مودی کی سیاسی اڑان میں اہم کردار ادا کرنے والے پرشانت کشور کی بی جے پی کے خلاف فتح کیوں اہم ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا کی مشرقی ریاست بہار کے علاقے بانکی پور کے ضمنی انتخاب میں جَن سُراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے فتح حاصل کی ہے۔
یہ نشست وزیرِاعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے صدر نتن نوین کے راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے لیے منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔
ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے شہری علاقے میں واقع اس حلقے کو بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور گذشتہ 30 سے زیادہ برسوں میں یہاں اسی جماعت کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔
پرشانت کشور نے اپنے قریب ترین حریف بی جے پی کے نیرج کمار کو 19,324 ووٹوں سے شکست دی ہے۔ انھیں 64,151 ووٹ ملے، جبکہ نیرج کمار کو 44,827 ووٹ ملے۔
خیال رہے کہ نو مہینے قبل ہی بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے بی کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد نے 243 سیٹوں میں سے 202 نشستوں پر فتح حاصل کی تھی، جبکہ ان انتخابات میں جَن سُراج پارٹی کا کوئی بھی امیدوار جیت نہیں سکا تھا۔
ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ پرشانت کشور کون ہیں ؟ ان کی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟
پرشانت کشور کون ہیں؟
’پی کے‘ کے نام سے مشہور پرشانت کشور کی پیدائش بہار کے ضلع روہتاس میں 20 مارچ 1977 کو ہوئی۔
انھوں نے اپنے کریئر کی شروعات ایک پبلک ہیلتھ پروفیشنل کے طور پر کی، لیکن جلد ہی وہ پولیٹیکل سٹریٹیجی اور کنسلٹنگ کے شعبے میں آگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وہ پہلی دفعہ سنہ 2011 میں اس وقت سرخیوں میں آئے، جب انھوں نے نریندر مودی (جو اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے) کو دوبارہ اسمبلی انتخابات جیتنے میں مدد کی تھی۔
سنہ 2013 میں پرشانت کشور نے سٹیزنز فار اکاؤنٹ ایبل گورننس (سی اے جی) نامی ایک کنسلٹنسی فرم قائم کی جو بعد میں انڈین پولیٹکل ایکشن کمیٹی ( آئی پی اے سی) بنی۔
اور اسی کے ذریعے نریندر مودی کے لیے ’چائے پہ چرچا‘ جیسی مقبول کیمپین ڈیزائن کی گئی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ سنہ 2014 میں نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے میں پرشانت کشور کے ڈیزائن کردہ مہم اور سیاسی حکمت عملیوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
تاہم بعد میں انھوں نے بی جے پی اور نریندر مودی سے دوری اختیار کر لی اور دوسرے سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کے ساتھ کام کیا، جن میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار، بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی، پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اور آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی شامل ہیں۔
پرشانت کشور نے نے سنہ 2018 میں نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ میں شمولیت اختیار کی، لیکن بعد میں علیحدہ ہو گئے اور اکتوبر 2022 میں اپنی جن سوراج پارٹی کی بنیاد ڈالی۔
نومبر سنہ 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں پرشانت کشور نے 238 امیدوار اتارے، جن میں سے ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔
جیت کی پانچ وجوہات
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک پارٹی جو صرف 9 ماہ قبل تمام کی تمام سیٹوں پر شکست سے دوچار ہوئی تھی، اس نے یہ جیت کیسے حاصل کی اور جو پارٹی اس حلقے میں گذشتہ 31 سالوں سے جیت رہی تھی وہ کیسے ہار گئی؟
ماہرین اس کی پانچ وجوہات بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی پہلی وجہ حالیہ احتجاجی مظاہرے ہیں ہے۔
خیال رہے کہ دہلی کے جنتر منتر اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح بہار میں بھی بڑے پیمانے پر طلبا نے احتجاج کیا تھا۔
25 جولائی کو ’بہار بند‘ کی کال دی گئی۔ پولیس نے احتجاجی مظاہروں کے دوران طاقت کا استعمال کیا تھا اور اس دوران ایک پولیس اہلکار کی اے کے 47 سے فائرنگ کرنے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بھرت تیواری نامی ای شخص کی پولیس انکاؤنٹر میں موت بھی بی جے پی کی شکست کی وجہ بنی ہے۔
سینیئر صحافی لَو کمار مشرا کے مطابق ریاست کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اس معاملے میں کارروائی میں بہت دیر کر دی، جس کو پرشانت کشور نے انتخابی مسئلہ بنایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیسری وجہ بی جے پی کے اندر تقسیم بھی بتائی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ پٹنہ کی اس نشست سے پہلے بی جے پی نے ابھیشیک کمار کو کھڑا کیا تھا، لیکن بعد میں نیرج کمار سنہا کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس سیٹ سے کئی سینیئر بی جے پی لیڈر امیدوار بننا چاہتے تھے لیکن ایک بالکل نئے شخص کو امیدوار بنایا گیا، جس کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہوا۔
کم ووٹر ٹرن آؤٹ کو بھی بی جے پی کی شکست کی ایک وجہ سمجھا جا رہا ہے۔
سینیئر صحافی سرور احمد کا کہنا ہے کہ 35 فیصد سے بھی کم ووٹنگ ہونا بی جے پی کے خلاف اور پرشانت کشور کے حق میں گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر پرشانت کشور امیدوار نہ ہوتے تو ووٹنگ صرف 24 فیصد بھی ہو سکتی تھی۔
پانچویں اور آخری وجہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری کو لگاتار تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران پرشانت کشور نے لگاتار ریاست کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو اپنا نشانہ بنایا اور یہ حکمت عملی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی۔
اب ایک آخری سوال: پرشانت کشور کی اس جیت یا بی جے پی کی ہار کا ریاست اور ملک کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک علامتی جیت ہے اور اس سے پرشانت کشور کو اپنی ایک ملک گیر سیاسی لیڈر کی شناخت بنانے میں مدد ملے گی۔
کچھ ماہرین کا یہ خیال بھی ہے کہ اگر پرشانت کشور نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تو وہ انھیں اقتدار سے ہٹانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تاہم سینیئر صحافی سرور احمد کا کہنا ہے کہ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس جیت سے آگے کیا ہوگا، لیکن فی الحال یہ طے ہے کہ بی جے پی کے لیے اس ہار کو ایک بڑا جھٹکا مانا جا سکتا ہے۔
اضافی رپورٹنگ: محمد شاہد، بی بی سی



















