’محمد حسین عمران خان کا دیوانہ تھا، قانون سے مکمل تعاون کریں گے‘

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’برادری، علاقے کے لوگوں، محلے داروں، گھر والوں اور ہمیں کچھ پتا نہیں کہ حسین کیسے راولپنڈی پہنچ گیا اور اس کے پاس پستول کیسے آیا تھا۔ یہ گذشتہ تین سال سے شدید ٹینشن میں تھا اور بھائی اس کا علاج کروا رہے تھے۔ البتہ وہ عمران خان کا عاشق اور دیوانہ تھا۔ یہ بات سارا علاقہ اور لوگ جانتے ہیں۔‘

ان خیالات کا اظہار راولپنڈی کے مال روڈ پر ہلاک ہونے والے محمد حسین کے کزن نیاز ولی نے بی بی سی نیوز اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

واضح رہے کہ راولپنڈی پولیس نے گذشتہ روز اپنی ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا کہ راولپنڈی کی مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کرنے والا مسلح شخص جوابی کارروائی میں مارا گیا ہے۔ ملزم کی شناخت محمد حسین کے نام سے کی گئی اور حکومت نے اسے پاکستان تحریک انصاف کا سرگرم کارکن قرار دیا تھا۔

پی ٹی آئی نے اگرچہ تسلیم کیا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص جماعت کا کارکن تھا تاہم جماعت نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کا کیا کہنا ہے؟

ترجمان راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح تقریباً گیارہ بجے پیش آیا۔ جہاں محمد حسین نامی شخص نے سکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پراپنے پاس موجود پستول سے سیدھی فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کا ایک جوان زخمی ہوا۔ پٹرولنگ ٹیم نے فوری پوزیشن سنبھالتے ہوئے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں، اہم دستاویزات اور تحریک انصاف کا جھنڈا برآمد ہوا ہے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور دیگر سامان کی ابتدائی فرانزک سے اہم روابط کے شواہد ملے ہیں جس پر مزید تفتیش جاری ہے۔

محمد حسین کون تھے؟

اس واقعے میں سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں مارے جانے والے 22 سالہ محمد حسین کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ سے تھا۔

ان کے کزن نیاز گل نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ محمد حسین کے والدین وفات پا چکے ہیں جبکہ ان کے دو بھائی سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں اور ایک بھائی صوبائی محکمہ تعلیم میں ملازم ہیں جنھوں نے والدین کی وفات کے بعد محمد حسین کی پرورش بھی کی تھی۔

نیاز گل کے مطابق محمد حسین کی ہلاکت کے بعد ان کے بڑے بھائی کو تفتیش کی غرض سے حراست میں لیا گیا ہے تاہم حکام کی جانب سے ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

نیاز گل کا کہنا تھا کہ علاقے کے سب لوگ محمد حسین کو ’عمران خان کا عاشق‘ ہونے کی وجہ سے جانتے ہیں۔ ’تحریک انصاف کا جلسہ کسی بھی جگہ اور کسی بھی مقام پر ہو محمد حسین تحریک انصاف کا جھڈا اٹھا کر ضرور پہنچتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مختلف مسائل کی وجہ سے محمد حسین اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ وہ زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرپائے تھے جس وجہ سے ان کے بھائی نے ان کو ڈرائیونگ سکھائی تھی تاکہ ان کو ڈرائیونگ کے لیے سعودی عرب بھج دیا جائے۔ ان کے لیے ویزہ حاصل کیا جا رہا تھا کہ یہ واقعہ پیش آگیا ہے۔‘

’ان کے بھائیوں نے گذشتہ کچھ عرصے سے ان کو جیب خرچ دینا بھی بند کردیا تھا تاکہ وہ اپنے علاقے سے باہر نہ جا سکیں اور نہ ہی کسی سرگرمی میں حصہ لے سکیں۔ یہ زیادہ تر اپنے حجرے میں ہوتے تھے جہاں پر یہ مہمانوں کا خیال رکھتے تھے۔‘

علاج جاری تھا

نیاز ولی کا کہنا تھا کہ ’کچھ برسوں سے ہم دیکھ رہے تھے کہ محمد حسین شدید ٹینشن کا شکار تھا اور کچھ نفسیاتی مسائل بھی تھے۔ اس کے بھائی اس کا علاج بھی کروا رہے تھے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس بھی آتا جاتا تھا اور کچھ ادویات بھی کھاتا تھا۔‘

راولپنڈی میں پیش آنے والے واقعے پر بات کرتے ہوئے نیاز ولی کا کہنا تھا کہ ’ہم ابھی تک حیران و پریشان ہیں کہ یہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ اس واقعہ کا ہم سب سے، اس کے اپنے بھائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

نیاز ولی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کچھ پتا نہیں محمد حسین نے کیا کیا ہے۔‘

ہمارا سارا خاندان قانون کے مطابق چلنے والے لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہم قانون کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے لوگوں سے بھی کہا ہے کہ ابھی وہ ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہ کرئیں کیونکہ ہمیں لاش نہیں ملی ہے۔ جب لاش مل جائے گی تو اپنے علاقے کے رسم و رواج کے مطابق باقاعدہ نماز جنازہ کا اعلان کرئیں گے۔

محمد ہاشم باڑہ سیاسی اتحاد کے رہنما ہیں۔ انھوں نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ مشران کا ایک جرگہ ڈپٹی کمشنر سے ملا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ علاقے کے لوگ قانون کے ساتھ مکمل تعاون کرئیں گے۔ محمد حسین کے بڑے بھائی اس وقت زیر تفتیش ہیں ان کو تفتیش کا عمل مکمل ہونے کے بعد چھوڑا جائے اور لاش حوالے کی جائے تاکہ اس کی تدفین کر سکیں۔

سیاسی ردعمل اور بیان بازی

اس واقعے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڈ نے اپنے ردِعمل میں کہا تھا کہ ’سیاسی احتجاج کے نام پر سکیورٹی اہلکاروں پر سرِعام فائرنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری نے اسی حوالے سے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف کی قیادت اس سنگین اقدام سے خود کو الگ نہیں کر سکتی۔ ’جب آپ مسلسل اپنے کارکنوں کی ایسی ذہن سازی کریں گے تو اس کے نتائج اسی طرح کے پرتشدد واقعات کی صورت میں نکلیں گے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اور علاقائی رہنماؤں نے حکومت کے الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے۔

تحریک انصاف کے چیرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کا دہشت گردی یا کسی بھی قسم کے پرتشدد واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے بغیر کسی ٹھوس انکوائری کے واقعے کا ملبہ فوری طور پر پی ٹی آئی پر ڈالنا بدنیتی پر مبنی ہے۔

ادھر باڑہ سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی تنظیم ہے اور عسکری تنظیم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد حسین نے اپنے کسی ذاتی فعل سے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو وہ خود ذمہ دار ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا ’جس طرح محمد حسین کی فوٹیجز جاری کی گئی ہیں کہ وہ کسی مارچ میں جا رہا ہے، کسی قائد سے مل رہا ہے تو اسی طرح یہ واقعہ انتہائی حساس علاقے میں پیش آیا ہے اس کی بھی فوٹیج جاری کی جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’قانون ہاتھ میں لینے والا، چاہے کوئی بھی ہو، ضلعی صدر ہو، میں ہوں یا کوئی بھی ہو یہ اس کا ذاتی عمل اور فعل ہو گا اور خود ذمہ دار ہو گا۔ تحریک انصاف کسی بھی دہشت گردی اور خلاف آئین قدم کی حمایت نہیں کرتی ہے۔‘