پمز ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

PIMS Hospital

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے باہر ماحول اب بھی سوگوار ہے۔

داخلی راستے پر پولیس اہلکار گشت کر رہے ہیں۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں باہر کھڑی ہیں جبکہ ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کا شیشہ اور ماسک اب بھی فٹ پاتھ پر بکھرے پڑے ہیں۔

بدھ کی صبح پمز ہسپتال کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے جس کی تصدیق ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر اور پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے کی۔

بی بی سی نے ایسے خاندانوں کو دیکھا جنھوں نے اپنے نومولود بچوں کو کھویا ہے اور وہ وارڈ کے باہر رو رہے تھے۔ ایک شخص نے ہمیں بتایا کہ اس کا تین دن کا بچہ ہلاک ہو گیا ہے۔

جب ہسپتال میں آگ لگی تو حفصہ ولید اپنی نند کے ساتھ وہیں موجود تھیں، جنھوں نے چند روز قبل بچے کو جنم دیا تھا۔ وہ نرسری میں تھیں جو اُس کمرے کے سامنے واقع ہے جہاں آگ بھڑکی تھی۔

ان کے مطابق صبح تقریباً چھ بجے انھوں نے کسی کے چیخنے کی آواز سنی۔ ابتدا میں انھیں لگا کہ شاید کسی کی وفات ہو گئی ہے، لیکن پھر انھوں نے دھواں دیکھا۔

انھوں نے نومولود بچی کو، جو اتنی چھوٹی ہے کہ ابھی اس کا نام بھی نہیں رکھا گیا، اٹھایا اور وہاں سے بھاگ نکلیں۔

پمز ہسپتال کی دستاویز کے مطابق چلڈرن وارڈ میں 15 بچے داخل تھے جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا ہے۔

ہسپتال کی ترجمان کے مطابق آگ ایئر کنڈشن یونٹ میں لگی اور آکسیجن کے کنکشنز کے باعث آگ فوراً بھڑک اٹھی۔

ریسکیو

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

سی ڈی اے کا ریسکیو ٹیمیں سات منٹ میں جائے وقوعہ پہنچنے کا دعویٰ

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ پمز ہسپتال کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کے تیسرے فلور پر لگی جس میں مجموعی طور پر 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے۔

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انھیں ہسپتال میں فائر ایمرجنسی کی اطلاع صبح چھ بج کر 45 پر موصول ہوئی، جس کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں سات منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروس اور سی ڈی اے فائر ڈیپارٹمنٹ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کی وجوہات جاننے، ریسکیو کارروائی کا جائزہ لینے اور ہسپتال میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کی مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اسلام آباد کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

بچوں کی لاشیں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی گھر والوں کے حوالے کی جائیں گی، پولیس

police

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جن خاندانوں کے بچے اس واقعہ میں ہلاک ہوئے ہیں وہ جائے وقوعہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے خاندان والے اپنے نومولود بچوں کی لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نرسری میں آگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور 14 نومود بچے مکمل طور پر جھلس چکے ہیں اور بنا بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے ان کی شناخت ممکن نہیں۔

پولیس کے بقول اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی متاثرہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی۔

ذمہ داران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے حکم دیا ہے کہ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔