’سوٹ کیس سے ملنے والی لاش‘ کو تفتیش کے بعد گڑیا کیوں قرار دیا گیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لانا لام
- مقام, سڈنی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
دو افراد کو ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب سڑک کنارے ایک سوٹ کیس ملا۔ کھولنے پر معلوم ہوا کہ سوٹ کیس کے اندر کوئی سامان نہیں بلکہ ایک انسانی جسم تھا۔
یہ واقعہ اتوار کے روز آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تقریباً 230 کلومیٹر دور پیش آیا۔ اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔
پولیس کو شبہ ہوا کہ سوٹ کیس میں موجود شخص کو قتل کیا گیا ہے، جس پر ’قتل کی تحقیقات‘ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ فارنزک ٹیمیں اور تفتیش کار جائے وقوعہ پر بھجوا دیے گئے۔
تاہم فارنزک جانچ سے معلوم ہوا کہ سوٹ کیس میں کوئی انسانی لاش نہیں بلکہ ایک ’گڑیا‘ تھی۔ جس کے بعد تحقیقات بند کر دی گئیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پولیس کو ابتدا میں دھوکہ کیوں ہوا؟
پولیس نے بتایا کہ گڑیا نے کسی انسان جیسے کپڑے پہن رکھے تھے، اس کے بال تھے اور ناک میں چھید بھی تھا پولیس کے مطابق ’اس چیز (گڑیا) پر ایسے نشانات بھی تھے، جو نیل اور خراشوں جیسے لگتے تھے۔‘
یہی وجہ ہو گی کہ سوٹ کیس دریافت کرنے والوں نے اسے ایک انسانی جسم ہی سمجھا۔ تاہم ’تفتیش‘ کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ کسی انسان جیسی دکھنے والی ایک گڑیا تھی۔
ہیوم پولیس ڈسٹرکٹ کی سپرنٹنڈنٹ لنڈا بریڈبری کے مطابق ’ابتدا میں اسے انسانی جسم سمجھ لیا گیا تھا، کیوں کہ ظاہری طور پر یہ انسانی جسم سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھی۔ تاہم، اب ہم نے تصدیق کر لی ہے کہ یہ انسانی جسم نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپرنٹنڈنٹ بریڈبری نے کہا کہ فارنزک ٹیمیں اور تفتیش کار اتوار کے روز موقع پر پہنچ گئے تھے اور تمام ضروری طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔
بریڈبری نے کہا کہ معاملے سے جس طرح نمٹا گیا اس پر انھیں ’کوئی افسوس نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے چند گھنٹے قبل بریڈبری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ سوٹ کیس دریافت کرنے والے دونوں افراد کے لیے یہ ’انتہائی صدمہ خیز دریافت‘ تھی۔
انھوں نے کہا: ’بد قسمتی سے وہ بہت سے لوگوں کی طرح ہفتے کے اختتام پر سیر کے لیے نکلے تھے اور آرام کے لیے رکے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دونوں افراد نے اس سوٹ کیس کی اطلاع دے کر ’درست فیصلہ‘ کیا۔
بریڈبری نے کہا: ’وہ کل اس واقعے سے متاثر ہوئے تھے، اب ہم ان سے رابطہ کر کے انھیں بتائیں گے کہ سوٹ کیس سے ملنے والا وجود انسانی جسم نہیں تھا۔‘
پولیس نے اب اپنی تحقیقات بند کر دی ہیں۔



















