ڈیپ فیک، آن لائن فراڈ اور اے آئی: ’بھنور‘ اور ’بس تیرا ساتھ ہو‘ جیسے ڈرامے جو ڈیجیٹل خطرات سے آگاہی دے رہے ہیں

ٹی وی ڈرامہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمیر علوی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

اگر آپ کے موبائل پر اچانک ایک ایسی ویڈیو موصول ہو جس میں دکھائی دینے والا چہرہ آپ کا ہو، مگر حقیقت میں وہ ویڈیو کبھی بنی ہی نہ ہو، تو آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟ یا اگر کسی عزیز کی آواز میں آپ کو فون آئے اور وہ مشکل میں ہونے کا کہہ کر فوری رقم بھیجنے کی درخواست کرے، لیکن بعد میں معلوم ہو کہ یہ سب مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشیل انٹیلی جنس) کی مدد سے تیار کیا گیا ایک دھوکا تھا؟

کچھ عرصہ پہلے تک یہ سب سائنس فکشن محسوس ہوتا تھا، مگر آج ڈیپ فیک، آن لائن فراڈ اور اے آئی کے غلط استعمال کے واقعات دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ میں ان موضوعات پر کافی کام ہو چکا ہے، لیکن پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے تک یہ موضوع زیادہ تر خبروں اور سوشل میڈیا تک محدود تھا۔

اب صورتحال بدل رہی ہے۔ پاکستانی ڈرامہ نگار، ہدایت کار اور پروڈیوسرز ٹی وی ڈراموں کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا کے ان خطرات کو اپنی کہانیوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔ اس وقت دو پاکستانی ڈرامے، ’بھنور‘ اور ’بس تیرا ساتھ ہو‘ اسی بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا کے خطرات کو مختلف زاویوں سے پیش کر رہے ہیں۔

’بھنور‘: جب مصنوعی ذہانت جرم کا ہتھیار بن جائے

ڈرامہ بھنور

،تصویر کا ذریعہyoutube.com/@ExpressEntertainment

ردا بلال کے تحریر کردہ اور ابو علیحہ کی ہدایت کاری میں بننے والے ڈرامہ ’بھنور‘ میں تین خواتین اور ایک صحافی کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو آرٹیفیشیل انٹیلی جنس، آن لائن فراڈ، ڈیپ فیک، سائبر کرائم اور ایک پراسرار آئی ٹی کمپنی کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

ٹیلی وژن چینل ایکسپریس انٹرٹینمنٹ پر نشر ہونے والے اس ڈرامے میں مرکزی کردار اسد صدیقی کا ہے، جو اس کے پروڈیوسر بھی ہیں۔ جبکہ منشا پاشا، اریکا حق اور لائبہ رحمان دیگر متاثرین کے کردار ادا کر رہی ہیں۔

برکت صدیقی، جو خود ایک معروف ہدایت کار ہیں، اس ڈرامے میں ایک ایسے اخبار کے مالک کا کردار نبھا رہے ہیں جو اے آئی کی مدد سے اپنے ادارے کے ایک صحافی کا معافی نامہ آن لائن جاری کرتا ہے۔ علی سفینہ ایک آن لائن دھوکے باز اور بلیک میلر کے کردار میں نظر آ رہے ہیں جبکہ دیگر کردار بھی اپنی پراسراریت کے باعث ناظرین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

ڈرامے کی مصنفہ ردا بلال کے مطابق اس کہانی کا خیال موجودہ دور میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کو دیکھ کر آیا۔

انھوں نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں کہا کہ مصنوعی ذہانت سے سہولت تو ملی ہے لیکن اس کے ذریعے نقصان پہنچانے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق میڈیا، کاروبار اور عام لوگوں کی نجی زندگیوں میں اے آئی کا غلط استعمال تیزی سے سامنے آ رہا ہے، اسی لیے انھوں نے ایک ایسی کرائم سیریز لکھنے کا فیصلہ کیا جس کا بنیادی موضوع ہی مصنوعی ذہانت ہو۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ردا بلال کہتی ہیں کہ اس ڈرامے کی تحقیق کے دوران انھوں نے دنیا بھر میں ہونے والے متعدد واقعات کا مطالعہ کیا، جن میں ڈیپ فیک ویڈیوز کے ذریعے مالی فراڈ، جعلی آڈیو کالز، شناخت چوری اور لوگوں کو بلیک میل کرنے جیسے کیسز شامل تھے۔

ان کے مطابق مستقبل میں پاکستان کو بھی ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے عوام کو پیشگی آگاہ کرنا ضروری ہے۔

ہدایت کار ابو علیحہ گذشتہ سات برسوں کے دوران متعدد کم بجٹ فلمیں بنا چکے ہیں، ٹی وی میں بطور ہدایت کار یہ ان کا پہلا سال ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کئی ڈراموں کے سکرپٹ پڑھنے کے بعد وہ تقریباً مایوس ہو چکے تھے، مگر جب انھوں نے ’بھنور‘ کا پہلا حصہ پڑھا تو پوری رات جاگ کر تمام اقساط مکمل کر ڈالیں۔

ان کے مطابق اس کہانی کی سب سے بڑی کشش اس کا منفرد اور مشکل موضوع تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ بظاہر یہ فون، چیٹس اور ڈیجیٹل دنیا کے گرد گھومنے والی ایک تکنیکی کہانی ہے، مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ مصنفہ نے ہر کردار کا جذباتی سفر بھی اتنی ہی مضبوطی سے تحریر کیا ہے، جس سے ناظرین کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔

’بس تیرا ساتھ ہو‘: ایک ڈیپ فیک ویڈیو اور عزت کا سوال

ڈرامہ بس تیرا ساتھ ہو

،تصویر کا ذریعہyoutube.com/@ARYDigitalasia

دوسری جانب سائرہ رضا کے لکھے ہوئے ڈرامے ’بس تیرا ساتھ ہو‘ میں ڈیپ فیک کو سماجی بدنامی اور ذاتی انتقام کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

اس ڈرامے میں ثنا جاوید اور فرحان سعید ایک ایسے نوجوان جوڑے کا کردار ادا کر رہے ہیں جن کی جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہے اور ان کی نجی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔

ہدایت کار قاسم علی مرید اس کہانی کو مؤثر انداز میں پیش کر رہے ہیں، خصوصاً وہ منظر جس میں دونوں کردار پہلی مرتبہ اپنی وہ ویڈیو دیکھتے ہیں جس میں ان کی شکلوں کا غلط استعمال کیا گیا ہوتا ہے۔

ڈرامے کی نمایاں کاسٹ میں فاران طاہر، صبا حمید، شگفتہ اعجاز، سلمان شاہد، زویا ناصر، حارث وحید، رضوان علی جعفری، ٹیپو شریف اور اکبر اسلام شامل ہیں۔

حارث وحید اس ڈرامے میں ایک ایسے نوجوان کا کردار ادا کر رہے ہیں جو اپنے خلاف وائرل ہونے والی ویڈیو کا بدلہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیو بنواتا اور اسے وائرل کرتا ہے۔

حارث وحید نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ابتدا میں وہ اس قدر منفی کردار ادا کرنے پر خوش نہیں تھے۔ ان کے مطابق ڈراموں میں حقیقت کو اکثر ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، اس لیے بعض پہلو ضرورت سے زیادہ ڈرامائی محسوس ہو سکتے ہیں، تاہم بنیادی مسئلہ حقیقی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ایسے متعدد واقعات کے بارے میں سنا ہے جہاں لوگوں کی تصاویر یا ذاتی معلومات استعمال کر کے انھیں بلیک میل کیا گیا۔

تاہم ان کے خیال میں صرف کہانی میں اے آئی کا ذکر کر دینا اس بات کی علامت نہیں کہ پاکستانی انڈسٹری تکنیکی اعتبار سے بہت آگے بڑھ گئی ہے۔

ان کے مطابق حقیقی پیشرفت تب ہو گی جب فلموں اور ڈراموں کی تیاری میں بھی جدید اے آئی ٹیکنالوجی کو تخلیقی اور تکنیکی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

کیا پاکستانی ڈرامے عوامی شعور بیدار کر رہے ہیں؟

ڈرامہ ناقد صدف حیدر کے مطابق مصنوعی ذہانت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔

وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں اس حوالے سے آگاہی پھیلانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ بہت سے لوگ اب بھی ان خطرات سے پوری طرح واقف نہیں۔

ان کے مطابق مختلف عمر کے ناظرین پاکستانی ڈرامے دیکھتے ہیں، اس لیے ایسے موضوعات پر ڈرامے بنانا عوامی آگاہی کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔

صدف حیدر کا کہنا ہے کہ دونوں ڈراموں نے مؤثر انداز میں یہ دکھایا ہے کہ جعلی تصاویر، ویڈیوز یا ڈیجیٹل دھوکے کس طرح کسی بھی شخص کی ساکھ اور زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

تاہم وہ خبردار کرتی ہیں کہ ایسے موضوعات پر کام کرتے ہوئے سنسنی خیزی سے گریز ضروری ہے کیونکہ اگر ہر جعلی ویڈیو کو غیر ضروری ڈرامائی انداز میں پیش کیا جائے تو اصل مسئلے کی سنجیدگی متاثر ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق پاکستانی معاشرے میں عزت اور شہرت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، اسی لیے ڈیپ فیک جیسی ٹیکنالوجی مردوں اور خواتین دونوں کے لیے یکساں خطرہ بن سکتی ہے۔

کیا یہ ایک نئے رجحان کا آغاز ہے؟

پاکستانی ڈرامے طویل عرصے سے خاندانی تنازعات اور سماجی مسائل کے گرد گھومتے رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں سائبر کرائم، ڈیجیٹل فراڈ اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات بھی کہانیوں میں جگہ بنا رہے ہیں۔

مصنفہ ردا بلال کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اور سائبر کرائم سے متعلق موضوعات پہلے بھی پاکستانی ڈراموں میں آتے رہے ہیں، مثلاً تصاویر لیک ہونے یا دیگر ڈیجیٹل مسائل سے متعلق کہانیاں پہلے بھی لکھی گئی ہیں۔

تاہم ان کے مطابق پاکستانی ڈراموں میں مکمل طور پر ٹیکنالوجی پر مبنی کہانیاں اب بھی کم ہیں۔

’عام طور پر ایسے موضوعات کو مرکزی حیثیت نہیں دی جاتی، اس لیے ’بھنور‘ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کی پوری کہانی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے گرد گھومتی ہے۔‘

ردا بلال کی خواہش ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے نئے اور جدید موضوعات پر ڈرامے بنانے کا سلسلہ جاری رہے۔

’بھنور‘ اور ’بس تیرا ساتھ ہو‘ اپنے انداز، رفتار اور کہانی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، مگر دونوں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں صرف پاس ورڈ ہی نہیں بلکہ ساکھ، شناخت اور اعتماد بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ان ڈراموں کی اہمیت محض تفریح تک محدود نہیں۔ یہ ایک اہم سوال بھی اٹھاتے ہیں: جب مصنوعی ذہانت روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے تو کیا ہمارا معاشرہ اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟