آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گاڑیوں پر نمبر پلیٹ لگانے کی روایت کب، کہاں اور کیوں شروع ہوئی؟
- مصنف, شاردا میاپورم
- عہدہ, بی بی سی کے نامہ نگار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈیا میں حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں سٹیئرنگ وہیل پر ایک بٹن دبانے سے گاڑی کی نمبر پلیٹ آنکھوں کے سامنے تبدیل ہو جاتی ہے۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں اور دیگر جرائم میں پکڑے جانے سے بچنے کے لیے حالیہ دنوں کے دوران انڈیا کے کئی حصوں میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹ تبدیل کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، اور اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف پولیس کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
حیدرآباد پولیس کے کمشنر وی سی سجنار نے بتایا کہ چار جون کو پولیس نے شہر بھر میں چھاپے مارے جن کے دوران جعلی نمبر پلیٹوں والی دو ہزار سے زیادہ گاڑیاں ضبط کی گئیں۔
پولیس کے مطابق ’آپریشن کوَچ‘ کے نام سے رات 10 بجے سے آدھی رات تک جاری رہنے والی کارروائی میں نمبر پلیٹ کلوننگ، دھوکہ دہی، جعلی نمبر پلیٹوں کا استعمال اور دو گاڑیوں کے لیے ایک ہی نمبر کے استعمال جیسے کیس سامنے آئے۔
پولیس کمشنر نے کہا کہ گاڑی کے رجسٹرڈ نمبر میں چھیڑ چھاڑ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی اور مقدمہ درج کیا جائے گا۔
موجودہ دور میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کو بہت اہمیت حاصل ہو چکی ہیں لیکن گاڑیوں کے لیے نمبر پلیٹ کا استعمال کب اور کیوں شروع ہوا؟
گاڑیوں کا رجسٹریشن نمبر کیا ہوتا ہے؟
محکمہ ایکسائز یا ٹرانسپورٹ کی جانب سے کسی گاڑی کو دیا گیا نمبر ’رجسٹریشن نمبر‘ کہلاتا ہے۔ یہ نمبر ملک میں چلنے والی کسی بھی گاڑی کی سرکاری شناخت کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔
قانون کے مطابق یہ نمبر گاڑی کے آگے اور پیچھے اس طرح لگایا جانا چاہیے کہ وہ صاف نظر آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رجسٹریشن نمبر کے بغیر کسی گاڑی کو چلانا قانوناً جرم ہے۔
نمبر پلیٹ سے کیا معلومات ملتی ہیں؟
گاڑیوں کی نمبر پلیٹ ایک مخصوص ترتیب کے تحت تیار کی جاتی ہے۔
ایک فرضی نمبر پلیٹ LEA 1234 کی مثال لیجیے۔ پاکستان میں گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز صوبے اور علاقے کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں۔ عموماً نمبر پلیٹ پر موجود حروف گاڑی کے رجسٹریشن علاقے یا سیریز کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ ہندسے گاڑی کی منفرد رجسٹریشن شناخت ہوتے ہیں۔ ہر گاڑی کو ایک الگ نمبر جاری کیا جاتا ہے جو کسی دوسری گاڑی کو نہیں دیا جاتا۔
نمبر پلیٹ کی تاریخ
گاڑیوں کے لیے نمبر پلیٹ کو قانونی حیثیت دینے والا پہلا ملک فرانس تھا۔
14 اگست 1893 کو پیرس پولیس نے ایک قانون جاری کیا جس کے تحت نمبر پلیٹ کو لازمی قرار دیا گیا تاکہ حادثے کے بعد فرار ہونے والی گاڑیوں کے مالکان کو پکڑا جا سکے۔
اس قانون کے مطابق ہر گاڑی پر شناختی پلیٹ ہونا ضروری قرار دیا گیا، جس پر نمبر کے ساتھ مالک کا نام اور پتہ درج ہوتا تھا۔
یہ قانون ابتدا میں پیرس تک محدود تھا، 1896 میں جرمنی نے پورے ملک میں نمبر پلیٹ کا استعمال شروع کر دیا۔
جبکہ ملک بھر میں نمبر پلیٹ کا یکساں قانون نافذ کرنے کا کریڈٹ نیدرلینڈز کو جاتا ہے۔
1898 میں ڈچ حکومت نے قومی ٹریفک قانون بنایا جس کے تحت ’ڈرائیونگ لائسنس پلیٹ‘ کے نام پر نمبر پلیٹس جاری کی جاتی تھیں۔
نیشنل میوزیم آف امریکن ہسٹری کی ویب سائٹ کے مطابق امریکہ میں گاڑیوں کے لیے نمبر پلیٹ لازمی قرار دیے جانے کا قانون 1901 میں نیو یارک کے لیے منظور ہوا۔ تاہم شروع میں نمبر پلیٹس حکومت فراہم نہیں کرتی تھی بلکہ مالکان خود بناتے تھے۔ بعد میں 1903 میں میساچیوسٹس نے سرکاری پلیٹ جاری کرنا شروع کی۔
انڈیا میں نمبر پلیٹس کب شروع ہوئیں؟
سرکاری ریکارڈ کے مطابق انڈیا میں نمبر پلیٹ کا قانون 1914 میں برطانوی دور کے ’انڈین موٹر وہیکل ایکٹ‘ کے تحت نافذ ہوا۔ تاہم 1900 کے آس پاس بھی ایسے شواہد ملتے ہیں کہ گاڑیوں کی شناخت کے لیے نمبرز استعمال کیے جاتے تھے۔
سنہ 1914 سے پہلے برطانوی انڈیا کے مختلف علاقوں جیسے بمبئی، بنگال، مدراس، پنجاب اور برما میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے الگ الگ قوانین موجود تھے، جنھیں بعد میں ایک قومی قانون کے تحت یکجا کر دیا گیا۔
1914 کا قانون بہت سادہ تھا لیکن جیسے جیسے ملک میں گاڑیوں کی تعداد بڑھی تو وہ قانون ناکافی ثابت ہونے لگا۔ اس پر برطانوی حکومت نے ٹرانسپورٹ کے نظام کو منظم کرنے کے لیے موٹر وہیکلز ایکٹ 1939 لاگو کیا۔
قانون کیا کہتا ہے؟
موٹر وہیکلز ایکٹ 1939 کے تحت ملک بھر میں نمبر پلیٹس کا ڈیزائن تبدیل کیا گیا۔ اس میں دو حروف کا ریاست کا کوڈ، پھر حروف کی سیریز اور چار ہندسے شامل ہوتے تھے۔ اس وقت یہ قاعدہ مقرر کیا گیا تھا کہ نجی گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر سفید حروف ہوں، جبکہ کمرشل گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر کالے حروف درج ہوں۔
موٹر وہیکل ایکٹ 1988 میں تبدیلیاں
موجودہ نمبر پلیٹ کا نظام موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کے تحت متعارف ہوا۔ اس کے مطابق ہر ریاست کو دو حروف پر مشتمل کوڈ دیا گیا ہے۔ (مثلا تامل ناڈو کے لیے TN، بہار کے لیے BR، اتر پردیش کے لیے UP)
اس قانون کے تحت نجی گاڑیوں کی نمبر پلیٹ سفید، کمرشل گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پیلے اور الیکٹرک گاڑیوں کی نمبر پلیٹ سبز رنگ کی ہوتی ہے۔
جعلی نمبر پلیٹ اور چوری روکنے کے لیے ہائی سکیورٹی رجسٹریشن پلیٹ (ایچ آر ایس پی) بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ ایلومینیم کی اس نمبر پلیٹ میں کرومیم پر مبنی ہولوگرام اور لیزر سے کوڈ کیے گئے نمبر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پلیٹ کو تبدیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جو افراد دوسری ریاستوں میں سفر کرتے ہیں ان کی سہولت کے لیے سنہ 2021 میں BH سیریز بھی متعارف کروائی گئی۔ اس سیریز کی نمبر پلیٹ پورے ملک میں قابلِ قبول ہوتی ہے اور دوسری ریاست میں جا کر گاڑی کی دوبارہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس کے علاوہ اس سیریز کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ گاڑی کو کسی بھی دوسری ریاست میں آسانی سے فروخت کیا جا سکتا ہے۔