کیا رانوں کا بڑا ہونا، طویل عمر پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے؟

    • مصنف, کیٹ بووی
    • عہدہ, گلوبل ہیلتھ، بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

برطانوی سے تعلق رکھنے والی خاتون تاشا تھامپسن جب بھی اپنی رانوں کے بارے میں سوچتیں، تو اُن کے ذہن میں یہی خیال آتا کہ ’کاش یہ اتنی بڑی نہ ہوتیں۔‘

دنیا کے بعض ممالک میں خواتین کی پتلی ٹانگوں کو خوبصورتی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ شاید اِسی تناظر میں تاشا تھامپسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر آپ اِن توقعات پر پورا نہ اُتریں تو آپ خود کو کسی حد تک ناکام محسوس کر سکتے ہیں۔‘

تاہم اب ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ بڑی رانوں پر تنقید غیرمنصفانہ ہے اور درحقیقت اُن کا تعلق طویل عمری سے جوڑا جا رہا ہے۔

25 ہزار شرکا پر مشتمل ایک مطالعے کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ران کے گھیراؤ (یعنی اُن کے سائز) میں ہر پانچ سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ (کسی بھی وجہ سے) موت کے خطرے میں 18 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

لیکن کیا اس کا واقعی یہ مطلب ہے کہ ہمیں طویل عمر پانے کے لیے اپنی رانوں کے حجم کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے؟

رانیں بڑی ہونے کے فوائد

ماہرین کا خیال ہے کہ سنہ 2020 میں ہونے والی تحقیق (تجزیے) میں شامل افراد کی زیادہ عمر پانے کی ایک ممکنہ وجہ یہ تھی کہ اُن کی ٹانگوں کے پٹھے بڑے تھے جس کی وجہ سے اُن کی رانوں کا حجم بھی زیادہ تھا۔

برطانیہ کے کنگز کالج لندن میں بڑھاپے اور صحت کی پروفیسر کلیئر سٹیوز کے مطابق ’اس بات کے بہت مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ران کے پٹھوں کا صحت اور طویل عمر کے ساتھ بہت مضبوط تعلق ہے۔‘

جسم میں زیادہ پٹھے ہونے سے خون میں شوگر کی سطح کو منظم رکھنے میں مدد ملتی ہے، جس سے ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دیگر دائمی امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

سنہ 2009 میں ’برٹش میڈیکل جرنل‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق مردوں اور خواتین دونوں میں چھوٹی رانوں کا تعلق دل کی بیماری اور موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے پایا گیا۔

مضبوط رانیں عمر رسیدہ افراد میں جسمانی کمزوری سے بچاؤ اور بڑھاپے میں خودمختار زندگی برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

سٹیوز لندن کے گائز اینڈ سینٹ تھامس ہسپتال میں عمر رسیدہ افراد کی معالج بھی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ران کے اگلے حصے کے پٹھے (کواڈز) بڑھاپے میں جسمانی کارکردگی کے لیے بے حد اہم ہیں کیونکہ یہی وہ پٹھے ہیں جو آپ کو کرسی سے اٹھنے اور چلنے پھرنے کے قابل بناتے ہیں۔‘

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ٹانگوں سے ملنے والی طاقت بڑھاپے میں دماغ کو بہتر طریقے سے چلانے میں مدد دے سکتی ہے۔

300 سے زیادہ جڑواں خواتین پر کی گئی ایک تحقیق میں ٹانگوں کی طاقت کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق کے آغاز پر جس جڑواں بہن کی ٹانگوں کی طاقت زیادہ تھی، 10 سال بعد اس کی ذہنی صلاحیت اور دماغی ساخت نسبتاً بہتر تھی۔

اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

فعال پٹھے ایسے کیمیائی مادے خارج کرتے ہیں جن کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ سوزش کم کر کے اور دماغی نیٹ ورکس کو تحفظ فراہم کر کے بڑھتی عمر کے ساتھ دماغ کی حفاظت کرتے ہیں۔

سٹیوز بھی اس تحقیق میں شامل تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جسمانی سرگرمی ہمارے مدافعتی نظام پر بھی بہت مضبوط اثر ڈالتی ہے۔

کنگز کالج لندن کی ایک اور تحقیق میں انتہائی متحرک عمر رسیدہ سائیکل سواروں کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان کا مدافعتی نظام نسبتاً جوان افراد جیسا تھا اور بعض صورتوں میں یہ 20 برس کی عمر کے لوگوں کے مدافعتی نظام سے بھی مماثلت رکھتا تھا۔

آپ اپنی رانوں کو کیسے مضبوط بنا سکتے ہیں؟

فٹنس کوچ الزبتھ ڈیوس اِس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ لوگوں کو اپنی رانوں کی مخصوص شکل کو تبدیل کرنے کے بجائے لمبی عمر کے لیے پٹھوں کی ساخت پر توجہ دینی چاہیے۔

’ٹریننگ فار یوراولڈ لیڈی باڈی‘ کے مصنف ڈیوس کہتے ہیں کہ ’اگر آپ نے برسوں اس خواہش میں گزارے ہیں کہ آپ کی رانیں چھوٹی، مختلف نظر آئیں، تو اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اس ذہنیت کو پیچھے چھوڑ دیں۔ آئیے اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ کی رانیں کیا کر سکتی ہیں۔

وہ زور دیتی ہیں کہ رانیں چھوٹی یا بڑی ہو سکتی ہیں، مگر پھر بھی طاقتور ہو سکتی ہیں۔

سائنس بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ جسمانی حجم کے بجائے طاقت پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے۔ سنہ 2006 میں 70 سال کی عمر کے افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ معلوم ہوا کہ ٹانگوں کے کمزور پٹھے، محض پٹھوں کے چھوٹے سائز کے مقابلے میں، موت کے خطرے کی زیادہ مضبوط پیش گوئی کرتے تھے۔

ڈیوس کے مطابق اگر آپ اپنی رانوں کی طاقت بڑھانا چاہتے ہیں تو وزن اٹھانے کی ورزش بہترین اور معیاری طریقہ ہے۔ وزن اٹھانے والی ورزشوں کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ ہڈیوں کی کثافت میں اضافہ کرتی ہیں اور آسٹیوپوروسس سے بچاؤ میں مدد دیتی ہیں۔ آسٹیوپوروسس ایک ایسی بیماری ہے جو ہڈیوں کو کمزور اور نازک بنا دیتی ہے، جس کے باعث اُن کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈیوس تجویز کرتی ہیں کہ ہفتے میں دو یا تین بار ٹانگوں کی ورزش سے اس کا آغاز کرنا ایک بہترین آغاز ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہی سب سے اہم بات ہے کہ آپ اپنی موجودہ جسمانی صلاحیت کے مطابق آغاز کریں اور پھر وقت کے ساتھ ورزش میں اضافہ کرتے جائیں۔‘

ممکن ہے کہ وزن اٹھانے والی ورزش آپ کی پسندیدہ ورزش نہ ہو، لیکن ڈیوس اپنے کلائنٹس کو ترغیب دیتی ہیں کہ وہ اسے اپنی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ سمجھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اپنے دانتوں کو فلاس کرنا پسند نہیں، لیکن میں یہ اس لیے کرتی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ یہ میری صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔‘

ڈیوس ہمیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی غور کرنے کی ترغیب دیتی ہیں ’جو ہمیں طاقت بڑھانے والی ورزش سے لطف اندوز ہونے پر آمادہ کرتی ہیں۔‘

کیا رانوں کی چربی کے کوئی فوائد ہیں؟

ران کی چربی اتنی بُری نہیں ہے، جتنی جسم کے دیگر حصوں میں موجود چربی۔ خاص طور پر پیٹ کے ارد گرد موجود چربی سے جو پریشانی کا باعث ہو سکتی ہے۔

سٹیوز کہتی ہیں کہ اعضا کے اردگرد موجود چربی ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کی بیماری، جگر اور کینسر جیسے خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔

مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ جسم کے نچلے حصے میں چربی ایک حفاظتی کردار بھی ادا کر سکتی ہے، کیونکہ جسم کے اس حصے میں موجود چربی کے خلیے نقصاندہ فیٹی ایسڈ کے خلاف متحرک رہتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ران کی چربی کولیسٹرول کو کنٹرول کرتی ہے جبکہ خون میں شکر کی سطح کو کم کرنے میں معاون ہوتی ہے۔

یہ اس صورت میں بھی مفید ہو سکتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی بیماری کے دوران جسم میں توانائی کے ہنگامی ذخیرے کے طور پر کام کرتی ہے، اور یہ خاص طور پر بزرگ افراد کے لیے مفید ہے۔

ران میں دوسرا اہم ٹشو ہڈی ہے۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے، ہم سرکوپینیا نامی حالت کے ذریعے پٹھوں اور طاقت کھو سکتے ہیں۔

سرکوپینیا، آسٹیوپوروسس کے عمل کو تیز کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ہماری ہڈیاں اپنی کثافت کھو دیتی ہیں اور زیادہ نازک و کمزور ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے مضبوط ہڈیوں کا ہونا، جنھیں وزن اٹھانے کی ورزش کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے، عمر بڑھنے کے دوران صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اپنی طاقت کا جشن منائیں

اپنی رانوں کی ظاہری شکل کے بجائے اُن کی صلاحیت اور کارکردگی پر توجہ دینے سے، تھامسن اپنے بارے میں سوچنے کا انداز بدلنے میں کامیاب رہی ہیں۔

اُن کے مطابق، ماں بننے کے بعد انھوں نے اپنی رانوں کے بارے میں (اُن کی اپنی جانب سے) استعمال ہونے والی زبان بھی تبدیل کر دی ہے۔

تھامسن کہتی ہیں کہ ’میں اپنی رانوں کو موٹی یا بڑی کہنے کے بجائے طاقتور کہتی ہوں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’ہم سب مختلف جسمانی ساخت اور جسامت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اصل بات یہ نہیں کہ آپ کا جسم کیسا دکھائی دیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیا کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘