آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خفیہ پولیس اور پروپیگنڈا: امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرتے چینی ایجنٹ
- مصنف, میڈلین ہالپرٹ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
نیویارک کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک مین ہٹن میں واقع چائنا ٹاؤن کے مرکز میں ایک مصروف سڑک پر رامن کی ایک دکان کے اوپر قائم شیشوں والی عمارت دیکھنے میں تو بظاہر کسی بھی دوسری دفتری عمارت جیسی نظر آتی ہے۔ اس سڑک پر چینی ریستورانوں، کریانے کی دکانوں اور رہائشی عمارتوں کی بھرمار ہے۔
سنہ 2022 میں چینی نژاد کمیونٹی کے ایک ادارے کے 64 سالہ سربراہ لو جیان وانگ نے اس عمارت کی ایک منزل پر اپنا دفتر قائم کیا۔
ان کے وکلا کے مطابق وہ یہاں بیرونِ ملک مقیم چینی شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید میں مدد دینا چاہتے تھے اور کانفرنس روم میں ان کے ٹیبل ٹینس جیسی سرگرمیوں کے انعقاد کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔
تاہم کچھ ہی عرصے بعد فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اس جگہ پر چھاپہ مارا۔ ان کا الزام ہے کہ لو نے چینی حکومت کی ہدایات پر امریکہ میں مبینہ طور پر پہلا غیر ملکی ’پولیس سٹیشن‘ قائم کر رہے تھے۔
اس ہفتے انھیں چین کے لیے بطور غیر ملکی ایجنٹ کام کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس سے چند روز قبل ہی کیلیفورنیا کے ایک سیاست دان نے بھی اسی نوعیت کے الزامات میں جرم کا اعتراف کیا ہے۔
ریاست کیلیفورنیا کے شہر آرکیڈیا کی میئر ایلین وانگ نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے چینی نژاد امریکی کمیونٹی کے لیے بنائی گئی ایک ویب سائٹ پر چینی حکومت کی جانب سے پروپیگنڈا پوسٹ کیا۔
یہ دونوں سزائیں اسی ہفتے سنائی گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک غیر معمولی ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچے تھے۔ چین کے دورے کے دوران ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے جاسوسی جیسے حساس امور پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے اپنی توجہ تجارتی معاملات پر مرکوز رکھی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں سامنے آنے والے یہ دونوں کیسز پچھلی ایک دہائی کے دوران چین کی جانب سے عالمی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق چین ایک جانب ’سافٹ پاور‘ یعنی بیرونِ ملک منصوبوں اور صنعتوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، تو دوسری جانب خفیہ طریقوں کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لورین ولیمز سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا ادارہ سنہ 2000 سے امریکہ میں چینی جاسوسی کے معاملات پر نظر رکھتا آ رہا ہے۔
ولیمز کہتی ہیں کہ یہ ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا اور چین کے بارے میں ایک واضح بیانیہ تشکیل دینا ہے اور یہ اب کام کہیں زیادہ کھلے عام کیا جا رہا ہے۔
مہجونگ، ٹیبل ٹینس اور بیرونِ ملک ’پولیس سٹیشن‘
بروکلین میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے مقدمے کے دوران لو کو چینی برادری کے درجنوں ارکان کی حمایت حاصل رہی۔ اگر ان پر غیر قانونی ’پولیس سٹیشن‘ سے متعلق الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انھیں 30 سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چین پر دنیا بھر میں اس نوعیت کے مراکز قائم کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں۔۔ اور اطلاعات کے مطابق 53 ممالک میں ایسے کم از کم 100 مراکز موجود ہیں۔
گذشتہ ہفتے ہی برطانیہ میں محکمۂ امیگریشن کے ایک اہلکار کو ایک ’خفیہ پولیسنگ آپریشن‘ کے تحت چینی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے کا مجرم قرار پایا ہے۔
چینی حکومت بعض اوقات ان مراکز کے وجود سے انکار کرتی رہی ہے یا وہ انھیں ایسے مقامات قرار دیتی ہے جہاں رضاکار اپنے ہم وطنوں کو انتظامی امور میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
چین کی وزارتِ عوامی سلامتی نے 2023 میں کہا تھا ’یہ کسی بھی طور پر نام نہاد پولیس سٹیشن یا پولیس سروس سینٹرز نہیں۔‘ اس معاملے پر بی بی سی نے امریکہ میں چینی سفارت خانے سے بھی مؤقف لینے کی کوشش کی ہے۔
لندن میں ’خفیہ چینی پولیس سٹیشنز‘ کے حوالے سے ہونے والی ایک پولیس تحقیق میں پایا گیا کہ ’کسی مجرمانہ سرگرمی‘ کا ارتکاب نہیں ہوا ہے۔
64 سالہ لو چینی برادری کے ایک گروپ امریکن چانگلے ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ وہ محض لوگوں کو ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید میں مدد دینا اور مہجونگ اور ٹیبل ٹینس جیسی سماجی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا چاہتے تھے۔
ان کے وکیل جان کارمن نے عدالت میں کہا یہ کوئی جاسوسی فلم نہیں بلکہ لائسنس کی تجدید کا معاملہ ہے۔
تاہم استغاثہ کا کہنا ہے کہ لو اس دفتر کو چین کے ناقدین پر نظر رکھنے جیسے مشتبہ مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
استغاثہ کے مطابق ایک موقع پر چینی حکام نے لو سے چین کے ایک دیرینہ ناقد شو جے کی امریکہ میں موجودگی کی ’تصدیق‘ کا کہا۔ شو جے 2013 میں چین سے فرار ہو گئے تھے۔
لو کے شریک ملزم چن جن پنگ پہلے ہی اس مرکز کے قیام میں مدد دینے اور غیر مجاز غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
’وسیع پیمانے پر جاسوسی کا نظام‘
ڈگلس لندن جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے 34 برس سی آئی اے افسر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک اختلافِ رائے کو دبانا چین کی وسیع تر جاسوسی مہم کا محض ایک پہلو ہے۔ اس کے علاوہ اس مہم میں ہیکنگ، عسکری اور ٹیکنالوجی کے راز چرانا اور دیگر حساس معلومات حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ لائل مورس کے بقول چین برسوں سے وسائل، افراد اور مالی معاونت کے ایک ’وسیع نیٹ ورک‘ کے ذریعے بیرونِ ملک اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے گلوبل چائنا ہَب سے وابستہ کلیئر چو کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ناقدین پر نظر رکھنے کی حکمت عملی اس سوچ سے جڑی ہے کہ تنقید ملک کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
مورس کے مطابق چینی حکومت کا یہ بھی ماننا ہے کہ مغربی ممالک چین کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کے لیے چین کے ناقدین کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب مغربی ممالک چینی ناقدین کو اظہارِ خیال کا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں تو چین اسے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مورس کہتے ہیں کہ چین اس دلیل کو نہیں مانتا کہ یہ آزاد اظہارِ رائے پر مبنی صحت مند جمہوریت کا حصہ ہے۔
ان کے مطابق چینی حکومت ناقدین کو خاموش کروانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ اس میں ان افراد کے موبائل فونز کی نگرانی یا بعض اوقات ناقدین کو ہی اپنے ساتھیوں پر نظر رکھنے کے لیے تیار کرنا شامل ہے۔
مورس کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے خاندان چین میں موجود ہوتے ہیں ان کے لیے یہ صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ وہ حکومتی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
طویل عرصے سے بیجنگ امریکی حکومت اور کاروباری حلقوں میں موجود بااثر افراد سے تعلقات استوار کرنے کی بھی کوشش کرتا آیا ہے۔ وہ ان افراد کو ’ٹیلنٹس‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔
اسی تناظر میں چین نے آرکیڈیا کی میئر ایلین وانگ کو نشانہ بنایا۔
استغاثہ کے مطابق ایلین وانگ نے ایک مضمون شائع کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں نہ تو کوئی نسل کشی ہو رہی ہے اور نہ ہی جبری مشقت کا کوئی وجود ہے۔
چین کو سنکیانگ کے مسلم ایغور آبادی والے شمال مغربی خطے میں وہاں کی مقامی کی آبادی کے ساتھ اپنے برتاؤ کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ چینی حکومت کی جانب سے اس علاقے کے لاکھوں افراد کو کیمپوں میں رکھے جانے اور جبری مشقت پر مجبور کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ چین ان کیمپوں کو ’ازسرِ نو تعلیم‘ کے مراکز قرار دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے مقدمات امریکی استغاثہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں کیونکہ ان کی تعداد زیادہ ہے اور انھیں ثابت کرنے کے لیے برسوں کی محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
ڈگلس لندن کے بقول چین جاسوسی کو ’بڑے پیمانے پر کی جانے والی سرگرمی‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی حکام آئندہ بھی سنگین نوعیت کے کیسز کو ترجیح دے سکتے ہیں، تاہم اس سے چین کی ان سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
لورین ولیمز کا کہنا ہے کہ ’ان حالیہ مقدمات کو دیکھتے ہوئے لگتا تو نہیں کہ اس میں کوئی کمی آ رہی ہے۔‘