بدھ مت کے’مقدس ترین مقام‘ کا تنازع: ’جہاں مہاتما بُدھ نے روحانی علم حاصل کیا، وہاں ہندو کیا کر رہے ہیں‘

مندر
،تصویر کا کیپشنریاست بہار میں واقع 'مہا بودھی' مندر مذہبی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، بودھ گیا، بہار
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا کی ریاست بہار میں واقع ’مہا بودھی‘ مندر پوری دنیا میں بُدھ مت کے ماننے والوں کے لیے ایک مقدس ترین مقام ہے۔ بدھ تعلیمات کے مطابق یہیں پر مہاتما بدھ نے روحانی علم حاصل کیا تھا اور یہیں پر بُدھ مت کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

لیکن آج کل بُدھ مت کے ماننے والوں کا یہ مقدس مقام ایک تنازع کی گرفت میں ہے۔ اس مندر کا انتظام ایک ایسی کمیٹی کے ہاتھ میں ہے جس میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔

انڈیا میں بُدھ مت کے پیروکار اِس مندر کا انتظامی اختیار ہندوؤں سے لے کر مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ مگر دوسری جانب مہاتما بدھ کے مہا بودھی مندر پر ہندوؤں کا بھی دعویٰ ہے۔

اور اسی مطالبے کو لے کر انڈیا میں بدھ مت کے ہزاروں پیروکار پورے ملک میں مظاہرے کر رہے ہیں۔

بہت سے لوگ مہا بودھی مندر سے کچھ دور گذشتہ ڈیڑھ برس سے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اُن کا مطالبہ ہے کہ سنہ 1949 کا ’بدھ گیا ایکٹ‘ ( بی ٹی اے) کالعدم قرار دیا جائے اور اِس مندر کا مکمل انتظامی اختیار اُن کے ہاتھوں میں دیا جائے۔

سنہ 1949 کے بی ٹی اے قانون کے تحت مہا بودھی مندر کا انتظام سنبھالنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی، جس میں چار ارکان بدھ مت کے ماننے والے اور چار ارکان ہندو ہوتے ہیں۔

اس کی سربراہی ضلعی مجسٹریٹ کرتے ہیں، جو عمومآ ہندو ہی ہوتے ہیں۔ یہ ارکان حکومت کے ذریعے نامزد کیے جاتے ہیں اور ان کی مدت تین برس ہوتی ہے۔ اس طرح اس کمیٹی میں اکثریت ہمیشہ ہندوؤں کی ہوتی ہے۔

بھنتے پرگیہ شیل اس کمیٹی کی سکریٹری رہ چکے ہیں اور وہ آٹھ برس تک اس مندر کے چیف بھکشو بھی تعینات رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کہ بودھی وہار بدھ مت کے پیروکاروں کی وراثت ہے۔

’پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ مقام بدھ مت کے ماننے والوں کا ہے۔ ابھی تک کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ یہ بدھ مت کے پیروکاروں کا مندر نہیں ہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس کا انتظام بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاتھ میں ہو۔‘

بھنتے پرگیہ شیل مزید کہتے ہیں کہ ’جو بھی ایماندار وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم ہو گا، اسے آئین کے مطابق انصاف کرنا ہو گا، جس کی چیز ہے اسے دینا پڑے گی ۔ آج دیں، کل ديں یا پرسوں دیں، لیکن انھیں دینا پڑا پڑے گا۔ یہ بے ایمانی نہیں چلے گی۔‘

اس مندر کی تاریخ کتنی پرانی ہے؟

Getty Images
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے تقریباً 100 کلو میٹر دور واقع یہ مندر پانچویں اور چھٹی صدی میں تعمیر ہوا تھا اور مختلف راجاؤں کے دور میں اس کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی ہے۔

یہاں موجود کئی سٹوپا اور بدھ مندر شہنشاہ اشوک کے عہد میں تیسری قبل مسیح میں تعمیر کیے گئے تھے۔ لیکن اس مندر کا سب سے اہم پہلو مندر سے ملحقہ پیپل کا وہ درخت ہے، جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ مہاتما بدھ نے اسی کے نیچے بیٹھ کر عبادت کی تھی اور یہیں پر انھیں روحانی علم حاصل ہوا تھا۔

شہنشاہ اشوک نے اپنی تخت نشینی کے ابتدائی برسوں میں بدھ مذہب اختیار کر لیا تھا اور بعدازاں انھوں نے بدھ مذہب کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔

وہاں موجود ایک چٹان پر پالی زبان میں کندہ ایک تحریر کے مطابق اشوک نے اپنی حکمرانی کے دسویں برس یعنی 259 قبل مسیح میں بودھ گیا کا دورہ کیا تھا۔ انھوں نے پیپل کے درخت کے نیچے ایک تخت بنا دیا تھا اور اس کے چاروں طرف پتھر کی منڈیر بنوا دی تھی۔ وہیں پر ایک بڑا سٹوپا بھی بنایا گیا تھا۔

اشوک نے بدھ مذہب کی تبلیغ کے لیے اپنے بیٹے مہندرا اور بیٹی سنگھ مترا کو سر ی لنکا بھیجا تھا۔ سنگھ مترا پیپل کے درخت کی ایک شاخ بھی سری لنکا لے گئی تھیں۔

ساتویں صدی کے اوائل میں بنگال کے ایک ہندو راجہ ششانک نے بودھ گیا کے پیپل کے درخت کو جڑ سے کٹوا دیا تھا۔

بعض بدھ روایت کے مطابق، بعد میں سری لنکا سے ایک شاخ لا کر کٹے ہوئے پیڑ کی جگہ لگائی گئی۔ بودھی مہاوہار اب پوری دنیا میں بدھ مت کے کروڑوں ماننے والوں کے لیے ایک مقدس ترین مقام ہے۔ لیکن یہاں کئی ہندو مندر بھی بنے ہوئے ہیں۔

یہاں ہندوؤں کا غلبہ کیسے قائم ہوا؟

قدیم پالی اور پراکرت زبان کے ماہر اور تاریخ و ثقافت کے مؤرخ ڈاکٹر راجندر پرساد سنگھ کے مطابق ’دسویں اور گیارہویں صدی میں شاہی سرپرستی کے خاتمے اور اس خطے میں ہندوازم کے دوبارہ غلبے کے سبب بدھ ازم زوال پزیر ہوتا گیا، بودھ بھکشو بھی یہاں سے چلے گئے۔ بہت دنوں تک یہ بھدھ مندر ویران پڑا رہا اور وقت گزرنے کے ساتھ مٹی اور چھاڑیوں میں دب گیا۔‘

ڈاکٹر راجندر سنگھ نے بتایا کہ ’ایک ہندو سنیاسی گھمنڈی گیری نے 1590 میں بدھ مندر کے نزدیک ایک ہندو مٹھ بنا دیا تھا، جو آج بھی وہا ں موجود ہے۔ بعد میں کئی اور ہندو مندر تعمیر ہوئے جن میں پوجا ہوتی رہی۔‘

وہاں کچھ مندر تو ایسے ہیں جن میں مہاتما بدھ کی مورتی کو ہندو دیوتا بتایا جاتا ہے۔

بدھ مندر کو 19ویں صدی میں انگریزوں کے دور میں بحال کیا گیا اور مہا بودھی مندر اور اس کے اطراف کے سٹوپوں کی مرمت کی گئی۔

لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ اس بدھ مندر پر اس احاطے میں واقع ہندو مٹھ کے مہنتوں نے بھی اس پر دعویٰ کیا اور یہ تنازع پھر بڑھتا گیا۔

اس تنازع کو حل کرنے کے لیے ہی سنہ 1949میں بہار اسمبلی نے بدھ گیا ٹیمپل ایکٹ بنایا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت پوجا کے لیے مینیجمنٹ کمیٹی کی طرف سے ایک باضابطہ ہندو پجاری بھی مقرر کیا گیا۔

اصل بدھ مندر، جہاں مہاتما بدھ کی مورتی نصب ہے، کے عین سامنے ایک ٹوٹے ہوئے ستون کی جگہ کو اب ہندو دیوتا شیو کا مقام بتایا جا رہا ہے۔

بدھ مذہب کے پیروکاروں کو ڈر ہے کہ مہاتما بدھ کے اس مقدس مقام پر ہندو دیوی دیوتاؤں کے مندروں کا غلبہ ہو سکتا ہے۔

دھرنے پر بیٹھے ہوئے سنگھ رتن بھکشو کہتے ہیں کہ بدھ مندر کے اندر ایک چھوٹا سے گڑھا تھا۔

’اس کے بارے میں وہ (ہندو) کہتے ہیں یہ ہندو دیوتا شیو ہیں۔ یہ فکر صرف ہماری نہیں، ہمارے پورے دھرم کی ہے۔ جتنے بھی بدھ مذہب کے ماننے والے ہیں، ان سب یی کی فکر بڑھ گئی ہے۔ وہاں چاروں طرف بدھ کی مورتی ہٹا کر ہندو دیوتا وشنو کی مورتی لگائی جاتی ہے۔‘

’مہاتما بدھ کے ساتھ بھگوان شیو کی بھی پوجا ہو رہی ہے‘

بودھ گیا مٹھ کے چیف مہنت وویکانند گیری کہتے ہیں کہ بدھ مندر کا مکمل اختیار حاصل کرنے کی بدھ مت کے ماننے والوں کی تحریک بے معنی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مینجمنٹ کمیٹی میں جو ہندو اراکین ہیں وہ بھی مہاتما بدھ کے ماننے والے ہیں اور رہی بات بدھ مندر کے اندر شیو پوجا کی تو یہ پوجا بقول ان کے مہاتما بدھ سے سے پہلے سے ہی چلی آ رہی ہے۔

’ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہاں بھگوان بدھ کی عبادت شہنشاہ اشوک کے عہد سے یا اس سے پہلے ہو رہی ہے۔ بھگوان بدھ کے ساتھ بھگوان شیو کی بھی پوجا یہاں ابتدا سے ہو رہی ہے۔ اگر آپ مذہبی کتابوں میں دیکھیں گے تو پانچویں اور چھٹی صدی میں آپ کو اس کے بارے میں بہت سے ثبوت ملیں گے۔

’ان ثبوتوں کے مطابق اس مندر میں بھگوان شیو کی پوجا ہوتی رہی ہے۔ جو موجودہ بودھی وہار کا احاطہ آپ دیکھ رہے ہیں اسے بختیار خلجی نے تباہ کر دیا تھا۔ 12ویں صدی کے بعد یہاں کے ہندو سماج اور بودھ گیا مٹھ کے مہنت نے اس کی دیکھ بھال شروع کی تو مساوی طور پر بھگوان بدھ اور بھگوان شیو کی پوجا ہوتی آئی ہے۔‘

Bihar
،تصویر کا کیپشنآکاش لاما بدھ مت تحریک کے رہنما ہیں

بھنتے پرگیہ شیل اس مندر کے آٹھ برس تک چیف بھکشو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بودھی وہار پوری دنیا کے بودھوں کی وراثت ہے۔‘

’یہ بدھ مت کے ساتھ بہت بڑی نانصافی ہے کہ اس کا مقدس ترین مقام اسے ہی نہ دیا جائے۔‘

اس کے بارے میں حکومت کا کیا کہنا ہے ؟

بہار کے اقلیتی امور اور ثقافت کے وزیر زماں خان نے بی سی سےبات کرتے ہوئے کہا ’تحریک اور مظاہرے اپنی جگہ ہیں، لیکن میں بات کرنے کے تیار ہوں۔ میرے محکمے سے متعلق ان کا کوئی بھی کام رکے گا نہیں۔ اگر ہم سے بڑا کام ہو گا یا مجھے لگا کہ ہم سے نہیں ہوگا تو ہم اپنے وزیر اعلیٰ سے ان کی بات کروائیں گے۔‘

بدھ تحریک کے ایک رہنما کرونا کرن کہتے ہیں کہ ماضی میں حکومت سے کئی بار بات کی گئی لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

’کئی بار ہمارے نمائندوں نے ملاقاتیں کی ہیں۔ بہار حکومت کو درخواست بھی پیش کی گئی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جب تک بودھی وہار کو آزادی نہیں ملتی، تب تک ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

’ہم کسی دھرم کے خلاف نہیں ہیں‘

انڈیا میں بدھ مت کے ماننے والوں کی کئی تنظیمیں گذشتہ ڈیڑھ برس سے پورے ملک میں ’مہابودھی مہاوہار مکتی آندولن‘ نام سے ایک تحریک چلا رہی ہے۔

یہ تنظیمیں دلی سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کر رہی ہیں۔

اس احتجاج کی قیادت آل انڈیا بدھسٹ فورم کے سربراہ ڈاکٹر آکاش لاما کر رہے ہیں۔

10 اگست کو دلی میں جنتر منتر کے نزدیک بدھ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اب ہمیں اور نہیں دبایا جا سکتا، ہم کسی دھرم کے خلاف نہیں ہیں۔‘

Bihar

’بودھ گیا میں جو ہمارا مقدس ترین مقام ہے، جسے شہنشاہ اشوک نے تعمیر کرایا تھا، جہاں مہاتما بدھ نے گیان حاصل کیا وہاں پر دوسرے دھرم کیا کر رہے ہیں؟ اگر یہی آپ کی سوچ ہے تو پھر ایودھیا کے رام مندر میں بدھ کیوں نہیں ہیں؟‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ سنہ 1949 کا ’غیر آئینی بودھی گیا ٹمپل ایکٹ‘ کالعدم قرار دیا جائے۔

دلی کے بعد اگلا دھرنا 23 اگست کو پٹنہ میں ہو گا۔ بودھی وہار مینیجمنٹ کمیٹی میں بدھ مت کی نمائندگی کے سوال پر انڈیا کی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن بھی زیر سماعت ہے ۔

بدھ برادری انڈیا کی ایک چھوٹی برادری ہے۔

اس کی آبادی تقریباً 90 لاکھ ہے، جو ملک کی مجموعی آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔