طلاق، پرانے موبائل فون اور سابقہ کمانڈر: پانچ سال سے طالبان کے زیرِ اثر افغانستان کی اندرونی جھلک

    • مصنف, کاون خاموش
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

گورنر عبداللہ سرحدی ایک لڑکے کے ٹوٹے ہوئے بازو کے علاج کے لیے رقم دیتے ہیں اور ایک مقامی مسجد کے لیے فنڈز فراہم کرتے ہیں، پھر شمالی افغانستان میں اُن کے دفتر میں ایک حیران کن مکالمہ پیش آتا ہے۔

ایک نوجوان خاتون سرمئی داڑھی والے سابق طالبان کمانڈر سے کہتی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق چاہتی ہے، جس پر وہ کئی ماہ کے تشدد اور مارپیٹ کا الزام لگاتی ہے۔ وہ انکار کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم ممنوع ہے، 18 سالہ لڑکی پُرسکون اور اعتماد کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتی ہے۔ اس کا چہرہ نقاب اور دھوپ کے چشموں کے پیچھے مکمل طور پر چھپا ہوا ہے۔

وہ کہتی ہے کہ ’اگر ساتھ رہنے کا کوئی امکان ہوتا تو میں یہاں نہ آتی میں۔۔۔ اپنا فیصلہ کر چکی ہوں۔‘

طلاق سے گریز کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کے بعد گورنر بعد میں تبصرہ کرتے ہیں کہ خواتین ’بے عقل‘ اور ’فکری صلاحیت میں کمزور‘ ہوتی ہیں جس پر ان کے اردگرد موجود مرد اہلکار، محافظ اور عمائدین ہنس پڑتے ہیں۔

یہ لمحہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد روزمرہ کی حقیقتوں کی ایک نایاب جھلک پیش کرتا ہے۔

اس عرصے میں خواتین کو زیادہ تر ملازمتوں سے نکال دیا گیا ہے، یونیورسٹیوں میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور وہ اکیلے سفر نہیں کر سکتیں یا پارکوں اور تفریحی مراکز کا رخ نہیں کر سکتیں۔

دو برس پر محیط ملاقاتوں کے دوران بی بی سی کو اس سخت گیر تحریک کی بااثر شخصیات تک غیر معمولی رسائی ملی۔

ہم نے ایسے افراد کے ساتھ وقت گزارا جو کبھی خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے یا برسوں خفیہ ٹھکانوں میں رہے مگر اب سرکاری اہلکار اور سپاہی ہیں۔

طالبان نے اقتدار میں آتے وقت کہا تھا کہ وہ بدل چکے ہیں، مگر ان کی بہت سی پالیسیاں شریعت، یعنی اسلامی مذہبی قانون کی اسی سخت گیر تشریح سے ملتی جلتی ہیں جو اُنھوں نے 1990 کی دہائی میں نافذ کی تھی۔

ہم سے ملنے والے افراد خود کو معقول ثابت کرنا چاہتے تھے، لیکن اپنے پرتشدد ماضی پر بات کرنے کے خواہش مند نہیں تھے اور ہم نے حکمرانوں اور ان کے زیرِ حکومت لوگوں کے درمیان بے چینی کے لمحات بھی دیکھے۔

گورنر سرحدی کا کہنا ہے کہ طوبیٰ جو اس کا اصل نام نہیں کو اپنی شادی برقرار رکھنی چاہیے۔

سرحدی کہتے ہیں: ’اپنے آپ سے پوچھو: طلاق کے بعد مجھ سے شادی کون کرے گا؟‘

’تمھیں بہت سمجھوتے کرنے پڑیں گے ورنہ تم اپنی عزت اور وقار کھو دو گی۔‘

وہ جواب دیتی ہے: ’جناب گورنر، میری عزت اور وقار تو پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں۔‘

ان کے شوہر اپنی باری کے انتظار میں بات سنتے رہتے ہیں۔

شریعت کے تحت اگر کوئی عورت خلع لینا چاہتی ہے تو اسے شادی کے وقت ملنے والی رقم کا کچھ یا تمام حصہ واپس کرنا پڑ سکتا ہے۔ اکثر ایک مالی تصفیہ طے پا جاتا ہے۔

لیکن اس خاتون کے شوہر کہتے ہیں کہ وہ اس رقم سے چار گنا زیادہ چاہتے ہیں، جو اس کا خاندان ادا کرنے سے انکار کرتا ہے۔

گورنر خاتون کو الگ کمرہ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے ان کے شوہر کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ مار پیٹ سے گریز کرے ورنہ انھیں جیل بھیج دیا جائے گا۔

غیر مطمئن طوبیٰ کے والد بعد میں بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ خاندان عدالتوں کے ذریعے طلاق حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، حالانکہ طالبان کے عدالتی نظام میں شوہر کی رضامندی کے بغیر عورت کے لیے طلاق حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔

سرحدی 1990 کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکومت کے دوران فوجی کمانڈر تھے۔

وہ ان ہزاروں جنگجوؤں میں شامل تھے جنھوں نے 2001 کے آخر میں اس وقت ہتھیار ڈال دیے جب امریکہ کی قیادت میں اتحاد نے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کیا۔

وہ کئی برس تک گوانتانامو بے میں امریکی حراست میں رہے، مگر بالآخر رہا کر دیے گئے۔

طالبان کی دوبارہ واپسی کے بعد وہ پہلے صوبہ بامیان اور پھر جون کے آخر میں ہماری ملاقات کے وقت، جوزجان صوبے کے شہر شبرغان میں گورنر مقرر ہوئے۔

حال ہی میں وہ شمالی صوبے قندوز میں ایک فوجی کور کے نائب کمانڈر بن گئے ہیں۔

چھوٹی سکرین والے پرانے موبائل فون پر انگلیاں چلاتے ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ حکام کے لیے سمارٹ فونز پر حالیہ پابندی نے کام سست کر دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’پہلے آپ فوری پیغام بھیج سکتے تھے۔۔ ۔دستاویزات بھیجنا اور جلد جواب حاصل کرنا ممکن تھا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر وہ اس پابندی کے بارے میں زیادہ بات کریں تو ’مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔‘

لیکن دیگر حوالوں سے ان کا نظریہ 25 سال پہلے طالبان کے مؤقف سے زیادہ مختلف نہیں لگتا۔

اس وقت وہ بامیان میں فوجی کمانڈر تھے، جہاں طالبان نے قدیم دیوقامت بدھ مجسموں کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس پر دُنیا بھر میں مذمت کی گئی تھی۔

ابتدا میں وہ اس آثارِ قدیمہ کے مقام سے متعلق ہمارے سوالات سے گریز کرتے ہیں، مگر آخرکار کہتے ہیں: ’میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے تباہ کیا تھا۔‘

’ہم نے جو کیا اور کرتے ہیں، وہ رہنمائی اور خدا کے قانون کے مطابق ہے۔۔ہم بت بیچنے کے بجائے توڑتے ہیں۔ مجھے پچھتاوا کیوں ہو؟ یہ خدا کی مرضی تھی۔‘

کابل میں ہم طالبان کی ایک اور سینئر شخصیت حبیب اللہ بدر سے ملتے ہیں، جنھوں نے پُرتشدد ماضی کو حکمران انتظامیہ میں کردار سے بدل لیا۔ حبیب اللہ بدر ہمیں ایک بکتر بند گاڑی میں شہر کی سڑکوں پر لے جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ پہلے کابل میں ’خودکش حملہ آوروں کی کارروائیوں کے منصوبہ ساز‘ تھے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں تمام سڑکوں اور گلیوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔ ہمارے پاس کابل اور اس کی گلیوں کے بارے میں تمام ضروری معلومات موجود تھیں۔‘

کچھ علاقوں کے لیے طویل منصوبہ بندی درکار ہوتی تھی۔

طالبان کے خودکش حملوں میں افغانستان میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جن میں بہت سے عام شہری بھی شامل تھے۔

تاہم بدر اپنے ماضی پر بات کرتے ہوئے محتاط رہتے ہیں کیونکہ ان کے بقول اس سے ’لوگ ناراض ہو سکتے ہیں‘ اور ’پرانے زخم ہرے ہو سکتے ہیں۔‘

شہری ہلاکتوں کے بارے میں پوچھنے پر وہ کہتے ہیں کہ طالبان امریکی قافلوں کو نشانہ بناتے تھے اور شہریوں کو غیر ملکی اڈوں سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھی۔

جب بھی میں ان سے شہری علاقوں میں ہونے والے مخصوص حملوں کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کرتا ہوں، وہ سوال سے بچ نکلتے ہیں۔

حبیب اللہ بدر کہتے ہیں کہ ماضی میں وہ خودکش حملوں سے متعلق کارروائیوں میں شامل رہے ہیں۔

اس وقت وہ طبی علاج کے لیے سرکاری ذمہ داریوں سے وقفہ لیے ہوئے ہیں، لیکن اس سے قبل وہ پورے ملک کے لیے جیلوں کے نائب سربراہ تھے اور اسی جیل کے نگران بھی رہے جہاں سابق حکومت کے دور میں وہ سزائے موت کے منتظر قیدی تھے۔

بدر ہمیں ایک قبائلی اجتماع میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، جہاں ایک فلاحی فاؤنڈیشن کے سربراہ انھیں تمغہ دینے والے ہیں۔

لیکن صورتِحال غیر متوقع رخ اختیار کر لیتی ہے۔

سلطان محمد طلائی کہتے ہیں: ’جناب بدر افغانستان کا فخر اور عظیم مجاہد ہیں۔‘

لیکن میری ایک شکایت بھی ہے۔ اگر سکول اور تعلیم سب کے لیے کھلے ہوں تو یہ افغانستان کے لیے بڑا کام ہوگا۔ مجھے امید ہے آپ اس بات سے ناراض نہیں ہوں گے۔

اس کے بعد ایک غیر آرام دہ خاموشی چھا جاتی ہے اور سامعین سمجھ نہیں پاتے کہ کیا ردِعمل دیں۔ طلائی کا مائیکروفون فوراً ہٹا دیا جاتا ہے۔

بعد میں وہ بی بی سی کو بتاتے ہیں: ’میں نے لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھولنے کی درخواست کی تھی۔۔۔اسلام میں علم حاصل کرنا مردوں اور عورتوں دونوں پر فرض ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میں اور بھی باتیں کہنا چاہتا تھا لیکن اُنھوں نے مجھے مزید بولنے نہیں دیا۔‘

اکثر آواز بلند کرنے والوں کو اس سے کہیں زیادہ سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خواتین نے ہمیں بتایا کہ تعلیم پر پابندیوں کے باعث ان کے خواب کس قدر ٹوٹ چکے ہیں اور ان کی بعض دوستوں کو احتجاج کرنے پر قید کر دیا گیا۔

جن صحافیوں سے ہم نے بات کی، ان میں سے اکثر نے کہا کہ انھیں طالبان کی انٹیلی جنس تنظیم ’استحبارات‘ کی جانب سے طلب یا تفتیش کا سامنا کرنا پڑا۔

بی بی سی نے ان خدشات میں سے بعض طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے سامنے رکھے۔

ذبیح اللہ مجاہد کہتے ہیں کہ خواتین کے حقوق اور آزادیٔ اظہار کو ’شریعت کے تناظر میں‘ دیکھا جانا چاہیے۔

سنہ 2021 سے وہ طالبان حکومت کا نمایاں عوامی چہرہ رہے ہیں۔

وہ آج بھی وہی فرضی نام استعمال کرتے ہیں جو شورش کے زمانے میں کرتے تھے، لیکن اُنھوں نے ہمیں بتایا کہ ان کا اصل نام طاہر شاہ صدیقی ہے اور پہلی بار اسے عوامی طور پر ظاہر کیا۔

امریکی مالی معاونت سے بنائے گئے ایک شاندار پریس سینٹر میں ہم ان سے اس پہلی پریس کانفرنس کے بارے میں پوچھتے ہیں جو اُنھوں نے طالبان کے ملک پر قبضے کے دو دن بعد وہاں کی تھی۔

اس وقت اُنھوں نے دنیا سے کہا تھا کہ طالبان حکومت خواتین کو ’ہمارے فریم ورک کے اندر‘ کام اور تعلیم کی اجازت دے گی اور وہ معاشرے میں ’بہت فعال‘ ہوں گی۔

اُنھوں نے اپنا وعدہ کیوں پورا نہیں کیا؟

وہ جواب دیتے ہیں کہ ’ہم شریعت کے دائرے میں خواتین کے حقوق، آزادیٔ اظہار اور دیگر امور کے پابند ہیں۔ ہر چیز کو شریعت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ان کے اپنے دفتر جیسے دفاتر میں خواتین کو کام کی اجازت دینا ’بے راہ روی کا باعث بنے گا‘ اور ’ان کے وقار کو نقصان پہنچے گا۔‘

ان کے مطابق خواتین کی تعلیم کا معاملہ ’غور و خوض کے مرحلے میں ہے۔۔۔ ہمیں اس کے لیے شریعت پر مبنی حل درکار ہے۔‘

میڈیا کی آزادی پر طالبان کی پابندیوں کے بارے میں پوچھنے پر وہ کہتے ہیں: ’افغانستان جیسے معاشرے میں ہماری اپنی حدود ہیں۔ ہم میڈیا کو جو چاہے پروپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔۔۔وہ اسلامی قوانین اور رسومات کے خلاف نشریات نہیں کر سکتے۔‘

طالبان حکومت کابل میں قائم ہے، لیکن مجاہد اپنا کافی وقت جنوبی شہر قندھار میں گزارتے ہیں، جو طالبان کا مضبوط گڑھ ہے اور جسے بعض لوگ اب حقیقی دارالحکومت سمجھتے ہیں۔

ہم طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ سے ملاقات کی درخواست کرتے ہیں، جو وہیں مقیم ہیں۔

وہ شاذ و نادر ہی عوامی سطح پر نظر آتے ہیں اور کبھی کسی میڈیا انٹرویو میں شریک نہیں ہوئے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فی الحال یہ ممکن نہیں ہوگا۔

دو سال پہلے میرے آخری دورے کے بعد قندھار میں پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ اب مردوں کے لیے داڑھی رکھنا لازم ہے۔

ریڈیو سٹیشنوں کو موسیقی چلانے یا خواتین کی آواز نشر کرنے کی اجازت نہیں اور ہمیں شہر میں فلم بندی کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

دو گھنٹے کے فاصلے پر گرد آلود سڑکوں کے ساتھ، گروہ کے چند انتہائی وفادار سابق جنگجوؤں نے بی بی سی کو باغیوں کے پرانے خفیہ غاروں کے جال دکھائے۔

عابد لالئی جو سابق جنگجو ہیں اور اب وزارتِ داخلہ کے تحت ایک سکیورٹی فورس میں چیک پوسٹ پر تعینات ہیں، ہمیں وہ سوراخ دکھاتے ہیں جہاں سے وہ فائرنگ کرتے تھے اور وہ جگہیں بھی جہاں وہ اپنا قرآن رکھتے اور اے کے 47 رائفلیں لٹکاتے تھے۔

عابد لالئی ان بہت سے طالبان جنگجوؤں میں سے ایک ہیں جو سابق حکومتوں کے دوران گرفتاری سے بچنے کے لیے غاروں میں چھپے رہتے تھے۔

ان کے افسر عبدالصمد ہمیں ایک غیر نشان زدہ قبرستان دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے والد یہاں دفن ہیں، جو طالبان کے لیے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔

یہ علاقہ دنیا کے ان غریب ترین علاقوں میں سے ایک ملک کا حصہ ہے، جہاں اقوامِ متحدہ کے مطابق ہر چار میں سے تین افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔

صمد کہتے ہیں کہ مقامی آبادی کو شدید طور پر پانی، سڑکوں اور کلینکس کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’امارت (طالبان) کے حکام ہمیں نہیں بھولے۔‘ ان کے مطابق قیادت شاید دیگر ترجیحات میں مصروف ہے۔

’ہمیں امید ہے کہ وہ کسی وقت ہماری دیکھ بھال کریں گے۔‘

طالبان کی دوسری حکمرانی کے پانچ سال بعد بھی غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام بدستور اہم مسائل ہیں۔

جن طالبان عہدیداروں سے ہم نے بات کی، ان کا کہنا تھا کہ وہ ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم ایسے دیگر افراد سے بھی ملے جو سمجھتے ہیں کہ خود طالبان ہی ملک کا بنیادی مسئلہ ہیں۔

ہدیٰ، جو ان کا اصل نام نہیں اور جنھوں نے طالبان کی واپسی کے بعد سڑکوں پر احتجاج کیا تھا، کہتی ہیں: ’میں اس بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں کہ زندگی کی کوئی سمجھ نہ رکھنے والا ایک گروہ اچانک اقتدار میں کیسے آ گیا۔‘

وہ بی بی سی کو بتاتی ہیں کہ خواتین اس صورتحال کو قبول نہیں کر سکتیں۔

وہ پابندیاں مزید بڑھا سکتے ہیں لیکن یہ ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا۔'

وہ مزید کہتی ہیں ’میرا خیال ہے طالبان تعلیم یافتہ خواتین سے خوفزدہ ہیں۔‘

اسی لیے وہ خواتین پر پابندیاں لگاتے ہیں۔ وہ غیر تعلیم یافتہ خواتین چاہتے ہیں تاکہ وہ باشعور مردوں کی تربیت نہ کر سکیں۔

’کیونکہ ایسا ہوا تو طالبان کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘