پسند کی شادی اور اعتراف جرم پر مبنی تحریر: ’اُس نے بیوی اور بیٹی کو قتل کر کے گھر ہی میں دفنایا، اور اگلے سات ماہ وہیں مقیم رہا‘

،تصویر کا ذریعہJiya Chaudhari
- مصنف, بھارگو پاریکھ
- عہدہ, بی بی سی گجراتی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
نوٹ: اس رپورٹ میں درج تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتی ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز پر (چار مئی) انڈیا کے ضلع مہسانہ کے سول ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے مقامی پولیس کو مطلع کیا گیا کہ ایک نوجوان نے ہسپتال کی چھت سے کُود کر اپنی جان لے لی ہے۔
یہ اطلاع پا کر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور موت کو گلے لگانے والے شخص کی لاش کا ابتدائی معائنہ کیا گیا جس کے دوران اُس کی جیب سے ایک کاغذ برآمد ہوا۔
اس کاغذ پر لکھی تحریر کے ذریعے خودکشی کرنے والے شخص نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق تحریر میں مرنے والے نے بتایا تھا کہ اُس نے لگ بھگ سات ماہ قبل اپنی بیوی اور دو سالہ بیٹی کو قتل کیا تھا اور ساتھ اس گھر کی نشاندہی بھی کی گئی تھی جہاں ان دونوں کی لاشیں دفنائی گئی تھیں۔
اگلے روز پولیس ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے ہمراہ اس گھر پہنچی۔ گھر کا تالا توڑ کر بتائے گئے مقام پر کھدائی کی گئی تو یہ بات سچ ثابت ہوئی اور ماں اور بیٹی کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
پولیس کے مطابق شوہر نے اپنی بیوی اور بچی کا قتل لگ بھگ سات ماہ پہلے کیا تھا اور انھیں اپنے ہی گھر میں دفن کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ’قتل کے بعد یہ شخص سات ماہ تک اُسی گھر میں اپنی دوسری بیٹی کے ساتھ رہا۔ اور جس مقام پر تدفین کی گئی تھی وہیں بیٹھ کر کھانا پینا بھی جاری رکھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعدازں خودکشی کرنے والی شخص کی شناخت 30 سالہ گریش کے طور پر ہوئی جبکہ اُن کی اہلیہ کی شناخت 29 سالہ پرینکا اور بیٹی پری کے طور پر پوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ماں، بیٹی کا لاشیں دو گھنٹے کی کھدائی کے بعد برآمد ہوئی تھیں۔
پولیس کے مطابق شوہر نے بیوی اور بیٹی کو دفنا پر اوپر سے سمینٹ کا پلستر کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہJiya Chaudhari
پسند کی شادی اور گھر والوں کی مخالفت
یہ واقع شاہ پور گاؤں کے مضافات میں پیش آیا ہے اور جس گھر میں یہ خاندان رہتا تھا اس کے آس پاس کافی دور تک کوئی اور مکان نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق گریش نامی نوجوان نے چار سال قبل اپنی پسند سے پرینکا نامی لڑکی سے کورٹ میرج کی تھی۔
پرینکا اور گریش ہم جماعت تھے اور اسی دوران انھیں محبت ہوئی۔
اہلخانہ کے مطابق شروع میں گریش اور پرینکا کے گھر والے اس شادی کے خلاف تھے لیکن بعد میں انھوں نے اس فیصلے کو قبول کر لیا تھا۔
گریش ایک مقامی فیکٹری میں ڈائمنڈ پالش کے شعبے سے منسلک تھے جبکہ پرینکا نے بھی شادی کے بعد ایک مقامی ہسپتال میں نوکری شروع کی تھی۔
اہلخانہ کے مطابق گریش اور پرینکا کی شادی کے ایک سال بعد گریش کی والدہ وفات پا گئیں، جو اس جوڑے کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔
والدہ کی وفات کے ایک برس بعد اس جوڑے کے ہاں جڑواں بیٹیوں کی پیدائش ہوئی۔
معاشی مسائل اور لڑائی، جھگڑے

،تصویر کا ذریعہJiya Chaudhari
پرینکا کے دادا رمن بھائی یوگی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری پوتی (پرینکا) میرے ہی گھر میں پلی بڑھی تھی اور جب اس نے گریش سے کورٹ میرج کر لی ہم پریشان ہوئے مگر پھر ہم نے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔‘
رمن بھائی کے مطابق ’جب تک گریش کی والدہ زندہ تھیں، تب تک کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مگر جڑواں بیٹیوں کی پیدائش کے بعد لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے تھے۔‘
ان کے مطابق بچیوں کی پیدائش کے بعد پرینکا نے نوکری چھوڑ دی اور دوسری جانب گھریلو اخراجات بڑھ گئے، اور یہی تنازعے کی ابتدا تھی۔
دادا کے مطابق اس دوران گریش اور پرینکا کے گھر والوں نے دونوں کی معاشی طور پر مدد بھی کی۔ ’ہم سودا سلف بھیج کر گریش اور پرینکا کی مدد کرتے تھے۔ لیکن گریش بیٹیوں کی پیدائش کے بعد پرینکا کو طعنے دیتا تھا اور پھر نوبت ہاتھ اٹھانے تک بھی آ گئی تھی۔‘
دادا کا دعویٰ ہے کہ ’میری پوتی (پرینکا) اکثرمجھے فون کرتی اور درپیش مسائل کا ذکر کرتی تھی۔ اس نے مجھے آخری بار 18 ستمبر 2025 کی دوپہر کو فون کیا تھا۔ اس کے بعد سے اس کا فون بند ہو گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہJiya Chaudhari
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس کے مطابق 19 ستمبر کو گریش نے پرینکا کے دادا کو فون کر کے بتایا کہ اُن کی پوتی اپنی بیٹی پری کو ساتھ لے کر کہیں چلی گئی ہے جبکہ دوسری کم عمر بیٹی چاہت اُس کے ساتھ ہے۔
دادا رمن بھائی بتاتے ہیں کہ یہ خبر ملنے کے بعد وہ گریش کے گھر پہنچے اور اُسے پولیس میں شکایت درج کرانے کو کہا، مگر گریش نے ٹال مٹول سے کام لیا۔
اُن کے مطابق ’گریش بہانہ بناتا اور کہتا کہ پرینکا کچھ دنوں میں آ جائے گی۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔۔۔ مسلسل انکار پر مجھے شک ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔‘
تاہم اس دوران پرینکا کے دادا سمیت اس کے گھر والوں نے بھی پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔
اور پھر لگ بھگ سات ماہ بعد یعنی 28 اپریل کو پرینکا کے دادا نے پولیس میں اپنی پوتی اور اس کی بیٹی کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی۔
مقامی پولیس کے مطابق درخواست ملنے کے بعد انھوں نے دو مرتبہ گریش کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’جب گریش جب کام پر جاتا تھا تو اپنے ساتھ رہنے والی بیٹی کو اپنی بہن کے گھر چھوڑ جاتا تھا اس لیے پولیس نے گریش کی بہن کو بھی پوچھ گچھ کے لیے بُلایا۔‘
مقامی تھانے کے پولیس انسپکٹر ایم این ڈیو نے بی بی سی ’ہمیں اس معاملے میں شک ہوا تو ہم نے تحقیقات کے لیے گریش کو کہا کہ وہ اپنی بہن کو بھی ساتھ لے کر آئے۔‘
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ’اس نے اپنی بہن کو تھانے لانے سے پہلے ہی ہسپتال کی چھت سے کود کر خودکشی کر لی۔‘
پولیس کے مطابق زمین میں چار فٹ نیچے دفن ہڈیوں کا تجزیہ کروایا ہے جس میں معلوم ہوا ہے کہ یہ گریش کی بیوی پرینکا اور بیٹی پری کی باقیات ہیں۔
پولیس نے آخری رسومات کے لیے ان باقیات کو پرینکا کے دادا رمن بھائی کے حوالے کر دیا ہے۔


























