افغانستان میں طالبان کے خلاف ’طاقت کی زبان‘ استعمال کرنے والے مسلح گروہ: کیا یہ تحریکیں افغان حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہیں؟

    • مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 14 منٹ

افغانستان کی طالبان کے زیر انتظام وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کا ایک ہیلی کاپٹر شمال مشرقی بے چین صوبہ بدخشان میں بجلی کے پائلون سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔

لیکن اسی حوالے سے برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل نے 13 اگست کو رپورٹ کیا تھا کہ مقامی ذرائع کے مطابق باغی طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کی وفادار فورسز نے ضلع نصی میں طالبان فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔

اسی طرح، نجی ہشت صباح نے اسی دن رپورٹ کیا کہ یہ حادثہ جمعہ خان فتح کے جنگجوؤں اور طالبان حکام کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوران ہوا۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے 13 اگست کو کہا، 'وزارت دفاع کے ایک ہیلی کاپٹر کو اس وقت نقصان پہنچا جب اس کے بلیڈ بجلی کے پائلون سے ٹکرائے، لیکن واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

اس سے پہلے 13 اگست کو افغان ملکی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ شمال مشرقی صوبہ بدخشاں کے صوبائی دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے میئر ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

غیر جہادی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے مسلح گروہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے میئر کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں وہ اور ان کے باڈی گارڈز ہلاک ہوئے۔

طالبان کے چیف ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد، نے پہلے باغی گروہوں کی سرگرمیوں کی رپورٹس کو محض پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ پانچ سال قبل اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت کی کئی وجوہات بتائی گئی ہیں جن میں خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں پر پابندیاں، سخت شرعی قوانین اور طالبان کی جانب سے جسمانی سزاؤں پر عوامی طور پر عمل درآمد دوبارہ شروع کرنا بھی شامل ہے۔

13 نومبر 2022 کے بعد عوامی سزاؤں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جب طالبان رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ نے گروہ کے عدالتی اداروں کو ہدایت دی کہ وہ ملزمان کے مقدمات کا ’احتیاط سے‘ جائزہ لیں اور ان پر اسلامی سزائیں نافذ کریں۔ ان تمام مقدمات میں کوڑے مارنے کی سزا شامل تھی، اور بعض مجرموں کو قید کی سزا بھی دی گئی۔

طالبان سپریم کورٹ کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں کم از کم 241 افراد، جن میں 210 مرد اور 31 خواتین شامل تھیں، مختلف جرائم پر عوامی طور پر سزا دی گئی۔ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 395 افراد ہو گئی، جن میں 317 مرد اور 78 خواتین شامل تھیں۔

عوامی سزا کے تمام واقعات طالبان سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور سرکاری اعلانات میں ریکارڈ یا شائع نہیں کیے جاتے، اس لیے ایسی سزاؤں کی اصل تعداد غالباً اس سے زیادہ ہے۔

طالبان کے خلاف ’طاقت کی زبان‘ میں مزاحمت

طالبان کو افغانستان میں اقتدار میں آئے پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ تاہم اب ملک میں مسلح مزاحمتی گروہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد افغانستان پر طالبان کے مکمل کنٹرول کے دعوے کو چیلنج کر رہی ہے۔

اس مضمون میں جن گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب غیر جہادی ہیں۔ اسلام پسند تنظیموں کے برعکس یہ اپنے ناموں میں اسلام کا حوالہ نہیں دیتے اور عموماً خواتین کے حقوق، شہری آزادیوں اور ایک منتخب جمہوری سیاسی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’طالبان صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور اس ہی لیے انھوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں۔‘

ان طالبان مخالف گروہوں کی عسکری صلاحیتیں اب بھی محدود اور منتشر ہیں۔ زیادہ تر گروہ طالبان اہلکاروں اور تنصیبات کے خلاف اچانک حملوں، گھات لگا کر کارروائیوں، راکٹ یا میزائل حملوں اور مخصوص اہداف پر حملوں پر انحصار کرتے ہیں۔

تاہم شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں حالیہ کارروائیاں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ کچھ گروہ روایتی جنگی حکمت عملیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دور دراز علاقوں پر قبضہ کر کے اسے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بدخشاں کے ضلع کے ہیڈکوارٹر پر مختصر وقت کے لیے قبضہ اور جمعرات کے روز فیض آباد کے میئر کا قتل بھی ان کارروائیوں کی کڑی معلوم ہوتی ہیں۔

ان حملوں نے افغانستان کے بہت سے لوگوں بشمول پشتون برادری کے بعض حلقوں میں یہ امید پیدا کر دی ہے کہ طالبان شاید اتنے بھی طاقتور نہیں جتنے ابتدا میں سمجھے جاتے تھے۔

کئی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے پانچ برسوں تک سخت گیر اور غیر لچکدار پالیسیاں اپنائے جانے کے بعد اب مسلح مزاحمت کے زور پکڑنے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔

مزاحمتی گروہوں کے بیشتر رہنما نسبتاً نوجوان ہیں، جبکہ کئی سابق فوجی اور سکیورٹی اہلکار بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔

تاہم ان طالبان مخالف گروہوں کے درمیان رابطہ کاری محدود ہے اور ان کی کارروائیاں اب بھی منتشر ہیں۔ محفوظ پناہ گاہوں کی کمی اور محدود وسائل کی صورت میں ان گروہوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی حمایت کا فقدان بھی ایک مسئلہ ہے تاہم اس ضمن پاکستان ممکنہ طور پر ایک استثنا ہو سکتا ہے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) طالبان مخالف مسلح گروہوں میں سب سے پرانا گروہ سمجھا جاتا ہے۔ این آر ایف یہ اگست 2021 میں اس وقت وجود میں آئی جب طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد احمد مسعود نے وادیٔ پنجشیر میں مزاحمت کو منظم کیا۔

احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود طالبان کے خلاف بنے مزاحمتی اتحاد نارتھرن الائنس یا شمالی اتحاد کے سربراہ تھے۔ اس سے قبل انھوں نے افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران عسکری جدوجہد میں بھی حصہ لیا تھا۔ احمد شاہ مسعود 9 ستمبر 2001 کو ایک بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔

2022 کے اواخر میں طالبان کی جانب سے شمالی صوبہ پنجشیر پر مکمل کنٹرول قائم کرنے کے بعد این آر ایف نے گوریلا جنگ کی حکمت عملی اختیار کی۔

اس گروہ کے جنگجو بنیادی طور پر پنجشیر اور اس سے ملحقہ شمالی اور وسطی صوبوں میں سرگرم ہیں۔ تاہم این آر ایف نے کابل اور دیگر علاقوں میں بھی حملوں کے دعوے کیے ہیں۔

این آر ایف میں افغانستان کی سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بشمول سپیشل آپریشنز سے وابستہ اہلکار بھی شامل ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس گروہ کے بیشتر ارکان تاجک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم احمد مسعود این آر ایف کو نسلی کے بجائے ایک قومی تحریک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 2022 میں اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم ایک آزاد اور منصف افغانستان پر یقین رکھتے ہیں جہاں تمام نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ گروہ مساوی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک طالبان عوامی مینڈیٹ پر مبنی حکومت قبول نہیں کرتے۔

تاہم احمد مسعود کے گروہ کو اس طرح سے غیر ملکی عسکری حمایت حاصل نہیں ہو سکی جس کی اس کے بعض حامیوں کو ابتدا میں توقع تھی۔ اطلاعات کے مطابق تاجکستان اور ایران میں بھی اس کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف)

افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) 2022 کے اوائل میں سامنے آیا۔ اس کی قیادت جنرل یاسین ضیا کر رہے ہیں جو افغانستان کی فوج کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں اور ملک کے سابق انٹیلی جنس ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) میں نائب سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ گروہ بڑی حد تک سابق سکیورٹی اہلکاروں اور بعض سیاسی شخصیات پر مشتمل ہے اور اس کا شمار طالبان کی مخالفت کرنے والی اہم منظم غیر جہادی مسلح تحریکوں میں ہوتا ہے۔

ابتدائی طور پر اے ایف ایف کی سرگرمیاں شمالی افغانستان تک محدود تھیں، تاہم وقت کے ساتھ اس نے اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کر لیا ہے۔ اس گروہ کی حکمت عملی میں گھات لگا کر حملے، اچانک کارروائیاں، چیک پوسٹوں اور انتظامی مراکز کو نشانہ بنانا، نیز راکٹ اور ہلکے ہتھیاروں سے حملے شامل ہیں۔

2026 کے اوائل میں اس گروہ نے بدخشاں اور اس سے ملحق مشرقی صوبوں میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کیا۔ جولائی کے وسط میں اس نے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ضلع زیبک پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران کئی دن تک جھڑپیں جاری رہیں۔ اس کے بعد اے ایف ایف نے اپنی مہم کے ایک ’نئے مرحلے‘ کا اعلان کیا۔

حالیہ ہفتوں کے دوران اے ایف ایف نے افغانستان کے مختلف حصوں میں کئی حملوں ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے بھی کیے ہیں، جس کے نتیجے میں طالبان مخالف گروہوں میں اس کی اہمیت اور شناخت میں اضافہ ہوا ہے۔

اے ایف ایف اپنی مہم کو طالبان حکومت کے خلاف ایک قومی آزادی کی جدوجہد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس گروہ کے مطابق ان کی مزاحمت کی بنیادی وجوہات میں خواتین پر عائد پابندیاں، نسلی امتیاز اور ان کے بقول انتہا پسند طرزِ حکمرانی شامل ہے۔

اس کے ترجمان داؤد ناجی نے مئی میں کہا تھا کہ اپوزیشن گروہوں نے کئی برس تک سیاسی کوششوں کی ناکامی کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’طالبان صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور قومی مکالمے پر یقین نہیں رکھتے۔‘

اپنی سرگرمیوں کے جغرافیائی دائرہ کار میں توسیع کے باوجود اے ایف ایف کی بیشتر کارروائیاں اب بھی گوریلا نوعیت کے حملوں تک محدود ہیں۔ ان میں گھات لگا کر حملے، اچانک حملے اور محدود پیمانے کی عسکری کارروائیاں شامل ہیں۔ اے ایف ایف کی جانب سے کسی علاقے پر قبضہ کر کے اسے طویل مدت تک اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوششیں نسبتاً کم دیکھی گئی ہیں۔

ہوم لینڈ گارڈینز فرنٹ (ایچ جی ایف)

ہوم لینڈ گارڈینز فرنٹ (ایچ جی ایف) یا جسے بعض اوقات ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ (ایچ ایس ایف) بھی کہا جاتا ہے، طالبان مخالف ایک نیا اور نسبتاً غیر معروف گروہ ہے۔

یہ گروہ جولائی 2026 میں صوبہ بدخشاں میں منظرِ عام پر آیا۔

16 اور 17 جولائی کو یہ گروہ مختصر مدت کے لیے ضلع یفتل کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی طالبان مخالف مسلح گروہ کسی ضلعی مرکز پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔

اطلاعات کے مطابق اس گروہ کی قیادت قیوم ملنگ کر رہے ہیں، جو افغانستان کی سابق سپیشل فورسز اور فوج کے کمانڈو افسر رہ چکے ہیں۔ وہ اس سے پہلے ماضی میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے ساتھ بھی وابستہ تھے۔ تاہم ایچ جی ایف کی تنظیمی ساخت، افرادی قوت اور سیاسی اہداف کے بارے میں بہت کم عوامی معلومات دستیاب ہیں۔

اگرچہ عسکری اعتبار سے ایچ جی ایف کی کارروائی کا پیمانہ محدود تھا، لیکن اس کے وسیع تر اثرات کو خاصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس واقعے نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ مزاحمتی گروہ طالبان کے قائم کردہ ’خوف کی دیوار‘ کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور محض اچانک حملوں یا گوریلا کارروائیوں تک محدود رہنے کے بجائے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے انھیں برقرار رکھنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف)

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) کی بنیاد 2023 کے اواخر میں سابق افغان جنرل اور سپیشل فورسز کے کمانڈر سمیع سادات نے امریکہ میں رکھی۔

گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد افغانستان میں جمہوری نظام کی بحالی، خواتین کے حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کی بحالی، اور بین الاقوامی شدت پسند گروہوں کا خاتمہ ہے۔ سمیع سادات افغانستان کی سابق فوج اور سکیورٹی اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور بظاہر امریکہ سے بھی ان کے مضبوط روابط ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگست 2026 میں اپنی پہلی مسلح کارروائیوں کے آغاز سے قبل اے یو ایف کو امریکہ کی حمایت یا کم از کم منظوری حاصل تھی۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

29 جولائی کو اس گروہ نے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا، 9 اگست کو گروہ کی جانب سے ایک معلوماتی خاکہ (انفوگرافک) جاری کیا گیا جس میں 13 حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی جن میں سے بیشتر جنوبی صوبوں قندھار اور ہلمند میں کیے گئے تھے۔

سمیع سادات کا کہنا ہے کہ ان کا گروہ کی مہم میں طالبان کے جنگجوؤں، عسکری تنصیبات اور اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ انھوں نے سابق سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر افغان شہریوں سے بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

اس گروہ نے طالبان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے غیر ملکی فوجیوں کی مداخلت کا مطالبہ نہیں کیا، تاہم اس کا کہنا ہے کہ انھیں بین الاقوامی سیاسی اور مادی حمایت کی ضرورت ہے۔

روند سبز افغانستان

روند سبز افغانستان یا افغانستان گرین ٹرینڈ - اے جی ٹی کی قیادت افغانستان کے سابق نائب صدر اور نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے سابق سربراہ امر اللہ صالح کر رہے ہیں۔ یہ گروہ دیگر گروہوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کا آغاز ایک مسلح تنظیم کے بجائے ایک سیاسی تحریک کے طور پر ہوا تھا۔

2011 میں قائم ہونے والی اس تحریک نے جمہوریت حامی اقدامات، بدعنوانی کے خلاف مہمات اور اطلاعاتی سرگرمیوں کے ذریعے شہرت حاصل کی، اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جلاوطنی میں ایک اپوزیشن پلیٹ فارم بن گئی۔

اس کا مسلح ونگ جسے گرین بٹالین کہلاتا ہے۔ اس تنظیم نے 2026 میں محدود پیمانے پر ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اے جی ٹی کے سیاسی پروگرام میں جمہوریت، آئینی حکمرانی، آزاد انتخابات، صنفی مساوات اور لڑکیوں کی تعلیم کا مطالبہ شامل ہے۔

یہ گروہ اب بھی بنیادی طور پر عسکری قوت کے بجائے ایک سیاسی اور اطلاعاتی تحریک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم اس کی جانب سے مسلح سرگرمیوں کی طرف پیش قدمی سے منتشر مزاحمت میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہوا ہے۔

فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ (ایف جے ایم)

فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ (ایف جے ایم) اپریل 2026 میں قائم کی گئی۔ اس کی قیادت حمید سیفی کر رہے ہیں، جو افغانستان کی سابق فوج کے افسر اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے سینیئر کمانڈر رہ چکے ہیں۔

اس گروہ نے پروان، کاپیسا اور زابل میں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اپنے قیام کے وقت گروہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’صنفی، نسلی، مذہبی یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر امتیاز کیے بغیر آزادی، مساوات اور تمام شہریوں کے انسانی وقار کے احترام کے ذریعے ہی افغانستان کا مستقبل حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

دیگر نئے گروہوں کی طرح ایف جے ایم بھی ابھی ایک چھوٹا گروہ ہے، لیکن اس کا قیام طالبان مخالف مزاحمت میں جاری انتشار اور سابق سکیورٹی اہلکاروں کے نئے گروہوں میں شامل ہونے کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔

افغانستان رپبلکن فرنٹ (اے آر ایف)

افغانستان رپبلکن فرنٹ (اے آر ایف) 2025 کے اواخر میں طالبان مخالف ایک مسلح گروہ کے طور پر سامنے آیا، جو افغانستان کے سابق جمہوری نظام اور آئین کی بحالی کا خواہاں ہے۔ یہ گروہ قومی اتحاد، شہریوں کے حقوق اور جمہوری انتخابات پر زور دیتا ہے۔

اس نسبتاً غیر معروف گروہ نے اب تک ایک درجن سے زیادہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر حملے وسطی افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر گھات لگا کر کیے گئے ہیں۔

اس گروہ کی قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور افرادی قوت کے بارے میں عوامی سطح پر بہت کم معلومات دستیاب ہیں، اور اس کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے۔

کیا طالبان مخالف گروہ میں آپس رابطے ہیں؟

ان گروہوں کے درمیان رابطوں کے واضح شواہد موجود نہیں۔ ان تنظیموں کی سرگرمیاں اب بھی زیادہ تر خفیہ اور گوریلا نوعیت کی ہیں، جبکہ ان کے رہنما الگ الگ کام کرتے ہیں۔ تاہم ان میں سے کئی گروہوں نے آپس میں زیادہ تعاون اور اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔ احمد مسعود نے حال ہی میں کہا کہ اپوزیشن گروہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک لائحہ عمل پر اتفاق کے قریب ہیں۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سمیع سادات نے ملٹری ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’اس وقت ہمارا مقصد ایک ہے، اور وہ ہے اپنے عوام کو طالبان کے جبر سے آزاد کرانا۔‘

حمید سیفی نے برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل ٹی وی کو بتایا کہ موجودہ کارروائیوں کی خفیہ نوعیت کے باعث رابطہ کاری مشکل ہے، تاہم اگر یہ گروہ روایتی جنگ کی طرف بڑھتے ہیں تو ان میں رابطہ کاری ضروری ہو جائے گی۔

طالبان کی مخالفت، مجموعی طور پر ملتے جلتے سیاسی اہداف، اور سابق فوجی و سکیورٹی اہلکاروں کا نمایاں کردار ایسے عوامل ہیں جو مسلح مزاحمت میں اضافے کی صورت میں ان گروہوں کے درمیان زیادہ تعاون کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

کیا یہ مسلح گروہ طالبان کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں؟

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ کشیدگی بالخصوص بدخشاں میں طالبان کے بلا شرکتِ غیرے کنٹرول کے دعوے کو چیلنج کر رہی ہے۔ طالبان کی غیر لچکدار پالیسیاں، خواتین اور مختلف نسلی گروہوں کو نظر انداز کرنا، اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال مخالف گروہوں کی بڑھتی کارروائیوں کی وجہ بن رہا ہے۔

تاہم بیشتر مبصرین اب بھی ان مسلح گروہوں کو طالبان کے لیے کوئی بڑا عسکری خطرہ نہیں سمجھتے۔

ان کا کہنا ہے کہ محفوظ پناہ گاہوں کی کمی، محدود وسائل، منتشر کارروائیاں اور خاطر خواہ غیر ملکی حمایت کا فقدان ان گروہوں کی بڑی کمزوریاں ہیں۔ اس کے باوجود افغانستان کے سابق انٹیلی جنس سربراہ احمد ضیا سراج نے حالیہ دنوں میں شدت اختیار کرنے والی کارروائیوں کو 'طالبان کی دوسری حکومت کے خاتمے کی شروعات' قرار دیا ہے۔

سابق جنگجو کمانڈر اور حزبِ اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کے بیٹے حبیب الرحمن حکمت یار نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں لوگ ہتھیار اٹھا لیں تو طالبان اپنی حکومت کیسے برقرار رکھیں گے۔ حبیب الرحمن کے ان بیانات کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہے ہیں کہ ان کے والد، جو دسمبر 2025 میں علاج کی غرض سے افغانستان سے گئے تھے اور اب تک واپس نہیں آئے، مستقبل میں کسی مرحلے پر افغانستان کی صورتحال میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

طالبان اور خطے کے دیگر ممالک کا ردعمل

2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان عموماً کسی بھی خاطر خواہ مسلح مزاحمت کے وجود سے انکار کرتے آئے ہیں۔ تاہم حالیہ کشیدگی بالخصوص بدخشاں میں ہونے والی کارروائیوں کے بعد طالبان رہنماؤں کی جانب سے نمایاں ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی سینئر طالبان رہنماؤں نے صوبے کا دورہ کیا ہے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ بدامنی ملک کے دیگر حصوں تک پھیل سکتی ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق طالبان نے طالبان مخالف حملوں میں اضافے کے خدشات کے باعث قندھار اور کنڑ سمیت کئی صوبوں میں سابق سکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی بھی مزید سخت کر دی ہے۔

طالبان سے وابستہ ذرائع ابلاغ اور بعض طالبان رہنماؤں نے کھلے عام پاکستان پر ان مسلح گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب کابل میں ایران کے نائب سفیر نے تہران کی جانب سے کسی حمایت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت جائز نہیں۔ خطے کی دیگر حکومتیں اب تک زیادہ تر خاموش ہیں۔

کیا افغانستان میں دیگر مزاحمتی گروہ بھی موجود ہیں؟

نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان (آئی ایس کے پی) وقتاً فوقتاً طالبان عہدیداروں پر حملے کرتی آئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی کم معروف، غیر جہادی افغان گروہوں نے بھی طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے، اور ان گروہوں کی قیادت، افرادی قوت یا تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

ان گروہوں میں نیشنل موبیلائزیشن فرنٹ (این ایم ایف)، پیپلز سوورنٹی فرنٹ (پی ایس ایف)، نیشنل بیٹل فرنٹ آف افغانستان اور اسلامک کونسل آف ریزسٹنس یونٹی شامل ہیں۔

اگر یہ گروہ واقعی فعال ہیں، تو بظاہر ان کا حجم اور تنظیمی صلاحیت ان بڑے مزاحمتی گروہوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

کیا مسلح مزاحمت کے مزید پھیلنے کا امکان ہے؟

2026 کے موسمِ بہار سے حملوں میں غیر معمولی اضافے اور کئی نئے گروہوں کے سامنے آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت مزید پھیل سکتی ہے۔ نئے صوبوں، خصوصاً ازبک اور ہزارہ اکثریتی علاقوں، تک حملوں کے دائرہ کار کا پھیلنا مقامی کمانڈروں کو بھی اپنے الگ گروہ بنانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔

تاہم محفوظ پناہ گاہوں کی کمی، ہتھیاروں اور مالی وسائل تک محدود رسائی، منتشر قیادت اور محدود علاقائی حمایت بدستور طالبان مخالف گروہوں کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ کم از کم فی الحال تو یہی صورتحال نظر آ رہی ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ گروہ اپنی باہمی تقسیم پر قابو پا کر ایسی تنظیمی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں جو کارروائیوں کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے اور بالآخر علاقوں پر قبضہ کر کے انھیں اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے ضروری ہے۔