آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار: ’جو بھیانک منظر میں نے دیکھا اسے شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں‘
انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز کے علاقے لالکرتی میں ایک 45 سالہ خاتون کے مبینہ قتل کا مقدمہ ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمہ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح ان کے گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی۔ مقتولہ کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جسے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق لاش کے منہ سے خون اور جھاگ نکلنے کے آثار بھی پائے گئے۔
پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔
تفتیشی افسر نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ’گرفتار ملزمان کو ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔‘ ان کے مطابق معاملے کی تفتیش جاری ہے اور اس کی روشنی میں ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
’جو بھیانک منظر میں نے دیکھا اسے شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں‘
بی بی سی اردو کے لیے صحافی محمد زبیر خان سے بات کرتے ہوئے مقتولہ کے بھائی فہد جاوید ملک نے کہا کہ ’جو منظر میں نے دیکھا، اسے شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں۔ یہ انتہائی خوفناک تھا۔ ہم شدید صدمے اور ذہنی دباؤ سے گزر رہے ہیں اور سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ سب کیسے ہوا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اب تک تعاون کر رہی ہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ معاملے میں مکمل اور شفاف تحقیقات ہوں اور انھیں ایسا انصاف ملے جو عدالتوں سے بھی یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق ’ہمیں انصاف چاہیے تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقتولہ حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق، حنا جاوید کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی تھی۔
فہد جاوید نے بتایا کہ 20 اگست 2026 کو صبح تقریباً 6:05 بجے انھیں اپنے بہنوئی کے گھر سے ایمرجنسی کی اطلاع ملی۔ وہ تقریباً 7:23 پر جائے وقوعہ پر پہنچے تو دیکھا کہ اُن کی بہن کمرے کے باتھ روم میں مردہ حالت میں پڑی تھیں۔
’اُن کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا، گلے میں سفید بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جو اوپر شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔ منھ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھی جبکہ فرش پر بھی خون موجود تھا۔‘
ایف آئی آر میں فہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کی بہن کو اُن کے شوہر نے اپنے ملازم اور والد کے ساتھ مل کر انتہائی بے دردی سے قتل کیا ہے اور ’انھیں شبہ ہے کہ مقتولہ کو پہلے زہریلی چیز دی گئی اور پھر اذیت دے کر قتل کیا گیا۔‘
فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ ان کے بہنوئی ’آئے روز مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور اس سے قبل ملزم کی پہلی اہلیہ نے بھی تشدد کی وجہ سے تنگ آ کر طلاق لے لی تھی۔‘
’حنا، ایک نوجوان خاتون جن کے خواب اور مستقبل ان سے چھین لیا گیا‘
حنا جاوید کے اہلِ خانہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’دو روز قبل مقتولہ حنا جاوید اپنے ہی گھر میں قتل کر دی گئیں۔ مقدمہ اُن کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں حنا کے شوہر کو نامزد کیا گیا ہے۔‘
خاندان نے پاکستان کے عدالتی اور قانونی نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انصاف ضرور ملے گا، تاہم آنے والے دن نہایت اہم ہیں کیونکہ تفتیش کی شفافیت ہی انصاف کی ضمانت ہو گی۔‘
خاندان کا کہنا ہے کہ ’حنا ایک بیٹی، بہن اور دوست تھیں، ایک نوجوان خاتون جن کے خواب اور مستقبل ان سے چھین لیا گیا۔‘
اہلِ خانہ نے عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے اظہارِ ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ چاہتے ہیں حنا کو اُن کی شخصیت اور زندگی کے حوالے سے یاد رکھا جائے، نہ کہ صرف اُن کے قتل کے ذریعے۔‘
خاندان کا کہنا ہے کہ جزوی احتساب دراصل کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ اہلِ خانہ نے پنجاب پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ’کسی دباؤ یا تاخیر کے بغیر تفتیش مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائے۔‘
خاندان نے کہا ہے کہ ’گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف تشدد کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ سنگین جرم ہے اور اسے اسی طرح لیا جانا چاہیے۔‘
حنا جاوید کی ’فرسٹ کزن‘ صباح ملک نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہماری فیملی کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے، بہت ظلم ہوا ہے۔ ہم انصاف چاہتے ہیں، ہمارے دل زخمی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مقدمہ زیرِ تفتیش ہے، اس لیے وہ اس مرحلے پر بہت سے سوالات کے جواب دینے سے گریز کر رہی ہیں۔