سرکاری افسر پر سینکڑوں خواتین کو دوا دے کر، خُود پر پیشاب کرنے پر مجبور کرنے کا الزام: ’ہمیں ایسی دوا دی گئی کہ خود پر قابو نہ رہا‘

- مصنف, ایما ایلیس، امیلیا بٹرلی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- مقام, پیرس اور سٹراسبرگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
’میں بہت کمزور تھی۔ مجھے اپنی ٹانگوں میں جان محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ میں بہت خوفزدہ تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘
یہ کہنا ہے انائیس دی وو کا۔
یہ جولائی 2011 کی بات ہے اور انائیس جو کہ اس وقت 27 برس کی تھیں پیرس میں فرانسیسی وزارتِ ثقافت میں ایک انٹرویو دے رہی تھیں۔
وہ عام طور پر کافی نہیں پیتیں۔ تاہم جب ان کا انٹرویو لینے والے سینیئر سرکاری عہدیدار کرسچین نیگر نے انھیں کافی کی پیشکش کی تو انھوں نے ازراہِ تکلف قبول کر لی۔
انائیس نے بی بی سی گلوبل وومن کو بتایا کہ نیگر نے کافی خود بنائی تھی مگر ’اس کا ذائقہ کافی خراب تھا۔۔۔ میں نے صرف آدھی ہی پی۔‘
ان کی میٹنگ دفتر میں شروع ہوئی لیکن کچھ منٹوں کے بعد نیگر نے تجویز دی کہ وہ باہر چلتے ہیں۔
جب وہ پیرس کی گلیوں میں ٹہل رہے تھے تو ایسے میں انائیس کو شدت سے پیشاب کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
انھیں نیگر کو یہ بتاتے ہوئے جھجک محسوس ہو رہی تھیں کہ وہ بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے دفتر واپس جانا چاہتی ہیں، اس لیے انھوں دفتر کی جانب واپس جانے کا یہ بہانہ بنایا کہ انھیں سردی لگ رہی ہے۔
لیکن ان کا کہنا ہے کہ نیگر وہاں سے آگے چل پڑے اور انھیں دریائے سین کے کنارے کی جانب لے جانے لگے۔
بالآخر انھیں نیگر کو بتانا پڑا کہ انھیں فوری طور پر ٹوائلٹ جانا ہے۔
’انھوں نے میری آنکھوں میں دیکھا اور کہا اوہ، کیا تمھیں پیشاب کرنا ہے؟‘
’مجھے لگا جیسے میں کوئی بچی ہوں۔ میں نے سوچا کہ جیسے وہ میری طرف دیکھ رہے ہیں وہ بہت عجیب ہے، جیسے وہ خوش ہو رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGrand Est Region & Bas-Rhin Prefect
وہ بتاتی ہیں کہ نیگر نے دریائی سین پر بنے ایک پل کے نیچے ایک الماری کے دروازے کی جانب اشارہ کیا اور کہا ’تم یہاں کر سکتی ہو۔‘
انائیس ان 250 خواتین میں سے ایک ہیں جن کا ماننا ہے کہ نیگر نے انھیں مختلف مواقع پر پیشاب آور ادویات دیں۔ یہ واقعات 2009 اور 2018 کے درمیان پیش آئے۔ ان خواتین کا الزام ہے کہ انھیں کیمیکل سبمیشن کا نشانہ بنایا گیا۔ اس عمل میں مخصوص ادویات کا استعمال کر کے کسی بھی شخص پر اپنا کنٹرول جمایا جا سکتا ہے۔
فرانس میں کیمیکل سبمیشن کے متعلق زیادہ آگاہی 2024 میں اس وقت پھیلی جب جزیل پیلیکوٹ کے شوہر کو اپنی ہی بیوی کو دوا کے ذریعے بیہوش کر کے انھیں متعدد اجنبیوں سے ریپ کرونے کے الزام میں سزا سنائی گئی۔
انائیس بتاتی ہیں کہ میں گھبرا گئی۔
’مجھے تھوڑا بہت یاد ہے کہ انھوں نے مجھے کمرے کے اندر دھکا دیا اور پیچھے سے دروازہ بند کر دیا۔‘
انائیس کہتی ہیں کہ انھیں ’بہت عجیب‘ محسوس ہوا اور انھوں نے اصرار کیا کہ آگے چلتے ہیں۔
وہ چلتے ہوئے لوو میوزیم تک گئے تاکہ وہاں ٹوائلٹ استعمال کر سکیں۔ لیکن وہاں ٹوائلٹ استعال کرنے کے لیے ایک یورو دینے پڑتے ہیں اور انائیس اپنا پرس وزارتِ ثقافت کے دفتر میں ہی چھوڑ آئی تھیں۔ نیگر نے انھیں بتایا کہ ان کے پاس بھی نقد رقم نہیں۔
پیشاب روکنے کی وجہ سے انھیں درد ہونے لگا تھا۔ بالآخر انھیں ایک کیفے ملا جس نے انھیں اپنا ٹوائلٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’تب تک میں بہت کمزور محسوس کر رہی تھی۔‘
جب وہ باتھ روم کی طرف جا رہی تھیں تو ان کا خود پر کنٹرول نہ رہا اور ان کا پیشاب نکل گیا۔
2011 کے اس واقعے کے متعلق سوچتے ہوئے انھیں کم از کم اس بات سے راحت ملتی ہے کہ جب انھوں نے پیشاب کیا، وہ نیگر کی نظروں سے دور تھیں۔ ’کم از کم وہ مجھے دیکھ نہیں پایا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ شکر ہے کہ اس وقت ایسا ڈریس پہنی ہوئی تھیں اور اس سے انھیں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کو چھپانے میں مدد ملی۔
وہ کہتی ہیں کہ نیگر کے ساتھ تین گھنٹے انھیں ’چکر اور تھکاوٹ محسوس‘ ہونے لگی تھی۔

،تصویر کا ذریعہMohammed Badra/EPA/Shutterstock
انائیس کو وہ نوکری نہیں ملی اور انھیں نیگر پر شک تھا۔ لیکن کبھی وہ سمجھ نہیں پائیں کہ وہ کیا چیز تھی جو ان کی بے چینی کا سبب بنی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ اس واقعے نے ان کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچایا اور آنے والے سالوں میں انھوں نے کم پر عزم کریئر کا انتخاب کیا۔
سنہ 2019 میں انھیں پولیس کی جانب سے ایک خط موصول ہوا۔
جب وہ ملنے گئیں تو انھیں معلوم پڑا کہ پولیس کو شک ہے کہ وہ ان 200 کے قریب خواتین میں شامل ہیں جنھیں نیگر کی جانب سے بظاہر وزارت میں نوکری کے لیے انٹرویو کے دوران ادویات دیے جانے کا شک ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ انھیں یہ جان کر جھٹکا لگا۔ ’تاہم میں جان کر خوش تھی کہ میں پاگل نہیں۔ اس دن واقعی کچھ ہوا تھا۔‘
اس کے بعد مزید درجنوں متاثرین سامنے آئے۔
پولیس کا ماننا ہے کہ نیگر نے ڈایوریٹکس نامی دوا استعمال کی ہے۔ یہ دوا مختلف بیماریوں جیسے کہ ہائی بلد پریشر کے لیے دی جاتی ہے اور اس کے استعمال کے نتیجے میں جسم میں معمول سے زیادہ مقدار میں پیشاب بنتا ہے۔
انائیس کو شک تو ہوا تھا کہ جس دن وہ نیگر سے ملی تھیں انھوں نے شاید ان کی مشروب میں کچھ ملا دیا تھا۔ مگر انھوں نے یہ سوچ کر اس خیال کو مسترد کر دیا ’یہ وزارتِ ثقافت ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔‘
نیگر کے کمپیوٹر سے ملنے والا متاثرین کا ڈیٹا
انائیس کہتی ہیں کہ انھیں پولیس نے بتایا کہ انھیں نیگر کے کمپیوٹر پر متاثرین کے متعلق ایک فائل ملی ہے جس کا نام ایکسپیریمنٹ پی ہے اور انھیں اس فائل کی وجہ سے ہی انائیس کے متعلق پتا چلا۔
وہ کہتی ہیں کہ اس فائل میں متاثرہ خواتین کس وقت انٹرویو کے لیے آئیں، انھیں ڈایوریٹکس کس وقت دی گئی، انھیں پیشاب آنے میں کتنا وقت لگا اور وہ کون سا انڈرویئر پہنی ہوئے تھیں۔
اب انائیس اس واقعے کے متعلق سوچتی ہیں تو انھیں لگتا ہے کہ کافی میں انھیں جو عجیب سا ذائقہ محسوس ہوا تھا وہ ڈایوریٹک کا تھا۔
رواں سال فروری میں پراسیکیوٹر کے دفتر جاری ایک بیان کے مطابق نیگر کے بارے میں تفتیش کا آغاز جون 2018 میں اس وقت ہوا جب ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک فرد نے انھیں میز کے نیچے سے ایک خاتون کی تصویر لیتے دیکھ لیا۔
ابتدائی طور پر انھیں بطور ڈائیریکٹر ثقافتی امور کے عہدے سے معطل کیا گیا۔ بعد ازاں 2019 میں وزارتِ ثقافت نے انھیں نوکری سے نکال دیا۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ 2018 میں نیگر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ نوکری کے انٹرویو کے دوران انھوں نے ’خواتین کو تحقیر آمیز حالات سے دوچار کیا تھا۔‘
بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں پہلی بار ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے کا احساس اس وقت ہوا جب پولیس نے ان سے رابطہ کیا۔
کچھ خواتین اس وقت سامنے آئیں جب انھوں نے میڈیا میں انائیس اور دیگر متاثرہ خواتین کے بارے میں دیکھا۔
نیگر جن کی عمر ساٹھ کی دہائی میں ہے، کے خلاف اب باضابطہ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان پر عائد الزامات میں مبینہ طور پر نشہ آور دوا دینا، نجی زندگی میں مداخلت اور جنسی حملہ شامل ہیں۔ وہ مقدمے کی سماعت کے منتظر ہیں۔
بی بی سی نے اس مضمون میں شامل الزامات کے بارے میں نیگر کا مؤقف جاننے کے لیے ان کے وکیل کے ذریعے ان سے رابطہ کیا تاہم انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

نیگر کے نوٹس میں میری-ہیلین بریس کا نام بھی درج تھا۔ 2016 میں نیگر نے سٹراسبرگ میں وزارتِ ثقافت میں ایک ملازمت کے لیے ان کا انٹرویو لیا تھا۔ وہ اس وقت وہاں کام کر رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیگر نے انھیں بتایا کہ وہ پریشان دکھائی دے رہی ہیں اور انھیں پرسکون محسوس کروانے کے لیے باہر تھوڑی چہل قدمی کی تجویز دی۔
لیکن نہر کے کنارے چہل قدمی کے دوران، انائیس کی طرح میری-ہیلین کو بھی پیشاب کی شدید اور بے قابو حاجت محسوس ہونے لگی، جس سے انھیں تکلیف ہونے لگی۔
ان کا کہنا ہے کہ نیگر نے انھیں بتایا کہ انھیں قریب ہی واقع ایک عوامی ٹوائلٹ کا علم ہے، لیکن جب وہ اس جگہ پہنچے تو وہاں بیت الخلا نہیں تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ تب تک انھیں اس حد تک تکلیف ہونے لگی تھی کہ ان کا رنگ زرد پڑنے لگا تھا اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
میری-ہیلین ان کے پاس کھلے عام پیشاب کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ نیگر نے انھیں اپنی جیکٹ سے چھپانے کی پیشکش کی۔
وہ کہتی ہیں کہ میں بہت شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔ ’انھوں نے مجھ سے نظریں نہیں ہٹائیں۔‘
میری-ہیلین کے مطابق وہ کئی برسوں تک اس بارے میں شرمندگی محسوس کرتی رہیں۔
انائیس کی طرح پولیس نے ان سے بھی رابطہ کر کے بتایا کہ وہ بھی نیگر کی متاثرین میں شامل ہیں۔
’یہ میرے لیے بہت حیرانگی کی بات تھی۔‘
کیمیکل سبمیشن
میری-ہیلین کہتی ہیں کہ نفسیاتی مسائل کے علاوہ انھیں پیشاب سے متعلق مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ واقعات ضروری نہیں کہ ان معاملات جیسے ہوں جنھیں لوگ عموماً جنسی حملے کے کیسز کے طور پر سمجھتے ہیں، لیکن انھیں اپنے ساتھ پیش آنے والی بات کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ ’مجھ پر حملہ کیا گیا، مجھے نشہ آور چیز دی گئی، مجھے زہر دیا گیا، لیکن میرے نزدیک یہ واضح طور پر ایک جنسی حملہ ہے۔‘
فرانسیسی ممبر اسمبلی سینڈرین ہوزو نے کیمیکل سبمیشن کے معاملے کواٹھایا ہے۔ وہ اس وقت اس معاملے پر نمایاں مہم چلانے والوں میں شامل ہوئیں جب فرانسیسی سینیٹر جوئل گیریو کو اس سال اس الزام میں قصوروار قرار دیا گیا کہ انھوں نے ان کو جنسی طور پر نشانہ بنانے کی غرض سے ان کے مشروب میں ایکسٹیسی ملا دی تھی۔
جوسو کا مؤقف ہے کہ فرانس نے طویل عرصے تک ایسی خواتین کی مدد کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جنھیں مبینہ طور پر نشہ آور چیزیں دی گئیں، اور نہ ہی ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی گئی۔

رواں سال جوسو نے ایک آزمائشی پروگرام متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے تحت وہ خواتین جنھیں شبہ ہے کہ کہ انھیں نشہ آور مادہ دیا گیا ہے، پولیس کے پاس باضابطہ شکایت درج کرائے بغیر اپنے خون، پیشاب یا بالوں کے نمونے جانچ کے لیے لیبارٹری بھجوا سکتی ہیں۔
جوسو نے بی بی سی گلوبل ویمن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’لوگ متحرک ہو رہے ہیں، متاثرہ افراد زیادہ تعداد میں سامنے آ رہے ہیں اور زیادہ شکایات درج کرا رہے ہیں، اور یہ اہم بات ہے۔‘
تاہم اس سلسلے میں کچھ مشکلات بھی ہیں۔ انائیس، میری ہیلین اور نیگر کے متعدد دیگر مبینہ متاثرین کو یہ شبہ ہی نہیں ہوا تھا کہ انھیں کوئی نشہ آور مادہ دیا گیا۔ اس کے علاوہ، اگر مبینہ طور پر مادہ دیے جانے کے فوراً بعد جانچ نہ کی جائے تو خون اور پیشاب کے نمونوں میں اس کے آثار ظاہر نہیں ہوتے۔
بالوں میں ایسی ادویات یا مادوں کے آثار زیادہ عرصے تک موجود رہ سکتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کب دیے گئے تھے۔
ریمنڈ پوانکاغے اے پی۔ایچ پی ہسپتال میں اس آزمائشی پروگرام کی نگرانی کرنے والے پروفیسر ژاں کلود الواریز کے مطابق پیشاب آور ادویات (ڈائیوریٹکس) کا اس مقصد کے لیے استعمال ’انتہائی غیر معمولی‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے 26 برس کے تجربے کے دوران انھوں نے اس جیسی کوئی اور مثال نہیں دیکھی۔

لیبارٹری معمول کے مطابق 400 مختلف مادّوں کی جانچ کرتی ہے اور اب فرانس میں خاص طور پر پیشاب آور ادویات کی موجودگی کا بھی پتا لگایا جا رہا ہے۔
انائیس کی نیگر سے ملاقات کو اب 15 سال گزر چکے ہیں، جبکہ انھیں پہلی بار پولیس سے رابطہ کیے سات برس ہو گئے ہیں۔
دیگر بہت سی مدعی خواتین کی طرح انائیس بھی اس بات پر مایوس ہیں کہ مقدمے کو عدالت تک پہنچنے میں اتنا طویل وقت کیوں لگ رہا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق، جس نے تقریباً 30 متاثرہ خواتین کی معاونت کی ہے، مبینہ ملزم اس عرصے کے دوران ملازمین کے امور کے شعبے میں کام کرتا رہا۔
42 سالہ انائیس کہتی ہیں، ’یہ پورا معاملہ اضطراب پیدا کرنے والا ہے اور ہمارے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا جا رہا ہے، اس پر مجھے غصہ آتا ہے۔‘
ان کے مطابق انھوں نے سنہ 2019 میں پہلی بار پولیس کو اپنا بیان دیا تھا، لیکن اس کے بعد 2023 تک مقدمے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی، حالانکہ وہ بارہا ای میل کے ذریعے رابطہ کرتی رہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’چار برس تک میں اس احساس کے ساتھ تنہائی کا شکار رہی ہوں کہ میں ایک متاثرہ خاتون ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ مجھے نظامِ انصاف پر بہت غصہ ہے۔‘
میری ایلین اس طویل انتظار کو ’دوبارہ متاثر ہونے کا احساس‘ قرار دیتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ایک متاثرہ فرد کے طور پر مجھے بار بار یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس واقعے نے میری زندگی پر کیا اثر ڈالا۔ مجھے ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور تفصیلی تحریری معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔‘
ان کے مطابق مقدمے میں تاخیر نے گزرے ہوئے تجربے کا بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’ہمیں ہمیشہ یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہماری بات کو پوری سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خواتین سے وابستہ کالیوپی منگیرو کا کہنا ہے کہ نشہ آور ادویات کے ذریعے کی جانے والی جنسی زیادتی کے سدِباب کے لیے حکومتوں، پولیس اور نظامِ انصاف کو مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ حکام کو ایسے مقدمات میں انتہائی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور مبینہ زیادتی کے مقدمات میں تاخیر ’خواتین کی زندگیاں تباہ کر رہی ہے۔‘
بی بی سی نے مقدمے سے نمٹنے کے حوالے سے ہونے والی تنقید پر فرانسیسی پولیس، عدلیہ اور حکومت سے مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم کسی نے جواب نہیں دیا۔
میری ایلین ایک طویل عرصے تک خاموش رہیں، یہاں تک کہ انھوں نے شرمندگی کے احساس پر قابو پا لیا۔
وہ کہتی ہیں، ’مجھے خود کو چھپانے کی ضرورت نہیں، میں ایک متاثرہ فرد ہوں۔‘
’میرے لیے عوامی طور پر اپنی بات کہنا اہم ہے کیونکہ اس سے بعض خواتین کو اپنی صورتِ حال سمجھنے میں مدد ملی۔ انھیں احساس ہوا کہ وہ بھی متاثرہ ہیں اور پھر انھوں نے شکایت بھی درج کرائی۔‘
’جس دنیا میں ہم رہتے ہیں، وہاں آواز اٹھانا ضروری ہے۔ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک اور جنسی تشدد کے بارے میں کھل کر بات کرنا بہت اہم ہے۔‘















