30 سیکنڈ سے 12 سیکنڈ تک: ورلڈ کپ کے دو تاریخی گول بہترین فٹبالرز کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کی نشانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرنینڈو ڈیوئیرٹو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
مردوں کے فیفا ورلڈ کپ کے دو تاریخی گولز فٹبال اور اس کے بہترین کھلاڑیوں کے جسموں میں آنی والی تبدیلیوں کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
1970 میں 30 کے سنسنی خیز اور دباؤ بھرے سیکنڈز کے دوران، برازیل نے آٹھ کھلاڑیوں کے ذریعے گیند کو آگے بڑھایا، جس کے بعد رائٹ بیک کارلوس البرٹو کی زوردار شاٹ لگا کر بال گول میں ڈال دی۔
ورلڈ کپ فائنل میں اٹلی کے خلاف برازیل کا اس میچ میں کیا گیا یہ چوتھا گول اکثر اس ٹورنامنٹ کے عظیم ترین لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
پانچ دہائیوں بعد 2022 کے فائنل میں ارجنٹینا کی جانب سے فرانس کے خلاف اس ہی طرز کا ایک گول کیا گیا جس کے دوران بال سات مرتبہ پاس کی گئی اور آخر میں اینجل ڈی ماریا نے اسے فرانس کے گول کے پہنچا دی۔ لیکن برازیل کے برعکس ارجنٹینا یہ پورا عمل صرف 12 سیکنڈ میں مکمل کیا۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پروفیسر ڈاکٹر اورلانڈو لائتانو کے مطابق 1970 کا وہ گول ’آج کے دور میں کرنا ممکن نہیں ہوتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ برازیلین ٹیم وقت کا سفر کر کے آج کے دور میں پہنچ جائے تو اس کی گول کی یہ کوشش غالباً جدید حریفوں کے خلاف ناکام ہو جاتی۔ اور ڈاکٹر لائتانو کے مطابق ’سب سے بڑا فرق مہارت نہیں بلکہ فزیالوجی کا ہوتا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہر ایک انچ کے لیے جنگ‘
ڈاکٹر لائتانو نے 2014 کے عالمی ورلڈ کپ کے دوران برازیل کی قومی ٹیم کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جدید فٹبالرز حیاتیاتی طور پر ماضی کے کھلاڑیوں سے مختلف ہیں۔
ان کے مطابق ورزش اور طب میں ترقی، اور کھیل کے انداز میں تبدیلیوں کے باعث عالمی معیار کی فٹبال اب ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ہر انچ کے لیے لڑنا پڑتا ہے اور ’اس کے نتیجے میں جدید دور کے کھلاڑیوں کو زیادہ تیز اور مضبوط بننا پڑ رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
برطانیہ کی وولورہیمپٹن یونیورسٹی کے محققین کے مطابق گذشتہ پانچ دہائیوں کے اعداد و شمارسے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب چوٹی کے کھلاڑی قد میں لمبے اور جسمانی طور پر دبلے ہو گئے ہیں۔
انھوں نے 1970 کی دہائی سے 2020 کی دہائی تک انگلینڈ کے چوٹی کے فٹبال ڈویژن کے ہزاروں کھلاڑیوں کے بارے میں معلومات کا موازنہ کیا: 1992 تک فرسٹ ڈویژن اور اس کے بعد پریمیئر لیگ، جس میں اب دنیا بھر کے بہترین کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔
1973 سے 2013 کے درمیان کھلاڑیوں کا اوسط قد چار سینٹی میٹر سے زیادہ بڑھا ہے۔
اس کے بعد کی دہائی میں یہ رجحان گول کیپرز اور ڈیفنڈرز میں تو جاری رہا، تاہم فارورڈز اور مڈفیلڈرز کے اوسط قد میں معمولی کمی آئی ہے۔
محققین نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ ٹاپ ڈویژن کے کھلاڑی ’زیادہ زاویاتی اور ایکٹومورفک ہوتے جا رہے ہیں۔‘
اس کا مطلب ہے کہ ان کا رجحان لمبے، دبلے، ہلکے ڈھانچے اور لمبے اعضا والی جسمانی ساخت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس بات کا اندازہ ریسی پروکل پونڈرل انڈیکس (آر پی آئی) کے بڑھتے ہوئے سکور سے ہوتا ہے، جو قد اور وزن کے تعلق کی پیمائش اس انداز میں کرتا ہے کہ دبلے پن کو نمایاں کرے۔

محققین کے مطابق جسمانی ساخت میں یہ تبدیلی بہتر میدانوں اور جدید کھلاڑیوں پر بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ کی وجہ سے ہے۔
پروفیسر ایلن نیول اس مطالعے کے شریک مصنف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 1970 کی دہائی میں سردیوں کے وسط میں میدان کیچڑ سے بھر جاتے تھے ’اور کھلاڑیوں کو بہتر کارکردگی کے لیے زیادہ طاقتور ہونا پڑتا تھا۔‘
لیکن اب بہتر میدانوں کے ساتھ ’آپ کو ہلکے، دبلے جسم کے کھلاڑی نظر آتے ہیں جو زیادہ دیر تک توانائی برقرار رکھتے ہوئے کھیل سکتے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق ان کی اس توانائی کا بڑا حصہ رفتار پر صرف ہوتا ہے۔
جیت کے لیے اب پہلے سے کہیں زیادہ دوڑنا پڑتا ہے
کئی تحقیقات کے مطابق 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں کھلاڑی شاذ و نادر ہی 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتے تھے۔ اس کے برعکس 2022 کے عالمی کپ میں کم از کم 10 کھلاڑیوں 35 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے کھیلے۔
اور اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو ایک میچ کے دوران کئی مرتبہ اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار استعمال کرنی پڑتی ہے۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی میں ورزش کی فزیالوجی کے پروفیسر ینس بانگسبو کے مطابق ’اگر آپ پچھلی صدی کے سٹرائیکرز کو دیکھیں تو وہ زیادہ تر وقت چلتے تھے اور چند مواقع پر اچانک تیزی دکھاتے اور شاید ایک گول کر لیتے۔ اب ایسا نہیں رہا۔‘
یوئفا کے مطابق 2024 میں جرمنی میں کھیلی جانے والی مردوں کی یورپی چیمپئن شپ میں کھلاڑیوں نے فی میچ تقریباً 12 مرتبہ 25 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ کی رفتار دکھائی۔
تاہم کوئی کھلاڑی کتنی مرتبہ اس تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتا ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ کس پوزیشن پر کھیل رہا ہے۔ سینٹر بیکس اور سینٹرل مڈفیلڈرز اوسطاً فی میچ آٹھ مرتبہ پوری رفتار سے دوڑے، جبکہ فارورڈز نے 12 اور فل بیکس نے 14 مرتبہ اپنی پوری رفتار دکھائی۔
پروفیسر بانگسبو کے مطابق تیز دوڑنا ایک بات ہے مگر اس سے اہم بات اس عمل کو بار بار دہرانے کی صلاحیت ہے۔
وہ وضاحت کرتے ہیں ’بنیادی طور پر آج کل فٹبال میں اصل سوال ریکوری کا ہے یعنی جتنی جلد ممکن ہو سکے آپ دوبارہ تیار ہوں۔‘

کھیل میں آنے والی یہ تیزی جو کہ خاص طور پر گذشتہ ایک دہائی میں دیکھی گئی ہے بڑی حد تک اس کی وجہ ہائی پریسنگ حکمت عملی کا بڑھتا استعمال ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کھلاڑی مخالف ٹیم کے ڈیفنڈرز سے گیند چھیننے کی تیز اور مربوط کوشش کرتے رہتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ اسے آگے منتقل کر سکیں۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ کھلاڑی میچ کے دوران مجموعی طور پر کتنا فاصلہ طے کرتے ہیں اس میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا ہے۔
تحقیقات کے مطابق 1970 کی دہائی میں کھلاڑی اوسطاً فی میچ 8.7 کلومیٹر چلتے، جاگنگ کرتے یا دوڑتے تھے جو کہ 1990 کی دہائی میں بڑھ کر 11.4 کلومیٹر تک پہنچ گئی۔ تاہم اس کے بعد کے عرصے میں اس میں کمی آئی ہے۔
فیفا کے مطابق 2022 کے عالمی کپ میں کھلاڑیوں نے فی میچ اوسطاً 10.6 کلومیٹر فاصلہ طے کیا، تاہم کھلاڑی کس پوزیشن پر کھیل رہا ہے اس کy مناسبت سے یہ فاصلہ کھلاڑیوں میں مختلف تھا۔
کیا فٹبالرز بہت زیادہ کھیل رہے ہیں؟
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ چوٹی کے فٹبالرز زیادہ کثرت سے میچز کھیل رہے ہیں۔ مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ تر کلبوں کے جانب سے ایک سال کے دوران کھیلے گئے میچوں کی تعداد تقریباً 42 ہے۔
اس کے باوجود بڑے کھلاڑیوں پر بوجھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس کی ایک لیورپول اور نیدرلینڈز کے ڈیفنڈر ورجل وان ڈیک ہیں۔ فٹبالرز کی ٹریڈ یونین فیف پرو کے مطابق وان ڈیک اس سیزن میں پہلے ہی 65 میچ کھیل چکے ہیں جس میں ورلڈ کپ سے قبل اپنی قومی ٹیم کے لیے 10 میچ شامل ہیں۔
فیف پرو نے کھلاڑیوں کے آرام اور ریکوری کے زیادہ وقت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اب کھلاڑیوں سے پہلے سے کہیں زیادہ ڈیمانڈ کی جاتی ہے۔
پروفیسر بانگسبو کہتے ہیں کہ بلاشبہ کھیلے جانے والے میچوں کی تعداد کا براہِ راست تعلق یقینی طور پر کھلاڑیوں کو چوٹ لگنے کے خطرے سے جڑا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوفا کی جانب سے کمیشن کی گئی ایک تحقیق جو کہ 2023 میں شائع ہوئی تھی، میں سامنے آیا ہے کہ گذشتہ آٹھ سیزنز کے دوران ہیمسٹرنگ انجری کی شرح میں ’تشویشناک‘ اضافہ ہوا ہے۔ ہر 10 میں سے چھ کیسز میں کھلاڑی دوڑتے یا سپرنٹ کرتے ہوئے زخمی ہوئے۔
اس تحقیق میں انجری کی وجوہات کا تعین نہیں کیا گیا تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی فٹبال کی بڑھتی شدت اور مصروف شیڈول اس کے ممکنہ عوامل میں سے ہے۔
ڈاکٹر لائتانو کہتے ہیں کہ آج کے دور میں کھلاڑی اپنی حدوں پر کام کرتے ہیں۔ ’مناسب آرام کیے بنا ان کے جسم جواب دے جاتے ہیں۔‘
تجربہ کار کھلاڑیوں کا عروج

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم کچھ اچھی خبریں بھی ہیں۔
کھیلوں کی سائنس میں ترقی جس میں تربیتی نظام سے لے کر غذائیت اور ریکوری کے بہتر نظام کی بدولت فٹبالرز کے لیے اب زیادہ عرصے تک کھیل جاری رکھنا ممکن ہو گیا ہے۔
دنیا کے اہم ترین کلب ٹورنامنٹ، یوئیفا چیمپئنز لیگ میں ٹیموں کی اوسط عمر 1992 میں 24.9 سال سے بڑھ کر 2018 میں 26.5 سال ہو گئی ہے۔

فیفا کے مطابق آخری تین ورلڈ کپ تاریخ کے ’سب سے بڑی عمر والے‘ ٹورنامنٹس رہے ہیں 2018 کے ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی اوسط عمر 27.9 سال رہی جو اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔
اوسلو یونیورسٹی کے ڈیٹا سائنسدان اور ماہر معاشیات ڈاکٹر جوشوا سی فیٹسُل کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1990 کے ورلڈ کپ میں 35 برس یا اس سے زیادہ عمر کے صرف سات کھلاڑی شامل تھے جبکہ 2022 کے ٹورنامنٹ میں 41 ایسے کھلاڑی موجود تھے۔
اس سال فیفا کی سرکاری سکواڈ فہرستوں کے مطابق 35 برس سے زیادہ عمر کے 72 کھلاڑی ورلڈ کپ میں حصہ لے رہے ہیں۔ آٹھ کھلاڑی 40 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں جو تمام پچھلے ورلڈ کپ کے مجموعے سے زیادہ ہیں۔
ڈاکٹر لائتانو کہتے ہیں کہ ’جو کھلاڑی اپنی دیکھ بھال کرتے ہیں اور درست تربیت اور ریکوری کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں، ان کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک اعلیٰ سطح پر کھیلنے کے امکانات بہت روشن ہیں۔‘


























