بنوں حملہ اور ’78 برسوں سے بند کمروں میں فیصلوں کا شکوہ:‘ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان کا مطلب کیا ہے؟

Sohail Afridi

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سنیچر کی شب ایک پولیس چوکی پر خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد صوبے کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان نے ایک بار پھر شدت پسندی اور امن و امان کے معاملے پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان ہم آہنگی پر سوال اُٹھا دیے ہیں۔

پیر کو بنوں میں پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم مسلسل کہتے رہے کہ دہشتگرد دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں لیکن 78 سال سے مسلسل بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط کیے جا رہے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، عوام کو اپنے حقوق اور امن کیلئے کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ مسلط شدہ حالات برقرار رہیں گے۔

خیال رہے کہ سنیچر کی شب بنوں میں نورڑ روڈ پر واقع فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں کم سے کم 15 اہلکار ہلاک جبکہ اس میں تین زخمی ہوئے تھے۔

Bannu

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس حملے کی ذمہ داری ’اتحاد المجاہدین‘ نامی گروہ نے قبول کی ہے، تاہم پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ پیر کو اسلام آباد میں افغانستان کے ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے انھیں احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا ہے۔

بنوں حملے کے حوالے سے پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کے فتح خیل چوکی کے قریب پہلے ایک لوڈر رکشہ سے دھماکہ کیا گیا اور بعد ازاں بھاری ہتھیاروں کی مدد سے فائرنگ کی گئی۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پولیس سٹیشن کی پوری عمارت منہدم ہو گئی اور زیادہ ہلاکتیں پولیس اہلکاروں کے ملبے تلے دبنے کی وجہ سے ہوئیں۔

سہیل آفریدی نے مزید کیا کہا؟

یہ پہلا موقع نہیں جب خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی سہیل آفریدی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سکیورٹی اداروں کا نام لیے بغیر صوبے میں ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بنوں کے دورے کے دوران اُن کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور پولیس مل کر دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، ہم ہر اُس فیصلے کی مخالفت کریں گے جو صوبے کے امن اور عوامی مفادات کے خلاف ہو گا۔

دورے کے دوران سہیل آفریدی نے ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کی۔

بی بی سی نے وزیرِ اعلیٰ آفریدی کے بیان پر وضاحت حاصل کرنے کے لیے جب ان کے معاون خصوصی شفیع جان رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’سب کو پتا ہے کہ بند کمروں میں فیصلے کون کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کی حکومت کا پہلے دن سے موقف رہا ہے کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں ہیں۔‘

دوسری جانب بنوں حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ صرف ایک صوبے کی نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان کی ہے۔

پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان نے اتوار کو اس معاملے پر وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو ٹیلی فون کر اُن سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

Bannu

،تصویر کا ذریعہ@KPChiefMinister

’یہ اعتماد کا فقدان ہے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ صوبے میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے وزیر اعلی کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔

پشاور میں مقیم سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ارشد عزیز ملک کہتے ہیں کہ تحریک انصاف صوبے میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتی رہی ہے اور مذاکرات کی حامی ہے۔

’بند کمروں میں فیصلوں سے متعلق بھی اُن کا بیان اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں اور کوئی مشاورت نہیں کی جاتی۔ ‘

عدم اعتماد کی مثال دیتے ہوئے ارشد عزیز ملک کا کہنا تھا کہ چند روز قبل پشاور کے عمران خان سٹیڈیم میں ’معرکہ حق‘ کے حوالے سے ایک بہت بڑی تقریب تھی، جس میں سہیل آفریدی کو بھی مدعو کیا گیا تھا، لیکن وہ شریک نہیں ہوئے اور اُن کی کرسی پوری تقریب کے دوران خالی رہی تھی۔

ارشد عزیز ملک کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ برس سہیل آفریدی نے فوج پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ یہ لوگ مساجد میں کتے لے کر آ جاتے تھے۔ تو یہ اس محاذ آرائی کی کڑی ہے، جس میں وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ایسے بیانات دیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے گذشتہ برس دسمبر میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اس الزام کو ’غلیظ‘ اور ’پروپیگنڈہ‘ قرار دیا تھا۔

Bannu

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ارشد عزیز ملک کے مطابق اس طرح کے سخت بیانات وزیر اعلیٰ کی بے بسی ظاہر کرتے ہیں کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہونے کے باوجود وہ کچھ نہیں کر پا رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب سہیل آفریدی نے حلف اُٹھایا تو اس کے بعد ان کی کور کمانڈر پشاور سے ملاقات ہوئی تھی اور اُمید کی جا رہی تھی کہ ایک ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو جائے گا، لیکن پھر فوجی آپریشنز اور دیگر معاملات پر اختلافات کی وجہ سے یہ تعلقات پھر خراب ہو گئے۔

خیال رہے کہ سہیل آفریدی نے جنوری میں وادی تیراہ میں مبینہ فوجی آپریشن کے باعث لوگوں کی نقل مکانی پر بھی شدید تنقید کی تھی۔

اُس وقت ایک ویڈیو بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے جرگے میں متفقہ طور پر کہا گیا تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ بات چیت، مشاورت اور جرگہ سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سہیل آفریدی نے سوال اُٹھایا تھا کہ ’جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو مزید آپریشن سے کون سے فائدہ مند نتائج حاصل ہوں گے؟‘

اس پر وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے وفاقی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا تھا کہ فوج خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں ہے۔

CM PKP

،تصویر کا ذریعہx.com/GovernmentKP

،تصویر کا کیپشندو فروری کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی تھی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار شمیم شاہد سمجھتے ہیں کہ سہییل آفریدی کی بات جائز ہے ’کیونکہ گذشتہ 78 برسوں پر نظر دوڑائی جائے تو مالی معاملات سے لے کر سکیورٹی معاملات تک کئی مواقع پر صوبائی حکومت کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی گئی۔ ‘

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یہ صوبہ شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور جس نوعیت کے وسائل اسے ملنے چاہییں، وہ نہیں ملے۔

اُن کے بقول سنہ 1998 میں جب صوبائی بجٹ پیش کیا گیا تو اُس وقت صوبے کو اس کے حصے کے پیسے نہیں دیے گئے تھے اور اسمبلی میں شور مچانے پر اُس وقت کے وزیر اعلی نے پیسے ریلیز کیے تھے۔

’اسی طرح شوکت عزیز کے دور میں بھی اس طرح ہوا تھا۔ ‘

شمیم شاہد کے بقول عدم اعتماد دونوں طرف ہی ہے، سیاسی محاذ آرائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان بہت خلیج ہے۔