آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
83 افراد پر مشتمل ’جوائنٹ فیملی‘ جن کا کھانا ایک ہی کچن میں بنتا ہے: ’ہم چھ ساسیں اور 14 بہوئیں ہیں، مگر جھگڑا نہیں ہوتا‘
- مصنف, تلسی پرساد ریڈی
- عہدہ, بی بی سی کے لیے
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
یہ کہانی انڈین ریاست آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور میں گذشتہ چھ پیڑھیوں (نسلوں) سے ایک ساتھ مقیم اتنی بڑی ’جوائنٹ فیملی‘ کی ہے کہ اگر اہلخانہ کا شام کی چائے کے ساتھ پکوڑے کھانے کا دل کرے تو پورا 15 کلو بیسن لگ جاتا ہے۔
ایک اتنا بڑا کنبہ کہ جس کے رہنے والے اگر ایک روز چاول بنانے کا سوچیں، تو 50 کلو چاول کی بوری درکار ہوتی ہے۔
اتوار کو گوشت کھانے کا دن ہوتا ہے، جس کے لیے پوری ایک بھیڑ اور ساتھ میں دس کلو چکن کی ضرورت ہوتی ہے۔
گذشتہ دنوں بی بی سی کی ٹیم 83 افراد پر مشتمل اِس جوائنٹ فیملی کے ساتھ پورا دن گزارنے کے لیے کورلاپلی نامی علاقے میں پہنچی۔ ہم اُن سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ اتنے زیادہ افراد ایک ساتھ کیسے رہتے ہیں اور جب وہ اکٹھے ہوتے ہیں تو مل کر کیا کرتے ہیں؟
کورلاپلی نامی اس گاؤں میں 400 گھر ہیں اور اس کی آبادی لگ بھگ دو ہزار کے قریب ہے۔
گاؤں میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب مڑیں تو سڑک کے سامنے دو بڑے گھر نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں گھر ایک ہی خاندان کے ہیں۔
سڑک کے ایک طرف بنے دو منزلہ مکان میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے باورچی خانہ نظر آتا ہے۔ اس کے پیچھے جانوروں کا دو منزلہ شیڈ ہے۔ اس مکان کے بالکل سامنے ایک اور تین منزلہ مکان ہے۔ اب یہ تین گھر کافی نہیں ہیں اس لیے خاندان چوتھا گھر بھی تعمیر کروا رہا ہے۔
مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام گھروں کا باورچی خانہ ایک ہی ہے، یعنی تمام افراد کا کھانا ایک ہی کچن میں بنتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتنے بڑے خاندان کا بنیادی ذریعہ معاش زراعت ہے۔ گھر کے تمام افراد مل کر فصلیں اُگاتے ہیں، ساتھ ہی گائیں اور بھیڑیں بھی پالتے ہیں۔
فیصلے بڑوں کی مرضی سے ہوتے ہیں
اس خاندان میں 83 افراد ہیں اور اِس فیملی کے سربراہ ہنومنتھا رائیڈو اور متیالاپا ہیں۔ دودھ دوہنے سے لے کر کھیتی باڑی اور کاروبار تک ہر چیز کا فیصلہ یہی دونوں کرتے ہیں۔
خاندان کے سربراہ ہنومنتھا رائیڈو نے کہا کہ اتنے بڑے خاندان کے ہر فرد کے لیے روزگار کا ذریعہ فراہم کرنا اُن کی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے کہا کہ گھر میں کوئی بھی، حتی کہ اُن کے بہنوئی متیالاپا بھی، اُن کی مخالفت نہیں کرتے اور اُن کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے والد اور دادا کی وفات کے بعد خاندان کی ذمہ داری مجھ پر آ گئی تھی۔ تب سے میں اکیلا ہی اس خاندان کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔‘
’ہم ایک دوسرے کا سہارا بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ اب تک ہمارے درمیان کوئی مسئلہ یا اختلاف نہیں ہوا۔ ہم سب نے مل کر سخت محنت کی ہے۔ وہ میری ہر بات مانتے ہیں۔‘
’میرے اور میرے بہنوئی متیالاپا کے اتنے زیادہ بیٹے ہونے کے باوجود بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔‘
’ہم سب کو کہتے ہیں کہ الگ نہ ہوں‘
متیالاپا نے کہا کہ وہ اپنے دادا دادی کے زمانے سے اِسی طرح اکٹھے رہتے آئے ہیں اور آئندہ بھی اسی طرح ساتھ رہنے کی کوشش کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے چار بہنوئی ہیں اور ہم دو بھائی ہیں۔ ہم اپنے دادا، پردادا کے زمانے سے اسی طرح ساتھ رہ رہے ہیں۔‘
’ہم سب صبح ایک ساتھ بیٹھتے ہیں اور ہر فرد کو اُس کا کام سونپ دیتے ہیں۔ ہم گھر کے تمام کام، کھانے پینے اور کپڑوں وغیرہ کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم کچھ باہر کے لوگوں کو بھی کام پر رکھتے ہیں۔ ہم اپنے بہنوئیوں کے بچوں کو اپنے گھر میں پالتے ہیں اور اُن کے بچوں کو بھی اپنے ہی گھر میں رکھتے ہیں۔ یہی ہمارا طریقہ ہے۔‘
متیالاپا نے کہا کہ اسی اشتراک کی وجہ سے وہ لوگ، جنھوں نے کبھی غربت دیکھی تھی، آج اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ابتدا میں ہم نے بہت غربت دیکھی۔ ہمارے پاس اوڑھنے کے لیے کمبل بھی نہیں تھے اور کھانے کے لیے صرف ایک وقت کی روٹی میسر تھی۔ وہاں سے اٹھ کر آج ہم اس مقام تک پہنچے ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ہم سب ساتھ تھے۔ اگر ہم الگ الگ ہوتے تو کبھی یہاں تک نہ پہنچ پاتے۔‘
’جس بڑے گھر میں ہم آج رہ رہے ہیں اسے بنانے پر 20 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ کیا اکیلے رہ کر یہ ممکن تھا؟ میرے والد کے پاس 60 ایکڑ زمین تھی اور اُن کی وفات کے بعد ہم سب نے مل کر 75 ایکڑ زمین مزید خریدی۔ اسی لیے ہم سب کو کہتے ہیں کہ فیملی سے الگ نہ ہوں، اگر سب ساتھ رہتے ہیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔‘
خاندان کے انتظامی امور سنبھالنے والے مہیش کے مطابق خاندان کے دونوں سربراہ صبح چائے کے وقت طے کرتے ہیں کہ کون اُس روز کیا کام کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے والد کا نام ہنومنتھا رائیڈو ہے۔ تمام بزرگ صبح چائے پیتے ہیں اور آدھا گھنٹہ بات چیت کرتے ہیں، پھر ہم طے کرتے ہیں کہ کس کو کون سا کام دینا ہے۔ میرا کام گاڑیوں کی دیکھ بھال کرنا اور گھر کے لیے ضروری سامان لانا ہے۔‘
’میرا دوسرا بھائی ٹماٹر جیسی فصلیں ایک چھوٹے ٹرک میں بھر کر بازار لے جاتا ہے۔ اسی طرح ہم کھیتی باڑی، بھیڑیں چرانے اور گائے، بھینسوں کی دیکھ بھال جیسے کام کرتے ہیں۔ اب تک ہم بغیر کسی مشکل کے زندگی گزار رہے ہیں۔‘
خاندان کے سربراہ ہنومنتھا رائیڈو کے دادا چمّلا ناگاپا اِس خاندان کی پہلی نسل کے سربراہ تھے۔
ان کی دو بیویاں تھیں اور انھوں نے اپنی پہلی بیوی کی بیٹی کی شادی یلّاپا سے کر دی تھی۔
تب سے وہ اس خاندان کے داماد ہی رہے۔ بعد میں دوسری بیوی کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔
یلّاپا کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ایک ساتھ رہتے تھے۔ یلّاپا اور ناگاپا کی وفات کے بعد ان کے جانشین ہنومنتھا رائیڈو اور متیالاپا اب گھر کے بزرگ ہیں اور فیصلے کرتے ہیں۔
متیالاپا ڈاکیے کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کے پاس کوئی اور ملازمت نہیں۔
صبح کے روزمرہ کاموں کے بعد خاندان کے کچھ افراد کھیتوں پر چلے جاتے ہیں۔ دوسرے لوگ مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
کچھ لوگ دودھ دوہتے ہیں جبکہ دوسرے بھیڑوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، گوبر جمع کرتے ہیں اور مویشیوں کے باڑے کی صفائی کرتے ہیں۔
گھر کی خواتین کو کھانا پکانے کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ تمام بچے صبح سکول چلے جاتے ہیں۔
ہنومنتھا رائیڈو نے کہا کہ وہ باہمی تنازعات سے بچنے کے لیے شادیاں بھی گھر کے اندر مل کر کرواتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے بیٹوں اور اپنے بہنوئی کے کُل نو بیٹوں کی شادی ایک ہی دن کروائی۔‘
روایتی طریقے سے کھانا تیار ہوتا ہے
83 افراد کے لیے کھانا ایک ہی باورچی خانے میں پکایا جاتا ہے۔ اور وہ بھی لکڑی کے چولہے پر، جو اس خاندان کی خاصیت ہے۔
اس گھر میں چھ نسلوں سے کھانا پکانے کے روایتی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ مہیش کے مطابق ان کے خاندان میں ایک ہی باورچی خانہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ رہنے کے لیے تین گھر ہے مگر جس کو جہاں جگہ ملے وہ وہیں سو جاتا ہے۔ لیکن 83 افراد کے لیے کھانا ایک ہی برتن میں تیار ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے ہاں 83 افراد کے لیے صرف ایک ہی برتن ہے۔ ہم آج بھی لکڑی کا چولہا استعمال کرتے ہیں۔ ہم سب کچھ قدرتی طریقے سے کرتے ہیں۔ ہم نے آج تک پکائی کے لیے گیس استعمال نہیں کی۔‘
’آج بھی پرانے طریقوں پر عمل کرتے ہیں۔ چونکہ ہم چھ نسلوں سے مل کر کھانا بنا رہے ہیں، اس لیے ہمیں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ سب ایک ہی طرح کا کھانا کھاتے ہیں۔‘
اس گھر میں صبح کی شروعات ناشتے میں راگی سنگتی کے گولے بنانے سے ہوتی ہے۔
کھیتوں میں کام پر جانے والے افراد ان گولوں کو اپنے ٹفن میں رکھ کر لے جاتے ہیں۔
گھر کی ایک خاتون انورادھا نے بتایا کہ گولے بنانے کے لیے دو خواتین ایک بڑے پتھر پر آمیزہ تیار کرتی ہیں۔
انورادھا نے کہا کہ ’ہم سب کے لیے ایک جیسا کھانا بناتے ہیں۔ ایک ہی قسم کا سالن، چاول اور دلیہ تیار کرتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں ذیابیطس کے مریض بھی ہیں اس لیے ان کے لیے چپاتی اور دلیہ بناتے ہیں۔‘
’اگر ہفتے میں ایک بار پکوڑے، وڑا یا مٹھائی بنانی ہو تو سب کے لیے بناتے ہیں۔ ہمارے گھر میں روزانہ 50 کلو چاول استعمال ہوتے ہیں۔‘
راجیشوری اس بڑے خاندان کے کھانا پکانے کے تمام کام سنبھالتی ہیں۔ وہ دن میں تین بار کھانا پکانے اور تمام بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ کھیتوں میں کام کرنے والوں کے لیے گاڑی بھیجنے کا انتظام بھی کرتی ہیں۔
راجیشوری نے کہا کہ ’گھر میں 80 افراد کے علاوہ 20 سے 30 اور لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کے لیے بھی کھانا پکانا پڑتا ہے۔ ہمیں ایک وقت میں کئی کلو دال بنانی ہوتی ہے اور چٹنی بھی تیار کرنی ہوتی ہے۔‘
’چٹنی کو ہم اوکھلی میں پیستے ہیں اور پھر لکڑی کے چولہے پر پکاتے ہیں۔ صبح دلیہ اور دوپہر میں چاول بناتے ہیں۔ اگر ٹفن بنانا ہو تو رات کو تیار کرتے ہیں۔ چپاتی اور پکوڑے بنانے کے لیے 15 کلو بیسن درکار ہوتا ہے۔‘
اتوار کو ’ایک بھیڑ اور 10 کلو چکن‘
مہیش نے کہا کہ ’دوپہر میں چاول اور سالن بنتا ہے۔ اگر کوئی خاص کھانا ہو تو رات میں تیار ہوتا ہے۔ چونکہ ہم سب رات کو ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، اس لیے خاص کھانا، جیسا کہ گوشت رات کو ہی بنتا ہے۔‘
’ہم جو بھی کھاتے ہیں، سب کے لیے ایک ہی طرح کا کھانا تیار ہوتا ہے۔‘
راجیشوری نے کہا کہ ’تہوار کے روز ہمیں دو بھیڑیں اور ساتھ 20 کلو چکن پکانا پڑتا ہے۔ اگر اتوار کو گوشت بنانا ہو تو پوری ایک ایک بھیڑ اور 10 کلو چکن پکانا پڑتا ہے۔‘
سرکاری سکولوں میں بچوں کی تعلیم
اس خاندان میں تمام افراد گھر میں کنڑ زبان بولتے ہیں۔ اتنے بڑے خاندان میں کوئی بھی سرکاری یا نجی ملازمت نہیں کرتا۔
اور اگر اہلخانہ نے کہیں آنا جانا ہو تو اس کے لیے چار بسیں بھی ہیں۔
مہیش نے بتایا کہ ’ہمارے خاندان میں کسی نے کبھی ملازمت نہیں کی۔ ہم نے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی۔ ہم نے انٹرمیڈیٹ اور ڈگری تک تعلیم حاصل کی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ کاشتکاری کر کے زندگی گزاریں گے اور اب ہم سب تعلیم چھوڑ کر کھیتی باڑی اور گھریلو کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ خاندان کے تمام بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں اور سب کو سرکاری کالجوں اور سکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔
’خاندان کے 32 بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں سے چھ انٹرمیڈیٹ میں ہیں۔ کچھ ڈگری (گریجوئیشن) کر رہے ہیں۔‘
’ہم صرف اپنی ضرورت کے مطابق پیداوار کرتے ہیں‘
یہ خاندان سبزیاں اُگا کر فروخت بھی کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ضرورت کی سبزی بھی خود ہی اُگاتے ہیں۔
مہیش کے مطابق ضرورت کے مطابق سبزی اپنے پاس رکھنے کے بعد وہ باقی پیداوار بازار میں فروخت کر دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس مجموعی طور پر 120 ایکڑ زمین ہے۔ ہم بنیادی طور پر مرچ، بینگن، ٹماٹر، تربوز، پپیتا اور مونگ پھلی اگاتے ہیں۔ ہم خود ہی اپنی فصل فروخت بھی کرتے ہیں۔ تربوز اور پپیتا دلی، جبکہ ٹماٹر اور بینگن چنئی بھیجتے ہیں۔
’ہم انھیں بیوپاریوں کے حوالے نہیں کرتے۔ ہم خود اپنی گاڑیوں میں لاد کر فصل بازار لے جاتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں۔ اپنی کمائی سے ہی اپنا بڑا گھر چلاتے ہیں۔ گھر کی ضرورت کے لیے پانچ ایکڑ پر دھان اگاتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق چاول اپنے پاس رکھتے ہیں اور باقی بازار بھیج دیتے ہیں۔‘
کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوتا
اس خاندان میں مجموعی طور پر چھ ساسیں اور 14 بہوئیں ہیں۔
مہیش کا کہنا ہے کہ انھوں نے گھر کی خواتین کے درمیان کبھی جھگڑا نہیں دیکھا۔
خاندان کی بزرگ خاتون انورادھا نے کہا کہ ’ہم چھ ساسیں اور 14 بہوئیں بہت اچھے طریقے سے رہتی ہیں۔ کچھ باغ میں کام کرتی ہیں اور کچھ گھر میں۔‘
’کوئی کسی کے لیے مسئلہ پیدا نہیں کرتا۔ اگر کچھ ہو بھی جائے تو ہم فوراً اسے سنبھال لیتے ہیں۔ اگر کبھی جھگڑا یا بحث ہو جائے تو بعد میں سب معمول کے مطابق ایک دوسرے سے مل جل لیتے ہیں۔‘
راجیشوری نے کہا کہ اگرچہ کبھی کبھار تھوڑی دیر کے لیے اختلاف ہو جاتا ہے، لیکن شام کو سب مل کر خوشی سے وقت گزارتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اُن کے گھر کی جو لڑکیاں شادی کے بعد دوسرے یہات میں گئی ہیں، وہ اپنے سسرال میں اپنے خاندان کی تعریف سُن کر فخر محسوس کرتی ہیں۔
راجیشوری نے کہا کہ ’میں اس گھر کی پانچویں نسل سے ہوں۔ میں اس گھر کی سب سے بڑی پوتی ہوں اور میرے دادا نے مجھے بچپن سے یہیں تعلیم دلوائی۔ میرے چچا اور چچی بھی مشترکہ خاندان میں رہ کر بہت خوش ہیں۔‘
’آج کل اگر ایک یا دو بھائی بھی ساتھ رہ جائیں تو جائیداد کی وجہ سے الگ ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے گاؤں کے لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ 83 افراد آج بھی ایک ساتھ رہتے ہیں۔‘