لبنان، اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کن شرائط کے تحت ہوئی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, یانگ تیان، ہیلن سلیوان
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جو 16 اور 17 اپریل کی درمیانی شب سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔
ابتداً صدر ٹرمپ کے اعلان میں حزب اللہ کا کوئی ذکر شامل نہیں تھا۔ ایران کا حمایت یافتہ یہ گروہ گذشتہ چھ ہفتے سے جاری جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب وقتاً فوقتاً راکٹ داغتا رہا ہے۔ لیکن بعدازاں ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے حزب اللہ پر زور دیا کہ وہ بھی جنگ بندی کا احترام کرے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں اُمید کرتا ہوں کہ اس اہم وقت میں حزب اللہ کا برتاؤ اچھا ہو گا۔‘
اس اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کو مزید بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس آنے کی بھی دعوت دی۔
جنگ بندی کی شرائط کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگ بندی کی شرائط میں ابتدائی طور پر 10 روزہ جنگ بندی کا ذکر ہے اور مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں اس میں مزید توسیع بھی ہو سکتی ہے۔
امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اسرائیل اور لبنان کی جنگ بندی کے متعدد نکات کچھ یوں ہیں۔
- ان شرائط میں کسی بھی منصوبہ بندی کے تحت یا فوری حملے کی صورت میں ’اسرائیل کے دفاع کا حق‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
- لبنان یہ یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کرے گا کہ حزب اللہ اور دیگر غیر ریاستی مسلح دھڑے اسرائیل پر حملہ نہ کریں۔
- تمام فریقوں نے تسلیم کیا ہے کہ لبنان کی سکیورٹی کی کلیدی ذمہ داری لبنانی سکیورٹی فورسز کی ہے۔
- اسرائیل اور لبنان نے درخواست کی ہے کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات کے لیے سہولت کاری کرتا رہے، تاکہ دیگر حل طلب معاملات بھی طے کیے جا سکیں۔
- امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کی جانب سے ’خیر سگالی کا مثبت اشارہ‘ اور ’اچھی نیت‘ کے ساتھ ایک مستقل اور دیرپا امن معاہدے کی کوششوں کا سلسلہ ہے۔
جنگ بندی پر کس نے کیا کہا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک تاریخی امن معاہدے کا بہترین موقع ہے۔‘
لبنانی وزیرِ اعظم نواف اسلام کا کہنا ہے کہ ’وہ اُمید کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے بعد بے گھر ہونے والے افراد واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حزب اللہ کی جانب سے بھی اس جنگ بندی پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی شرائط میں ’لبنان پر حملوں کا مکمل خاتمہ‘ اور ’اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت پر پابندی‘ کو بھی شامل کیا جائے۔
واضح رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی لبنان میں مضبوط جڑیں ہیں اور یہ لبنانی حکومت کے سکیورٹی دائرہ کار سے باہر ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے لبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
تہران کا یہ اصرار رہا ہے کہ اس کی امریکہ کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری پر امریکہ کی تعریف کی ہے۔
ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ تمام فریقوں کو جنگ بندی پر عمل کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔
یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن نے جنگ بندی کو ’ریلیف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یورپ لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے مکمل احترام کا مطالبہ کرتا رہے گا۔‘
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس نے مزید کہا کہ ’جنگ بندی کو تشدد سے پیچھے ہٹنے اور مزید دیرپا امن کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔‘
اسرائیل کا ’بفر زون‘ کیا ہے؟
معاہدے کے باوجود نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کی فوج جنوبی لبنان میں 10 کلومیٹر اندر تک ’ایک سکیورٹی بفر زون برقرار رکھے گی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی فوج سکیورٹی زون میں ہے اور ہم وہاں سے نہیں جا رہے، کیونکہ حملے کے خطرے کو روکنے کے لیے بفر زون کی ضرورت ہے۔‘
مارچ کے اوائل میں حزب اللہ کے حملوں کے بعد اسرائیل کی فوج جنوبی لبنان میں دوبارہ داخل ہوئی تھی اور وہاں ایک بفر زون قائم کیا گیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل میں آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ضروری تھا۔
اس سے قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 13 ماہ کے تنازع کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
یہ مذاکرات کیسے ہوئے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل اور لبنان نے اس ہفتے کے شروع میں واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد جنگ کو روکنا تھا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے تھے جب چند روز قبل ہی بیروت میں ایک مہلک فضائی حملے میں ہلاکتیں ہوئی تھیض جبکہ جنوبی لبنان میں بھی لڑائی میں شدت آئی تھی۔
صدر ٹرمپ کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ عون اور نتن یاہو کے ساتھ ’بہترین بات چیت‘ کے بعد عمل میں آیا ہے۔
نتن یاہو نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کچھ رعایتیں دے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’حزب اللہ نے دو شرائط پر اصرا کیا، ایک لبنان سے اسرائیل افواج کا انخلا اور خاموشی کے بدلے خاموشی کا اُصول۔‘
لیکن ایسا لگتا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان نے اسرائیل کو حیران بھی کیا اور اس کی حکومت اور کابینہ شاید اس فوری پیش رفت کے لیے تیار نہیں تھی۔
جمعرات کی شب ایک اسرائیل نیوز آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ نتن یاہو نے جنگ بندی کے اعلان سے کچھ دیر پہلے صرف پانچ منٹ کے نوٹس پر سکیورٹی کابینہ کا اجلاس بلایا۔ اس اجلاس سے متعلق باہر آنے والی معلومات کے مطابق وزرا نے اس معاملے پر ووٹ نہیں دیا تھا۔
لبنان جنگ بندی کا ایران سے کیا تعلق ہے؟
جب امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تو اس حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا کہ آیا لبنان اس میں شامل ہے یا نہیں۔
جنگ بندی میں کردار ادا کرنے والے پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ اس جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔ تاہم بعدازاں امریکی اور اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ اس میں لبنان شامل نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بھی کہا تھا کہ لبنان اس جنگ بندی ڈیل میں شامل نہیں تھا۔
اسرائیل نے دو مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے حملے کے بعد لبنان میں کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد ہوا تھا۔
اس کے بعد ایران نے خطے میں امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک میں جوابی حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا جبکہ لبنان میں اس کی حمایت یافتہ حزب اللہ بھی متحرک ہوئی تھی۔
دو مارچ کے بعد لبنان پر اسرائیل کے حملوں میں 2100 سے زیادہ افراد ہلاک اور سات ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ملک کی وزارتِ صحت کے مطابق ان میں کم از کم 260 خواتین اور 172 بچے بھی شامل ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے دوران 91 طبی کارکن ہلاک جبکہ 208 زخمی ہوئے۔
ایمبولینسوں اور طبی سہولیات پر 120 سے زیادہ اسرائیلی حملے ریکارڈ کیے گئے۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق لبنان میں 1400 سے زائد عمارتیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں میں اسی عرصے کے دوران اسرائیل میں دو شہری مارے گئے ہیں، جب کہ لبنان میں لڑائی میں 13 اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔
جمعرات کے روز اسرائیلی فوج نے جنوب کو ملک کے باقی حصوں سے ملانے والے آخری پل کو تباہ کر دیا تھا جس نے خطے کو مزید الگ تھلگ کر دیا گیا اور بہت سے لبنانیوں میں یہ خدشات تازہ ہو گئے کہ یہ کچھ علاقوں پر طویل مدتی قبضے کا باعث بن سکتا ہے۔
























