مبینہ آن لائن فراڈ نیٹ ورک: ایف آئی اے کو غیر ملکی ملزمان کا جسمانی ریمانڈ نہ مل سکا، متعدد افراد کی ملک بدری کا امکان

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

وفاقی دارالحکومت میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی گلبرگ گرینز کے سپارکو پلازہ سے 250 سے زائد گرفتار کیے گئے چینی اور دیگر غیر ملکی باشندوں سے متعلق تحقیقات میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر غیر قانونی کال سینٹر کے ذریعے اپنے ہم وطنوں کو آن لائن فراڈ اور بلیک میلنگ کا نشانہ بناتے تھے۔

تفتیشی اہلکار نے بتایا کہ سپارکو پلازہ پر چھاپے کے دوران ایک سو سے زائد چینی باشندے موجود تھے۔ ان کے بقول چینی شہریوں نے ایک مقامی شخص کی مدد سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں ایک کمپنی رجسٹرڈ کروا رکھی تھی، جس کے تحت پلازے کے تین فلورز پر قانونی سرگرمیاں جاری تھیں، تاہم چوتھے فلور پر مبینہ طور پر ایک غیر قانونی کال سینٹر قائم کیا گیا تھا۔

اہلکار کے مطابق اس کال سینٹر کے ذریعے جوا، ڈیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے افراد کو دھوکے سے اپنے جال میں پھنسایا جاتا اور بعد ازاں ان سے بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان پاکستان میں بیٹھ کر مختلف آن لائن ایپس کے ذریعے اپنے ممالک میں موجود افراد کو بلیک میل کرتے اور ان سے مالی فوائد حاصل کرتے تھے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار چینی اور ویت نامی باشندوں کے قبضے سے ان کے اپنے ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشابہ یونیفارمز بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کی نوعیت اور استعمال کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کو آن لائن سماعت کے ذریعے متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں تفتیشی اداروں نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔ بعد ازاں ملزمان کو سپارکو پلازہ میں ہی رکھا گیا ہے، جسے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سب جیل قرار دیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل گرفتار کیے گئے 258 غیر ملکیوں کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان افراد میں 188 ویت نامی، 39 چینی اور تین انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

تحقیقات کے مطابق بیشتر افراد کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی تھی جبکہ متعدد ملزمان کے پاس سفری دستاویزات اور پاسپورٹ بھی موجود نہیں تھے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق زیر حراست غیر ملکیوں کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد آئندہ چند روز میں ان کے آبائی ممالک ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔

ایف آئی آر میں غیرملکیوں پر کیا الزامات عائد کیے گئے ہیں؟

ایف آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کو ایک ذرائع نے خبر دی تھی کہ اسلام آباد کی علاقائی حدود مِیں ایک بڑی تعداد میں غیرملکی موجود ہیں، جن کی تعداد 200 سے 300 ہے اور وہ ویزہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں اور ملازمتیں فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے نے جب گلبرگ گرینز میں واقع پلازہ پر چھاپہ مارا تو وہاں 258 غیرملکی مقیم تھے، جو وزٹ، سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر آئے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ’مقام کا معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں پر ایک بڑا کال سینٹر کی طرح کا کاروبار چلایا جا رہا ہے اور گلبرگ گرینز میں ملازمتیں فراہم کرنے اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیاں کی جا رہی ہیں۔‘

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے جب ریکارڈ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ غیرملکی شہری وزٹ، سیاحتی یا کاروباری ویزوں پر پاکستان آئے تھے اور غیرقانونی طور پر کاروباری سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

ایف آئی اے حکام کا کیا کہنا ہے؟

ایف آئی اے کے حکام نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد نہ صرف پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے بلکہ اسلام آباد میں اپنا کاروبار چلا رہے تھے، جس میں نمایاں کاروبار کال سینٹر کو چلانا شامل تھا، اس لیے ان کے خلاف نہ صرف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا بلکہ مزید شواہد سامنے آنے پر غیر قانونی کاروبار چلانے سے متعلق بھی مقدمہ درج کیا جائے گا۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیر حراست غیر ملکیوں میں کچھ ملزمان فراڈ کرنے کے علاوہ مختلف ویٹ سائٹس بھی بنا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش جب آگے بڑھے گی تو پھر مزید حقائق اور شواہد سامنے آئیں گے، جس کی روشنی میں مذید مقدمات درج کرنے کا فیصلہ ہو گا۔

اہلکارنے مزید بتایا کہ چھان بین کے بعد جو بھی ملزمان دیگر جرائم میں ملوث ہوئے ان کا متعلقہ عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ملزمان نے گلبرگ گرینز میں ایک پلازے کا ایک بڑا حصہ کرائے پر حاصل کر رکھا تھا اور وہ وہاں پر اپنا کاروبار چلا رہے تھے، تاہم جب تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار سے پوچھا گیا کہ کیا گرفتار ملزمان میں کوئی پاکستانی بھی ملوث ہے، تو اس بارے میں انھوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

دوسری جانب ایف آئی اے کے ایک اور اہلکار کے مطابق اس چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والے ان غیر ملکیوں کو حراستی مرکز میں منتقل کرنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ ایف آئی اے کے حراستی مراکز میں اتنی بڑی تعداد میں ملزمان کو رکھنے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے گرفتار ہونے والے ان غیر ملکیوں کو اس علاقے میں ایک نجی ملازہ میں منتقل کر کے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے اسے سب جیل قرار دیا ہے۔