24 میچ دیکھنے کے لیے 50 ہزار کلومیٹر کا سفر: فیفا کے صدر اور اُن کے زیر استعمال نجی طیارہ تنقید کی زد میں کیوں؟

- مصنف, جیک ہارٹن، ٹام شیئل، کیارن ورلے اور کیٹی گورنل
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے فٹبال کے جاری ورلڈ کپ کے دوران لگ بھگ دو ہفتوں میں 24 میچوں میں شرکت کی ہے اور اِس کے لیے انھوں نے ہزاروں میل کا فضائی سفر کیا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ کے میچز امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے 16 شہروں میں ہو رہے ہیں، اس مرتبہ گروپ مرحلے میں توسیع کے باعث میچوں کی تعداد پہلے کے فیفا ایونٹس سے کہیں زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ ورلڈ کپ 2026 کی پائیداری اور انسانی حقوق کی حکمتِ عملی سے متعلق بیان میں فیفا کے صدر دعویٰ کر چکے ہیں کہ ’چاہے کائمیٹ (آب و ہوا) کی بات ہو یا انسانی حقوق کی، بیماریوں کی بات ہو یا معذوریوں کی، ہم اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘
بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی سپورٹ ایک ایسے نجی طیارے کو ٹریک کر رہے ہیں، جو فیفا اور اُس کے صدر جیانی انفینٹینو سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔ اس جیٹ نے ٹورنامنٹ کے آغاز کے بعد سے 27 پروازیں کی ہیں۔
فیفا کے صدر نے کتنی مسافت طے کی؟
جیانی انفینٹینو نے فیفا ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے دوران متعدد مواقع پر اور کئی بار ایک ہی دن میں دو ایسے میچوں میں شرکت کی جو اکثر ایک دوسرے سے سینکڑوں میل دور شہروں میں منعقد ہوئے۔ اور بعض دنوں میں انھوں نے تین الگ پروازیں بھی لیں۔
اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل انھیں قطر ایئرویز کے ایگزیکیٹیو جیٹ میں سفر کرتے دیکھا گیا تھا اور بتایا گیا کہ وہ اس ورلڈ کپ میں گلف سٹریم G650ER طیارہ استعمال کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے فیفا سے اس کی تصدیق چاہی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ تاہم ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جہاز انھی شہروں میں موجودہ تھا جہاں اُنھی تاریخوں پرجیانی انفینٹینو کو میچ دیکھتے ہوئے دیکھا گیا۔

فیفا کے صدر کی سب سے طویل پرواز 2,800 میل (4,507 کلومیٹر) رہی جب وہ 13 جون کو وینکوور سے میامی گئے، جہاں انھوں نے آسٹریلیا اور ترکی کا میچ دیکھا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اس دوران کچھ مختصر سفر بھی کیے۔ 22 جون کو یہ جیٹ فلاڈیلفیا سے نیو جرسی کے ٹیٹربورو ایئرپورٹ تک 92 میل (148 کلومیٹر) پرواز کر کے گیا۔
جیانی انفینٹینو نے وہاں کوئی میچ نہیں دیکھا تاہم اگلی صبح قریب واقع نیویارک میں فاکس نیوز کے سٹوڈیو میں اُن کا انٹرویو ریکارڈ ہوا، اس کے بعد وہ اُسی روز بوسٹن اور ٹورنٹو میں میچ دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔
جیانی انفینٹینو کا ایک ہی دن میں سب سے طویل سفر 15 جون کو سامنے آیا جب وہ میامی سے سئیٹل، یعنی امریکہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک، 2,700 میل (4,000 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کر کے بیلجیئم اور مصر کا میچ دیکھنے گئے۔
اس کے بعد وہ تقریباً 960 میل (1,545 کلومیٹر) جنوب کی جانب لاس اینجلس گئے جہاں شام کو انھوں نے ایران اور نیوزی لینڈ کا میچ دیکھا۔
سفر کا ایک اور بڑا دن 26 جون تھا جب یہ جیٹ میامی سے روانہ ہوا اور ڈیلس میں مختصر قیام کے بعد پھر سئیٹل پہنچا جہاں فیفا کے صدر کو مصر اور ایران کے میچ میں دیکھا گیا۔
یہ طیارہ وہاں پانچ گھنٹنے رکنے کے بعد سئیٹل سے روانہ ہوا اور مزید 2,700 میل (4,345 کلومیٹر) پرواز کر کے اگلی صبح واپس میامی پہنچا۔
انفانیٹینو نے اگلے روز میامی میں گروپ مرحلے کا اپنا 24واں اور آخری میچ دیکھا جہاں پرتگال اور کولمبیا مد مقابل تھے۔
بی بی سی کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر یہ نجی جیٹ ٹورنامنٹ کے آغاز سے 27 جون تک کم از کم 31,144 میل (50,122 کلومیٹر) سفر کر چکا ہے اور 66 گھنٹوں سے زیادہ وقت فضا میں گزار چکا ہے۔
کاربن اخراج کی مقدار

،تصویر کا ذریعہGetty Images/Instagram
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نجی جیٹ کا استعمال عموماً سب سے زیادہ کاربن پیدا کرنے والے سفر کے ذرائع میں سمجھا جاتا ہے۔ اس سے گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں جو فضا کو گرم کرتی ہیں اور عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی کے عمل کو بڑھاوا دیتی ہیں۔
گلف سٹریم G650ER (جس طیارے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انفانیٹینو اسے استعمال کر رہے ہیں) کا اوسط ایندھن خرچ تقریباً 1,817 لیٹر فی گھنٹہ ہے۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ گروپ مرحلے کے دوران اس طیارے کے سفر سے اندازاً 516 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی (CO2e) اخراج ہوا۔
اِن وہ گیسیں بھی شامل ہوتی ہیں جو براہِ راست خارج ہوتی ہیں اور اس میں ہوابازی کے بالواسطہ اثرات بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
یہ صرف اندازے ہیں کیونکہ اصل اخراج کی درست مقدار معلوم نہیں ہو سکتی جبکہ طیارے کے اڑان بھرنے اور لینڈنگ کے وقت ایندھن زیادہ مقدار میں استعمال ہوتا ہے۔
یورپی یونین کے مطابق دنیا میں ہر شخص کا سالانہ اوسط اخراج 6.56 ٹن CO2e ہے۔
اسی لیے اندازہ ہے کہ انفانیٹینو کے سفر سے دو ہفتوں سے کچھ زیادہ عرصے میں اتنا کاربن اخراج ہوا جتنا تقریباً 78 افراد ایک سال میں کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس طیارے میں زیادہ سے زیادہ 19 افراد کی گنجائش ہوتی ہے لیکن ہمیں نہیں معلوم ہر پرواز میں کتنے لوگ اس پر سوار تھے، اس لیے فی مسافر کاربن اخراج کا درست حساب ممکن نہیں۔
فیفا کے ایک ترجمان نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ ’فیفا کے صدر معمول کے مطابق متعلقہ عہدیداروں کے ہمراہ کاروباری اور ٹورنامنٹ سے متعلق اُمور نمٹانے کے لیے سفر کرتے ہیں اور جب بھی ممکن ہو فیفا کے رُکن تنظیموں کا دورہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
’کچھ مواقع پر سفر کم لاگت والی کمرشل ایئرلائنز کے ذریعے کیا جاتا ہے اور بعض اوقات نجی چارٹر طیارے پر، اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ حالات کے مطابق کون سا طریقہ زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہے۔‘
بی بی سی نے فیفا سے پوچھا کہ آیا ورلڈ کپ کے میچوں کے لیے کسی بھی پرواز میں تجارتی ایئرلائنز استعمال کی گئیں، قطر ایئرویز کے ایگزیکٹیو جیٹ میں کتنے لوگ سفر کرتے ہیں؟
تاہم ان سوالات کا بی بی سی کو جواب نہیں دیا گیا۔
کول ڈاؤن نامی سپورٹس کلائمٹ ایکشن نیٹ ورک سے وابستہ فریڈی ڈیلی نے کہا کہ ورلڈ کپ کے دوران انفانیٹینو کا مبینہ طور پر نجی جیٹ کا استعمال ’ماحولیات اور پائیداری کے حوالے سے فیفا کی ناکامیوں کی علامت ہے۔‘
سسیکس یونیورسٹی سے بطور محقق منسلک فریڈی ڈیلی نے کہا کہ ’انفانیٹینو کا نجی جیٹ استعمال کرنے کا فیصلہ قیادت کی صف میں موجود افراد کے معیارات سے مکمل طور پر متصادم ہے جو ہمیں ماحولیاتی مسائل پر فیفا کی اعلیٰ قیادت سے توقع کرنے کی ضرورت ہے۔‘
یورپی فیڈریشن فار ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرنمنٹ سے وابستہ پائیدار سفر کی ماہر ڈینیز اوکلیر کے مطابق نجی جیٹس کا اثر ’بالکل غیر متناسب‘ ہوتا ہے۔ یہ تجارتی طیاروں کے مقابلے میں پانچ سے 14 گنا زیادہ اور ٹرینوں کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں۔‘
اس ورلڈ کپ سے قبل فیفا کے ماحولیاتی وعدے کیا تھے؟
یاد رہے کہ فیفا نے سنہ 2030 تک اخراج میں 50 فیصد کمی اور سنہ 2040 تک نیٹ زیرو ہدف حاصل کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔
اس سال کے ٹورنامنٹ کے لیے عالمی فٹبال کی نگران تنظیم نے متعدد ماحولیاتی وعدے کیے جو کچھ یوں ہیں:
- ٹیموں کی علاقائی بنیادوں پر میزبانی جس سے ’شرکا کی ایک بڑی تعداد کے لیے طویل فاصلے کے سفر پر انحصار کم ہوتا ہے‘
- الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال، عوامی نقل و حمل اور پانی کے تحفظ کو فروغ دے کر توانائی کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کی کوششیس
- پہلے سے موجود سٹیڈیمز کا استعمال
تاہم 11 جون کو پہلا میچ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹورنامنٹ کے حجم کے پیش نظر کچھ ماحولیاتی سائنسدانوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔
ایس جی آر کی سنہ 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ورلڈ کپ کا مجموعی کاربن فٹ پرنٹ 90 لاکھ ٹن CO2e تک پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ گذشتہ چار ورلڈ کپس کی اوسط کے تقریباً دو گنا کے برابر ہو گا، جس سے یہ رواں سال کا سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والا ٹورنامنٹ بن جائے گا۔
سنہ 2023 میں ایک سوئس ریگولیٹر نے فیفا کے ان بیانات کو غلط قرار دیا تھا جن میں فیفا نے دعویٰ کیا تھا کہ قطر میں سنہ 2022 میں ہونے والا ٹورنامنٹ تاریخ کا پہلا کاربن نیوٹرل ورلڈ کپ ہو گا، جس میں کم کاربن اقدامات میں سرمایہ کاری کے ذریعے اخراج کا ازالہ کیا جائے گا۔
اس کے جواب میں فیفا نے کہا تھا کہ اسے ’مکمل طور پر احساس ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمارے وقت کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے اور اس کا ماننا ہے کہ اس کے لیے ہم میں سے ہر ایک کو فوری اور پائیدار ماحولیاتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انفانیٹینو نے قطر میں ہونے والے گذشتہ ورلڈ کپ کے تمام 64 میچوں میں شرکت کی تھی جہاں استعمال ہونے والے آٹھ سٹیڈیم ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر تھے تاہم فیفا کا جاری ورلڈ کپ ایک بالکل مختلف چیلنج پیش کرتا ہے۔
اس مضمون میں اضافی رپورٹنگ مارک پوائنٹنگ کی جانب سے کی گئی ہے


























