’اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پابندیاں اور سختی ہے، تو گلگت بلتستان میں اس کی اجازت کیوں دی گئی ہے؟‘
انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے اندر ماحولیاتی نقصانات دیکھ کر مقامی کمیونیٹز اس کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔
’ہنزہ میں شمشال کے علاقے میں مقامی لوگوں نے احتجاج کرکے یہ مائنگ بند کروائی ہے۔ ایسا مختلف علاقوں میں ہو رہا ہے۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جتنے کا حق دیا جائے اور ماحولیاتی طور پر حساس خطے کو تباہ نہ کیا جائے۔‘
بنجی میں اہم پُلوں کے نزدیک مائننگ
اس صورتحال کے باعث صرف مقامی آبادی ہی شکایت نہیں کر رہی ہے بلکہ گلگت بلتستان حکومت کے ادارے بھی اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے مختلف سرکاری ادارے بھی بھاری مشینری کے ذریعے ہونے والی مائننگ کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں حکومت کو خبردار کر رہے ہیں۔
خطے کے سرکاری محکموں نے اس صورتحال کے باعث دریا کے کناروں پر کٹاؤ، دریائے سندھ پر واقع پُلوں کی بنیادوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان، دریا کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی، ڈیموں میں مٹی اور ریت کے جمع ہونے اور گلیشیئرز، جنگلات، قومی پارکس اور جنگلی حیات کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
گذشتہ سال 27 جون کو ضلع استور کے علاقے بنجی کے نائب تحصیلدار کی جانب سے حکام بالا کو دریائے سندھ کے کنارے پر ہونے والی مائننگ کے بارے میں ایک خصوصی رپورٹ بھیجی گئی ہے۔
یہ رپورٹ مقامی افراد کی جانب سے انتظامیہ کو دی جانے والی درخواستوں کے بعد سائٹ کے معائنے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دریائے سندھ کے کنارے پر بھاری مشینری کے ذریعے بڑے پیمانے پر کھدائی کی جا رہی ہے جس کے باعث دریا کے کنارے مسلسل کٹاؤ کا شکار ہو رہے ہیں اور اس کھدائی کے باعث تین قریبی پلوں بشمول ’بنجی سسپینشن بریج‘ کی بنیادوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس رپورٹ میں پُلوں سے تقریباً 300 فٹ کے اندر جاری تمام کھدائی فوری طور پر بند کرانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
اس رپورٹ کے تناظر میں ڈپٹی کمشنر استور نے بنجی آر سی سی پل، بنجی معلق پل اور تھلاچی آر سی سی پل کے 300 فٹ کے دائرے میں تمام کھدائی اور مائننگ کی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
لیکن اس رپورٹ کے تقریباً ایک ماہ بعد گلگت بلتستان کے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی اسی معاملے پر ایک اور رپورٹ سامنے آئی جس میں سپرنٹنڈنگ انجینئر دیامر نے اپنے اعلیٰ افسر کو خط لکھا۔ اس خط کے مطابق محکمہ نے 15 سے 18 جولائی کے دوران ضلع استور کا دورہ کیا اور مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔
اس خط میں سرکاری حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ’بنجی پُل سے تقریباً 250 فٹ کے فاصلے پر چینی کمپنی کی جانب سے مائننگ کی جا رہی ہے اور مائننگ سے نکلنے والا ملبہ دریائے سندھ میں ڈالنے سے دریا کے پانی کا بہاؤ متاثر ہو رہا تھا۔‘
اس رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ پانی کے بہاؤ اور کٹاؤ سے پُل کی دوسری جانب موجود ستون کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی خط میں مائننگ کمپنی کو دیے گئے این او سی کو منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ کے کنارے اور دریا کے پاٹ میں بھاری مشینری، ہائیڈرولک مشینوں، ہیوی ڈمپرز اور دیگر آلات کے ذریعے بڑی مقدار میں مائننگ کی جا رہی ہے۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات نے اپنی رپورٹ میں بنجی آر سی سی پل، تھلاچی پل اور بنجی معلق پُل کو فوری اور سنگین خطرات سے دوچار قرار دیا۔
یاد رہے کہ یہ پُل مقامی آبادی کے ساتھ اہم تجارتی راستوں، ہنگامی امدادی خدمات اور نادرن لائٹ انفنٹری کی نقل و حرکت کے لیے بھی اہم ہیں۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات نے مائننگ فوری بند کرانے، مائننگ کی جگہیں سیل کرنے اور متعلقہ اداروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی بنانے کی سفارش بھی کی۔
بنجی میں پلوں کے حوالے سے سرکاری خدشات کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ میں مائننگ کے اثرات کے بارے میں واپڈا نے بھی خبردار کیا ہے۔
30 اپریل 2026 کو واپڈا کے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے جنرل منیجر اور منصوبے کے ڈائریکٹر نے گلگت بلتستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کو خط لکھا کہ چلاس کے قریب بسری سے رائیکوٹ کے درمیان دریائے سندھ کے پاٹ میں بڑے پیمانے پر سونے کی مائننگ جاری ہے اور یہ علاقہ مجوزہ دیامر بھاشا ڈیم کے ذخیرہ آب میں شامل ہے۔
واپڈا نے اپنے خط میں کہا کہ مائننگ سے دریائے سندھ کا قدرتی پاٹ متاثر ہو رہا ہے اور دریا کے ساتھ بہہ کر آنے والی مٹی اور ریت کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس اضافی مٹی اور ریت کے زیریں علاقوں میں موجود منصوبوں، خصوصاً تربیلا ڈیم کے ذخیرہ آب تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
واپڈا نے خبردار کیا تھا کہ اس سے آبی ذخائر میں پانی رکھنے کی گنجائش کم ہو سکتی ہے، بجلی پیدا کرنے والی مشینوں کی کارکردگی اور عمر متاثر ہو سکتی ہے اور بڑے قومی آبی منصوبوں کی مجموعی عمر بھی کم ہو سکتی ہے۔
یعنی بنجی میں مائننگ سے پیدا ہونے والا مسئلہ صرف ایک پُل کے قریب دریا کے بہاؤ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سرکاری ریکارڈ میں اس کے ممکنہ اثرات دریائے سندھ کے بہاؤ کے ساتھ زیریں علاقوں کے بڑے آبی منصوبوں تک جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
گلگت بلتستان کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) نے اس مائننگ کے اثرات کے بارے میں اس سے بھی زیادہ وسیع خدشات ظاہر کیے ہیں۔
محکمہ ماحولیات گلگت بلتستان کے مطابق خطے میں معدنیات کی تلاش اور مائننگ کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ حساس علاقوں میں مکمل زمینی اور ماحولیاتی جائزے اور مؤثر حفاظتی اقدامات کے بغیر مائننگ سنگین اور ممکنہ طور پر ناقابلِ تلافی ماحولیاتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
ایجنسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان پہلے ہی گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے، سیلاب، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں، دریائی کناروں کے کٹاؤ اور پہاڑی ڈھلوانوں کے غیر مستحکم ہونے جیسے خطرات سے دوچار ہے اور مائننگ، دھماکوں، سڑکوں کی تعمیر اور جنگلات و نباتات کی صفائی سے یہ خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ای پی اے نے دریاؤں کے کناروں پر ہونے والی سونے کی مائننگ کی بھی نشاندہی کی ہے۔
ایجنسی کے مطابق بے دریغ کھدائی، دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی اور کھدائی سے نکلنے والی مٹی اور پتھر دوبارہ دریاؤں میں ڈالنے سے دریائی ماحولیاتی نظام متاثر ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں کٹاؤ بڑھ سکتا ہے، قدرتی نکاسی آب متاثر ہو سکتی ہے، ملبے سے عارضی جھیلیں بن سکتی ہیں اور زیریں علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ای پی اے کے مطابق مائننگ سے پیدا ہونے والی مٹی اور ریت آبی ذخائر میں جمع ہو کر ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور بڑے پن بجلی منصوبوں کی عمر کو متاثر کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ انہی خدشات کی نشاندہی واپڈا اور دیامر بھاشا ڈیم انتظامیہ نے بھی اپنے مراسلات میں کی ہے۔
ای پی اے کے مطابق محکمہ معدنیات اور ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کو نگرانی کی محدود صلاحیت، لاجسٹک وسائل کی کمی اور افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث دشوار گزار اور جغرافیائی طور پر پیچیدہ علاقوں میں جاری مائننگ کی مؤثر نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد کے لیے موجودہ وسائل کافی نہیں۔
حکومت کا کیا کہنا ہے؟
گلگت بلتستان کے وزیر ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات راجہ ناصر نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان خدشات سے آگاہ ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ ایک منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایک میکانزم (طریقہ کار) اور اتھارٹی بنائی جا رہی ہے۔ جس میں تمام سٹیک ہولڈ، بشمول مائننگ میں سرمایہ کاری کرنے، شامل ہوں گے اور صرف اُن جگہوں پر مشنیوں کے ذریعے سے سونے کی مائنگ کی اجازت دی جائے گی جس سے دریا کو نقصاں نہ پہنچے، کناروں کا کٹاو نہ ہو، مقامی آبادیوں کا تحفظ ہو اور انفراسٹریکچر کو نقصان نہ پہنچے۔‘
انھوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر اس ضمن میں تجویز کابینہ کے پہلے اجلاس میں پیش کر دی جائے گی۔
راجہ ناصر کا کہنا تھا کہ آئندہ مشنیوں کے ذریعے سونے کی مائنگ کی اجازت صرف اُن ہی مقامات پر ہو گی جہاں پر اس سے کسی کو نقصان کا خدشہ نہ ہو۔
’ہمارے لیے سب سے ضروری چیز انسانی جان و مال اور ماحولیات کا تحفظ ہے۔ گلگت بلتستان کا ماحول پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کی شدید زد میں ہے اور موجودہ حکومت اس کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات کو اپنی ترجیح قرار دیتی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ سے سونے کی مائنگ کرنے والے سونے والا قبائل کو بھی اس میں جگہ دینا ہو گی کیونکہ وہ ایک بہتر آپشن ہے اور اس حوالے سے بھی تجاویز موجود ہیں۔
انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چونکہ یہ معاملہ حال ہی میں بننے والی گلگت بلتستان کی نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اسی لیے آنے والے دنوں میں بہت بہتری ہو گی۔
انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مقامی افراد کی یہ شکایات درست ہیں کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران دریائے سندھ کے کناروں پر مشینوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کے سدباب کی کوششیں کی جائیں گی۔