قیوم خان ملنگ: پاکستان سے ملحقہ افغان صوبے میں چند گھنٹوں کے لیے ایک ضلع پر قبضہ کرنے والے طالبان مخالف گروہ کے سربراہ کون ہیں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

افغانستان میں طالبان حکومت کے مخالف ایک مسلح گروہ کے اراکین چند گھنٹوں کے لیے صوبے بدخشاں میں ضلع یفتل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یاد رہے کہ بدخشاں صوبے کی سرحد پاکستان سے بھی ملتی ہے۔

پنجشیر صوبے میں ’قومی مزاحمتی محاذ‘ کی شکست کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کے مسلح مخالفین نے کوئی ضلع فتح کیا ہو۔

بدخشاں میں طالبان حکومت کی پولیس کمانڈ کے ترجمان نے جمعے کے روز بی بی سی کو تصدیق کی کہ ’جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب چونکہ ضلع کے اعلیٰ ذمہ داران رخصت پر تھے، اس لیے چند غیر ذمہ دار افراد نے ضلعی مرکز پر حملہ کیا، جنہھں سکیورٹی فورسز نے چند گھنٹوں کے اندر ہی پسپا کر دیا۔‘

اس کارروائی کے پیچھے ’قیوم خان ملنگ‘ اور ان کے گروہ ’سپاہیانِ میہن‘ کا ہاتھ تھا، جن سے افغانستان کے عوام زیادہ واقف نہیں ہیں۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قیوم خان خود بھی ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے یفتل کے ضلعی مرکز کی عمارت پر دھاوا بولا تھا۔

طالبان حکومت کی فوج کے کمانڈر فصیح الدین فطرت، جو ضلعی مرکز پر حملے کے بعد یفتل گئے تھے، نے کہا: ’مختلف گروہ صرف اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے سامنے آتے ہیں اور کبھی کبھار کسی جگہ پر جھنڈا لہرا دیتے ہیں۔ مزاحمتی محاذ، آزادی محاذ اور سپاہیانِ میہن، یہ سب صرف اپنا نام اور آواز بلند کرنا چاہتے ہیں اور ہماری سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔‘

انھوں نے گرفتار افراد سے کی گئی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ یہ کارروائی ’سپاہیانِ میہن‘ نے انجام دی تھی اور ممکن ہے کہ بیرونی خفیہ اداروں کا بھی اس میں کردار رہا ہو۔ تاہم فطرت نے مزید کہا کہ وہ اس بات کی 100 فیصد تصدیق نہیں کر سکتے۔

بدخشاں پولیس کمانڈ نے بھی کہا ہے کہ اس وقت یفتل میں صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں۔

قیوم خان ملنگ کون ہیں؟

عبدالمومن ضیا ایک سیاسی کارکن ہیں اور قیوم خان ملنگ کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی دری کو بتایا کہ قیوم خان کا اصل نام عبدالقیوم شکارچی ہے اور وہ یفتل ضلع کے کوہ بالا گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔

بدخش کے مطابق قیوم خان کے دوستوں نے انھیں ملنگ کا نام دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے اس مخالف کمانڈر نے 12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد جمہوری دور میں افغانستان کی سابق فوج میں شامل ہو گئے، جہاں انھوں نے مختصر فوجی تربیت حاصل کی۔

ان کے مطابق، بعد میں قیوم خان ملنگ نے افغانستان میں امریکی فوج کی خصوصی فورسز، جنھیں ’ڈیلٹا فورس‘ کہا جاتا تھا، کے دستوں کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف جنگ لڑی۔ وہ ڈیلٹا فورس کی ایک ٹیم کے انچارج تھے اور افغانستان کی خصوصی افواج کے رکن کے طور پر بھی طالبان کے خلاف لڑتے رہے۔

جب جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوا تو قیوم خان ملنگ پنجشیر صوبے گئے اور احمد مسعود کی قیادت میں ’افغانستان قومی مزاحمتی محاذ‘ کے ساتھ مل کر طالبان فورسز کے خلاف لڑتے رہے۔ بدخش کے مطابق، وہ جون 2022 میں طالبان فورسز کا ایک ہیلی کاپٹر گرانے میں بھی ملوث تھے۔

عبدالمومن کا کہنا ہے کہ قومی مزاحمتی محاذ افغانستان کے ساتھ اختلافات پیدا ہونے کے باعث وہ اس تنظیم سے الگ ہو گئے اور واپس بدخشاں کے بڑے شہر چلے گئے۔ مالی مشکلات کی وجہ سے وہ بدخشاں میں سخت مشقت والے کاموں میں مصروف رہے۔

عبدالمومن کے مطابق، اس کارروائی سے قبل انھوں نے اپنا ایک چھوٹا گروہ تشکیل دیا تھا اور کئی مرتبہ یفتل کے ضلعی سربراہ سمیت مقامی حکام کو دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے تھے۔

عبدالمومن کا کہنا ہے کہ قیوم خان ملنگ کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں اور انھوں نے اپنے دوستوں کی مدد سے گروہ کا نام ’سپاہیانِ میہن‘ منتخب کیا تھا۔

اقوام متحدہ میں افغانستان کے سابق نمائندے محمود صیقل نے بھی انھیں ’افغانستان کی قومی فوج کے سابق افسر‘ کے طور پر متعارف کرایا۔

’میں طالبان سے کیوں لڑتا ہوں؟‘

قیوم خان ملنگ سے منسوب ایک آڈیو پیغام بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے۔ بی بی سی نے دو ایسے ذرائع سے اس آڈیو پیغام کی تصدیق کی جو اس کمانڈر کے قریب رہے ہیں اور انھیں جانتے ہیں۔ ان دونوں نے تصدیق کی کہ یہ پیغام عبدالقیوم خان ملنگ کا ہے، تاہم یہ یفتل پر حملے سے پہلے جاری کیا گیا تھا۔

اس پیغام میں انھوں نے طالبان حکومت کی فوج کے چیف آف سٹاف فصیح الدین فطرت کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے ایک بیان کا جواب دیا۔

فصیح الدین فطرت خود بھی بدخشان سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’طالبان سے لڑنا آپ کے لیے شرم کی بات ہے۔‘

اس کے جواب میں قیوم خان نے کہا: ’قاری صاحب، طالبان سے لڑنا میرے لیے شرم کی بات نہیں۔ میرے لیے شرم کی بات یہ ہے کہ افغانستان غربت کی لکیر سے نیچے جا رہا ہے، شرم کی بات یہ ہے کہ ایک ماں روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے اپنا بچہ فروخت کر دیتی ہے۔‘

آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا: ’میرے لیے شرم کی بات میری بہن کی آنکھوں میں آنے والے آنسو ہیں کیوں کہ اس سے اس کا حق چھین لیا گیا ہے۔ میرے لیے شرم کی بات یہ ہے کہ اس سر زمین میں دین و اسلام کے نام پر سینکڑوں انسانی المیے جنم لے رہے ہیں۔‘

بدخشاں کے ضلع یفتل کی تازہ صورتحال

بدخشان پولیس کے ترجمان احسان اللہ کامگار نے یفتل ضلع کی تازہ صورتحال کے بارے میں کہا کہ اب حالات معمول پر ہیں اور اب تک نو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو بدخشان کے محکمۂ انٹیلی جنس کی تحویل میں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار خلیل نوری کو بتایا کہ گرفتار افراد مقامی رہائشی ہیں اور ان کا مقصد بد امنی پھیلانا تھا۔

احسان اللہ کامگار نے کہا کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز اس وقت علاقے میں موجود ہیں اور باقی دو افراد کی گرفتاری کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے ’سپاہیانِ میہن‘ کو ایک ایسا گروہ قرار دیا جو پہلی بار سامنے آیا ہے اور لوگ پہلی بار اس کا نام سن رہے ہیں۔ احسان اللہ کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ان گروہوں میں سے ایک ہو جن کا نام اور جھنڈا ’ایک دن بعد بدل جاتا ہے۔‘

پولیس کے مقامی عہدیدار نے مزید کہا کہ علاقے میں اب کوئی خطرہ موجود نہیں، سکیورٹی برقرار ہے اور ایک انچ زمین بھی طالبان حکومت کے مخالف گروہ کے قبضے میں نہیں ہے۔

احسان اللہ کامگار نے کہا کہ گرفتار افراد اس وقت بدخشاں میں زیرِ تفتیش ہیں اور ضرورت پڑنے پر انھیں کابل منتقل کیا جا سکتا ہے۔

بدخشاں پولیس کمانڈ کے ترجمان نے یفتل کے واقعے کے اسباب کے بارے میں کہا: ’یقیناً فرائض میں غفلت ہوئی ہے اور ذمہ دار افراد کو جواب دینا ہو گا۔‘