یوکرین کو ’سٹورم شیڈو میزائل‘ کے بلیو پرنٹس دینے پر ماسکو کی برطانیہ کو دھمکی: کیا یہ اقدام اس جنگ کا رُخ بدل سکتا ہے؟

پیر کے روز برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کیئو میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی سے ملاقات کی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپیر کے روز برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کیئو میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی سے ملاقات کی
    • مصنف, جوناتھن بیل
    • عہدہ, نامہ نگار برائے دفاعی امور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

برطانیہ یوکرین کو ’سٹورم شیڈو‘ کروز میزائل کے بلیو پرنٹس (تکنیکی خاکے اور ڈیزائن) فراہم کر رہا ہے تاکہ یوکرین مقامی سطح پر بھی برطانیہ اور فرانس کے ڈیزائن کردہ میزائل تیار کر سکے۔

اس اقدام کو ایک اہم سیاسی اور دفاعی اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ بعض مغربی ممالک یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے درکار مہارت، تکنیکی معلومات اور تجربہ منتقل کرنے پر آمادہ ہیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے یوکرین کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے دوران کہا ہے کہ ماسکو کی ’اشتعال انگیز دھمکیوں‘ کے باوجود روس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

برطانوی حکومت نے سکالپ میزائل کے برطانوی ساختہ پرزوں کے ڈیزائن یوکرین کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا ہے جو کہ برطانیہ کے سٹورم شیڈو کروز میزائل کا فرانسیسی ورژن ہے۔

تاہم کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ یہ اقدام امن کے حصول کی جانب ’معمولی پیش رفت کو بھی روک دے گا۔‘

انھوں نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ روسی فوج پہلے ہی ایسے کسی بھی میزائل پیداواری مقام کی نشاندہی کے لیے معلومات اکٹھی کر رہی ہے تاکہ انھیں تباہ کیا جا سکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’برطانیہ اس جنگ میں کیئو حکومت کے ساتھ شامل ہے۔ برطانیہ منظم اور مسلسل انداز میں آگ پر تیل ڈال رہا ہے۔‘

اس کے جواب میں برطانوی وزیر اعظم برنہم نے کہا کہ ’آگ کس نے لگائی؟ اصل سوال یہ ہے۔‘

بی بی سی نیوز نائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے روس کے سابق نائب وزیرِ خارجہ آندرے فیودوروف نے کہا کہ یوکرین کے ساتھ میزائل کے ڈیزائن شیئر کرنے کے ردعمل میں برطانیہ کو ’نیم عسکری نوعیت کے جواب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ’روس کی جانب سے نہیں بلکہ نامعلوم ذرائع سے ہوگی۔‘

اس اقدام کے یوکرین جنگ پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاہم صرف اس اقدام سے جنگ کی مجموعی صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔

سکیلپ اور سٹورم شیڈو میزائل پہلے ہی برطانیہ اور فرانس کی جانب سے کیئو کو فراہم کیے جا چکے ہیں، اور یوکرین ان ہتھیاروں کو روس کے اندر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال بھی کر چکا ہے۔

یہ کوئی نئے ہتھیار نہیں ہیں، 1990 کی دہائی میں تیار کیے گئے یہ میزائل مہنگے ہیں، ایک میزائل کی لاگت تقریباً 10 لاکھ پاؤنڈ ہے۔

یہ نظام پیچیدہ عالمی سپلائی چینز پر بھی انحصار کرتے ہیں اور انھیں امن کے زمانے میں نسبتاً کم تعداد میں تیار کیا گیا ہے، یعنی ہزاروں کے بجائے صرف سینکڑوں کی تعداد میں۔

بلیو پرنٹس مل جانے کے باوجود یوکرین کے لیے پرزہ جات حاصل کرنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اسے خود یہ کروز میزائل تیار کرنے میں مہینوں بلکہ برسوں لگ جائیں۔

درحقیقت، امن کے زمانے میں مغربی ہتھیاروں کی پیداوار کی نقل کرنا جنگ جیتنے کا طریقہ نہیں ہے۔ اب نیٹو ممالک بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں۔

برطانیہ اور اس کے متعدد اتحادی عموماً انتہائی جدید لیکن مہنگے میزائل کم تعداد میں تیار کرتے رہے ہیں، جو کسی طویل جنگ کی صورت میں تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔

2021 میں یورپ میں امریکی فوج کے سابق سربراہ جنرل بین ہوجز نے کہا تھا کہ نیٹو کی ایک جنگی مشق کے دوران برطانوی فوج چند ہی دنوں میں اپنے اہم ہتھیاروں سے محروم ہو گئی تھی۔

طرزِ فکر میں حالیہ تبدیلی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ برطانوی فوج اب اپنے لیے سٹورم شیڈو میزائل نہیں خرید رہی۔

اس گرافک میں دکھایا گیا ہے کہ سٹورم شیڈو میزائل کو طیارے سے کس طرح داغا جاتا ہے اور پھر وہ ہدف کو کیسے نشانہ بناتا ہے

اس کے بجائے، پروجیکٹ بریک سٹاپ کے تحت وہ اپنا طویل فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل تیار کر رہی ہے، جس میں غیر ملکی پرزہ جات استعمال نہیں ہوں گے اور اس کی قیمت سٹورم شیڈو کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہو گی۔

پروجیکٹ بریک سٹاپ پر بھی انتہائی تیز رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کو امید ہے کہ سال کے اختتام تک نیا کروز میزائل تیار ہو جائے گا۔ اس نے یہ نیا ہتھیار یوکرین کو فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

یوکرین نے دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ طویل اور مسلسل جنگ کے لیے درکار نسبتاً سستے اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے ہتھیار کس طرح بنائے جا سکتے ہیں۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز میں فوجی ایروسپیس کے شعبے کے سینئر فیلو ڈگلس بیری نے بی بی سی کو بتایا: ’ایم بی ڈی اے سکیلپ میزائلوں سے متعلق برطانیہ کی خفیہ معلومات یوکرین کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ، جبکہ فرانس اور یوکرین یوکرین کے اندر مقامی اسمبلی لائنیں قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، قابلِ توجہ ہے۔ تاہم اس کے اثرات کسی حد تک اس بات پر منحصر ہوں گے کہ یوکرین میں اسمبل کیے گئے سکیلپ کروز میزائل کتنی جلدی عملی استعمال کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔

’یہ بات مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ یوکرین پہلے ہی سٹورم شیڈو اور سکیلپ دونوں میزائل استعمال کر چکا ہے، اس لیے ان سے واقفیت مجموعی عمل کو تیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ بھی اس بات پر منحصر ہو گا کہ مقامی اسمبلی کا نظام کس حد تک اور کتنی رفتار سے قائم کیا جاتا ہے۔‘

سٹارم شیڈو/سکیلپ میزائل

،تصویر کا ذریعہJohn Keeble/Getty Images

جنگ کے آغاز پر یوکرین کی مسلح افواج کا انحصار سرد جنگ کے دور کے سوویت ہتھیاروں پر تھا۔

مغربی ہتھیاروں کی بتدریج فراہمی نے اسے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے میں مدد دی۔ تاہم اب یوکرین اپنے 70 فیصد ہتھیار خود تیار کرتا ہے۔

اس کامیابی میں کلیدی کردار ڈرون ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے ادا کیا ہے، جس میں محاذِ جنگ کے لیے چھوٹے فرسٹ پرسن ویو (ایف پی وی) یک طرفہ حملہ آور ڈرونز سے لے کر ایسے بڑے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز شامل ہیں جو روسی سر زمین کے اندر گہرائی تک، حتیٰ کہ سٹورم شیڈو کی پہنچ سے بھی زیادہ فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کیئو رواں سال کے اختتام تک ایک کروڑ ڈرون تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ اور وہ چینی ساختہ بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے پرزہ جات استعمال کرکے یہ کام مغربی ممالک کے مقابلے میں کم لاگت پر کر سکتا ہے۔

نیٹو اتحادیوں کے ہم پلہ ڈرونز کی قیمت اس سے دوگنی تک ہو سکتی ہے کیونکہ وہ چینی پرزہ جات سے اجتناب کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم اب بھی ایسے کئی ہتھیار ہیں جن کی یوکرین کو ضرورت ہے اور جنھیں وہ خود تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان میں تیز رفتار لڑاکا طیاروں سے لے کر روسی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے انٹرسیپٹر میزائل تک شامل ہیں۔

اس مقصد کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار امریکی ساختہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر ہے۔ یوکرین کے پاس یہ تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور اب روسی بیلسٹک میزائل نسبتاً آسانی سے یوکرین کے فضائی دفاع کو عبور کر لیتے ہیں۔

ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے باعث ان کی دستیابی مزید محدود ہو گئی ہے۔

یہ میزائل مہنگے بھی ہیں، جن کی قیمت تقریباً 30 لاکھ پاؤنڈ فی میزائل ہے، جبکہ ان کی پیداوار کی رفتار بھی سست رہی ہے۔ امریکہ پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار تقریباً 600 سالانہ سے بڑھا کر 2000 تک لے جانے کا منصوبہ رکھتا ہے، تاہم اس میں کئی سال لگیں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ اشارہ دیا تھا کہ وہ پیٹریاٹ ٹیکنالوجی یوکرین کے ساتھ شیئر کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن بعد میں وہ اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔

اگر وہ منظوری بھی دے دیتے تو یوکرین کو اپنے طور پر پیٹریاٹ میزائل تیار کرنے میں خاصا وقت لگتا۔ بعض اندازوں کے مطابق کم از کم ایک سال درکار ہوتا۔ اس کے علاوہ یوکرین کو انھی پیچیدہ پرزہ جات پر انحصار کرنا پڑتا جن کی عالمی سطح پر پہلے ہی شدید طلب موجود ہے۔

یوکرین نے یورپی تعاون کے ساتھ اپنے انٹرسیپٹر میزائل تیار کرنے کا ایک پروگرام شروع کیا ہے، جسے پروجیکٹ فریا کہا جاتا ہے۔

تاہم ایک ایسے تیز رفتار میزائل کی تیاری، جو ہزاروں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والے دوسرے میزائل کو تباہ کر سکے، تکنیکی چیلنجز سے بھرپور کام ہے۔ یہ مہنگا بھی ہے اور اکثر اس میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔

یوکرین کی فوج اور اس کے اسلحہ ساز اداروں نے ثابت کیا ہے کہ وہ بہت تیزی سے سیکھتے ہیں۔

اس کی ایک مقامی کمپنی، فائر پوائنٹ، اپنے بیلسٹک میزائل تیار کر رہی ہے اور امید رکھتی ہے کہ وہ اگلے سال عملی استعمال کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

تاہم روس پہلے ہی اپنے بیلسٹک میزائلز کی پیداوار بڑھا کر تقریباً 100 میزائل ماہانہ تک پہنچا چکا ہے۔

جدید اور پیچیدہ ہتھیاروں کی تیاری مہنگا عمل ہے اور اسے تیزی سے انجام نہیں دیا جا سکتا۔ یوکرین کے پاس وقت اور وسائل، دونوں کی کمی ہے۔

لہٰذا یوکرین کو میزائلوں کے بلیو پرنٹس فراہم کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کیا جائے گا، لیکن یہ اس کے اہم ترین مسائل کا فوری حل نہیں ہے، اور نہ ہی یہ روس کے خلاف نئے انداز میں حملہ کرنے کی کیئو کی صلاحیت میں ڈرامائی تبدیلی لائے گا۔