آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور افغان باپ: ’ایک بیٹی بیچ دوں تو چار سال تک باقی بچوں کو کھانا کھلا سکتا ہوں‘
- مصنف, یوگیتا لیمائے
- عہدہ, نمائندہ برائے جنوبی ایشیا اور افغانستان
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
انتباہ: اس رپورٹ کے کچھ حصے آپ کو پریشان کر سکتے ہیں
افغانستان کے صوبہ غور کے دارالحکومت چغچران میں صبح ہوتے ہی ایک گرد آلود چوک میں سینکڑوں مرد جمع ہو جاتے ہیں۔
تھکے ہوئے چہروں کے ساتھ سڑک کے کنارے قطار بنائے وہ اس امید پر کھڑے ہیں کہ شاید کوئی آکر اُنھیں کوئی کام دے دے۔ انھیں کام ملتا ہے یا نہیں، یہ طے کرے گا کہ اُس دن اُن کا خاندان پیٹ بھر کر سوئے گا یا نہیں۔
تاہم اس کامیابی کے امکانات کم ہی ہیں۔
45 سالہ جمعہ خان بھی ان ہی افراد میں شامل ہیں جن کو گذشتہ چھ ہفتوں میں صرف تین دن کام ملا، جس کے لیے انھیں روزانہ کی بنیاد پر 150 سے 200 افغانی (2.35 سے 3.13 ڈالر) معاوضہ ملا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میرے بچے لگاتار تین راتیں بھوکے سوئے۔ میری بیوی رو رہی تھی، میرے بچے بھی رو رہے تھے۔ تو بالآخر میں نے ایک پڑوسی سے آٹے کے لیے پیسے مانگے۔‘
’مجھے بس یہ خوف لگا رہتا ہے کہ میرے بچے بھوک سے مر جائیں گے۔‘
یہ کوئی اکیلے ان کی کہانی نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے تین افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے۔ بے روزگاری عام ہے، صحت کا نظام خراب ہے اور وہ امداد جس سے کبھی لاکھوں لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری ہوا کرتی تھیں، اب بہت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
ملک اس وقت بھوک کی ریکارڈ سطح کا سامنا کر رہا ہے۔ 47 لاکھ ملین افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔ یہ افغانستان کی کل آبادی کے دسویں حصے سے زائد ہے۔
غور سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں شامل ہے۔
یہاں کے مرد مایوسی کا شکار ہیں۔
ربانی کہتے ہیں کہ ’مجھے فون آیا کہ میرے بچوں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔‘ یہ کہتے ہوئے ان کی آواز بھر آتی۔
’مجھے لگا کہ مجھے خودکشی کر لینی چاہیے لیکن پھر میں نے سوچا اس سے میرے خاندان کو کیا فائدہ ہو گا؟ اس لیے میں یہاں کام کی تلاش میں آیا ہوں۔‘
خواجہ احمد بمشکل چند ہی الفاظ کہہ پائے تھے کہ رونے لگے۔
’ہم بھوکے مر رہے ہیں۔ میرے بڑے بچے نہیں رہے اس لیے مجھے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے کام کرنا پڑ رہا ہے لیکن میں بوڑھا ہوں تو اس لیے کوئی مجھے کوئی کام نہیں دیتا۔‘
جب بھی چوک کے قریب واقع بیکری کھلتی ہے تو اس کا مالک ہجوم میں باسی روٹیاں تقسیم کرتا ہے۔ چند ہی لمحوں میں روٹیاں ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہیں اور کئی مرد اُنھیں ایسے تھامے بیٹھے ہوتے ہیں کہ اس سے قیمتی کوئی چیز نہیں۔
اچانک وہاں موٹرسائیکل پر سوار ایک شخص آتا ہے جس کو اینٹیں اٹھانے کے لیے ایک مزدور کی ضرورت تھی۔ درجنوں لوگ اُس کی طرف لپکتے ہیں۔
ہم دو گھنٹے وہاں رہے اور اس دوران صرف تین مردوں کو کام ملا۔
قریب کی آبادیوں میں بے روزگاری کے تباہ کن اثرات واضح ہیں۔
عبدالرشید عظیمی ہمیں اپنے گھر لے گئے اور اپنے دو بچوں سے ملوایا۔ ان کی سات سال کی جڑواں بچیاں ہیں: رقیہ اور روحیلہ۔ وہ اُنھیں سینے سے لگا کر بتاتے ہیں کہ وہ ناقابلِ برداشت فیصلے کیوں کر رہے ہیں۔
وہ روتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں اپنی بیٹیوں کو بیچنے کے لیے تیار ہوں۔ میں غریب، قرض میں ڈوبا ہوا اور بے بس ہوں۔‘
’میں کام سے واپس آتا ہوں تو میرے ہونٹ خشک ہوتے ہیں، میں بھوکا، پیاسا، پریشان اور الجھا ہوا ہوتا ہوں۔ میرے بچے کہتے ہیں کہ بابا ہمیں روٹی دو لیکن میں کیا دوں؟ کوئی کام ہے؟‘
عبدالرشید کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو شادی کے لیے یا گھریلو کام کے لیے بیچنے پر تیار ہیں۔ ’اگر میں ایک بیٹی بیچ دوں تو کم از کم چار سال تک اپنے باقی بچوں کو کھانا کھلا سکتا ہوں۔‘
وہ روحیلہ کو گلے لگا کر روتے ہوئے اُسے چومتے ہیں۔ ’یہ میرے دل کو توڑ دیتا ہے لیکن یہی واحد راستہ ہے۔‘
بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو بیچنے کا انتخاب اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ ثقافتی طور پر بیٹوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ بڑے ہو کر کمائیں گے۔ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور کام پر طالبان کی جانب سے پابندی کے باعث یہ فرق مزید واضح ہو گیا۔
اس کے علاوہ یہاں شادی کے موقع پر ایک روایت بھی ہے جس میں لڑکے کا خاندان لڑکی کے خاندان کو تحفے دیتا ہے۔
عبدالرشید اور ان کی اہلیہ کیہان کے دو نوعمر بیٹے شہر کے مرکز میں جوتے پالش کرتے ہیں۔ ایک اور بیٹا ہے جو کچرا جمع کرتا ہے جسے کیہان ایندھن کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
سعید احمد بتاتے ہیں کہ جب ان کی پانچ سالہ بیٹی شائقہ کو اپینڈکس اور جگر میں رسولی ہوئی تو مجبوری میں اسے بیچ دیا۔
’میرے پاس علاج کے اخراجات کے لیے پیسے نہیں تھے، اس لیے میں نے اپنی بیٹی کو ایک رشتہ دار کو بیچ دیا۔‘
شائقہ کا آپریشن کامیاب رہا، جس کے لیے 200,000 افغانی (3,200 ڈالر) کی رقم اُس کی فروخت سے حاصل ہوئی۔
سعید کہتے ہیں کہ اگر وہ اُس وقت پوری رقم لے لیتے تو ان کا رشتہ دار شائقہ کو ساتھ لے جاتا۔ ’اس لیے میں نے کہا کہ ابھی صرف اتنے پیسے دو جو علاج کے لیے چاہییں اور بقیہ پیسے اگلے پانچ سال میں دے دینا، پھر تم اُسے لے جا سکتے ہو۔ وہ اُس کی بہو بنے گی۔‘
شائقہ اپنی ننھی بانہیں اُن کے گلے میں ڈالے بیٹھی تھی اور دونوں باپ بیٹی کا پیار واضح ہے مگر پانچ سال بعد جب شائقہ محض 10 سال کی ہوگی تو اسے شادی کر کے اپنے رشتہ دار کے گھر جانا پڑے گا۔
سعید کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس پیسے ہوتے تو وہ کبھی ایسا نہیں کرتے لیکن اگر بنا آپریشن کے وہ مر جاتی تو؟
وہ کہتے ہیں کہ اتنی کم عمری میں اپنے بچے کو کسی اور کو دے دینا آسان نہیں۔
’اس کے علاوہ کم عمری کی شادیوں کے مسائل بھی ہوتے ہیں لیکن چونکہ میں اُس کا علاج نہیں کروا سکتا تھا تو اس لیے میں نے سوچا کم از کم وہ زندہ تو رہے گی۔‘
افغانستان میں کم عمری کی شادی کا رواج اب بھی عام ہے اور لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان حکومت کی پابندیوں کے باعث اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
صرف دو سال پہلے تک سعید کو کچھ نہ کچھ امداد مل رہی تھی۔
تب دیگر لاکھوں افغانوں کی طرح انھیں اور اُن کے خاندان کو آٹا، کوکنگ آئل، دالیں اور بچوں کے لیے اضافی خوراک امداد میں ملتی تھی لیکن گذشتہ چند برسوں میں امداد میں بڑے پیمانے پر کمی کے باعث بیشتر لوگ اس سے محروم ہو گئے ہیں۔
ایک وقت تھا کہ افغانستان کو سب سے زیادہ امداد امریکہ سے آتی تھی لیکن اس نے گذشتہ سال تقریباً تمام امداد بند کر دی۔ برطانیہ سمیت کئی دیگر بڑے عطیہ دہندگان نے بھی اپنی امداد میں نمایاں کمی کی۔ اقوامِ متحدہ کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال ملنے والی امداد 2025 کے مقابلے میں 70 فیصد کم ہے۔
اس کے علاوہ ملک کے نصف سے زیادہ صوبے شدید خشک سالی سے متاثر ہیں۔ اس سے بھی مسائل میں اضافہ ہوا۔
ایک اور مقامی عبدالمالک بتاتے ہیں کہ ’ہمیں کسی سے کوئی مدد نہیں ملی۔۔۔ نہ حکومت سے، نہ این جی اوز سے۔‘
2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد اقتدار سنبھالنے والی طالبان حکومت اافغانستان کی سابقہ انتظامیہ کو اس صورتحال کی ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔
طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’20 سالہ قبضے کے دوران امریکی ڈالرز کے بہاؤ کی وجہ سے ایک مصنوعی معیشت قائم تھی۔‘
’تسلط کے خاتمے کے بعد ہمیں غربت، مشکلات، بے روزگاری اور دیگر مسائل ورثے میں ملے۔‘
تاہم طالبان کی اپنی پالیسیاں، خاص طور پر خواتین پر پابندیاں، بھی ایک اہم وجہ ہیں جس کی بنا پر عطیہ دہندگان پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
جب اس بارے میں ان سے سوال کیا گیا تو طالبان حکومت نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’انسانی ہمدردی کی امداد کو سیاسی نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘
حمداللہ فطرت نے غربت کم کرنے اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ’بڑے معاشی منصوبوں‘ کا بھی حوالہ دیا، جن میں چند انفراسٹرکچر اور کان کنی کے منصوبے شامل ہیں لیکن اگرچہ طویل مدتی منصوبے مستقبل میں مددگار ہو سکتے ہیں، یہ واضح ہے کہ لاکھوں افراد فوری امداد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔
محمد ہاشم کا شمار بھی ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے۔ چند ہفتے قبل ہی ان کی 14 ماہ کی بیٹی فوت ہوئی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میری بچی بھوک اور دوائی کی کمی سے مر گئی، جب بچہ بیمار اور بھوکا ہو تو ظاہر ہے وہ مر جائے گا۔‘
ایک مقامی بزرگ کا کہنا ہے کہ غذائی قلت کے باعث بچوں کی اموات میں گذشتہ دو برسوں میں ’نمایاں اضافہ‘ ہوا۔
یہاں اموات کا کوئی باضابطہ ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ قبرستان ہی وہ جگہ ہے جہاں بچوں کی بڑھتی ہوئی اموات کے شواہد ملتے ہیں۔ ہم نے چھوٹی اور بڑی قبروں کی الگ الگ گنتی کی، جیسے ہم نے ماضی میں بھی کیا تھا۔ چھوٹی قبریں بڑی قبروں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی تھی یعنی مرنے والے بچوں کی تعداد بڑوں سے دوگنی تھی۔
چغچران کے مرکزی صوبائی ہسپتال سے بھی مزید شواہد ملے۔
ہسپتال میں نومولود بچوں کا وارڈ سب سے مصروف جگہ ہے۔ ہر بستر پر مریض ہے، کچھ کچھ پر تو دو بچوں کو ایک ساتھ رکھا ہوا ہے۔ زیادہ تر وزن کی کمی کا شکار ہیں اور اکثریت کو خود سے سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔
ایک نرس ایک چھوٹا سا بستر لاتی ہے جس میں نومولود جڑواں بچیاں ہیں۔ وہ دو ماہ قبل از وقت پیدا ہوئی ہیں۔ ایک کا وزن دو کلوگرام اور دوسری کا صرف ایک کلوگرام ہے۔
ان کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طور پر دونوں کو آکسیجن دی جانے لگی۔
ان کی 22 سالہ والدہ شکیلہ زچگی وارڈ میں زیرِ علاج ہیں۔
جڑواں بچیوں کی دادی گل بدن بتاتی ہیں کہ بچویں کی ماں ’کمزور ہے کیونکہ حمل کے دوران اسے بمشکل کچھ کھانے کو ملتا تھا، محض روٹی اور چائے اور اسی لیے بچوں کی حالت ایسی ہے۔‘
اسی دن ہمارے ہسپتال سے جانے کے چند گھنٹوں بعد زیادہ وزنی بچی کا انتقال ہو گیا۔ اس کا نام بھی نہیں رکھا جا سکا تھا۔
اگلے دن اُن کی دادی نے بتایا کہ ’ڈاکٹروں نے اُسے بچانے کی کوشش کی لیکن وہ مر گئی۔‘
’میں اُس کے چھوٹے سے جسم کو لپیٹ کر گھر لے گئی۔ جب اُس کی ماں کو اس بارے میں پتا چلا تو وہ بے ہوش ہو گئی۔‘
گل بدن زندہ بچ جانے والی بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’امید ہے کہ یہ کم از کم زندہ رہے۔‘
نرس فاطمہ حسینی کہتی ہیں کہ بعض اوقات ایک ہی دن میں تین تک بچے وفات پا جاتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’شروع شروع میں جب میں بچوں کو مرتے دیکھتی تھی تو مجھے بہت مشکل ہوتی تھی لیکن اب یہ ہمارے لیے تقریباً معمول بن گیا۔‘
نومولود وارڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمد موسیٰ اولدت کہتے ہیں کہ شرح اموات 10 فیصد تک پہنچ جاتی ہے جو کہ کسی صورت ’قابلِ قبول نہیں‘۔
وہ بتاتے ہیں ’لیکن غربت کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں روز اضافہ ہو رہا ہے اور ہمارے پاس بچوں کے مناسب علاج کے وسائل بھی نہیں۔‘
بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں چھ ہفتے کا ضمیر میننجائٹس (گردن توڑ بخار) اور نمونیا کا شکار ہے۔ دونوں امراض قابلِ علاج ہیں لیکن اس کے لیے ڈاکٹروں کو ایم آر آئی سکین کرنا ہوگا اور ان کے پاس اس کے لیے مناسب آلات نہیں۔
لیکن شاید سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال میں زیادہ تر مریضوں کے لیے ادویات موجود نہیں اور خاندانوں کو باہر کی فارمیسیوں سے دوائیں خریدنا پڑتی ہیں۔
فاطمہ کہتی ہیں کہ ’کبھی کبھار اگر کسی خوشحال خاندان کے بچے کی دوائیں بچ جائیں تو ہم انھیں اُن بچوں کے لیے استعمال کرتے ہیں جن کے گھر والے دوا نہیں خرید سکتے۔‘
پیسے کی کمی بہت سے خاندانوں کو مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
گل بدن کی زندہ بچ جانے والی نواسی کا وزن تھوڑا بڑھا اور اس کی سانس بھی بحال ہوئی لیکن چند دن بعد خاندان اُسے گھر لے گیا کیونکہ وہ ہسپتال کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
ضمیر کو بھی اسی وجہ سے اُس کے والدین گھر لے گئے۔
اب اُن کے ننھے جسموں کو اپنی بقا کی جنگ خود لڑنی ہوگی۔