دنیا کی بلند ترین چوٹی کا ’ڈیتھ زون‘ جہاں زندگی اور موت کے بیچ چند منٹوں کا فاصلہ ہوتا ہے

    • مصنف, پرادیپ باشیال
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ماؤنٹ ایورسٹ پر گھنٹوں پر محیط سخت چڑھائی کے بعد، پورنیما شریستھا چوٹی پر پہنچ کر بے حد خوش تھیں۔ زمین کے سب سے اُونچے مقام پر کھڑی ہو کر وہ اپنے نیچے برف سے ڈھکی چوٹیوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔

لیکن جب پورنیما نے اپنے آخری آکسیجن سلنڈر کی طرف دیکھا تو اُن کی خوشی فوراً ایک ڈراؤنے خواب میں بدل گئی۔ سلنڈر خراب ہو چکا تھا، اور اس میں کچھ باقی نہیں تھا۔ چند ہی سیکنڈ میں اُن کا سکون اور حیرت گھبراہٹ میں بدل گئے۔

انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ ’اُس لمحے مجھے احساس ہوا کہ ’یہاں اب ایک لمحہ بھی رہنا محفوظ نہیں ہے۔‘

پورنیما ڈیتھ زون میں تھیں جو ایورسٹ کا وہ حصہ ہے جو سطح سمندر سے 8,000 میٹر سے زیادہ بلندی پر ہے۔ اس بلندی پر انسانی جسم بہت محدود انداز میں کام کر پاتا ہے اور اسے اضافی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر نیما نامگیال شیرپا کہتے ہیں کہ ’اِسی لیے اسے ڈیتھ زون کہا جاتا ہے۔ اگر اضافی آکسیجن نہ ہو، تو تقریباً 30 منٹ کے اندر انتہائی بلندی پر ہونے والی شدید بیماریوں کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جو موت کا سبب بن سکتی ہیں۔‘

1920 کی دہائی سے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 300 سے زیادہ افراد ایورسٹ سر کرنے کی کوشش میں جان گنوا چکے ہیں۔ حالیہ کوہ پیمائی کے سیزن میں، جو مئی 2026 میں ختم ہوا تھا، کم از کم پانچ مزید کوہ پیما ہلاک ہوئے۔

مئی 2026 میں ہی، ایک نیپالی گائیڈ ایورسٹ پر تقریباً 7,500 میٹر کی بلندی پر لاپتا ہو گیا تھا، لیکن چھ دن بعد وہ زندہ حالت میں مل گیا۔ لاپتا ہونے والے دووا شیرپا کا کہنا ہے کہ وہ ’برف چبا کر‘ اور اپنی جیب میں موجود چند چاکلیٹس کھا کر چھ روز تک زندہ رہے۔

انھوں نے بی بی سی نیپالی سروس کو بتایا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں زندہ رہوں گا۔ مجھے لگا تھا کہ میں اسی حالت میں مر جاؤں گا۔‘

تو ڈیتھ زون میں جسم کے ساتھ ایسا کیا ہوتا ہے جو اسے اتنا خطرناک بناتا ہے؟

ایورسٹ کو اس سے پہلے پانچ بار سر کرنے کے باوجود، پورنیما اب ایک جان لیوا صورتحال میں تھیں۔ وہ یاد کرتی ہیں، ’اس دن مجھے بس زندہ رہنے کی خواہش تھی۔‘

بلندی کے ساتھ فضائی دباؤ کم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جتنا اوپر چڑھتے ہیں، پھیپھڑوں میں جانے والی آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔

8,000 میٹر سے نیچے، جسم عام طور پر آکسیجن کی کم ہوتی مقدار کے ساتھ خود کو ڈھال لیتا ہے، جس کے لیے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانس گہری اور تیز ہو جاتی ہے، اور نظامِ ہاضمہ سست ہو جاتا ہے۔

ڈیتھ زون میں، کوہ پیما سطح سمندر کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی آکسیجن ہی سانس کے ذریعے لے پاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ایک صحت مند کوہ پیما اضافی آکسیجن کے ساتھ تقریباً 16 سے 20 گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے، اس کے بعد جسم کام کرنا بند کرنے لگتا ہے۔

ایورسٹ کے ڈیتھ زون میں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک گِر سکتا ہے اور تیز ہوائیں حالات کو مزید سخت بنا دیتی ہیں۔

سردی کی وجہ سے پیدا ہونے والی سب سے عام حالتوں میں سے ایک فراسٹ بائٹ ہے۔

ڈاکٹر نیما کہتے ہیں ’جب جسم کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو ہمارے جسم کا دفاعی نظام متحرک ہو جاتا ہے اور خون ہاتھوں اور ٹانگوں سے ہٹ کر اندرونی اہم اعضا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جسم کے خلیے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔‘

جتنا زیادہ سردی بڑھتی ہے اور جتنی دیر تک آپ سرد ماحول میں رہتے ہیں، فراسٹ بائٹ کی کیفیت اتنی ہی شدید ہوتی جاتی ہے۔

اس کی ممکنہ علامات:

  • سخت، جمی ہوئی جلد جو سفید، نیلی یا دھبے دار ہو سکتی ہے
  • متاثرہ حصے میں سوجن اور احساس کا ختم ہو جانا
  • خون یا صاف یا دودھیا مائع سے بھرے چھالے
  • جلد کا سیاہ اور سخت ہو جانا

شدید حالتوں میں، جسم کے متاثرہ حصے کو کاٹنا پڑ سکتا ہے۔

الجھن اور فریبِ نظر

کوہ پیمائی کے شوقین افراد عام طور پر ڈیتھ زون میں زندہ رہنے کے لیے مرحلہ وار پہاڑ پر چڑھتے ہیں تاکہ جسم آہستہ آہستہ ہر بلندی کے ساتھ خود کو ڈھال سکے۔

لیکن ڈاکٹر نیما کے مطابق، سب سے زیادہ تجربہ کار کوہ پیما بھی چوٹی تک پہنچنے کی آخری کوشش کے دوران شدید صحت کے مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔

اونچائی پر دماغی ورم (ہائی آلٹیٹیوڈ سیریبریل ایڈیما ) پہاڑوں پر ہونے والی بیماری کی ایک نایاب مگر سنگین شکل ہے جس میں دماغ سوج جاتا ہے۔ کھوپڑی پر بڑھتا ہوا دباؤ کئی علامات پیدا کر سکتا ہے جن میں الجھن، لڑکھڑاتی گفتگو، کمزور ہم آہنگی، اور فریبِ نظر شامل ہیں۔

ڈاکٹر نیما کہتے ہیں کہ ’ہم اکثر پہاڑوں میں سنتے ہیں کہ کوئی غیر ملکی کوہ پیما یا شیرپا اچانک زیادہ بلندی پر پاگل ہو گیا یعنی حواس کھو بیٹھا۔‘

’ایسی صورتحال میں، کوہ پیما شدید طور پر بے چین اور غیر معقول رویہ اختیار کر سکتے ہیں، بعض اوقات وہ خود کو حفاظتی رسّیوں سے الگ کر لیتے ہیں اور اکثر صورتوں میں گِر کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔‘

سر درد ایورسٹ پر چڑھنے والوں میں سب سے عام تکالیف میں سے ایک ہے، جو اکثر پانی کی کمی اور دماغ کی خون کی نالیوں تک آکسیجن کی کم فراہمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

زیادہ بلندی پھیپھڑوں میں مائع جمع ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہے، جسے ہائی آلٹیٹیوڈ پلمونری ایڈیما (HAPE) کہا جاتا ہے، اور اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔

اس کی علامات میں گلابی، جھاگ دار بلغم کے ساتھ کھانسی، دل کی تیز دھڑکن، اور جلد، ہونٹوں یا ناخنوں کا نیلا پڑ جانا شامل ہو سکتے ہیں۔

یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب جسم کو بڑھتی ہوئی بلندی کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا جاتا۔

جن لوگوں میں یہ علامات ظاہر ہوں، انھیں جلد از جلد کم بلندی پر لے جانا چاہیے اور انھیں اضافی آکسیجن فراہم کی جانی چاہیے۔

بلندی کا اثر وہاں پیدا ہونے والے لوگوں پر بھی پڑتا ہے۔ ڈاکٹر نیما، جو قریبی گاؤں خم جونگ میں ایک شیرپا خاندان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے، جو سطح سمندر سے تقریباً 4,000 میٹر بلند ہے، انھوں نے 2013 میں ایورسٹ سر کیا تاکہ ’براہِ راست سمجھ سکیں‘ کہ جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’اگرچہ ہمیں اونچی بلندی پر پیدا ہونے اور پرورش پانے کی وجہ سے جینیاتی برتری حاصل ہوتی ہے مگر یہ صرف موافقت میں مدد دیتی ہے۔ مجموعی طور پر جسمانی دباؤ سب کے لیے ہی سخت ہوتا ہے۔‘

جب پورنیما ایورسٹ کی چوٹی پر اپنی قسمت کے بارے میں سوچ رہی تھیں، تو انھوں نے نیچے قریب عمودی چٹان کے حصے، جسے ہلیری سٹیپ کہا جاتا ہے، پر لوگوں کی بھیڑ لگتی ہوئی دیکھی۔

یہ 40 فٹ (12 میٹر) کا حصہ چوٹی تک پہنچنے کی آخری رکاوٹ ہے اور اسے ایک وقت میں صرف ایک ہی شخص پار کر سکتا ہے۔

لمبے وقت تک انتظار کرنا کوہ پیماؤں اور شیرپا کو اس خطرے میں ڈال دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ چڑھائی مکمل کرنے سے پہلے ہی اپنی آکسیجن ختم کر بیٹھتے ہیں۔

گذشتہ سیزن میں 1,000 سے زیادہ افراد نے ایورسٹ کی چوٹی سر کی، جو نیپال کے محکمۂ سیاحت کے مطابق اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ان ریکارڈ تعداد نے دنیا کے اس مشہور پہاڑ کی گنجائش اور وہاں موجود افراد کی حفاظت کے حوالے سے بحث کو جنم دیا ہے۔

ڈیتھ زون میں جسمانی مسائل کے علاوہ طبی مدد کے امکانات بھی بہت محدود ہوتے ہیں۔

2005 میں ایک فرانسیسی پائلٹ ایورسٹ کی چوٹی پر ہیلی کاپٹر اتارنے والا پہلا شخص بنا تھا۔ لیکن زیادہ تر ہیلی کاپٹر ریسکیو مشنز 6,500 میٹر سے اوپر نہیں جاتے۔

ابتدائی مدد فراہم کرنے والوں کے پاس زیادہ بلندی پر مریض کو سنبھالنے کے محدود وسائل ہوتے ہیں اور وہ عام طور پر سب سے پہلے آکسیجن کا استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نیما مزید کہتے ہیں، ’ہم ہیس جیسے کیسز میں چند ادویات یا فراسٹ بائٹ کے لیے درد کم کرنے والی سوزش مخالف دوائیں استعمال کرتے ہیں، ورنہ ایسے سخت ماحول میں ادویات کے مؤثر ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔‘

’میرا خیال ہے کہ ڈیتھ زون میں ہر طرح کی ریسکیو کوشش خود ریسکیو کرنے والے کی زندگی کے لیے بھی خطرہ ہوتی ہے۔‘

پورنیما کی جان اس وقت بچی جب ایک مقامی شیرپا نے نیچے اترتے ہوئے اپنی کم ہوتی آکسیجن ان کے ساتھ بانٹی، اور پھر پہاڑ کے نچلے حصے میں موجود ساتھیوں سے انھیں مزید مدد ملی۔

خطرات کے باوجود، ایورسٹ کی کشش لوگوں کو اس چیلنج کو قبول کرنے پر آمادہ رکھتی ہے۔

پورنیما کہتی ہیں، ’میں اکثر اپنی زندگی کے اچھے لمحات کا موازنہ ڈیتھ زون میں ہر سانس اور ہر قدم کے لیے جدوجہد سے کرتی ہوں۔‘

’چاہے میں کتنی ہی بار وہاں جاؤں، جب میں ڈیتھ زون میں گہرائی تک پہنچتی ہوں، تو میں ہمیشہ خود سے پوچھتی ہوں کہ میں دوبارہ یہاں آنے کا انتخاب کیوں کرتی ہوں۔‘