میر رضا علی کی موت: عدالتی کمیشن کی تشکیل موخر، شرجیل میمن کا سوشل میڈیا مہم کے خلاف این سی سی آئی سے رجوع

Mir Raza Ali

،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

کراچی میں 25 سالہ نوجوان میر رضا علی کی موت کا معاملہ بدستور شہ سرخیوں میں ہے اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات سے انکار کے بعد حکومتِ سندھ نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔

ادھر سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل میمن نے اس معاملے میں انھیں ملوث کیے جانے کی سوشل میڈیا مہم کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کیا ہے۔

میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ملی تھی۔ ان کے اہلخانہ کا ابتدا سے ہی مؤقف رہا ہے کہ انھیں اغوا کرنے کے بعد تشدد کر کے قتل کیا گیا۔

کراچی پولیس ابتدائی طور پر اس تناظر میں تحقیقات کر رہی تھی کہ میر رضا نے خودکشی کی تاہم اہلخانہ کے اصرار اور پولیس سرجن کی جانب سے ابتدائی پوسٹ مارٹم پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد قبر کشائی کے بعد ان کا دوسری بار پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں سامنے آنے والی چوٹوں کی تفصیلات کے بعد خودکشی کا امکان مسترد کرتے ہوئے مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کر دی گئی ہے تاہم دو ہفتے کا وقت گزر جانے کے باوجود پولیس نے تاحال کسی فرد کو اس معاملے میں گرفتار نہیں کیا ہے۔

گیسٹ ہاؤس اور سوشل میڈیا مہم

پاکستانی سوشل میڈیا پر میر رضا علی کی لاش ملنے کے بعد سے ان کی موت کی وجوہات اور ذمہ داران کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے اور اپنے بیٹے راول میمن کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مبینہ مہم کے خلاف این سی سی آئی اے سے شکایت کی ہے۔

یہ شکایت ان کی جانب سے وکلا کے ذریعے کراچی کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں جمع کرائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شرجیل میمن اور ان کے خاندان کے بارے میں ایسی پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں مبینہ طور پر جھوٹے دعوے کیے گئے۔

شکایت کے مطابق نو اگست کو فیس بک کے بعض پیجز اور گروپس پر ایسی پوسٹس شیئر کی گئیں جن میں گلستانِ جوہر کے اس گیسٹ ہاؤس کو، جہاں مبینہ طور پر میر رضا علی کی موت کا واقعہ پیش آیا، شرجیل میمن کی ملکیت قرار دینے کی کوشش کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ اس واقعے کے بعد شرجیل میمن کے بیٹے راول میمن اپنے سکیورٹی گارڈ کے ہمراہ لندن چلے گئے۔

شرجیل میمن کے وکلا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزیر یا ان کے بیٹے کا مذکورہ گیسٹ ہاؤس، میر رضا علی کی موت یا اس واقعے میں ملوث افراد سے کوئی تعلق نہیں۔

یاد رہے کہ گلستان جوہر میں جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی تھی اس کے قریب ایک گیسٹ ہاؤس واقع ہے۔ میر رضا کے والد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ تدفین کے دوسرے روز اس مقام پر گئے تھے اور جب وہ اس گیسٹ ہاؤس پر پہنچے تو انھیں دیکھ کر ملازم فرار ہوگئے تھے۔

MIr Raza Ali

اس بارے میں جب بی بی سی کی جانب سے فیروز آباد تھانے کی تفتیشی شعبے سے رابطہ کیا گیا تھا تو انہوں ںے اس بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا اور صرف اتنا کہا تھا کہ یہ مدعی کی رائے ہے اور تفتیش کے دوران ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔

شرجیل میمن کی جانب سے دائر درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کو تبدیل کیا گیا تاکہ طبی اور فرانزک شواہد میں مبینہ طور پر تبدیلی کی جا سکے۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایک جیسے مواد کا شیئر کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مبینہ طور پر ایک منظم مہم چلائی گئی۔

شرجیل میمن نے این سی سی آئی اے سے درخواست کی ہے کہ ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تحقیقات کی جائیں اور ان کے آئی پی ایڈریسز اور سم کارڈ کی معلومات کا جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ مبینہ مہم کے پیچھے کون لوگ ہیں۔

،ویڈیو کیپشنکراچی کے نوجوان تاجر کی نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا ہے؟

عدالتی کمیشن مؤخر،تفتیش نئی ٹیم کے حوالے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

میر رضا علی کے اہلخانہ کی جانب سے فی الحال اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی ضرورت نہ ہونے کی رائے کے بعد سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاالحسن لنجار نے کہا ہے کہ کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل اتوار کو سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا تھا کہ میر رضا علی کے قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں گی اور سندھ کے وزیراعلیٰ کی سفارش پر سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

تاہم وزیرِ داخلہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے شفافیت یقینی بنانے اور متاثرہ خاندان کو مکمل اطمینان دلانے کے لیے عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے بعد خاندان کا مؤقف ہے کہ انھیں اس نئی ٹیم پر اعتماد ہے اور وہی اس معاملے کی تحقیقات کرے۔

خیال رہے کہ اتوار کو اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو تبدیل کیا گیا ہے اور اب ڈی آئی جی عامر فاروقی اس تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ایس ایس پی ریپڈ رسپانس فورس علی رضا کو کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

کمیٹی میں ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان، ایس پی سینٹرل انویسٹی گیشن انعم تجمل اور سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) زمان ٹاؤن کے ایک افسر بھی شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات اور میر رضا علی کی موت کے حالات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اس مقدمے کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

یاد رہے کہ کراچی میں ’وافلکس‘ نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔

کئی روز گزر جانے کے باوجود پولیس تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی جبکہ میر رضا علی کی لاش اور جائے وقوعہ کے حالات اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے باوجود پولیس یہ گتھی بھی نہیں سلجھا سکی کہ میر رضا علی کی موت کیسے ہوئی۔

جمعرات (چھ اگست) کو اہلخانہ کی درخواست پر مقامی عدالت نے 25 سالہ میر رضا علی کی موت کی ازسر نو تحقیقات کے لیے والد کی جانب سے دائر کردہ قبر کشائی کی درخواست منظور کی تھی۔ عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سندھ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ’جلد از جلد میڈیکو لیگل بورڈ‘ تشکیل دیں تاکہ قبر کشائی کی جا سکے۔

میڈیکو لیگل بورڈ نے قبر کشائی کے بعد میر رضا علی کا دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم کیا اور اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نوجوان تاجر کو لگنے والی گولی ان کے کی کمر سے جسم میں داخل ہو کر سینے سے باہر نکلی تھی۔

Mir Raza Ali
،تصویر کا کیپشنمیر رضا علی کے والد میر حسین

چار صفحات پر مشتمل پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کی کمر کے بالائی حصے پر گولی لگنے کا نشان موجود تھا، جبکہ گولی چھاتی کے اگلے حصے سے باہر نکلی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے نتیجے میں پسلیاں ٹوٹنے کے ساتھ میر رضا کے دل کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ڈاکٹروں کو میر رضا کی پیشانی کے دائیں جانب اور ناک کی ہڈی پر شدید چوٹ کے نشانات بھی ملے ہیں جبکہ اوپری دانتوں اور جبڑے کے قریب خون جما ہوا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میر رضا کی کھوپڑی کے پچھلے حصے میں بھی فریکچر کی نشاندہی ہوئی ہے اور میڈیکل بورڈ کے مطابق یہ تمام چوٹیں موت سے قبل لگنے والی تھیں۔

مزید فرانزک تحقیقات کے لیے میڈیکل بورڈ نے میر رضا کی بال، دانت، ہڈیوں کے ٹکڑے، کفن کے کپڑے کا ایک ٹکڑا اور گولی کی باقیات کی جانچ کے لیے نمونے حاصل کیے ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے اس ابتدائی رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔

میڈیکل بورڈ نے فی الحال موت کی حتمی وجہ نہیں بتائی ہے جو کیمیائی تجزیے اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔