پیٹرولیم لیوی: کیا ایران امریکہ جنگ پاکستانی حکومت کے لیے ’ٹیکس شارٹ فال‘ پورا کرنے کا موقع ثابت ہو رہی ہے؟

تیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

پیٹرول ہو یا ڈیزل یا پھر ایل این جی، 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی ایران- امریکہ، اسرائیل جنگ کے بعد سے دنیا کے بہت سے ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے لیکن اگر پاکستان میں گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران ان قیمتوں میں آنے والے فرق کو دیکھا جائے تو یہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان اپنی مجموعی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے اس لیے یہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک ہے۔ اس بحران سے قبل یہ تعین دوہفتے کی مدت کے بعد ہوتا تھا لیکن اب حکومتِ پاکستان ہر جمعے کو قیمتوں کا جائزہ لے کر نئی قیمت کا اعلان کر رہی ہے۔

تازہ ترین جائزے کی بات کی جائے تو گزشتہ جمعے کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت تقریباً 14 روپےکے اضافے کے بعد 414.78 روپے تک پہنچ گئی جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں یہ اضافہ 15 روپے رہا جس کے بعد یہ قیمت بھی 414.58 روپے ہو گئی۔

حکومتی قیمتوں کے تعین کے فارمولے سے متعلق دستاویزات کے مطابق عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اس کے باوجود حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر کا جو اضافہ کیا اس کی بنیادی وجہ پیٹرول پر عائد لیوی میں تقریباً 14 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہے۔

اس اضافے سے قبل جو لیوی 103 روپے 50 پیسے فی لیٹر تھی اب بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت کے حساب سے اس کی قیمت میں تقریباً ساڑھے سات روپے فی لیٹر اضافہ بنتا تھا تاہم حکومت نے صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت میں دوگنا اضافہ کرتے ہوئے اسے 15 روپے فی لیٹر بڑھا دیا۔ اس اضافے کی وجہ ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ تھا جو 28 روپے 69 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہReuters

’حکومت لیوی بڑھا کر آسان راستہ اختیار کر رہی ہے‘

پیٹرولیم لیوی بڑھا کر قیمتیں بڑھانے کا جواز پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے ایران امریکہ جنگ کے بعد ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد اسے کم بھی کیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ جب ٹیکس اکٹھا نہیں ہو گا تو پھرحکومت کو پیٹرولیم لیوی بڑھانا ہوگی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حکومت کی جانب سے ایک جانب پیٹرولیم لیوی کے ذریعے ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب حکومت کا موجودہ مالی سال میں ٹیکس اپنے ہدف سے 680 ارب روپے کم ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم لیوی کے ذریعے حکومت نے 10 ماہ میں اس کے ہدف سے ایک سو ارب روپے سے زائد جمع کر لیے ہیں اور پیٹرولیم لیوی کا ہدف 11 ماہ میں حاصل ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے پیٹرول پر لیوی 85 روپے تک طے ہوئی تھی تاہم اب یہ پیٹرول پر 120 روپے ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک موٹر سائیکل والا بھی ایک لیٹر پر اتنا زیادہ ٹیکس دے رہا ہے۔

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کا تو کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اس لیے لیوی بڑھا کر مالی خسارہ کم کرنے کا آسان راستہ اختیار کیا گیا۔

اسلام آباد میں معاشی امور کے سینئیر صحافی خلیق کیانی کہتے ہیں کہ اب تک جمع ہونے والا مجموعی ٹیکس اپنے ہدف سے 680 ارب سے کم ہے۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا حکومت لیوی کے ذریعے ٹیکس جمع کر کے یقینی طور پر اپنے شارٹ فال کو کم کرنے کی کوشش میں ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ جب لیوی لگائی گئی تھی تو اس وقت 5، 10، 20 روپے لیوی لگانے کے پس پردہ یہ مقصد تھا کہ قیمت میں اتار چڑھاؤ پر اس میں ردوبدل کر کے قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔

اُن کے بقول اب اس میں اضافہ کر کے حکومت نے عوام پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے۔

خلیق کیانی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ریٹیلرز اور تاجروں سے تو ٹیکس اکٹھا نہیں کر پا رہی، تاہم اس کے پاس لیوی میں اضافے کا آسان راستہ ہے جس کے ذریعے یہ ٹیکس اکٹھا کر لیتی ہے تاہم اس کا بہت زیادہ منفی اثر عام عوام کی قوت خرید پر پڑ رہا ہے۔

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے لیے لیوی بڑھائی گئی‘

پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے علی پرویز ملک سے سوال کیا کہ کیا حکومت کے پاس پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھانے کا یہی موقع تھا؟

اس پر علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ جب بجٹ بنا تھا تو اس وقت جنگ نہیں تھی اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ طے ہوا تھا کہ 80 روپے لیوی لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ائی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے لئے لیوی بڑھائی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ قطر سے ایل این جی سپلائی بحال ہو چکی ہے اور منگل کے روز قطر سے آنے والا جہاز لنگر انداز ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس پیٹرولیم کے سٹریٹجک ریزرو نہیں بلکہ کمرشل ریزرو ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کا کنٹرول لائسسنگ رجیم پر ہے اور اس لائسنس کے مطابق مارکیٹ کو مینٹین کرنا ہے۔

وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ جب قیمتیں ایک سو دس ڈالر سے تین سو ڈالر پر جا رہی تھی تو اس وقت اتنی لکوڈیٹی مہیا کرنی ہے کہ وہ خرید سکیں۔

علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انڈیا نے 2022 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فریز کی تھیں۔

ان کے مطابق انڈیا کی اپنی 19 ریفائنریز سرکاری ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں نئی حکومت آئی اور ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بھی شروع ہوگئی۔

علی پرویز ملک کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں فوج پیٹرولیم ڈپوؤں پر تعینات ہے اور ملک نقصان پورا کرنے کے لیے قرضہ لے رہا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل پر لیوی بڑھانے کی کیا وجہ ہے اور اس کا کیا اثر ہو گا؟

Pol prices in Pakistan

،تصویر کا ذریعہEPA

Pol Prices

،تصویر کا ذریعہEPA

حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافے کے نتیجے میں صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔

توانائی کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر عافیہ ملک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پیٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے دونوں مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو سبسڈی کے خاتمے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے، اسی لیے ریونیو شارٹ فال کو کم کرنے کے لیے لیوی بڑھائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ ملک کے مطابق حکومت نے آمدن میں کمی پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کو ایک آسان راستے کے طور پر اختیار کر رکھا ہے، جبکہ دیگر شعبوں سے ٹیکس وصولی جیسے مشکل مگر ضروری فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا۔

ان کے مطابق آئی ایم ایف مسلسل مالی نظم و ضبط پر زور دے رہا ہے، جس کے لیے ملکی آمدن میں اضافہ ناگزیر ہے، لیکن ریٹیل اور زرعی شعبوں سے ٹیکس وصولی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت بار بار پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا سہارا لے رہی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ ملک نے خبردار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف عوام پر اضافی معاشی بوجھ پڑتا ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر معیشت کے لیے بھی انتہائی منفی ثابت ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھے گی اور عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوگی۔ جب لوگ کم خریداری کریں گے تو پیداوار میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں ملکی معاشی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ جائے گی۔

دوسری جانب مالیاتی امور کے ماہر فرحان محمود نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے اس ریونیو خسارے کو پورا کر رہی ہے جو ایران اور امریکہ کی جنگ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں سبسڈی کی صورت میں برداشت کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے ایک موقع پر قیمتیں بڑھانے کے بعد انھیں کم کیا تھا، جس کے لیے 100 سے 125 ارب روپے تک کی سبسڈی دی گئی۔ اگرچہ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ سبسڈی ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر دی جائے گی، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو سکا۔

فرحان محمود کے مطابق اب حکومت پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے اسی ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے تنقید سامنے آ رہی ہے۔

سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اب صرف اعداد و شمار نہیں رہا، یہ غریب، متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی زندگی کا سب سے بڑا عذاب بن چکا ہے۔

ان کی رائے میں ’غریب عوام دو وقت کی روٹی، بچوں کی فیس اور علاج کے لیے پریشان ہیں۔ متوسط طبقہ اپنی جمع پونجی کھا رہا ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقہ ہر ماہ مزید قرض میں ڈوب رہا ہے۔‘

میاں داؤد نامی صارف نے ایکس پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’انتہائی خوشی کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ پیٹرول 15 روپے، ڈیزل 15 روپے مہنگا۔۔۔‘

Pakistan

،تصویر کا ذریعہ@zaghumnaqvi09

خالد حسین ملک نامی صارف نے اس اضافے پر لکھا کہ ’جب قیمت کم کرنی ہوتی ہے تو جناب شہباز شریف خود تشریف لاتے ہیں اور عوام کے ہمدرد بن کر اعلان کرتے ہیں، لیکن جب قیمتیں بڑھانا ہوتی ہیں تو محض ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ہے۔‘

ضیغم نقوی نے اضافے پر لکھا کہ ’حکومت کو شاید بہترین بہانہ مل گیا ہے کہ جنگ ہے۔۔۔ جنگ ہے۔۔ ایف بی آر کی نااہلی چھپانے کے لیے پہلے سے پسی عوام کو مزید مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے۔‘

صحافی انصار عباسی نے لکھا کہ ’مہنگے پیٹرول پر ٹیکس پر چھوٹ لینے کے بجائے اس ٹیکس میں مزید اضافہ کرنا عوام پر ظلم ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے اُس بیان کی نفی بھی جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ مزید بوجھ عوام پر نہیں منتقل کیا جائے گا۔‘